خاندان غلامان
اسپیشل فیچر
اس خاندان میں 9بادشاہ اور ایک ملکہ ہوئی ہے۔ ان کی سلطنت 84برس تک رہی اور بعض نے بہت ہی تھوڑے عرصہ تک حکومت کی۔ ان میں سے پانچ زیادہ مشہور ہیں۔ اس خاندان کا اولین بادشاہ قطب الدین تھا، جو اصل میں ترک تھا مگر بچپن ہی میں غلامی کا حلقہ اس کے کان میں پڑ گیا تھا۔ اگر غلام کم عمر ہوتے اور آقا کی اپنی اولاد نہ ہوتی تو بعض اوقات وہ غلاموں کو گودلے لیا کرتے تھے۔ قطب الدین اسی رشتے سے اپنے مالک کے کنبے میں داخل ہوا اور ہوتے ہوتے اول سپہ سالار اور پھر بادشاہ بنا۔ یہ خاندان غلامان کا پہلا بادشاہ تھا۔ اس خاندان کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر قطب الدین کی طرح شروع میں غلام تھے۔ قطب الدین جانباز سپاہی اور لائق سپہ سالار تھا۔ اپنے ماتحت افسروں کے ساتھ سلوک کرنے اور ان کوجاگیرعطاکرنے پر ایسا مائل تھا کہ لوگ اسے لک بخش (لکھ داتا) کہتے تھے۔ اس خاندان کا تیسرا بادشاہ التمش تھا جو اپنے خاندان کے سب فرمانروائوں سے بڑھ کر مشہور ہے۔ اس نے 25برس سلطنت کی۔ قطب الدین کی طرح بچپن ہی میں اس کا غلام بنا، مگر اپنی لیاقت سے مالک کو اتنا خوش کیا کہ اس کی دامادی کا رشتہ حاصل کیا۔ قطب الدین کی وفات پر اس نے اس کے بیٹے آرام شاہ کو قتل کیا اور سلطنت کا مالک بن بیٹھا ۔ قطب الدین کا نائب بختیار خلجی بہار اور بنگال کا حاکم تھا۔ قطب الدین کی ایک بیٹی اس سے بھی بیاہی تھی۔ قطب الدین کے مرنے پر اس نے سوچا کہ میں کیوں التمش کے تابع رہوں اور بنگال کا خودمختار فرمانروا کیوں نہ بن جائوں۔ پس التمش اور بختیار خلجی میں لڑائی ہوئی۔ التمش جیت گیا اور اس نے بختیار کو قتل کرکے اپنے بیٹے کو بنگال کا حاکم مقرر کیا۔ سندھ کے حاکم نے بھی التمش کی اطاعت سے منہ موڑا۔ اسی نے سندھ فتح کیا تھا اور محمد غوری کے زمانے سے وہاں کا حاکم چلا آتا تھا ۔ اب اس نے بھی سندھ کا خودمختار بادشاہ بننے کا منصوبہ بنایا لیکن جب التمش کے ساتھ مقابلہ ہوا تو ہار گیا۔ التمش جب دہلی کا فرمانروا تھا تو تاتارکا مشہور سردار چنگیز خاں دریائے سندھ تک آگیا ۔ وہ ہندوستان میں بھی اتر آتا لیکن التمش کی دانائی کے باعث ایسا ممکن نہ ہوا۔ اس نے ایک ترکستانی سردار کو جوچنگیز خاں سے شکست کھا کر اس کے پاس کمک کی غرض سے آیا تھا، مدددینے سے صاف انکار کردیا اور آتی ہوئی بلاہندوستان کے سرسے ٹل گئی۔ یوں چنگیزی ترک سندھ کے اس پار نہ آئے۔ رضیہ سلطانہ التمش کی بیٹی تھی۔ بڑے بھائی رکن الدین کی سات ماہ کی فرمانروائی کے بعدرضیہ سلطانہ دہلی کے تخت پر بیٹھی۔ التمش کہا کرتاتھا کہ رضیہ نے مردوں کا سا دل ودماغ پایا ہے اور20بیٹوں سے بہتر اور لائق تر ہے۔ رضیہ نے ساڑھے تین سال کمال خوبی اور استقلال کے ساتھ حکومت کی۔ مردانہ لباس پہن کر ہرروز تخت سلطانی پر جلوہ گر ہوتی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے ایک درباری کی حد سے زیادہ خاطر کرتی تھی۔ اس نے اسے اپنی سپاہ کاسالار عظیم مقرر کیا۔ وہ چوں کہ ایک حبشی تھا، اس لیے رضیہ کے افغان درباری اور امرااس خاطر داری سے ناراض ہوئے اور باغی ہوکر فساد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ رضیہ نے جان کے خوف سے ایک ترک سردار سے شادی کرلی۔ وہ رضیہ کی طرف سے خوب لڑا لیکن آخر کار شکست ہوئی اور وہ اوررضیہ دونوں مارے گئے۔ رضیہ کی وفات پر التمش کا ایک اور بیٹا تخت پر بیٹھا۔ اس نے کوئی دو برس بادشاہت کی تھی کہ دربار کے افغانی امرا نے اسے قید کیا اور التمش کے پوتے کو تخت پر بٹھا دیا۔ پانچ سال کی بادشاہت کے بعد اسے بھی قید کر دیا گیا۔ اس کے بعد ناصرالدین محمود جو التمش کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا، تخت پر جلوہ گر ہوا۔ وہ دانا تھا۔ اس نے غیاث الدین کو جواس کا بہنوئی اور امرائے بااقتدار میں سے تھا،اپنا وزیر بنایا اور اس کی مددسے دو دہائیوں تک بادشاہت کی ۔ رضیہ کے دونوں ضعیف جانشینوں کے زمانے میں کئی ایک راجپوت راجا جو قطب الدین اور التمش کے ہاتھ سے شکست کھا چکے تھے، اپنااپنا ملک چھین کر خودمختار ہوگئے تھے۔ غیاث الدین نے ان ملکوں کو فتح کرکے پھر دہلی کی قلمرومیں شامل کیا۔ مغل بھی بار بار ہند پر حملے کررہے تھے۔ اس نے ان کو بھی شکست دے کر بھگادیا۔ ناصرالدین کی وفات کے بعد اس کا وزیر غیاث الدین بلبن ملک کا مالک اور حاکم ہو بیٹھا۔ بچپن میں یہ غلام تھا۔ حسب ونسب کا اچھا تھا۔ التمش نے اسے مول لے لیا تھا۔ اپنی لیاقت کی وجہ سے ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے عہدے پرترقی کرتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ صوبے کا حاکم ہوا اور التمش نے اسے اپنی بیٹی بیاہ دی۔ مغلوں کے لشکر کے لشکر پنجاب پر حملہ آور ہوئے ، مگر بلبن اور اس کے بیٹوں نے سب کو مارپیٹ کر باہر نکال دیا۔ آخر مغلوں اور بلبن کے بیٹے محمد کے درمیان فیصلہ کن لڑائی ہوئی اور محمد مارا گیا۔ بلبن کی عمر اس وقت اسی برس کی تھی۔ تخت پر بیٹھے اور سلطنت کرتے ہوئے بھی 22 سال ہوگئے تھے۔ بیٹے کے مرنے کی خبر سن کر اس کو اتنا رنج ہوا کہ جان ہی سے گزر گیا۔ اس کے بعد خاندانِ غلامان کا زوال شروع ہوا جو تقریباً نصف صدی میں دہلی کے اقتدار سے محروم ہوگئے۔ (ای مارسڈن کی کتاب ’’ تاریخ ِہند سے اقتباس)٭…٭…٭