کیریئرپلاننگ

کیریئرپلاننگ

اسپیشل فیچر

تحریر : اسد اللہ غنی


اندرونِ سندھ فنّی تعلیم کا جائزہدنیا مکمل طور پرسائنس و ٹیکنالوجی کے رحم و کرم پر ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں ٹیکنالوجی کا عمل دخل ہے۔ لہٰذا آج کے دور میںکوئی ملک ٹیکنیکل ایجوکیشن کو نظر انداز نہیں کرسکتاکیوںکہ جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال ہی میں کام یابی اور ترقی مضمرہے۔ کسی بھی ٹیکنالوجی کو قابل استعمال بنانے اور روزمرّہ کی مرمّت اور خرابیاں دور کرنے کے لیے انجینئر، سپر وائزر، ٹیکنیشن اور ہنر مند افراد کی تیاری کے لیے انجینئرنگ یونیورسٹیاں ‘ پولی ٹیکنک اداروں کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل ووکیشنل سینٹرز کا ہونا لازمی ہے۔ ان میں تربیت یافتہ اساتذہ جدید ترین مشینری سے آراستہ ورک شاپس اور ضروری اوزاروں کے علاوہ تربیت یافتہ عملہ لازمی ہے۔ تین سالہ ڈپلوما انجینرنگ کی تعلیم کے لیے قیام پاکستان کے بعد 1956میں پہلا پولی ٹیکنک ادارہ کراچی کے صنعتی علاقے سائٹ ایریا میں امریکا کی فورڈ فائونڈیشن کے تعاون سے شروع کیاگیا۔ بعد ازاں حیدر آباد اور خیر پور میرس میں سول ‘ الیکٹریکل اور میکنیکل ٹیکنالوجیز کے شعبوں کی تعلیم شروع کی گئی۔نجی سطح پر نواب شاہ میں حبیب انسٹی ٹیوٹ میں کیمیکل ٹیکنالوجی کا اجرا کیاگیا۔ بعد ازاں ٹھٹھہ،مٹیاری، بدین‘ سانگھڑ‘ میر پور خاص،سکھر‘ دادو، جیکب آباد، لاڑکانہ‘ پریٹ آباد، ہالہ، میر پور بٹھورو، ماتلی، ٹنڈ و آدم، عمر کوٹ، پنوںعاقل، گھوٹکی، میہڑ، شکار پور، گڑھی یاسین، رتو ڈیرو، نوشہروفیروز، فیض گنج، پڈ عیدن، کنڈیارو، ٹھری میرواہ، سکرنڈ، مٹھی، سیہون،ٹنڈوجام اور بدین میںتین سالہ ڈپلوما پروگرام کے ادارے وجود میں آئے جن میں آٹو ڈیزل، سول الیکٹریکل ، میکنیکل، الیکٹرونکس، کیمیکل اور ریفریجریشن وائیر کنڈیشنگ،کمپیوٹرانفارمیشن ، پیٹرولیم‘ مائننگ اور شوگر ٹیکنالوجیز کی تعلیم دی جاتی ہے۔ طالبات کے لیے حیدر آباداور سکھر میں پولی ٹیکنک ادارے قایم ہیںجہاں گارمنٹس اور الیکٹرونکس ٹیکنالوجیز قایم ہیں۔ انٹر میڈیٹ کامرس کے مساوی ڈپلوما ان کامرس کے ادارے پہلے دور میں حیدر آباد، دادو، سکھر، نواب شاہ، لاڑکانہ اورخیر پور میرس میں قایم کیے گئے۔ بعد ازاں ٹھٹھہ، سانگھڑ، بدین، میر پور خاص، میرو خان، جیکب آباد، شکار پور، قاسم آباد، میہڑ ، ٹنڈوالہٰ یار، گھارو، سجاول، عمر کوٹ، مٹھی، ٹنڈ وآدم، روہڑی، ٹھری میر واہ، نوشہرو فیروز، پیر جو گوٹھ ‘ قاضی احمد، کنڈیارو، ہالہ، لکھی، کندھ کوٹ، شہداد کوٹ اور ڈگری میں ادارے قایم کیے گئے۔ تیسرے پنچ سالہ منصوبے میں لڑکوں کے لیے میٹرک کی سطح پر فنی تعلیم ( میٹرک ٹیکنیکل) دینے کے لیے نواب شاہ، دادو، سکھر، جیکب آباداور شکار پور میں آٹو جنرل الیکٹریشن، مشینسٹ اور ریڈیو الیکٹرونکس کی کلاسوں کا اجرا کیاگیا ہے۔جب کہ لڑکیوں کے لیے ٹیلرنگ اور مشین ایمبرائیڈری سکھانے کے لیے میٹرک لیول پر میر پور خاص اور سکھر میں کلاسوں کا اجرا کیاگیا ۔ لڑکیوں کے لیے پانچویں جماعت کے بعد سلائی‘ کڑھائی اور بُنائی کے فنون سکھانے کے لیے حیدرآباد،خیر پور میرس، سکھر اور لاڑکانہ میں ادارے قایم کیے گئے۔ جہاں ایک سالہ سرٹیفکیٹ اور دوسالہ ڈپلوما کورس کرائے جاتے ہیں ۔ بعد ازاں تعلقہ لیول پر لڑکیوں کی تعلیم کے لیے 45ادارے قایم کیے گئے جن میں بدین، وٹری، ہالہ ، ٹنڈو آدم، دادو، سیہون، جام شورو، میر پور خاص، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو غلام علی، ڈیپلو، ڈگری ، لطیف آباد ، میہڑ، جیکب آباد، نوشہرو فیروز، پنوں عاقل، گھوٹکی، قمبرعلی خان، شکار پور، تھڑی محبت، گڑھی یاسین، روہڑی، ماتلی، ٹنڈوغلام علی، عمر کوٹ، شہداد پور، مٹھی اور کنڈیارو نمایاں ہیں۔1976میں ولیج ورک شاپ اسکیم کے تحت پٹنی، بجرگی، شاہ پور چاکر، ہالہ اورسجاول میں غیر ہنر مند افراد کے لیے ٹیکنیکل ایجوکیشن کا بندوبست کیاگیا۔ کمپیوٹروانفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایک سالہ ڈپلوما کورس اور دیگر شاٹ کورسز کے لیے نجی اداروں نے تعلیم دینے کے لیے حیدر آباد، میر پور خاص، محراب پور، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، شکار پور اور خیر پور میرس میں جدید ترین تعلیم وتربیت فراہم کی۔ بیچلر آف ٹیکنالوجی کی تعلیم گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی کی تعلیم گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی حیدر آباد اور خیر پور میرس میں شروع کی گئی ۔ ڈپلوما اِن بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم دینے کے لیے سکھر میں نجی اداروں نے مخلوط طرز تعلیم کے تحت اس کام کی ابتدا کی۔ ان سرکاری اداروں کے قیام کی ذمّے داری ڈائریکٹریٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن نے انجام دی۔ جن کے ذمے داروں میں محمد ایچ ماما، ڈاکٹر میر محمد علی، انجنیر انعام الحق، انجینئر امام علی سومرو اور محمد عشرت محمود بیگ نمایاںہیں جن کی ان تھک کاوشوں کی وجہ سے پاکستان آج بھی ہنر مند افرادی قوت کے ذریعے کثیر زرمبادلہ کمارہاہے۔وزارت محنت کے ذیلی ادارے مین پاور ٹریننگ نے اندرون سندھ ایک سالہ اور دوسالہ سرٹیفکیٹ کورس کی تربیت کے لیے ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر، ووکیشنل ٹریننگ سینٹر اور اپرنٹس ٹریننگ سینٹرقایم کیے جن کی تعداد بیس کے لگ بھگ ہے۔ ان اداروں کی ترویج کا سہرا گلزارعلی شاہ اور موجودہ ڈائریکٹر کریم بخش صدیقی کے سر ہے ۔ وزارت محنت کے تحت اسمال انڈسٹری نے قریباً ستّر ادارے قایم کیے جو کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن میںضم ہوچکے ہیں۔ سماجی بہبود کی وزارت نے لڑکیوں کے لیے کڑھائی سلائی کے دس ادارے قایم کیے ۔ نیزکمرشیل بنکوں اور پیٹرومین نے کمپیوٹرٹریننگ کے ادارے کھولے تھے ۔ نجی شعبے نے بھی اندرون سندھ فنی تعلیم کے فروغ کے لیے قابل قدر نمایاں خدمات انجام دیں۔ مختصر دورانیے کے ٹائیپنگ و شارٹ ہینڈ کورسز کا قدیم ترین ادارہ شکار میںقایم ہے جو قیام پاکستان سے قبل یہ خدمت انجام دے رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
کیا تازہ ہوا ذہنی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے موثر ہے ؟

کیا تازہ ہوا ذہنی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے موثر ہے ؟

حالیہ برسوں میں فضائی آلودگی انسانی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر سامنے آئی ہے۔ صرف پھیپھڑوں اور دل کی بیماریاں ہی نہیں بلکہ اب سائنسدان یہ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ آلودہ ہوا دماغی صحت اور ذہنی کارکردگی پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی حوالے سے حال ہی میں ایک تحقیق سامنے آئی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایئر پیوریفائر دماغی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ تحقیق امریکہ کے ایک ایسے علاقے میں کی گئی جہاں ٹریفک اور صنعتی آلودگی نسبتاً زیادہ تھی۔ اس تحقیق میں مجموعی طور پر 119 افراد شامل تھے جن کی عمر 30 سے 74 سال کے درمیان تھی۔ ان افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ایک گروپ کو حقیقی HEPA فلٹر والے ایئر پیوریفائر دیے گئے جبکہ دوسرے گروپ کو ایسے پیوریفائر دیے گئے جو دیکھنے میں بالکل اصلی تھے لیکن ہوا کو صاف نہیں کرتے تھے۔شرکانے ایک ماہ تک اپنے گھروں میں یہ پیوریفائر استعمال کیے۔ اس دوران محققین نے ان کی ذہنی کارکردگی کو مختلف ٹیسٹوں کے ذریعے جانچا جن میں یادداشت، توجہ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور ذہنی لچک (cognitive flexibility) شامل تھی۔ایک ماہ بعد دونوں گروپوں کے نتائج کا موازنہ کیا گیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ صاف ہوا کا دماغی صلاحیتوں پر کیا اثر پڑا۔تحقیق کے نتائج کافی دلچسپ تھے۔ خاص طور پر 40 سال سے زائد عمر کے افراد میں نمایاں فرق دیکھا گیا۔ جن افراد نے ایئر پیوریفائر استعمال کیے تھے انہوں نے ذہنی ٹیسٹ تقریباً 12 فیصد تیزی سے مکمل کیے۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ صاف ہوا دماغی کارکردگی میں بہتری لا سکتی ہے، خاص طور پر درمیانی اور بڑی عمر کے افراد میں۔فضائی آلودگی اور دماغ کا تعلقسائنسدانوں کے مطابق فضائی آلودگی میں موجود باریک ذرات (particulate matter) صرف پھیپھڑوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ جسم میں داخل ہو کر دماغ پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔یہ ذرات دماغی سوزش بڑھا سکتے ہیں،خون کی شریانوں کو متاثر کر سکتے ہیں،دماغی خلیات کے درمیان رابطے کو کمزور کر سکتے ہیں۔بعض تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ طویل عرصے تک آلودہ ہوا میں رہنے سے الزائمر اور یادداشت کی خرابی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ایئر پیوریفائر کا کردارHEPA فلٹر والے ایئر پیوریفائر ہوا میں موجود باریک ذرات، دھول، پولن اور کچھ حد تک آلودگی کو کم کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق جب اندرون خانہ ہوا صاف ہوتی ہے تو دماغ کو بہتر آکسیجن ملتی ہے اور ذہنی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ شرکاکی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی، خاص طور پر اُن افراد میں جو پہلے سے آلودگی والے ماحول میں رہ رہے تھے۔کیا یہ نتیجہ حتمی ہے؟اگرچہ یہ نتائج امید افزا ہیں لیکن محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک مختصر مدت کی تحقیق تھی۔ صرف ایک ماہ کے مشاہدے کی بنیاد پر طویل مدتی نتائج اخذ نہیں کیے جا سکتے۔اس کے علاوہ شرکا کی تعداد محدود تھی۔مختلف طرزِ زندگی رکھنے والے افراد شامل تھے۔طویل مدتی دماغی صحت پر اثرات ابھی واضح نہیں۔اس لیے مزید وسیع اور طویل تحقیقات کی ضرورت ہے۔عام زندگی کیلئے اس کا مطلباس تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صاف ہوا صرف جسمانی صحت ہی نہیں بلکہ ذہنی کارکردگی کے لیے بھی اہم ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو شہروں میں رہتے ہیں جہاں آلودگی زیادہ ہوتی ہے، ایئر پیوریفائر ایک مددگار آلہ ثابت ہو سکتا ہے،تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ صرف پیوریفائر پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مجموعی طور پر ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کی کوشش کی جائے جیسے درخت لگانا،گاڑیوں کے دھوئیں کو کم کرنا،صاف توانائی کے ذرائع استعمال کرنا۔یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہماری روزمرہ کی ہوا، جسے ہم عام طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں، ہمارے دماغی افعال پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ ایئر پیوریفائر کے استعمال سے وقتی طور پر ذہنی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی ہے لیکن اس کے مستقل فوائد جاننے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ صاف ہوا صرف سانس لینے کے لیے نہیں بلکہ بہتر سوچنے اور بہتر فیصلہ کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔ 

صحت مند لمبی زندگی کا راز قدیم یونانیوں کی نظر میں

صحت مند لمبی زندگی کا راز قدیم یونانیوں کی نظر میں

جیسے آج کے دور میں لوگ لمبی اور صحت مند زندگی چاہتے ہیں قدیم زمانے کے لوگ بھی ایسے ہی یہ خواہش رکھتے تھے۔ یونانی اور رومی لوگ دور دراز علاقوں کے باشندوں کے بارے میں عجیب و غریب کہانیاں سنتے تھے کہ وہ سو سال سے بھی زیادہ جیتے ہیں۔ یونانی ادیب Lucian (تقریباً 120-180 ء) لکھتا ہے: ''واقعی کچھ ایسی قومیں بھی ہیں جو بہت لمبی عمر پاتی ہیں جیسے سیرس (چین کے لوگ) جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تین سو سال تک زندہ رہتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کی لمبی عمر کی وجہ وہاں کی آب و ہوا کو قرار دیتے ہیں، کچھ زمین کو اور کچھ ان کی خوراک کوکیونکہ کہا جاتا ہے کہ وہ صرف پانی پیتے ہیں۔اسی طرح ایتھوس کے لوگوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ 130 سال تک زندہ رہتے ہیں اور جنوبی میسوپوٹیمیا کے لوگ سو سال سے زیادہ عمر پاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ جو کی روٹی کھاتے ہیں، جو ان کی بینائی کو تیز رکھتی ہے۔‘‘چاہے ان باتوں میں کتنی ہی سچائی ہو ایک بات واضح ہے کہ یونانی اور رومی لوگ بھی لمبی اور صحت مند زندگی کے خواہش مند تھے اور وہ اس کے طریقے تلاش کرتے رہتے تھے۔ایک قدیم طبیب کی نظر میںقدیم زمانے کے طبیب اس بات میں دلچسپی رکھتے تھے کہ لمبی عمر پانے والے لوگ روزمرہ زندگی میں کیا کرتے ہیں۔ یونانی حکیم جالینوس( Galen،129-216 ء) نے ایسے دو لوگوں کا ذکر کیا ہے جنہیں وہ خود جانتا تھا۔پہلا شخص ٹیلیفس نامی ایک عالم تھا جو تقریباً سو سال جیا۔ جالینوس کے مطابق وہ دن میں صرف تین بار کھانا کھاتا تھا اور اس کی خوراک نہایت سادہ تھی۔ صبح وہ پانی میں پکا ہوا دلیہ شہد کے ساتھ کھاتا تھا۔ دوپہر کو پہلے سبزیاں کھاتا پھر تھوڑی سی مچھلی یا پرندے کا گوشت۔ شام کو وہ صرف روٹی کھاتا۔اس کی نہانے کی عادتیں بھی کچھ مختلف تھیں۔ وہ روزانہ زیتون کے تیل سے مساج کرواتا لیکن نہاتا کم تھا۔سردیوں میں مہینے میں دو بار، گرمیوں میں چار بار، اور درمیانی موسم میں تین بار۔دوسرا شخص اینٹیوکس نامی ایک بوڑھا طبیب تھا جو اسی سال سے زیادہ جیا۔ اس کی خوراک بھی سادہ تھی۔ صبح شہد کے ساتھ روٹی، دوپہر کو مچھلی اور رات کو ہلکی غذا جیسے دلیہ یا پرندے کا گوشت کھاتا تھا۔وہ روزانہ چہل قدمی کرتا تھا، کبھی رتھ میں سیر کرتا اور کبھی لوگوں سے اٹھوا کر شہر میں گھومتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ اپنی عمر کے مطابق ہلکی پھلکی ورزش بھی کرتا تھا۔جالینوس کے مطابق اسی متوازن طرزِ زندگی کی بدولت اینٹیوکس بڑھاپے تک صحت مند رہا۔ وہ آخر وقت تک ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رہا۔ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ہر کوئی سو سال نہیں جیتا،یہ بات قدیم لوگ بھی جانتے تھے مگر Lucian ایک بات کہتا ہے:''دنیا کے ہر علاقے اور ہر موسم میں وہی لوگ لمبی عمر پاتے ہیں جو مناسب ورزش کرتے ہیں اور صحت کے مطابق غذا اختیار کرتے ہیں۔‘‘اس لیے وہ مشورہ دیتا ہے کہ اگر ہم لمبی اور صحت مند زندگی چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے لوگوں کے طرزِ زندگی کو اپنانا چاہیے جو واقعی لمبی عمر پاتے ہیں۔اگر آپ دوسری صدی عیسوی کے روم میں رہتے، تو ٹیلیفس اور اینٹیوکس جیسے سادہ غذا کھانے اور متحرک رہنے والے لوگ آپ کے لیے بہترین نمونہ ہوتے۔  

آج کا دن

آج کا دن

انگلینڈ میں بادشاہت کی بحالی29 اپریل 1660ء کو انگلینڈ میں بادشاہت کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی جب چارلس ii آف انگلینڈکو دوبارہ بادشاہ تسلیم کرنے کا عمل شروع ہوا۔ اس پیش رفت نے خانہ جنگی اور جمہوریہ کے دور کے بعد سیاسی استحکام پیدا کیا۔اولیور کومویل کے دور کے خاتمے کے بعد یہ ایک بڑی تبدیلی تھی جس نے برطانیہ کی آئینی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔ لوئزیانا خریداری کا معاہدہ 29 اپریل 1803ء کو امریکہ اور فرانس کے درمیان ریاست لوئزیانا کی خریداری کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت نپولین بوناپارٹ نے ایک وسیع علاقہ امریکہ کو فروخت کیا جس سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا رقبہ تقریباً دوگنا ہو گیا۔ یہ معاہدہ امریکی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس نے مغرب کی جانب توسیع، معاشی ترقی اور سیاسی طاقت میں اضافہ ممکن بنایا۔ڈاخاؤ حراستی کیمپ کی آزادی29 اپریل 1945ء کو امریکی افواج نے ڈاخاؤ حراستی کیمپ کو آزاد کروایا۔ یہ نازی جرمنی کے ابتدائی اور بدنام زمانہ کیمپوں میں سے ایک تھا جہاں ہزاروں قیدیوں کو قید اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جب اتحادی فوجیں یہاں پہنچیں تو انہوں نے انتہائی خوفناک حالات دیکھے۔بھوکے، بیمار قیدی اور لاشوں کے انبار۔ یہ واقعہ دوسری عالمی جنگ کے اختتامی دنوں میں نازی مظالم کی ایک ہولناک تصویر دنیا کے سامنے لایا اور اس کے بعد جلد ہی جرمنی کی شکست واقع ہوئی۔ سیگون سے انخلا29 اپریل 1975ء کو امریکہ نے ویتنام جنگ کے آخری مرحلے میں اپنے شہریوں اور اتحادیوں کو سیگون سے نکالنا شروع کیا۔ اس وقت شمالی ویتنام کی افواج شہر کے قریب پہنچ چکی تھیں اور جنوبی ویتنام کی حکومت تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سفارتخانے اور دیگر مقامات سے لوگوں کو نکالا گیا اور یہ منظر دنیا بھر میں نشر ہوا۔ یہ انخلاویتنام جنگ کے اختتام کی واضح علامت تھا کیونکہ اگلے ہی دن سیگون پر قبضہ ہو گیا۔ لاس اینجلس فسادات 29 اپریل 1992ء کو امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں شدید فسادات شروع ہوئے جب عدالت نے روڈنی کنگ پر تشدد کرنے والے پولیس افسران کو بری کر دیا۔ اس فیصلے نے عوام میں غم و غصہ پیدا کیا اور شہر میں لوٹ مار، آتش زنی اور احتجاج شروع ہو گیا۔ یہ فسادات کئی دنوں تک جاری رہے اور درجنوں افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے امریکہ میں نسلی امتیاز، پولیس کے رویے اور عدالتی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کیے اور بعد میں اصلاحات کی بحث کو جنم دیا۔    

گندم کی کٹائی اور گہائی

گندم کی کٹائی اور گہائی

محنت،ثقافت اور خوشیوں کی روایتاپریل ، مئی ہمارے ملک کے میدانی علاقوں میں گندم کی کٹائی کا موسم ہے۔ برصغیر کے دیہی معاشرے میں گندم کی فصل صرف ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب فصل پک کر تیار ہوجاتی ہے تو گاؤں کے کھیتوں میں سنہری بالیوں کا منظر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے زمین نے سونے کا لباس پہن لیا ہو۔ اس خوبصورت منظر کے بعد شروع ہوتا ہے گندم کی کٹائی اور پھر گہائی کا مرحلہ، جو محض ایک زرعی عمل نہیں بلکہ ایک اجتماعی تہوار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔پہلے زمانے میں ہر جگہ مگر آج بھی کہیں کہیں گندم کی کٹائی ہاتھوں سے درانتی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ مرد، عورتیں اور بعض اوقات بچے بھی اس عمل میں شریک ہوتے ہیں۔ فصل کو کاٹ کر گٹھوں (پولوں) کی شکل میں باندھ لیا جاتا ہے اور پھر انہیں کھیت کے کسی صاف اور ہموار حصے میں جمع کیا جاتا جسے '' کھلیان ‘‘کہا جاتا تھا۔ یہی کھلیان بعد میں گندم کی گہائی کا مرکز بنتے ہیں۔ گندم کی گہائی کا عمل نہایت محنت طلب کام ہے۔ آج کے جدید تھریشر یا کمبائن ہارویسٹر مشینوں کی جگہ ماضی میں بیلوں یا اونٹوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ گندم کے گٹھوں کو ایک ڈھیری کی شکل میں ایک جگہ اکٹھا کیا جاتا۔پھر اسے زمین پر بچھا کر اس کے اوپر جانوروں کو چکر لگوائے جاتے تھے۔ بعض کسان بیلوں کے پیچھے اس گندم کی ڈھیری میں سے بڑے بڑے پھلے بنا کر باندھتے۔ پورا دن جانور ایک دائرے میں گھومتے رہتے۔ جس کے نتیجے میں گندم کی بالیوں سے دانے الگ ہو جاتے۔ گہائی کے دوران کسان بڑی محنت اور صبر سے کام لیتے۔ صبح سویرے سورج نکلنے سے پہلے ہی کام شروع ہو جاتا۔ وہ مسلسل ایک ہی جگہ پر گندم کو روندتے رہتے۔ اس روندی ہوئی فصل کو لکڑی سے بنے ہوئے اوزاروں سے الٹ پلٹ بھی کرتے رہتے۔ گندم کے تنکوں اور دانوں سے بھوسہ الگ کیاجاتا۔جب دانے مکمل طور پر الگ ہو جاتے تو انہیں ایک جگہ جمع کر کے ڈھیری بنائی جاتی۔گندم کی یہ ڈھیری نہ صرف کسان کی محنت کا ثمر ہوتی بلکہ اس کے سال بھر کے رزق کی علامت بھی سمجھی جاتی۔ جب گندم کی ڈھیری تیار ہو جاتی تو اس کے بعد آتا تولائی کا مرحلہ۔ پرانے زمانے میں ترازو اور باٹ کے ذریعے گندم تولی جاتی تھی۔ اس موقع پر گاؤں کے بچے بھی بڑی دلچسپی سے کھلیان میں آ جاتے۔ایک خوبصورت روایت یہ تھی کہ جب گندم تولی جاتی تو بچوں کو خوشی کے طور پر دانے دیے جاتے۔ بچے اپنے چھوٹے چھوٹے دامن میں گندم کے دانے لے کر خوشی سے جھوم اٹھتے۔ بعض جگہوں پر بچوں کو چنگیر بھر کر گندم دی جاتی جو اُن کے لیے کسی انعام سے کم نہ ہوتی تھی۔یہ روایت نہ صرف بچوں کی خوشی کا باعث بنتی بلکہ انہیں محنت اور رزق کی قدر بھی سکھاتی تھی۔ وہ دیکھتے کہ یہ دانے کتنی محنت کے بعد حاصل ہوئے ہیں۔ اس لیے ان کے دل میں کسانوں کے لیے احترام پیدا ہوتا۔ سال بھر کسان کا کام کرنے والے بھی کھلیان میں پہنچ جاتے اور سال بھر کی محنت کا عوضانہ وصول کرتے۔گندم کی گہائی کے دن سے گاؤں میں ایک خاص رونق ہوتی تھی۔ لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے آتے، کھانا اکٹھے کھایا جاتا۔یہ محنت صرف جسمانی نہیں بلکہ ایک روحانی اور سماجی تجربہ بھی تھی۔ اس میں تعاون، بھائی چارہ اور سادگی کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ ہر شخص دوسرے کے کام میں ہاتھ بٹاتا اور کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔ اج کے جدید دور میں مشینوں نے ان تمام روایتی طریقوں کی جگہ لے لی ہے۔ تھریشر، کمبائن ہارویسٹر اور دیگر زرعی آلات نے کام کو آسان اور تیز بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ثقافتی رنگ بھی ماند پڑ گئے ہیں جو کبھی گندم کی گہائی کا حصہ تھے۔ اب نہ وہ کھلیان کی رونق رہی، نہ بیلوں کی گھنٹیوں کی آواز اور نہ ہی بچوں کو دانے دینے کی وہ سادہ مگر خوبصورت روایت۔ سب کچھ مشینی اور تیز رفتار ہو گیا ہے۔ گندم کی گہائی ایک مکمل ثقافتی عمل تھا جس میں محنت، خوشی، تعاون اور روایات کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ یہ صرف دانے نکالنے کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسی یادگار روایت تھی جو لوگوں کو آپس میں جوڑتی تھی۔ اگرچہ وقت کے ساتھ طریقے بدل گئے ہیں لیکن ان روایات کی یادیں آج بھی دیہی سماج کے حسن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان روایات کو یاد رکھیں اور اپنی نئی نسل کو ان سے روشناس کرائیں تاکہ وہ جان سکیں کہ ان کے آباؤ اجداد نے کس محنت اور محبت سے یہ زمین آباد کی تھی۔

دماغی صحت کے لیے کتنی نیند ضروری ہے؟

دماغی صحت کے لیے کتنی نیند ضروری ہے؟

سائنسی تحقیق کی روشنی میں ایک جائزہنیند انسانی زندگی کی ایک بنیادی اور لازمی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف جسمانی توانائی کو بحال کرتی ہے بلکہ دماغی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے اس پہ روشنی ڈالی ہے کہ نیند کا دورانیہ براہِ راست دماغی بیماریوں، خصوصاً ڈیمنشیا کے خطرے سے جڑا ہوا ہے۔ اس مضمون میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ مناسب نیند کس طرح ہماری دماغی صحت کو بہتر بنا سکتی ہے۔سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیمنشیا کیا ہے۔ ڈیمنشیا ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان کی یادداشت، سوچنے کی صلاحیت اور روزمرہ کے کام انجام دینے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ یہ عموماً عمر کے ساتھ بڑھتا ہے لیکن طرزِ زندگی کے کئی عوامل اس کے خطرے کو کم یا زیادہ کر سکتے ہیں۔ انہی عوامل میں سے ایک اہم عنصر نیند ہے۔یارک یونیورسٹی کینیڈا کے ماہرین کی ایک ٹیم کی ایک حالیہ تحقیق میں تقریباً 69 مختلف مطالعات کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں لاکھوں افراد کے نیند کے معمولات اور دماغی صحت کا تجزیہ کیا گیا، اس جامع تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند دماغی صحت کے لیے سب سے زیادہ مفید ہے۔ یہ وہ درمیانی حد ہے جہاں انسان کا دماغ بہترین طریقے سے کام کرتا ہے اور بیماریوں کا خطرہ کم رہتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس حد سے کم یا زیادہ سوتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ 7 گھنٹے سے کم سوتے ہیں ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 18 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیند کی کمی دماغ کو مکمل آرام نہیں دیتی جس کے نتیجے میں دماغی خلیات صحیح طریقے سے کام نہیں کر پاتے۔ نیند کے دوران دماغ خود کو صاف کرتا ہے اور نقصان دہ مادوں کو خارج کرتا ہے، لیکن کم نیند اس عمل کو متاثر کرتی ہے۔دوسری طرف اگر کوئی شخص 8 گھنٹے سے زیادہ سوتا ہے تو بھی مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق زیادہ نیند لینے والوں میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 28 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ سن کر حیرت ہوتی ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ زیادہ نیند لینا اکثر کسی پوشیدہ بیماری یا کمزور صحت کی علامت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ سونا جسمانی سرگرمی میں کمی کا باعث بنتا ہے جو دماغی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ صرف نیند ہی کافی نہیں بلکہ دیگر طرزِ زندگی کے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص روزانہ 8 گھنٹے سے زیادہ بیٹھا رہتا ہے (جیسے دفتر میں کام کرنے والے افراد) تو اس میں بھی ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ہفتے میں 150 منٹ سے کم جسمانی سرگرمی بھی دماغی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔اس تحقیق سے ایک اہم پیغام یہ ملتا ہے کہ متوازن طرزِ زندگی اپنانا بے حد ضروری ہے۔ نیند، جسمانی سرگرمی اور روزمرہ کی عادات ،یہ سب مل کر ہماری دماغی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر ہم صرف نیند پر توجہ دیں اور باقی عوامل کو نظر انداز کریں تو ہم مکمل فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔مزید یہ کہ نیند کا معیار بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ اس کا دورانیہ۔ اگر کوئی شخص 7 سے 8 گھنٹے بستر پر تو گزارتا ہے لیکن اس کی نیند بار بار ٹوٹتی ہے یا وہ بے سکون رہتا ہے تو اس کا فائدہ کم ہو جاتا ہے۔ اچھی نیند کے لیے ضروری ہے کہ سونے کا ماحول پرسکون ہو، روشنی کم ہو اور سونے سے پہلے موبائل یا سکرین کا استعمال محدود کیا جائے۔ ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ ایک مستقل نیند کا شیڈول اپنایا جائے یعنی روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا۔ اس سے جسم کا اندرونی نظام درست رہتا ہے اور نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ دماغی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے نیند ایک سادہ مگر مؤثر ذریعہ ہے۔ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی معیاری نیند، مناسب جسمانی سرگرمی اور متوازن طرزِ زندگی اپنانے سے نہ صرف ڈیمنشیا بلکہ دیگر کئی بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔یہ تحقیق ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے ہمیں بڑے اور پیچیدہ اقدامات کی ضرورت نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی عادات میں بہتری لا کر ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ نیند کو نظر انداز کرنا ایک بڑی غلطی ہو سکتی ہے اس لیے اسے اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنائیں اور اپنی دماغی صحت کا خیال رکھیں۔

آج کا دن

آج کا دن

مسولینی کی موت 28 اپریل 1945 کو بینیٹو مسولینی کو اطالوی مزاحمتی جنگجوؤں نے قتل کر دیا۔ مسولینی اٹلی کا فاشسٹ حکمران تھا جس نے 1922 سے ملک پر آمریت قائم کر رکھی تھی۔ وہ ہٹلر کا قریبی اتحادی تھا اور دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی کے ساتھ شامل رہا۔جنگ کے آخری دنوں میں جب اتحادی افواج تیزی سے آگے بڑھ رہی تھیں تو مسولینی نے سوئٹزرلینڈ فرار ہونے کی کوشش کی تاہم راستے میں اطالوی پارٹیزنز نے اسے گرفتار کر لیا۔ 28 اپریل کو اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ مسولینی کا خاتمہ فاشزم کے خاتمے کی علامت بن گیا۔ورکرز میموریل ڈےہر سال 28 اپریل کو دنیا بھر میں ورکرز میموریل ڈے منایا جاتا ہے، جسے عالمی یومِ تحفظ محنت بھی کہا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ان مزدوروں کو یاد کرنا ہے جو کام کے دوران حادثات یا بیماریوں کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔یہ دن پہلی بار کینیڈا اور امریکہ میں منایا گیا اور بعد میں انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن سمیت دیگر عالمی اداروں نے بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کیا۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی اور معیشت کے پیچھے محنت کش طبقے کی قربانیاں شامل ہوتی ہیں، اور ان کی حفاظت ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔چرنوبل حادثے کا انکشاف چرنوبل کا حادثہ 26 اپریل 1986ء کو پیش آیا لیکن 28 اپریل کو دنیا کو اس کی شدت کا علم ہوا۔ اس دن سویڈن کے ایک نیوکلیئر پلانٹ میں غیر معمولی تابکاری ریکارڈ کی گئی، تحقیقات سے پتا چلا کہ یہ اخراج سوویت یونین کے شہر چرنوبل سے آ رہا ہے۔بین الاقوامی دباؤ کے بعد سوویت حکومت نے بالآخر اس حادثے کو تسلیم کیا۔ یہ تاریخ کا بدترین ایٹمی حادثہ تھا جس میں ری ایکٹر نمبر 4 دھماکے سے تباہ ہو گیا اور بڑی مقدار میں تابکار مادہ فضا میں پھیل گیا۔اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے، کئی ہلاک ہوئے اور لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ ایئر بس اے 300 کی پرواز 28 اپریل 1974 کوائیر بس اے 300 نے اپنی پہلی باقاعدہ کمرشل پرواز مکمل کی۔ یہ طیارہ یورپی کمپنی Airbus نے تیار کیا تھا اور یہ دنیا کا پہلا دو انجن والا وائیڈ باڈی طیارہ تھا۔اس طیارے کی پہلی پرواز ایئرفرانس نے چلائی۔ اس کامیابی نے عالمی ہوا بازی کی صنعت میں ایک نئی راہ کھولی کیونکہ اس سے پہلے بڑے طیارے زیادہ تر چار انجن والے ہوتے تھے۔A300کی کامیابی کے بعد Airbus نے مزید جدید طیارے تیار کیے جنہوں نے ہوائی سفر کو زیادہ محفوظ، سستا اور مؤثر بنایا۔ میری لینڈ یونیورسٹی کا قیام 28 اپریل 1856ء کو امریکہ میں میری لینڈ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی۔ ابتدا میں اسے میری لینڈ ایگریکلچر کالج کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔اس ادارے کا مقصد زراعت، سائنس اور عملی تعلیم کو فروغ دینا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک بڑی تحقیقی یونیورسٹی میں تبدیل ہو گئی جہاں مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔آج یہ یونیورسٹی امریکہ کے نمایاں تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے اور ہزاروں طلبہ یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس کا کردار سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی، اور سماجی علوم میں نہایت اہم رہا ہے۔