ہفتہ
اسپیشل فیچر
سورج کے سات مرتبہ طلو ع و غروب کو ایک ہفتہ کہتے ہیں۔ ہفتہ کے ساتھ یوم کی تخصیص عالم تکوین کے ان سات ایام کی وجہ سے ہے جن سات دنوں میں اللہ تعالیٰ نے سات آسمان اور سات زمینیں اپنے جملہ متعلقات کے ساتھ پیدا کیے۔علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ ہفتہ کے ایام کا سات دنوں میں انحصار کوئی اتفاقی امر نہیں، بلکہ یہ وحی و الہام کا وہ باضابطہ فیصلہ ہے جس کا انکشاف پہلے انبیاء علہیم السلام میں سے ضرور کسی نبی پر ہوا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جن اقوام کی طرف سے کوئی نبی مبعوث نہیں ہوئے یا کسی قوم نے اپنی بدقسمتی سے نبی کی تعلیمات کو تسلیم نہیں کیا، صرف انہیں میں ہفتہ کے ساتھ دنوں کا وجود نہیں۔ ان اقوام میں مہینے کے تین دنوں کے الگ الگ نام پاتے ہیں۔ (کتاب الرد علی المنتظمین225)تاہم دنیا کے تمام مہذب اقوام میں ہفتہ کے سات دنوں اور ہر دن کے لیے الگ نام کا ذکر پایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ بات تاریخ کو بھی معلوم نہیں کہ سات دنوں کی ابتدا کس تاریخ سے ہوئی، صرف ظن اورتخمین سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالم تکوین کے ان سات دنوں سے ہی ہفتہ کے سات دن وجود میں آگئے ہیں، جن میں سے چھ دنوں کا ذکر قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ چھ دنوں سے دنیا کے چھ دنوںکا مقدار مراد ہے۔ اس لیے کہ اس وقت چاند اور سورج کی تخلیق نہیں ہوئی تھی تو دن کیسا؟ اور مفسرین نے اس سلسلہ میں ایک حدیث بھی صحیح مسلم کے حوالہ سے نقل کی ہے، کہ امام احمد بن حنبلؒ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت نقل ہے۔ ابوہریرہؓ فرماتے ہیں، رسول اللہﷺ نے میرا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لیکر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین ہفتہ کے روز پیدا کی، پہاڑ اتوار کے روز پیدا کیے، درخت پیر کے روز پیدا کیے، مکروہات (ناپسندیدہ چیزیں )منگل کے روز پیدا کیے، روشنی بدھ کے روز پیدا کی، چوپائے جمعرات کو پیدا کیے اور اللہ تعالیٰ کی آخری تخلیق حضرت آدم علیہ السلام تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے روز آخری ساعتوں میں یعنی عصر سے لے کر رات کے درمیان جو وقت ہوتا ہے، اس وقت پیدا کیا۔ (الہدایہ والنہایہ 59/1)امام مسلمؒ نے صحیح مسلم اور امام نسائیؒ نے اپنی کتاب میں بھی اس حدیث کی تخریج کی ہے۔ (الہدایہ بحوالہ بالا)اس حدیث میں محدثین نے اگرچہ کلام کیا ہے تاہم ہفتہ کے سات دنوں کا یکجا تذکرہ اس حدیث میں ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اسلامی تقویم میں ہفتہ کے سات دنوں کے نام وہی استعمال کرنے چاہئیں جو مسلم معاشرہ میںرائج ہوں اور ان ناموں میں کوئی شرکیہ عقیدہ وغیرہ پوشیدہ نہ ہوں۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہفتہ کے دن کے لیے ’’السبت‘‘ اور جمعہ کے دن کے لیے ’’الجمعہ ‘‘ استعمال ہے۔ ان دونوں ناموں کے علاوہ باقی پانچ دنوں کے نام مسلم خاص کر عرب معاشرہ میں دنوں کی ترتیب سے اعداد کے ناموں پر ہیں۔الاحد (پہلا دن)، الاثنین (دوسرا دن) الثلاثاء (تیسرا دن) الاربعاء (چوتھا دن) الخمیس (پانچواں دن)(محمد رمضان کاکڑ کی کتاب’’شہابِ تقویم‘‘ سے ماخوذ، اسے فیکٹ پبلیکیشنز لاہور نے چھاپا)