حضرت عائشہ صدیقہ کی گراں قدراسلامی خدمات
اسپیشل فیچر
آنحضرت محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنی حیات ِ مبارکہ میں صرف ایک باکرہ خاتون سے نکاح کیا، وہ خوش نصیب خاتون حضرت عائشہ بنتِ صدیق اکبر رضی اﷲتعالیٰ عنہا ہیں۔ آپؓ کوزوجیت ِرسول ؐ کا شرف عطا ہونے کے دوبڑے سبب تھے۔ایک آپؓ کی ذہانت ،فطانت اور پاک بازی اور دوسرا آپؓ کے والدِ ماجد کا اسلام اور رسولؐ اللہ کے لیے ایثار ۔اس نکا ح کے ذریعے حضور اکرمؐ نے اپنے مخلص ترین صحابی ؓکو اُن کی جاںنثاریوں کا سب سے بڑا صلہ عطا فرمایا تھا۔حضرت عائشہ صدیقہ ؓ حضور اکرم ؐ کی زوجۂ محترمہ ہونے کی وجہ سے کئی احکام کے نزول کا سبب بنیں، جو اُمّت کے لیے رحمت تھے۔ رُخصتی کے وقت آ پؓ کی عمر نو سال تھی۔ (المستشر قون الاسلام ،صفحہ 332)کون ذی شعور شخص یہ تسلیم کرسکتا ہے کہ پچاس سال سے زائد کا کوئی صاحبِ اولاد کم سِن بچی کے ساتھ محض ذاتی تسکین کی خاطر نکا ح کرے؟حق بات یہ ہے کہ حضور اکرمؐ اپنے مخلص ترین صحابیؓ کو شرفِ مُصاہرت سُسرالی رشتہ عطا کرنا چاہتے تھے۔حضرت عائشہ صدیقہ ؓگو کم سِن تھیں ،لیکن نگاہِ نبوتؐ نے دیکھ لیا تھا کہ آپؓ میں وہ تما م صفات موجود ہیں ،جو دین اسلام کی ایک قابلِ فخر معلمہ اور مبلّغہ کے لیے ضروری ہیں ۔نگاہ ِنبوت نے اُنؓ کی پاکیزہ فطرت اور عفّت مآبی کا بھی اندازہ لگالیاتھا۔تاریخ نے ثابت کردیا کہ حضوراکرمؐ نے اس رشتے سے جو تو قعات وابستہ کی تھیں وہ کما حقہ پو ری ہوئیں۔علم میں حضرت ِعائشہ صدیقہ ؓ کا مقام نہ صرف اُمّہا ت المو منین میں بلندترین تھا،بلکہ اکثر اکابر صحابہ کرامؓ بھی آپ ؓکے بحرِ علم سے استفادہ کرتے تھے۔حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں : ’’ہم اصحاب ِرسولؐ کو جب بھی کوئی حدیث ِپاک سمجھنے میں مشکل پیش آئی ۔ہم نے اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓسے پوچھا ،تواُنؓ کے پاس اُس حدیث کے متعلق عِلم موجود پایا۔‘‘حضرت عروہؓ بن زبیر فرماتے ہیں : ’’میں نے کسی عورت کو طب،فقہ اور شعر کے علوم میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے بڑھ کر نہیں پایا۔ ‘‘ (شبہات واباطیل حول زوجات الرسولؐ ،صفحہ :40)امام زہریؒ فرماتے ہیں : ’’اگر اُمّ المومنین عائشہ صدیقہ ؓکے علم کے مقابلے میں تما م اُمّہات المومنین بلکہ تمام عورتوں کا علوم رکھا جائے، تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓکے علم کا پلّہ بھاری نکلے گا۔ ‘‘ (زوجات النبیؐ الطّاہرات، صفحہ :36)حضرت عطا بن ابی ربا ح فرماتے ہیں: ’’حضرت عائشہ صدیقہ ؓ تمام انسانوںسے زیادہ احکامِ دین سمجھنے والی تھیں اور اُمورِ عامّہ میں آپؓکی رائے صائب ترین ہوتی تھی۔ ‘‘ (زوجات النبیؐ الطّاہرات، صفحہ :36)حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی یہی علمی شان دیکھ کر حضور اکرمؐ نے اپنے صحابہ کرامؓ کو حکم دیا تھا : ’’اپنے دین کا نصف علم اِس حمیراء یعنی عائشہ صدیقہؓ سے سیکھو۔ ‘‘(زوجات النبیؐ الطّاہرات ، صفحہ 35)تیمم کی اجازت حضور اکرم ؐ کی اُمّت کی خصوصیات میں سے ہے ،اُمّت کو یہ نعمت حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی وساطت سے عطا ہوئی تھی ۔ایک سفر میں آپؓ کا ہار گم ہوگیا۔حضور اکرمؐ نے چند صحابہ کرام ؓ کوہار کی تلاش کے لیے روانہ فرمایا۔راستے میں نمازکا وقت ہوگیا ۔پانی نہ ہونے کی وجہ سے صحابہ کرامؓ نے بلا وضونما زپڑھی ۔حضور اکرمؐ کی خدمت میں پیش کیاگیا تواُسی وقت آیتِ تیمم نازل ہوئی ۔جو قیامت تک اُمّتِ مصطفی علیہ التحیۃ والثناء کے لیے ایک بڑا انعام ہے۔ اسی لیے اس مو قع پر حضرت اسید بن حضیرؓ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مخاطب ہو کر کہا تھا : ’’اﷲتعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے،جب بھی آپؓ کو کوئی مشکل پیش آئی،اﷲتعالیٰ نے آپؓ کے لیے اس سے نکلنے کا راستہ پیدا فرمادیااورآپ ؓ کی وہ مشکل مسلمانوں کے لیے باعثِ برکت بن گئی۔‘‘(رحمۃُللعالمینؐ، جلد 2،صفحہ 153)حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی علمی وجا ہت کی شہا دت اکابر صحابہ کرامؓ نے بھی دی اور خود اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ؐ نے بھی آپ ؓ کی علمی عظمت سے اُمّت کو روشنا س کرایا ۔جب قلب وضمیر کے مریضوں نے آپ ؓ کی عفّت کا شفاف دامن داغ دار کرنے کی سازش کی ،تو آپؓ کی عفّت مآبی کی شہا دت رَبِّ قدس نے اپنے مقدّس کلام کے ذریعے دی ۔پرور دگار عالم نے آپؓ پر الزام لگانے والوں کو جھوٹا کہا، اُن کی بات سُننے والے مسلمانوں کو تنبیہہ کی اور عظیم اُصول بیان فرمایا:’’ناپاک عورتیں ناپاک مردوں اورناپاک مرد ناپاک عورتوںکے لیے ہیں جب کہ پاک (دامن)عورتیں پاک (دامن ) مردوں اور پاک (دامن ) مرد پاک (دامن ) عورتوں کے لیے ہیں ۔یہ مُبّراہیں اُن تہمتوں سے جو وہ (ناپاک ) لگاتے ہیں۔ان کے لیے ہی (اﷲکی )بخشش ہے اور عزّت والی روزی ہے۔ ‘‘قرآن حکیم کی آیتِ کریمہ وضاحت فرمارہی ہے کہ کسی خاتون کا حبیب ِ ؐاللہ کی زوجیت میں آنا،اس بات کی دلیل ہے کہ وہ پاک باز ہے،کیوں کہ اﷲتعالیٰ اپنے پاک بندوں کے لیے پاک بیویوں ہی کا انتخاب فرماتا ہے۔حضرت عائشہ صدّیقہ ؓ کی اَن گنت خوبیوں کی ایک مختصر سی جھلک سطور بالامیں پیش کی گئی ہے۔آپؓ کی ان ہی خوبیوں کی وجہ سے رسولؐ اللہ آپؓ سے تمام ازواجِ مطہرات کی نسبت زیادہ محبت فرماتے تھے۔محبت کے اس فرق کے باوجو د آپؐ تمام ازواجِ مطہرات کے درمیان عدل قائم رکھتے تھے اور بارگاہِ خداوندی میں عر ض فرماتے: ’’اے اﷲتعالیٰ ! ازواجِ مطہرات کے درمیان جتنا عدل میرے بس میں ہے ،وہ میں کرتا ہوں،لیکن جو بات میر ے بس میں نہیں، اُس پر میرا مواخذہ نہ فرما۔ ‘‘(شبہات وابا طیل حول زوجات الرّسولؐ :ص 40)جن مقدّس خواتین کو حضوراکرم ؐ نے شرفِ زوجیت عطا کیا تھا،اُنؓ کی حالت دُنیا بھرکی خواتین سے مختلف تھی۔عام اُصول یہ ہے کہ غریب اور نادار لوگوں کی بیویاں روکھی سوکھی کھا کر اور جو ملے پہن کر، صبرو شکر سے وقت گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں، جب کہ اُمرأ، حکم رانوں اور بادشاہوں کی بیگمات نازونعمت میں رہتی ہیں۔ ازواجِ النّبیؐ تاج دارِ عرب کی ازواجِ مطہراتؓ تھیں ،لیکن خواتین اُنؓ کے گھر کی مالی حالت کا تصوّر بھی نہیں کرسکتیں ۔بعض مستشرقین نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ حضور اکرمؐ ہر سال اپنی ازواجِ مطہراتؓ کوخیبر وغیرہ کی زمینوں کی آمدنی سے مالِ کثیر عطا فرماتے تھے اور مال کی کثرت کی وجہ سے اُن کے درمیان حسد کے جذبات پروان چڑھتے تھے ۔مستشرقین کا یہ شوشا تاریخی حقائق جھٹلانے کے مترادف ہے،اس میں شک نہیں کہ قومی آمدنی کی بہت سی مدیں ایسی تھیں، جو مکمل طور پر حضور اکرمؐ کی تصرّف میں تھیں اور آپؐ کو بارگاہِ خداوندی سے اِن مدوں میں سے اپنے اہلِ خانہ پر خرچ کرنے کی اجازت بھی تھی،لیکن اس کے باوجو د آپؐ نے اپنے گھر کے لیے فقر کی نعمت ہی پسند فرمائی۔ ازواجِ مطہراتؓ نے جب دیکھا کہ مہا جرین وانصار کے گھر وں میں فارغ البالی آگئی ہے اوروہ اب پہلے کی نسبت خوش حال زندگی بسر کررہے ہیں تو اُنہوں نے مل کر حضور اکرمؐ سے اپنی مالی حالت کی شکا یت کرنے کا فیصلہ کیا۔جب ازواجِ مطہراتؓ نے حضور اکرم ؐ کی خدمت میں اپنا مطا لبہ پیش کیا تو اﷲتعالیٰ نے آیت ِتخییر نازل فرمائی،جس میں حضور اکرمؐ کو حکم دیا گیا کہ آپؐ اپنی ازواج سے کہہ دیں کہ اگر تم اﷲاور اُس کے رسول ؐکا قرب چاہتی ہو تو پھر تمہیں اسی عسرت اور تنگ دستی کی زندگی پر قناعت کرنا پڑے گی ۔البتہ قرب ِرسولؐ میں عُسرت کی زندگی پر تمہیں اَجرِ عظیم ملے گا۔‘‘جب آیت نازل ہو ئی تو حضور اکرم ؐنے سب سے پہلے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا:’’میں تم سے ایک بات کہنے والا ہو ں ،اس کے جواب میں جلدی نہ کرنا بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کرکے جواب دینا ،اس کے بعد حضور اکرم ؐنے آیتِ تخییرپڑھ کر سُنائی۔ ‘‘یہ آپ ؓ کی محبت ، عقل، خلوص اورجاں نثاری کا امتحان تھا ،لیکن آپؓکے جواب نے ثابت کردیا کہ آپؓ ان تمام امتحانوں سے کام یاب نکلیں۔آپؓ نے عرض کی:’’کیا میں اس بات میں اپنے والدین سے مشورہ کروں ؟ میں تو اﷲتعالیٰ کے رسولؐ اور آخرت کی زندگی کو منتخب کرتی ہوں ۔‘‘ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے جو اب نے ایک جانب خود اُن کو اس امتحان سے کام یاب گزارا ، دوسری جانب آپؓ کایہ عمل دیگر ازواج مطہرات ؓ کے لیے عمدہ مثا ل بن گیا اور اُنہوں نے بھی آپؓ کی پیروی میں وہی جو اب دے کر اس کڑے امتحان میں کام یابی حاصل کرلی۔اُمّت ِ مسلمہ کی معلّمہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کئی رحیمانہ شرعی ضابطوں کے نزول کاسبب بنیں،اُن کا مقام ملائے اعلیٰ سے بھی بلند ہے۔آپ ؓ خود فرماتی ہیں : ’’حضور اکرمؐ نے مجھ سے فرمایا ،اے عائشہؓ ! یہ جبرائیلؑ ہیں، تمہیں سلام کہتے ہیں۔‘‘میں نے جو اب دیا:’’ وعلیکم السلام و رحمۃُاﷲبرکاتہ‘ ۔‘‘ پھر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا :’’وہؐ جو چیزیں دیکھ سکتے ہیں، میں نہیں دیکھ سکتی۔ ‘‘ حضرت عائشہ صدیقہ ؓکے بارے میں حضور اکرمؐ نے فرمایا : ’’مردوں میں بہت سے لوگ مرتبۂ کمال تک پہنچے ،لیکن عورتوں میں یہ مقام صرف مریمؑ ، آسیہؑ زوجہ فرعون ،خدیجہؑ بن خویلداور فاطمہ ؓبنتِ محمدؐنے حاصل کیا اور عائشہؓ کو عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو ثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے۔‘‘(زوجات النّبی الطّاہرات ،ص 35)