کیریئرپلاننگ

کیریئرپلاننگ

اسپیشل فیچر

تحریر : اسد اللہ غنی


اندرونِ سندھ فنّی تعلیم کا جائزہدنیا مکمل طور پرسائنس و ٹیکنالوجی کے رحم و کرم پر ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں ٹیکنالوجی کا عمل دخل ہے۔ لہٰذا آج کے دور میںکوئی ملک ٹیکنیکل ایجوکیشن کو نظر انداز نہیں کرسکتاکیوںکہ جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال ہی میں کام یابی اور ترقی مضمرہے۔ کسی بھی ٹیکنالوجی کو قابل استعمال بنانے اور روزمرّہ کی مرمّت اور خرابیاں دور کرنے کے لیے انجینئر، سپر وائزر، ٹیکنیشن اور ہنر مند افراد کی تیاری کے لیے انجینئرنگ یونیورسٹیاں ‘ پولی ٹیکنک اداروں کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل ووکیشنل سینٹرز کا ہونا لازمی ہے۔ ان میں تربیت یافتہ اساتذہ جدید ترین مشینری سے آراستہ ورک شاپس اور ضروری اوزاروں کے علاوہ تربیت یافتہ عملہ لازمی ہے۔ تین سالہ ڈپلوما انجینرنگ کی تعلیم کے لیے قیام پاکستان کے بعد 1956میں پہلا پولی ٹیکنک ادارہ کراچی کے صنعتی علاقے سائٹ ایریا میں امریکا کی فورڈ فائونڈیشن کے تعاون سے شروع کیاگیا۔ بعد ازاں حیدر آباد اور خیر پور میرس میں سول ‘ الیکٹریکل اور میکنیکل ٹیکنالوجیز کے شعبوں کی تعلیم شروع کی گئی۔نجی سطح پر نواب شاہ میں حبیب انسٹی ٹیوٹ میں کیمیکل ٹیکنالوجی کا اجرا کیاگیا۔ بعد ازاں ٹھٹھہ،مٹیاری، بدین‘ سانگھڑ‘ میر پور خاص،سکھر‘ دادو، جیکب آباد، لاڑکانہ‘ پریٹ آباد، ہالہ، میر پور بٹھورو، ماتلی، ٹنڈ و آدم، عمر کوٹ، پنوںعاقل، گھوٹکی، میہڑ، شکار پور، گڑھی یاسین، رتو ڈیرو، نوشہروفیروز، فیض گنج، پڈ عیدن، کنڈیارو، ٹھری میرواہ، سکرنڈ، مٹھی، سیہون،ٹنڈوجام اور بدین میںتین سالہ ڈپلوما پروگرام کے ادارے وجود میں آئے جن میں آٹو ڈیزل، سول الیکٹریکل ، میکنیکل، الیکٹرونکس، کیمیکل اور ریفریجریشن وائیر کنڈیشنگ،کمپیوٹرانفارمیشن ، پیٹرولیم‘ مائننگ اور شوگر ٹیکنالوجیز کی تعلیم دی جاتی ہے۔ طالبات کے لیے حیدر آباداور سکھر میں پولی ٹیکنک ادارے قایم ہیںجہاں گارمنٹس اور الیکٹرونکس ٹیکنالوجیز قایم ہیں۔ انٹر میڈیٹ کامرس کے مساوی ڈپلوما ان کامرس کے ادارے پہلے دور میں حیدر آباد، دادو، سکھر، نواب شاہ، لاڑکانہ اورخیر پور میرس میں قایم کیے گئے۔ بعد ازاں ٹھٹھہ، سانگھڑ، بدین، میر پور خاص، میرو خان، جیکب آباد، شکار پور، قاسم آباد، میہڑ ، ٹنڈوالہٰ یار، گھارو، سجاول، عمر کوٹ، مٹھی، ٹنڈ وآدم، روہڑی، ٹھری میر واہ، نوشہرو فیروز، پیر جو گوٹھ ‘ قاضی احمد، کنڈیارو، ہالہ، لکھی، کندھ کوٹ، شہداد کوٹ اور ڈگری میں ادارے قایم کیے گئے۔ تیسرے پنچ سالہ منصوبے میں لڑکوں کے لیے میٹرک کی سطح پر فنی تعلیم ( میٹرک ٹیکنیکل) دینے کے لیے نواب شاہ، دادو، سکھر، جیکب آباداور شکار پور میں آٹو جنرل الیکٹریشن، مشینسٹ اور ریڈیو الیکٹرونکس کی کلاسوں کا اجرا کیاگیا ہے۔جب کہ لڑکیوں کے لیے ٹیلرنگ اور مشین ایمبرائیڈری سکھانے کے لیے میٹرک لیول پر میر پور خاص اور سکھر میں کلاسوں کا اجرا کیاگیا ۔ لڑکیوں کے لیے پانچویں جماعت کے بعد سلائی‘ کڑھائی اور بُنائی کے فنون سکھانے کے لیے حیدرآباد،خیر پور میرس، سکھر اور لاڑکانہ میں ادارے قایم کیے گئے۔ جہاں ایک سالہ سرٹیفکیٹ اور دوسالہ ڈپلوما کورس کرائے جاتے ہیں ۔ بعد ازاں تعلقہ لیول پر لڑکیوں کی تعلیم کے لیے 45ادارے قایم کیے گئے جن میں بدین، وٹری، ہالہ ، ٹنڈو آدم، دادو، سیہون، جام شورو، میر پور خاص، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو غلام علی، ڈیپلو، ڈگری ، لطیف آباد ، میہڑ، جیکب آباد، نوشہرو فیروز، پنوں عاقل، گھوٹکی، قمبرعلی خان، شکار پور، تھڑی محبت، گڑھی یاسین، روہڑی، ماتلی، ٹنڈوغلام علی، عمر کوٹ، شہداد پور، مٹھی اور کنڈیارو نمایاں ہیں۔1976میں ولیج ورک شاپ اسکیم کے تحت پٹنی، بجرگی، شاہ پور چاکر، ہالہ اورسجاول میں غیر ہنر مند افراد کے لیے ٹیکنیکل ایجوکیشن کا بندوبست کیاگیا۔ کمپیوٹروانفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایک سالہ ڈپلوما کورس اور دیگر شاٹ کورسز کے لیے نجی اداروں نے تعلیم دینے کے لیے حیدر آباد، میر پور خاص، محراب پور، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، شکار پور اور خیر پور میرس میں جدید ترین تعلیم وتربیت فراہم کی۔ بیچلر آف ٹیکنالوجی کی تعلیم گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی کی تعلیم گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی حیدر آباد اور خیر پور میرس میں شروع کی گئی ۔ ڈپلوما اِن بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم دینے کے لیے سکھر میں نجی اداروں نے مخلوط طرز تعلیم کے تحت اس کام کی ابتدا کی۔ ان سرکاری اداروں کے قیام کی ذمّے داری ڈائریکٹریٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن نے انجام دی۔ جن کے ذمے داروں میں محمد ایچ ماما، ڈاکٹر میر محمد علی، انجنیر انعام الحق، انجینئر امام علی سومرو اور محمد عشرت محمود بیگ نمایاںہیں جن کی ان تھک کاوشوں کی وجہ سے پاکستان آج بھی ہنر مند افرادی قوت کے ذریعے کثیر زرمبادلہ کمارہاہے۔وزارت محنت کے ذیلی ادارے مین پاور ٹریننگ نے اندرون سندھ ایک سالہ اور دوسالہ سرٹیفکیٹ کورس کی تربیت کے لیے ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر، ووکیشنل ٹریننگ سینٹر اور اپرنٹس ٹریننگ سینٹرقایم کیے جن کی تعداد بیس کے لگ بھگ ہے۔ ان اداروں کی ترویج کا سہرا گلزارعلی شاہ اور موجودہ ڈائریکٹر کریم بخش صدیقی کے سر ہے ۔ وزارت محنت کے تحت اسمال انڈسٹری نے قریباً ستّر ادارے قایم کیے جو کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن میںضم ہوچکے ہیں۔ سماجی بہبود کی وزارت نے لڑکیوں کے لیے کڑھائی سلائی کے دس ادارے قایم کیے ۔ نیزکمرشیل بنکوں اور پیٹرومین نے کمپیوٹرٹریننگ کے ادارے کھولے تھے ۔ نجی شعبے نے بھی اندرون سندھ فنی تعلیم کے فروغ کے لیے قابل قدر نمایاں خدمات انجام دیں۔ مختصر دورانیے کے ٹائیپنگ و شارٹ ہینڈ کورسز کا قدیم ترین ادارہ شکار میںقایم ہے جو قیام پاکستان سے قبل یہ خدمت انجام دے رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
217 سال بعد نپولین کا راز فاش

217 سال بعد نپولین کا راز فاش

مصنوعی ذہانت نے صدیوں پرانے پراسرار خط کا معمہ حل کر دیاتاریخ کے اوراق میں بعض راز ایسے ہیں جو صدیاں گزرنے کے باوجود انسان کیلئے معمہ بنے ہوئے ہیں۔ ایسے ہی ایک پراسرار راز کا تعلق فرانس کے مشہور شہنشاہ نپولین بوناپارٹ سے ہے، جس نے 1809ء میں ایک ایسا خط تحریر کیا جس کا متن طویل عرصے تک ماہرین کیلئے ناقابلِ فہم رہا۔ اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے 217 سال پرانے اس خط کے پوشیدہ الفاظ پڑھنے اور اس کے پیغام کو سمجھنے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ نپولین بوناپارٹ کا تحریر کردہ یہ خط 1809ء میں نپولین کے سوتیلے بیٹے یوجین نے فرانسیسی جنرل آگست دی مارمون کو بھیجا تھا۔ یوجین اس وقت اٹلی کے نائب بادشاہ کے منصب پر فائز تھا۔خط کی پہلی سطر فرانسیسی زبان میں لکھی گئی ہے، تاہم اس کے بعد آنے والی 24 سطروں میں دو ہندسوں کے اعداد، بکھرے ہوئے حروف اور خود ساختہ علامتیں استعمال کی گئی ہیں۔اگرچہ یہ خط اصل میں ایک ایسی کلید (Key) کے ساتھ بھیجا گیا ہوگا جس کی مدد سے اس کے رموز کو سمجھا جا سکتا تھا، لیکن وہ کلید طویل عرصہ قبل گم ہو چکی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ خط کا متن ایک معمہ بنا رہا۔ اب سائبر سکیورٹی کمپنی '' SentinelO ne‘‘ کے انجینئر کارٹر چرچ نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے اس خفیہ کوڈ کو توڑ لیا ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس‘‘ پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جی پی ٹی آسٹرا کی مدد سے نپولین کے ایک جنرل کے نام لکھے گئے ایسے ناقابلِ حل خفیہ کوڈ کو توڑ دیا، جو 217 سال سے پڑھا نہیں جا سکا تھا۔ اس کامیابی کی خاص بات دراصل کوڈ توڑنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ Astra نے صرف ایک تصویر اور دیے گئے مقصد کی بنیاد پر مکمل ملٹی ماڈل عمل چھ گھنٹے میں مکمل کر لیا۔16 مارچ 1809ء کو نپولین نے پیرس سے اپنے سوتیلے بیٹے یوجین کے نام خط لکھا اور اس سے کہا کہ وہ ایک خط آگست دی مارمون کو پہنچائے۔ مارمون نپولین کے دوست تھے اور ان کی فوجیں بحیرہ ایڈریاٹک کے دوسری جانب ڈالمیشیا میں تعینات تھیں۔چونکہ مارمون کی فوج اور فرانس کی دیگر تمام افواج کے درمیان آسٹریا کا علاقہ حائل تھا، اس لیے جنگ چھڑنے کی صورت میں وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کر سکتے تھے۔خط کی پہلی سطر فرانسیسی زبان میں لکھی گئی تھی، جس کا مفہوم تھا: ''جنرل مارمون، آپ کو رواں ماہ کی 8، 14 اور 20 تاریخ کو میرے بھیجے گئے خطوط موصول ہو چکے ہوں گے‘‘۔تاہم خط کا باقی حصہ خفیہ کوڈ میں تحریر تھا، اس لیے اس کا مفہوم طویل عرصے تک واضح نہ ہو سکا۔اس کوڈ کو توڑنے کیلئے مسٹر چرچ نے ''جی پی ٹی 6 آسٹرا‘‘ سے مدد لی، جو اوپن اے آئی کا تیار کردہ مصنوعی ذہانت کا ماڈل ہے۔چھ گھنٹے کی مسلسل کارروائی کے دوران اے آئی ماڈل خط کے پیغام کو ڈی کوڈ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔چرچ نے ایک بلاگ پوسٹ میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ Astra نے تصویر کو قطاروں میں تقسیم کیا، علامات کو پڑھا، پھر یہ تعین کیا کہ ہاتھ سے بنائے گئے 175 مختلف نشانات میں سے کون سے دراصل ایک ہی علامت کو دوبارہ لکھنے کی صورتیں ہیں، اور اس کے بعد ہی خفیہ کوڈ توڑنے کا عمل شروع کیا۔ ڈی کوڈ کیے گئے خط میں اس وقت موجود فرانس اور اس کے اتحادیوں کی دیگر تمام فوجوں کے مقامات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور مارمون کو ان کی الگ تھلگ پوزیشن سے ''مرعوب نہ ہونے‘‘ کی تاکید کی گئی ہے۔چرچ کے مطابق، خود اس خفیہ کوڈ کو توڑنا دراصل زیادہ مشکل نہیں تھا۔ انسانوں کو یہ کام مکمل کرنے میں مصنوعی ذہانت کے مقابلے میں کہیں زیادہ وقت درکار ہوتا، جبکہ اے آئی نے صرف چھ گھنٹوں میں یہ کام مکمل کرلیا۔ انہوں نے کہاکہ ''خفیہ کوڈ خود زیادہ مشکل نہیں ہے اور اگر خفیہ تحریروں کے ماہرین کو مناسب وقت اور توانائی میسر ہوتی تو وہ اسے آسانی سے حل کر سکتے تھے۔ لیکن خط کو نقل کرنے، علامات کو ترتیب دینے اور درج کرنے، ترجمہ کرنے اور پھر کوڈ توڑنے کا پورا عمل پیچیدہ اور مختلف شعبوں کے علم کا متقاضی ہے۔ہر شعبے میں ایسے بہت سے مخصوص اور حل طلب مسائل موجود ہیں جن پر ماہرین کے پاس کام کرنے کیلئے مناسب وقت اور وسائل نہیں ہوتے۔اس معاملے سے حاصل ہونے والا اہم سبق یہ ہے کہ ایسے حل طلب مسائل کی فہرست کو مختصر کرنے والے افراد مستقبل میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہوں گے جو متعلقہ شعبے کے ماہر نہ ہونے کے باوجود محض تجسس کی وجہ سے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔نپولین کا ڈی کوڈ کیا گیا پیغامان خطوط میں وہ احکامات اور ہدایات شامل تھیں جو جلالت مآب نے مجھے آپ تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ میں آج ہی آپ کو فرانسیسی اور اتحادی افواج کی تعیناتی سے آگاہ کرنے کیلئے بے تاب ہوں۔ ڈیوک آف ڈانزگ 40 ہزار فوجیوں کے ساتھ میونخ اور پاساؤ پر قابض ہے۔ شہزادہ پونیاتووسکی 30 ہزار پولش فوجیوں کے ساتھ دریائے وسٹولا کے کنارے پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے اور کراکوف کو خطرہ لاحق ہے۔ شہزادہ پونتے کورفو سیکسونی کی فوج کی کمان کر رہا ہے، جو ڈریسڈن کے سامنے خیمہ زن ہے، جبکہ ڈیوک آف آؤرشٹیڈ 80 ہزار فرانسیسی فوجیوں کے ساتھ بائروئتھ میں موجود ہے۔ ڈیوک آف ریولی 60 ہزار فوجیوں کی کمان کر رہا ہے جو اولم اور ڈوناوورتھ میں تعینات ہیں۔ جنرل اوڈینو 40 ہزار فوجیوں پر مشتمل اشرافیائی دستے کے ساتھ آگسبرگ اور دریائے لیک کے اطراف موجود ہے۔روسی آسٹریا کے خلاف پیش قدمی کر رہے ہیں اور آج فریولی کی فوج کی تعداد 80 ہزار ہے۔ اس میں ڈالمیشیا کے فوجی دستے بھی شامل کرلیں، جبکہ عقب میں ہر جگہ منظم کیے جانے والے اضافی دستوں کو شمار نہ کریں، تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آسٹریا پر بیک وقت ہر جانب سے حملہ ہونے والا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی تباہی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جب آپ کو پیش قدمی کا حکم ملے تو چند فوجیوں یا جمع ہونے والے ہجوم کو دیکھ کر خود کو مرعوب نہ ہونے دیں۔ میں اب بھی آپ کی خبروں کا بے صبری سے منتظر ہوں۔ آسٹریائی فوجیں بدستور لائباش، کلاگنفرٹ، ولاخ اور سالزبرگ میں موجود ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ لنز کے راستے ٹائرول کو خطرے میں ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ تاہم ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ روسیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے گالیشیا میں فوجیں بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کی یہ تعیناتیاں ظاہر کرتی ہیں کہ جنگ کا باقاعدہ اعلان ہونے سے پہلے ہی ان کی جنگی حکمت عملی متاثر ہو چکی ہے۔ تاہم ابھی کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ ملیشیا کو فعال خدمت کیلئے طلب کر لیا گیا ہے اور اگرچہ عوام میں جوش پیدا کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں، تاہم ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ ان بھرتیوں سے فوج کو خاطر خواہ کمک حاصل ہوگی۔

آرتھرائٹس: خاموش تکلیف، بڑا مسئلہ

آرتھرائٹس: خاموش تکلیف، بڑا مسئلہ

''حرکت کے ذریعے خوابوں کی تکمیل میں معاونت‘‘ ہر سال 12 اکتوبر کو جوڑوں کے درد کیخلاف آگاہی کا عالمی دن منایا جاتا ہےجوڑوں کا درد، اکڑاؤ اور سوجن اکثر بڑھتی عمر کی معمولی تکلیف سمجھ کر نظر انداز کر دی جاتی ہے، حالانکہ آرتھرائٹس ایسی بیماریوں کا مجموعہ ہے جو انسان کی نقل و حرکت، روزمرہ سرگرمیوں اور معیارِ زندگی کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ ہر سال 12اکتوبر کو عالمی یومِ آرتھرائٹس منانے کا مقصد اس مرض اور دیگر ریمیٹک و عضلاتی بیماریوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا، بروقت تشخیص اور مناسب علاج کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق آرتھرائٹس صرف بزرگوں تک محدود نہیں بلکہ مختلف عمروں کے افراد اس کا شکار ہو سکتے ہیں، اس لیے علامات کو نظر انداز کرنے کے بجائے بروقت طبی مشورہ اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا ضروری ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 12اکتوبر کو آرتھرائٹس یا جوڑوں کے درد کے خلاف آگاہی کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد عوام میں اس مرض کے بارے میں شعور اجاگر کرنا، متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنا اور صحت کے اداروں کو اس بیماری کے تدارک کیلئے اقدامات پر آمادہ کرنا ہے۔ اس سال یہ دن ''حرکت کے ذریعے خوابوں کی تکمیل میں معاونت‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔ہمارے معاشرے میں لاکھوں افراد جوڑوں کے درد کے مسائل سے دوچار ہیں، جوڑوں کے درد کے بارے میں عالمی مہم 1996ء میں ''آرتھرائٹس اینڈ ریو میٹزل انٹرنیشنل‘‘ تنظیم کی جانب سے شروع کی گئی تھی، اس کے بعد سے ہر سال ورلڈ آرتھرائٹس ڈے منایا جاتا ہے۔آرتھرائٹس محض ایک عارضی تکلیف نہیں بلکہ ایک ایسا موذی مرض ہے جو وقت کے ساتھ جوڑوں کو متاثر کر کے انسان کی نقل و حرکت، روزمرہ سرگرمیوں اور معیارِ زندگی پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس بیماری سے متاثر ہیں اور ان میں اکثریت خواتین اور عمر رسیدہ افراد کی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں آگاہی کی کمی، بروقت تشخیص کا فقدان اور علاج کے مہنگے اخراجات اس مرض کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ اسی لیے آرتھرائٹس کا عالمی دن اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جوڑوں کی بیماری کو نظرانداز نہ کیا جائے کیونکہ ابتدائی توجہ اور بروقت علاج ہی صحت مند زندگی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔آرتھرائٹس دراصل کوئی ایک مخصوص بیماری نہیں بلکہ 200 سے زائد اقسام کے عوارض کا مجموعہ ہے جو جسم کے جوڑوں، ہڈیوں، عضلات اور بافتوں کو متاثر کرتے ہیں۔سب سے عام اقسام میں ''آسٹیو آرتھرائٹس‘‘ (Osteoarthritis) اور ''رمیٹائیڈ آرتھرائٹس‘‘ (Rheumatoid Arthritis) شامل ہیں۔ ''آسٹیو آرتھرائٹس‘‘ عموماً بڑھتی عمر، زیادہ وزن یا جسمانی دباؤ کے باعث ہوتی ہے، جبکہ ''رمیٹائیڈ آرتھرائٹس‘‘ ایک خودکار مدافعتی بیماری (Autoimmune Disorder) ہے جس میں جسم کا دفاعی نظام خود اپنے جوڑوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 35کروڑ افراد آرتھرائٹس کے کسی نہ کسی درجے میں مبتلا ہیں۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، ہر چوتھا بالغ شخص کسی نہ کسی مرحلے پر جوڑوں کے درد یا سوزش کا شکار ہوتا ہے، جبکہ خواتین میں یہ مرض مردوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ پایا جاتا ہے۔خاص طور پر 40 سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں رمیٹائیڈ آرتھرائٹس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ترقی پذیر ممالک میں اس بیماری کی تشخیص میں تاخیر، مناسب علاج کی کمی اور معاشرتی عدم آگاہی کی وجہ سے مریض اکثر دیر سے ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جوڑوں کو مستقل نقصان پہنچتا ہے۔پاکستان میں بھی آرتھرائٹس کا مرض عام ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ملک کی بالغ آبادی کا 15 سے 20 فیصد حصہ کسی نہ کسی درجے میں جوڑوں کے درد یا سوزش کا شکار ہے۔خاص طور پر خواتین، گھریلو خواتین، مزدور طبقہ، اور بزرگ افراد اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔پاکستان میں زیادہ تر لوگ ابتدائی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لوگ اسے عام جسمانی درد یا تھکن سمجھ کر وقتی درد کش ادویات پر اکتفا کرتے ہیں، جس سے مرض مزید بڑھ جاتا ہے۔گرم و مرطوب موسم، غذائی کمی اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی بھی اس بیماری کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر جوڑوں میں مسلسل درد، سوجن یا سختی محسوس ہو تو فوراً ماہر امراضِ جوڑ سے رجوع کرنا چاہیے۔ تشخیص کیلئے عام طور پر خون کے ٹیسٹ، ایکس رے، یا ایم آر آئی کی مدد لی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آرتھرائٹس کا مکمل علاج ممکن نہیں، لیکن ابتدائی تشخیص، محتاط طرزِ زندگی، اور درست علاج سے مریض ایک فعال اور خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں۔آرتھرائٹس کے عالمی دن کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ''درد کو تقدیر نہیں سمجھنا چاہیے ،علاج، آگاہی اور امید سے بہت کچھ بدلا جا سکتا ہے‘‘۔ اس دن مختلف ممالک میں آگاہی واکس، سیمینار، اور مفت طبی کیمپ منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ عوام کو بیماری کی وجوہات، علامات اور علاج کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کو صرف ایک رسمی تقریب کے طور پر نہیں بلکہ ایک عزمِ نو کے طور پر منائیں۔ آرتھرائٹس کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شعور، ہمدردی اور عمل ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں۔

چار سُو بازار

چار سُو بازار

تاشقند کی تہذیب و ثقافت کا آئینہوسطی ایشیا کی سرزمین صدیوں پرانی تہذیب، شاندار فن تعمیر، روایتی دست کاری اور رنگا رنگ ثقافتی ورثے کے حوالے سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس خطے کے قدیم بازار نہ صرف تجارت کے مراکز رہے ہیں بلکہ انہوں نے مختلف تہذیبوں، معاشرتی روایات اور انسانی میل جول کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں واقع چار سُو بازار بھی اسی تاریخی اور ثقافتی ورثے کی ایک نمایاں علامت ہے، جہاں مشرقی معاشرت کی روایتی دلکشی، مقامی ذائقوں کی خوشبو اور صدیوں پرانی تجارتی روایات آج بھی زندہ دکھائی دیتی ہیں۔چار سُو بازار تاشقند کے قدیم اور معروف تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ شہر کی مرکزی شاہراہ کے قریب، تاریخی مدرسہ ککلداش اور معروف ہوٹل چار سُو کے آس پاس واقع ہے۔ اپنی تاریخی اہمیت اور منفرد طرزِ تعمیر کے باعث یہ بازار مقامی باشندوں کے علاوہ سیاحوں کی بھی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ بازار کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا وسیع گنبد ہے، جس کی ساخت اور آرائش مشرقی فن تعمیر کی مہارت کا پتا دیتی ہے۔ گنبد کے اوپری حصے پر ہلکے فیروزی رنگ کی ٹائلوں سے بنائے گئے خوبصورت نقش و نگار عمارت کے حسن کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ ان بیل بوٹوں اور دلکش آرائشی نمونوں میں کاریگروں کی باریک بینی اور جمالیاتی ذوق نمایاں نظر آتا ہے۔بازار کی عمارت میں کشادگی، ترتیب اور روایتی تعمیراتی انداز کا خوبصورت امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ اس کا گنبد خریداروں اور سیاحوں کو دور سے اپنی جانب متوجہ کرتا ہے، جبکہ اندر داخل ہونے پر دکانوں کی ترتیب، اشیا کی رنگا رنگی اور لوگوں کی چہل پہل ایک زندہ مشرقی بازار کا منظر پیش کرتی ہے۔چار سْو بازار کی اصل رونق اس کی دکانوں میں سجی اشیا ہیں۔ یہاں تازہ سبزیاں، پھل، گوشت، دودھ، دہی، پنیر اور روزمرہ استعمال کی دیگر غذائی مصنوعات دستیاب ہوتی ہیں۔ مقامی کھانوں میں استعمال ہونے والے گرم مصالحوں کی خوشبو بازار کے ماحول کو مزید دلکش بنا دیتی ہے۔ تازہ تیار ہونے والے گرم نان، خالص شہد اور مختلف روایتی غذائی اشیا خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔بازار کے بالائی حصوں میں خشک میوہ جات کی دکانیں خصوصی دلچسپی کا باعث بنتی ہیں۔ کشمش، خشک خوبانیاں، بادام، اخروٹ اور پستہ مختلف ڈھیروں کی صورت میں سجے ہوتے ہیں۔ ان کی رنگا رنگی اور ترتیب دیکھنے والوں کو رک کر خریداری کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہاں آنے والے سیاح مقامی ذائقوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے عزیزوں کیلئے روایتی تحائف بھی خرید سکتے ہیں۔چار سُو بازار محض پھلوں، سبزیوں اور غذائی اشیا کی خریداری تک محدود نہیں، بلکہ یہاں زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق مصنوعات بھی دستیاب ہیں۔ بازار کے اندر اور اطراف میں بڑی تعداد میں دکانیں موجود ہیں، جہاں فرنیچر، ملبوسات، قالین، بچوں کے جھولے اور دیگر گھریلو اشیا فروخت ہوتی ہیں۔ شادی بیاہ کے روایتی ملبوسات، بالخصوص دلہا اور دلہن کے عروسی لباس، بھی خریداروں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔اگر کوئی سیاح مشرقی بازاروں کی حقیقی روح، مقامی لوگوں کے رہن سہن، روایتی ذائقوں اور ثقافتی ورثے کو ایک ہی جگہ دیکھنا چاہتا ہو تو چار سُو بازار اس کیلئے ایک دل چسپ مقام ہے۔ یہ بازار ماضی کی تجارتی روایات اور جدید شہری زندگی کے درمیان ایک خوبصورت رابطے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چار سُو بازار تاشقند کی سیر کا محض ایک پڑاؤ نہیں، بلکہ ازبکستان کی تہذیب، ثقافت اور روزمرہ زندگی کو سمجھنے کا ایک منفرد تجربہ بھی ہے۔

طنز و مزاح:جنون لطیفہ

طنز و مزاح:جنون لطیفہ

اگرآپ کو کوئی کھانا بے حدمرغوب ہے جوچھڑائے نہیں چھوٹتا توتازہ واردان بساط خانساماں اس مشکل کوفوراً آسان کردیں گے۔ اشیائے خوردنی اورانسانی معدے کے ساتھ بھرپور تجربے کرنے کی جو آزادی باورچیوں کو حاصل ہے وہ نت نئی کیمیاوی ایجادات کی ضامن ہے۔ مثال کے طورپرہمیں بھنڈی بہت پسند ہے لیکن دس گھنٹے قبل یہ منکشف ہواکہ اس نبات تازہ کو ایک خاص درجہ حرارت پرپانی کی مقررہ مقدارمیں(جس کا علم صرف ہمارے خانساماں کوہے)میٹھی آنچ پرپکایا جائے تو اس مرکب سے دفتروں میں لفافے اوربد لگام افسروں کے منہ ہمیشہ کیلئے بند کیے جا سکتے ہیں۔انہی حضرت نے گزشتہ جمعرات کوسارا گھرسرپراٹھارکھا تھا۔ ہم نے بچی کوبھیجا کہ اس سے کہوکہ مہمان بیٹھے ہیں۔ اس وقت سل کھوٹنے کی ضرورت نہیں۔ اس نے کہلا بھیجا کہ ہم ان ہی مہمانوں کی تواضع کیلئے سل پر کبابوں کا قیمہ پیس رہے ہیں۔ تھوڑی دیربعد ہم نے کباب منہ میں رکھا تو محسوس ہوا گویا چٹ پٹا ریگ مال کھا رہے ہیں اور ہمیں رہ رہ کر میرصاحب پررشک آنے لگا کہ وہ مصنوعی بتیسی لگائے بے خبربیٹھے کھا رہے تھے اور ہماری طرح کرکرا محسوس کر کے لال پیلے نہیں ہوئے۔ صبح تک سب کو پیچش ہو گئی۔ صرف ہمیں نہیں ہوئی اورہمیں اس لیے نہیں ہوئی کہ ہم پہلے ہی اس میں مبتلا تھے۔یہ بات نہیں کہ خدانخواستہ ہم بیماری اورموت سے ڈرتے ہیں۔ ہم توپرانی چال کے آدمی ہیں۔ اس لیے نئی زندگی سے زیادہ خوف کھاتے ہیں۔ موت برحق ہے اور ایک نہ ایک دن ضرورآئے گی۔ بات صرف اتنی ہے کہ بلانے کیلئے ہم اپنی نیک کمائی میں سے پچاس ساٹھ روپے ماہوارخرچ نہیں کرناچاہتے۔ ہمیں کسی مرض ناشناس حکیم کے ہاتھوں مرنے پربھی چنداں اعتراض نہ ہو گا۔ لیکن ہم کسی صورت خانساماں کو بالاقساط روح قبض کرنے کا اختیار نہیں دینا چاہتے کہ یہ صرف حکیم ڈاکٹروں کاحق ہے۔بیماری کا ذکر چل نکلا تو اس قوی ہیکل خانساماں کا قصہ بھی سن لیجئے جس کوہم سب آغا کہاکرتے تھے (آغا اس لیے کہا کرتے تھے کہ وہ سچ مچ آغاتھے) ان کاخیال آتے ہی معدے میں مہتابیاں سی جل اٹھتی ہیں۔ تادم وداع ان کے کھانا پکانے اور کھلانے کا انداز وہی رہا جو ملازمت سے پہلے ہینگ بیچنے کا ہوتا تھا۔ یعنی ڈرا دھمکا کراس کی خوبیاں منوالیتے تھے۔ بالعموم صبح ناشتے کے بعد سوکراٹھتے تھے۔ کچھ دن ہم نے صج تڑکے جگانے کی کوشش کی لیکن جب انھوں نے نیند کی آڑمیں ہاتھا پائی کرنے کی کوشش کی توہم نے بھی ان کی اصلاح کاخیال ترک کر دیا۔ اس سے قطع نظر، وہ کافی تابعدار تھے۔ تابعدارسے ہماری مراد یہ ہے کہ کبھی وہ پوچھتے کہ چائے لاؤں؟، اورہم تکلفاًکہتے کہ 'جی چاہے تولے آو ورنہ نہیں‘ ۔توکبھی واقعی لے آتے اورکبھی نہیں بھی لاتے تھے۔ جس دن سے انھوں نے باورچی خانہ سنبھالا گھرمیں حکیم ڈاکٹروں کی ریل پیل ہونے لگی۔ یوں بھی ان کا پکایا ہوا کھانا دیکھ کرسر (اپنا) پیٹنے کوجی چاہتا تھا۔ ''اپنا‘‘ اس لیے کہ حالانکہ ہم سب ہی ان کے کھانوں سے عاجزتھے، لیکن کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان کوکیوں کرپرامن طریق سے رخصت کیاجائے۔ ان کونوکررکھنا ایسا ہی ثابت ہواجیسے کہ شیر ببر پر سوار ہو تو جائے لیکن اترنے کی ہمت نہ رکھتا ہو۔ایک دن ہم اسی ادھیڑبن میں لیٹے ہوئے گرم پانی کی بوتل سے پیٹ سینک رہے تھے اور دواپی پی کران کو کوس رہے تھے کہ سر جھکائے آئے اور خلاف معمول ہاتھ جوڑکربولے، ''خو! صاب! تم روز روز بیماراوتا اے۔ اس سے امارا قبیلہ میں بڑا رسوائی، خو، خانہ خراب اوتا اے‘‘، (صاحب! تم بار باربیمارہوتے ہو۔ اس سے ہمارے قبیلے میں ہماری رسوائی ہوتی ہے اور ہمارا خانہ خراب ہوتاہے۔) اس کے بعد انھوں نے کہا سنا معاف کرایا، اور بغیرتنخواہ لیے چل دیئے۔ایسی ہی ایک اوردعوت کا ذکرہے جس میں چند احباب اورافسران بالا دست مدعوتھے۔ نئے خانساماں نے جوقورمہ پکایا، اس میں شوربے کایہ عالم تھا کہ ناک پکڑکے غوطے لگائیں توشاید کوئی بوٹی ہاتھ آجائے۔ اکا دکا کہیں نظر آبھی جاتی تو کچھ اس طرح کہ ''صاف چھپتی بھی نہیں سامنے آتی بھی نہیں‘‘۔اوربساغنیمت تھا کیوں کہ مہمان کے منہ میں پہنچنے کے بعد، غالب کے الفاظ میں، یہ کیفیت تھی کہ ''کھینچتاہے جس قدراتنی ہی کھنچتی جائے ہے!‘‘دوران ضیافت احباب نے بکمال سنجیدگی مشورہ دیا کہ ''ریفریجریٹر خریدلو۔ روز روز کی جھک جھک سے نجات مل جائی گی۔ بس ایک دن لذیذ کھانا پکوالو اورہفتے بھرٹھاٹ سے کھاؤ اورکھلاؤ‘‘۔

آج کا دن

آج کا دن

یورپی یونین کیلئے نوبیل امن انعام12اکتوبر 2012ء میں یورپی یونین کو براعظم یورپ میں امن، مفاہمت، جمہوریت اور انسانی حقوق کے فروغ کیلئے نوبیل امن انعام سے نوازا گیا۔ نوبیل کمیٹی نے قرار دیا کہ یورپی یونین نے کئی دہائیوں تک یورپ میں امن اور استحکام کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپی ممالک کے درمیان تعاون اور مشترکہ مفادات کو فروغ دے کر ماضی کی دشمنیوں کو کم کرنے میں بھی یونین نے نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ انعام یورپی اتحاد کی امن کیلئے کوششوں کا اعتراف تھا۔جہاز کا ایئر کنڈیشننگ سسٹم 12 اکتوبر 1933ء کو امریکی انجینئروں نے ایئرلائنز کیلئے ایئر کنڈیشننگ سسٹم متعارف کرایا۔اس نظام کا مقصد فضائی سفر کو زیادہ آرام دہ اور محفوظ بنانا تھا، کیونکہ اس زمانے میں ہوائی جہازوں کے اندر درجہ حرارت کنٹرول کرنا نہایت مشکل ہوتا تھا۔ ایئر کنڈیشننگ سسٹم کی بدولت مسافروں کو پہلی بار ایک مستقل اور معتدل درجہ حرارت والا ماحول فراہم کیا گیا۔مصر اور سعودیہ معاہدہ12اکتوبر 1945ء کا دن مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جب مصر اور سعودی عرب کے درمیان دوستی اور باہمی تعاون کا معاہدہ طے پایا۔یہ معاہدہ دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد اس دور میں ہوا جب عالمی سیاست میں نئے اتحاد بن رہے تھے ۔اس معاہدے کا مقصد دونوں عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانا تھا، تاکہ عرب دنیا میں اتحاد و اتفاق کو فروغ دیا جا سکے۔ہیرا کلیون زلزلہ12اکتوبر1856ء کو ہیرا کلیون کا تباہ کن زلزلہ آیا۔جس کی شدت 7.7 سے 8.3 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے جھٹکے کئی ممالک میں محسوس کئے گئے جن میں اٹلی اور شمالی افریقہ بھی شامل ہے۔یونانی جزیرہ کریٹ شدید متاثر ہوا اور ہیراکلیون شہر سے 500سے زائد لاشیں نکالی گئیں۔شدید جھٹکوں کی وجہ سے مالٹا میں ٹاور گر کر تباہ ہو گیاجو1638ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔کولمبس ڈے12اکتوبرکو امریکہ کے بیشتر حصوں میں ''کولمبس ڈے ‘‘منایا جاتا ہے اور اس دن وہاں عام تعطیل ہوتی ہے۔یہ دن سرکاری طور پر12اکتوبر1492ء کو کرسٹو فر کولمبس کی امریکہ آمد کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ کرسٹوفر کولمبس جینوویس میں پیدا ہونے والا ایکسپلورر تھا۔ کولمبس کا ہسپانوی بحری جہاز سانتا ماریا، نینا اور لا پنٹا پر نئی دنیا کا پہلا سفر تقریباً تین ماہ کا تھا۔پیروٹرک حادثہپیرو میں ایک کارگو ٹرک جس میں 14بچے سمیت51افراد سوار تھے ،200میٹر اونچی چٹان سے گر گیااور اس میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے۔یہ حادثہ 12 اکتوبر 2013ء کو پیش آیا اور اسے پیرو کی تاریخ میں مہلک ترین حادثوں میں شما ر کیا جاتا ہے۔ٹرک جسے عارضی بس کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ اسی دوران ڈرائیور کا اس پر کنٹرول نہیں رہا اور ٹرک بے قابو ہوتے ہوئے چٹان سے دریا میں جا گرا۔

’’جہنم کا دہانہ‘‘ بیدار؟

’’جہنم کا دہانہ‘‘ بیدار؟

خطرناک آتش فشاں کے نیچے میگما جمع ہونے لگازمین کے سینے میں چھپی آتش فشانی طاقت جب حرکت میں آتی ہے تو اس کے اثرات پورے خطے کو ہلا کر رکھ سکتے ہیں۔ بظاہر خاموش دکھائی دینے والے آتش فشاں بھی اندر ہی اندر تباہ کن قوت جمع کرتے رہتے ہیں، جو کسی بھی وقت لاوے، راکھ اور زہریلی گیسوں کی صورت میں باہر نکل سکتی ہے۔ سائنسدانوں نے اب ''جہنم کا دہانہ‘‘ کہلانے والے خطرناک آتش فشاں کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے، جہاں زمین کی گہرائی میں پگھلی ہوئی چٹانوں، یعنی میگما، کے جمع ہونے کے آثار سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کی یہ تنبیہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ قدرت کی بعض خاموش قوتیں بیدار ہونے پر انسانی آبادیوں اور ماحول کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ''جہنم کا دہانہ‘‘ کہلانے والا آتش فشاں دوبارہ بیدار ہو سکتا ہے۔محققین نے فعال آتش فشاں ماسایا کے نیچے میگما کے دو ایسے ذخائر کے بھرنے کے شواہد دریافت کیے ہیں، جن میں پگھلی ہوئی چٹانیں جمع ہو رہی ہیں۔ یہ آتش فشاں نکاراگوا کے دارالحکومت مناگوا سے محض 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں تقریباً 20 لاکھ افراد آباد ہیں۔دوسری جانب، ہر سال ہزاروں سیاح اس آتش فشاں کے خوف ناک نام کی وجہ بننے والے لاوے سے بھرے سانتیاگو دہانے کو دیکھنے کیلئے یہاں آتے ہیں۔آتش فشاں پھٹنے کا خطرہ مسلسل تشویش کا باعث بنا رہتا ہے اور ایک نئی تحقیق میں زمین کے نیچے چھپی سرگرمی کے پریشان کن آثار سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ تحقیق میں کسی فوری خطرے کی نشاندہی نہیں کی گئی، تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ''جہنم کے دہانے‘‘ کے اندر میگما کی نقل و حرکت کا نظام پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ میگما کی زیر زمین سرنگوں اور ذخائر پر مشتمل اس نظام کو سمجھنا ان تبدیلیوں کی نشاندہی کیلئے انتہائی اہم ہے جو آتش فشاں کے ممکنہ طور پر پھٹنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور امریکی ریاست پنسلوانیا کی پین اسٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ لیزی جانسن نے کہا کہ ماسایا آتش فشاں کی سرگرمیوں اور ان سے وابستہ خطرات کو مکمل طور پر سمجھنا انتہائی اہم ہے۔''جہنم کا دہانہ‘‘ ایک غیر معمولی طور پر پیچیدہ آتش فشاں ہے، جو ایک دوسرے کے اندر واقع کئی دہانوں اور زمین میں بننے والے گڑھوں پر مشتمل ہے۔ یہ گڑھے میگما کے زیر زمین ذخائر خالی ہونے کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔ اس پیچیدہ ساخت کے باعث زمین کی سطح کے نیچے موجود سرنگوں اور میگما کے ذخائر کے باہمی نظام کو ابھی تک پوری طرح نہیں سمجھا جا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ان معمولی تبدیلیوں کی نشاندہی کرنا مشکل ہو جاتا ہے جو آتش فشاں پھٹنے کے قریب ہونے کا اشارہ دے سکتی ہیں۔ شہر کے اتنے قریب واقع سیاحتی مقام کیلئے یہ صورت حال سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔محترمہ جانسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماسایا آتش فشاں سے آخری مرتبہ 1772ء میں لاوے کا ایک بڑا بہاؤ خارج ہوا تھا، تاہم اس سے مسلسل خارج ہونے والی گیسوں کے باعث آتش فشانی گیس سلفر ڈائی آکسائیڈ کی خطرناک حد تک زیادہ مقدار اکثر پیدا ہوتی رہتی ہے۔گزشتہ 50 برسوں کے دوران اس آتش فشاں میں کئی دھماکے بھی ہو چکے ہیں۔ اگرچہ اب تک ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم محققین کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ تحقیق کاروں نے اپنے نئے مقالے میں یورپی خلائی ایجنسی کے ''سینٹینل1‘‘ سیٹلائٹ سے حاصل کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز میں شائع ہوئی ہے۔یہ سیٹلائٹ ہر 12 دن بعد اس علاقے کے اوپر سے گزرتا ہے اور زمین کی سطح کے اتار چڑھاؤ کی تفصیلی تصاویر جمع کرتا ہے۔ ان تصاویر کے ذریعے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ زمین کے نیچے میگما کی نقل و حرکت کے باعث سطح زمین کس طرح بلند یا پست ہو رہی ہے۔محترمہ جانسن کے مطابق ''جب زمین کی سطح نیچے بیٹھتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آتش فشاں کے اندر سے میگما خارج ہو کر کسی دوسری جانب منتقل ہو رہا ہے، لیکن جب زمین دوبارہ بلند ہونے لگے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ نیا میگما اندر داخل ہو رہا ہے‘‘۔ تحقیق کاروں نے 2018ء سے 2022ء کے وسط تک مشاہدہ کیا کہ مشہور سانتیاگو دہانے کے عین شمال میں واقع ماسایا کے مرکزی میگما ذخیرے کے اردگرد زمین کی سطح تقریباً 1.2 انچ (3 سینٹی میٹر) نیچے بیٹھ گئی تھی۔اس تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیر زمین موجود ذخیرے سے میگما کی کچھ مقدار دوسری جانب منتقل ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں زمین کی سطح نیچے دھنس گئی۔تاہم، 2022ء سے 2024ء کے دوران زمین کی سطح ایک بار پھر بلند ہونا شروع ہو گئی، جس سے یہ اشارہ ملا کہ زیر زمین میگما کا ذخیرہ دوبارہ بھر رہا ہے۔حیرت انگیز طور پر، اس پورے چھ سالہ عرصے کے دوران سانتیاگو دہانے اور اس میں موجود لاوے کی جھیل کے آس پاس زمین کی سطح مسلسل نیچے دھنس رہی تھی۔ محققین کے مطابق، اس صورتِ حال کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ زمین کی سطح سے تقریباً 656 فٹ (200 میٹر) نیچے میگما کا ایک دوسرا، نسبتاً کم گہرائی میں واقع ذخیرہ بھی موجود ہے، جو سرگرم ہے۔ محترمہ جانسن نے مزید کہا کہ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ آتش فشاں کے اندر میگما کی نقل و حرکت کا نظام پہلے کے اندازوں سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس تبدیلی کی ایک وجہ میگما کے دوسرے، نسبتاً کم گہرائی میں واقع ذخیرے میں اس کی مقدار کا کم ہونا بھی ہو سکتی ہے۔محققین مستقبل میں اس نوعیت کی مزید پیمائشوں کے ذریعے آتش فشاں کی سرگرمیوں کے بارے میں زیادہ جامع معلومات حاصل کرنے اور اس کے پھٹنے کی پیش گوئی کے نظام کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں۔ پین اسٹیٹ یونیورسٹی کے شریک محقق ڈاکٹر ینگ چولکم کا کہنا ہے کہ مسلسل نگرانی کے ذریعے ہمیں آتش فشاں کی معمول کی سرگرمیوں کو سمجھنے اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر کسی موقع پر لوگوں کو خبردار کرنے کی ضرورت پیش آئے تو مسلسل نگرانی کی بدولت ہم بروقت ایسا کر سکتے ہیں۔