قطبی ستارہ ہمیشہ شمال میں کیوں نظر آتا ہے؟
اسپیشل فیچر
قطبی ستارہ ایک چھوٹا ستارہ ہے جو صدیوں سے شمال کی جانب نیوی گیشن کے لئے رہنما کی حیثیت اختیار کئے ہوئے ہے۔ کئی بھٹکے ہوئے قافلوں اور سمندروں کی لہروں پر سوار سفر کرتے ہوئے بحری جہازوں کو اس نے درست سمت دکھائی ہے اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ یہ اپنی سمت تبدیل نہیں کرتا اور ہمیشہ قطب شمالی پر چمکتا دکھائی دیتا ہے۔ہمیشہ ایک ہی سمت میں دکھائی دینے کی وجہ یہ ہے کہ یہ زمین کے ایکسز کی متوازی سمت میں طلوع ہوتا ہے۔ یعنی یہ ایک ایسا ستارہ ہے جو زمین کے شمالی قطب کی سیدھ میں دکھائی دیتا ہے اس لئے یہ اپنی جگہ تبدیل نہیں کرتا۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کہ آپ ایک سیلنگ فین کی مشین پر کچھ نشان بنا دیں اور ایک نشان اس کے بالکل وسط میں بنا دیں گے تو پنکھا گھومنے پر اطراف میں بنے ہوئے نشانات اپنی جگہ تبدیل کرتے دکھائی دیں گے لیکن بالکل وسط میں بنا ہوا نشان اپنی جگہ پر قائم رہے گا۔اس ستارے کو عام طور پر ’’پول سٹار‘‘ یا قطبی ستارہ کہتے ہیں۔ ویسے تو زمین کے دونوں میں سے کسی بھی پول پر دکھائی دینے والا ستارہ قطبی ستارہ یا پول سٹار کہلا سکتا ہے لیکن عام طور پر یہ اصطلاح شمالی قطب پر چمکنے والے ستارے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔پول سٹار بھی وقت کے ساتھ اپنی جگہ تبدیل کرتے ہیں۔ ان کی رفتار اگرچہ بہت کم ہوتی ہے لیکن قابل گرفت ضرور ہے۔ جتنے انحراف کے ساتھ یہ گھومتا ہے وہ اتنی کم رفتار سے ہوتا ہے کہ لگ بھگ 26 ہزار برسوں میں یہ اپنا مختصر سا دائرہ مکمل کرتا ہے۔ بحری سفر کے دوران اس پر انحصار کے لئے اسے اکثر فلکیاتی نیوی گیشن کے لئے بھی حوالہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ رات بھر میں جہاں دوسرے ستارے اپنی جگہ تبدیل کرتے رہتے ہیں یہ اپنی جگہ پر برقرار رہتا ہے۔موجودہ پول سٹار جو قطب شمالی پر چمکتا دکھائی دیتا ہے ’’ارسا مائنر‘‘ (Ursa Minor)نامی ستاروں کے جھرمٹ میں ’’لٹل ڈِپر‘‘ کے ہینڈل کے اختتام پر واقع ہے۔ تاریخی اعتبار سے رات کو محو سفر قافلے اور جہاز اس کے ذریعے عرض بلد کا کھوج لگایا کرتے تھے کیوں کہ خط استواء کے شمالی حصے میں کسی بھی جگہ سے قطبی ستارے کا افق (یا بلندی) ہمیشہ عرض بلد کے متوازی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص عرض بلد سے 30 درجے پر دیکھے گا تو قطبی ستارہ بھی اسے 30 درجے پر دکھائی دے گا۔ایک اور اہم بات بھی نوٹ کرلیجئے کہ مختلف ادوار میں مختلف ستارے قطبی ستارے کے کردار نبھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر تین ہزار سال قبل مسیح میں ستاروں کے جھرمٹ ’’ڈریکو‘‘ (Draco) میں واقع ایک دھندلا ستارہ ’’ثوبان‘‘ (Thuban)قطبی ستارہ ہوا کرتا تھا۔اس کا ویژوئل میگنی ٹیوڈ 3.67 تھا۔ آج کے قطبی ستارے یعنی پولارس (Polaris) کا میگنی ٹیوڈ 1.97 ہے ۔ اول الذکر کو ’’فورتھ میگنی ٹیوڈ‘‘ اور موخر الذکر کو ’’سیکنڈ میگنی ٹیوڈ کہتے ہیں۔ فرسٹ میگنی ٹیوڈ سٹار ’’ویگا‘‘ سن 14000 عیسوی میں قطبی ستارہ کہلائے گا۔جیسا کہ ہم نے اوپر بھی کہا ہے کہ زمین کے دونوں میں سے کسی بھی پول پر چمکنے والا ستارہ ’’پول سٹار‘‘ کہلائے گا لیکن اس وقت جنوبی قطب کے متوازی جو ستارہ چمک رہا ہے وہ پولرس یعنی قطب شمالی کے قطبی ستار ے جتنا مفید کام نہیں دے سکتا۔ قطب جنوبی کا حالیہ دھندلا ستارہ ’’آکٹینٹس‘‘ (Octantis) ہے۔ یہ جنوبی قطب کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم ’’کرکس‘‘ نامی ستاروں کا جھرمٹ جنوبی قطب کے قریب ہی واقع ہے۔