منگولوں کی لشکری مہمات (1221 تا 1358 )
اسپیشل فیچر
ہم میں سے کون ہے جس نے لفظ ’’منگول‘‘ نہ سن رکھا ہو۔ لکیر جیسی پتلی آنکھوں، سنگ دل و پتھر جسم اور گھوڑوں پر زندگیاں گذارنے والے انسانوں کا جب جب ذکر ہوتا ہے تب جانے کیوں نظریں منگولوں ہی پر جا ٹکتیں ہیں۔ ویسے تو اس پہاڑی مقام کا ذکر بھی کبھی کروں گا جہاں چنگیز خان ادب واحترام سے لازماً حاضری دیتا تھا مگر مشہور یہی ہے کہ منگول دنیا کے ظالم ترین لوگ ہی تھے۔ کس نے مشہور کیا اور کیوں اس پر پھر کبھی بات ہو گی۔ ویسے تو خیبر پی کے، پنجاب سے بنگال تک آپ کو منگولی خدوخال کے لوگ مل جائیں گے کہ ہمارے خطوں میں منگول کتنے ہی برس مسلسل آتے رہے۔ اس کا احوال آغا حسین ہمدانی نے اپنی کتاب ’’سلاطین دہلی کی سرحدی پالیسی‘‘ میں خوب کیا ہے۔ یہ آپس میں بھی لڑتے تھے اور دوسروں کو بھی چھوڑتے نہیں تھے کہ چین اور روس کے بارڈر کے آس پاس ان کے زیادہ ٹھکانے تھے اور وسط ایشیا ان کے سامنے۔ جو کہانی آپ سنیں گے وہ 1221 سے 1358 تک کے لگ بھگ 140 سالوںپر محیط ہے اور اس میں منگولوں کی ہمارے علاقوں پر لشکرکشیوں کا ذکر ہے۔ ویسے تو اس زمانے میں منگول وسط ایشیا، ایران، مصر، یورپ تک پھیلے ہوئے تھے مگر ابھی وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے لہٰذا ان حملوں کو ’’اسلام‘‘ کے کھاتے ڈالنا مشکل تھا۔ البتہ 1313 میں ازبک خاں (آز۔ بیگ) ایک بخاری سید صوفی کے ہاتھوں مسلمان ہوا تو بہت سے منگولوں نے اسلام قبول کر لیا۔ گولڈن ہورڈوں میں یہ سب سے طویل مدت تک حکمرانی کرنے والا منگول سردار تھا۔ کیونکہ یہ زیادہ تر درہ گومل، ٹوچی اور کرم سے آتے تھے اس لیے کوہستان نمک، ملتان وغیرہ کے بعد لاہور دہلی کو تاراج کرنے جاتے تھے۔ اکثر ان کا مقابلہ پنجاب میں موجود مسلمان حکمرانوں سے رہتا تھا اس لیے ان کا ذکر کرنے سیــ’’ مسلم حملہ آوروں‘‘ والی اصطلاح بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔ یوں ان کا ذکر بہت سے تاریخ دان بوجوہ کرنا ہی نہیں چاہتے۔ اب آپ منگولوں کی آمد کا مختصر احوال پڑھیں اور اس حوالہ سے اپنی تاریخ کو ازسر نو سمجھنے کے جتنی کریں۔ منگولوں کے حملوں کے حوالے سے مصنف نے جلال الدین ’’منگ برنی‘‘ (1221)سے آغاز کیاہے جو چنگیز خان سے لڑتا ہوا دریائے سندھ کی طرف نکل آیا تھا اور پھر ساٹھ فٹ لمبی چٹان سے دریا میں چھلانگ لگا کر نکل گیا تھا۔ چنگیز خان کرم وادی کے بالائی علاقہ کو آتے ہوئے غالباً سوات ٹھہر گیا تھا۔ اسی طرح 1224 میں’’ توربائی‘‘ نامی منگول سالار نے ’’ تامانوں‘‘ کے ساتھ ملتان (پنجاب) پر چڑھائی کی اور اس کامحاصرہ کر لیا۔ ملتان کی مسلم فوجوں نے سخت مزاحمت کی جس کے نتیجہ میں منگول محاصرہ اٹھا کر واپس چلے گئے۔ 1237 میں ’’فوتار‘‘ آیا اور کشمیر تک کا علاقہ قابو کر لیا۔ کوہ جود (کوہ نمک بشمول سرگودھا، خوشاب وغیرہ کا پرانا نام) کے حکمران حسن فرنع نے بھی اطاعت کی۔ 1238 میں ’’مکانو‘‘ آیا تو حسن فرنع ملتان بھاگ گیا۔ اسی طرح ایک اور منگول سردار ’’بہادر طائر‘‘ نے پنجاب پر لشکرکشی کی اور ملتان و لاہور کی طرف آیا۔ لاہور کو تہس نہس کر دیا۔ 1254 میں ’’منگوتا‘‘ آیا اور اوچ پر لشکرکشی کی مگر مزاحمت کے بعد اپنے علاقہ ’’خراسان‘‘ واپس چلا گیا۔ ایک دوسرا منگول سردار ’’سالی بہار‘‘ ملتان کو تاراج کرنے کے بعد غزنی واپس چلا گیا۔ 1279 سے 1300 کے درمیان چھ بار منگول ہمارے خطوں میں آئے پر لشکر کشیاں جن منگول سرداروں کی قیادت میں کی گئیں ان میں ارغون، ثمرخاں، ہلاکو کا پوتا عبداللہ، امیردائود اور قنلغ خواجہ شامل تھے۔ البتہ 1296 کی لڑائی میں لاہور میں منگولوں کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا اور ان کی بڑی تعداد ماری گئی۔ 1303 سے 1358 کے درمیان بھی چھ بار لشکرکشیاں کی گئیں جن میں ترغی، علی بیگ، ترفاق، کولوک، اقبال مندا، تیمور کا پوتا پیر محمد اور خود تیمور شامل تھے۔ یاد رکھنے والی بات اتنی ہے کہ قومی ریاستوں کے بننے تک دنیا بھر میں لشکر کشیوں کی روایات کو وہی مقام حاصل تھا جو آج جمہوریت کو حاصل ہے۔ سکندراعظم بھلا ہمارے پنجاب میں ریفرنڈم کروا کے آیا تھا؟ پھر نوآبادیاتی دور میں بھی یہی کچھ ہوا۔ ہمیں ان سب واقعات کو سمجھنا ضرور چاہیے مگر آج کی اخلاقیات کا ان پر اطلاق کرنا مسائل کو مزید پیچیدہ ہی کرتا ہے۔