غیظ و غضب کی حالت میں کیا کرنا چاہئے
اسپیشل فیچر
حکم ربانی: ’’(مومن وہ ہیں) جو بڑے گناہوں اور بے حیائی سے بچتے ہیں اور جب انہیں غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں۔‘‘ … (الشوریٰ:37) ’’اور اسی طرح مچھلی والے (یونس نبی پر بھی ہم نے فضل کیا۔ یاد کرو) جبکہ وہ اپنی قوم سے غضبناک ہو کر چلے گئے اور وہ سمجھے کہ ہم اس بات پر کوئی گرفت نہیں کریں گے۔‘‘ … (الانبیا:87)فرمان نبویﷺ:’’ پہلوان اور طاقت ور وہ نہیں ہے جو مدمقابل کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان اور شہ زور درحقیقت وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔‘‘ اور حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ : حضرت مجھے کوئی نصیحت فرمایئے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ غصہ مت کیا کرو۔ اس شخص نے اپنی درخواست کئی بار دہرائی کہ حضرت مجھے کچھ اور نصیحت فرمایئے مگر آپ نے ہر دفعہ یہی فرمایا کہ : غصہ مت کیا کرو‘‘۔غضب کیا ہے؟ غضب کا تعلق ان بیماریوں سے ہے جو نفس کے تخریبی جوش سے پیدا ہوتی ہیں۔ وہ تخریبی جوش کبھی تو صحیح وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور اکثر غلط وجہ سے۔ بالجملہ غضب کہتے ہیں۔ نفس کے اس اشتعال کو جس میں آدمی:…صحیح اور غلط میں تمیز فراموش کردیتا ہے۔…انصاف کی حدود سے تجاوز کر جاتا ہے۔…کسی دوسرے بڑے گناہ کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ممکن ہے یہ تینوں چیزیں ایک ساتھ واقع ہوجائیں اور ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی ایک چیز کارفرما ہو۔پہلی تعریف یعنی صحیح اور غلط کی تمیز کھو بیٹھنا یہ ہے کہ شدتِ غضب سے دماغ مائوف ہوجائے۔ اس کا مظاہرہ عام ہے۔ لہٰذا اس کی مثالوں کی ضرورت نہیں۔ غصے میں انصاف کی حدود سے تجاوز کرنا یہ ہے کہ غصے کا سبب ٹھیک ہو مثلاً حفظِ آبرو، حمیت دینی وغیرہ لیکن اس غصے کے نتیجے میں جو کام سرزد ہو وہ شریعت کی مقرر کردہ حدود سے باہر نکل جائے مثلاً کسی نے گالی دی تو جواب میں اسے بھی گالی دینا، کسی نے مال غصب کرلیا تو جواب میں اس کی بھی کوئی چیز چھین لینا یا کسی نے گمراہی کی کوئی بات کی تو ردعمل میں اسے کافر اور مشرک کہہ دینا وغیرہ۔ اس طرح کے تمام مواقع پر محرک غصب بالکل ٹھیک اور جائز ہے لیکن اس پر جس طرح عمل کیا گیا وہ شرعاً ناروا ہے۔غضب کی تیسری تعریف اس کی دوسری تعریف سے اصولاً مختلف نہیں ہے لیکن سہولت فہم کے لیے ہم نے اسے الگ بیان کیا ہے۔ اس طرح کا غضب عموماً اپنی بنیاد میں ایسا ہوتا ہے کہ اسے جائز کہا جاسکتا ہے نہ حرام یعنی آدمی کو ایسی صورتحال پیش آسکتی ہے۔ جہاں وہ غصہ نہ کرے تو اچھا ہے اور اگر کرے تو شرعاًبرا نہیں۔ مثلاً کسی کی غلط تنقید پر بہتر تو یہی ہے کہ تحمل سے کام لیا جائے لیکن اگر غصہ آجاتا ہے تو اس میں بھی شرعاً کوئی عیب نہیں۔ شریعت اسے تب مذموم کہے گی جب اس غصے پر عمل غلط طریقے سے کیا جائے۔ مثلاً اگر کوئی آپ سے یہ کہہ دے کہ تم بہت نکمے ہو تو اس پر آپ کا برا ماننا شرعاً قابل گرفت نہیں ہے لیکن اس کے جواب میں اسے نکما کہنا یا اس کے کسی اور واقعی یا فرضی نقص کا اظہار کرنا یا اس سے تعلق منقطع کرلینا، یہ وہ صورتیں ہیں جہاں شریعت اپنا فیصلہ دیتی ہے کہ یہ ایسا گناہ ہے جو اس شخص کے گناہ سے بڑھ گیا ہے جس نے آپ کو نکما کہا تھا۔غضب کا متقضی عموماً مغضوب کی تحقیر، اسے نقصان پہنچانا اور منفی انداز سے بدلہ لینا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مغضوب الغضب آدمی اللہ کے خوف سے محروم ہوجاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ اللہ سے ڈرنے والا کبھی مغضوب الغضب نہیں ہوتا۔غضب کا علاج کیا ہے؟یہاں ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ غصہ ہر حال میں اور ہر موقع پر غلط نہیں ہوتا۔ کہیں کہیں غصے کا دل میں پیدا ہونا اور زبان و عمل سے اس کا اظہار شرعاً مطلوب ہوتا ہے۔ لہٰذا غصے کو اس طرح نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ کوئی ایسی چیز ہے جو ساری کی ساری بری ہو۔ غصے کا محرک عام طور پر کوئی خلافِ مرضی چیز ہوتی ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک تربیت یافتہ نفس جس کی مرضی اللہ کی مرضی کے تابع ہو چکی ہو، وہ بھی غصے میں آئے گا لیکن صرف ان موقعوں پر جب غصہ کرنا دین کا تقاضا ہو۔ جہاں دین کی اہانت اور نافرمانی کی جارہی ہو وہاں غصے کا احساس و اظہار نہ کرنا ایک بڑا دینی نقص ہے جیسا کہ رسول اللہﷺ کی یہ سنت معروف ہے کہ آپﷺ کو اپنی کسی ذاتی حق تلفی سے غصہ نہیں آتا تھا لیکن اگر کوئی شخص اللہ کے حقوق اور حدود کی خلاف ورزی کرتا تھا تو آپﷺ سے بڑھ کر غضبناک ہونے والا بھی کوئی نہ ہوتا تھا، یہ سمجھ لینا چاہیے کہ غصے کا ازالہ مطلوب نہیں ہے بلکہ غصے کا صحیح مصرف اور محل مطلوب ہے۔ وہ غصہ جو شرعاً ایک برائی ہے اس کے علاج میں مندرجہ ذیل تدابیر مفید ہوسکتی ہیں:1۔ اللہ کی رحمت اور مغفرت کا تصور کرنا یعنی یہ خیال کہ نہ جانے میری کتنی نافرمانیاں ہوں گی جو اللہ تعالیٰ نظرانداز کیے جارہے ہیں۔ اگر وہ بھی میری طرح خلافِ مرضی باتوں پر غضبناک ہونے لگیں تو میں اگلا سانس لینے کی مہلت بھی نہیں پا سکتا۔ اس میں رسول اللہﷺ کی سنت کے اس حصے کا کثرت سے مطالعہ، تذکرہ اور استحضار جس سے آپؐ کی شفقت، تحمل ا ور بردباری کا اظہار ہوتا ہے، مفید ہے۔2۔اپنی سمجھ اور ذوق کے مطابق ایسے معمولات اختیار کرنا جن سے اللہ کا خوف دل میں پیدا ہو اور ترقی پائے۔3۔اگر کسی پر ناجائز غصہ کیا ہو تو اس سے مبالغے کے ساتھ معافی طلب کرنا۔4۔چھوٹے بچوں (اطفال) کی صحبت میں وقت کا ایک حصہ گزارنا۔5۔کثرتِ ذکر خصوصاً تعوذ، استغفار اور درودشریف۔6۔بعض اوقات غصہ کسی جسمانی یا ذہنی بیماری کی وجہ سے بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں اس بیماری کا علاج ہی غصے کا علاج ہے۔احادیث سے غضب کے مندرجہ ذیل علاج بھی ہمارے سامنے آتے ہیں:7۔تعوذ (اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم) پڑھنا (1) کیونکہ نفسِ انسانی میں تموج اور اشتعال اوصاف نار میں سے ہے۔ (2) جومادہ تخلیق شیطان ہے لہٰذا اس شیطانی وصوف کے بعد کے لیے تعوذ پڑھنا مفید ہے۔8۔عدم حرکت (3) یعنی بیٹھ جانا یا لیٹ جانا، کیونکہ غصہ عموماً Situational اور نفس میں تموج کے سبب ہوتا ہے لہٰذا عدم حرکت اس کی برودت میں ممدو معاون ہوتی ہے۔ 9۔خاموشی اختیار کرلینا کہ غصے کے اظہار کا بڑا آلہ زبان ہی ہے۔ (4) آخر میں یہ بات ہم ایک بار پھر واضح کردیں کہ غصہ ان چیزوں میں شامل ہے جو مکمل طور پر جائز یا ناجائز نہیں بلکہ ان کا استعمال اور مقصد ان کے حلال یا حرام ہونے کا تعین کرتا ہے۔ مختصراً یہ کہ غصے کی چار قسمیں ہیں:مباح: یعنی ایسا غصہ جس کی وجہ شرعاً صحیح ہو نہ غلط اور جس کا احساس و اظہار اچھا ہو نہ برا۔ تاہم تزکیہ پیش نظر ہو تو مباح غصے سے بھی بچنے کی تدبیر مفید ہوتی ہے۔حلال: یعنی اپنی حق تلفی پر جوابی کارروائی کے طور پر غصہ کرنا۔حرام: اس کی تفصیل واضح ہے۔واجب: یہ وہ غصہ ہے جو خالصتاً اللہ کے لیے ہو مثلاً کفر وشرک سے نفرت اور اس کا عملی اظہار۔ اس کی بنیاد اس دینی حمیت پر ہے جس سے محروم ہو کر آدمی کا اسلام ناقص رہ جاتا ہے۔٭٭٭