چن وے ( شاہ نور فلمز کی پہلی پنجابی فلم )

چن وے ( شاہ نور فلمز کی پہلی پنجابی فلم )

اسپیشل فیچر

تحریر : یسٰین گوریجہ


چن وے پاکستان کی پہلی فلم ہے جسے کسی عورت نے ڈائریکٹ کیا۔ نور جہاں پہلی ہدایت کارہ تھیں، جنہوں نے ہیروئن کے ساتھ ساتھ اس فلم کی ڈائریکشن کے فرائض بھی انجام دیئے۔ لاہور کے ریجنٹ سنیما میں یہ فلم 24مارچ 1951ء کو ریلیز کی گئی۔ اس کی ابتدائی لمبائی اٹھارہ ہزار فٹ ہوگئی تھی۔ نمائش کے بعد اس میں سے تین ہزار فٹ کا ٹکڑا کاٹ دیا گیا کیونکہ یہ ضرورت سے زیادہ لمبی ہوگئی تھی۔ اس فلم کی کہانی کا آغاز ایک گائوں موراں والی سے ہوتا ہے جہاں پٹواری فضل (غلام محمد) اپنی دوسری بیوی خیراں (نفیس بیگم) بیٹی سیماں (نورجہاں) اور بیٹے چراغ (سلیم رضا) کے ساتھ رہتا ہے۔ چراغ پٹواری فضل کا پہلی بیوی سے بیٹا ہے۔ دونوں باپ بیٹا اس چکر میں رہتے ہیں کہ خیراں کی پراپرٹی اور نقد رقم پر ہاتھ صاف کیا جائے۔ سیماں، خیراں کی پہلے خاوند سے بیٹی ہے جبکہ اس کا ایک بھائی فیروز جنگ پر گیا ہے اور لاپتہ ہے۔ کہنے کو سیماں، چراغ کی سوتیلی بہن ہے لیکن وہ اس پر بری آنکھ رکھتا ہے اور فضل کی مرضی اس میں شامل ہے۔ سیماں اپنے سوتیلے بھائی کی بری نظر کے بارے میں اکثر ماں سے شکایت بھی کرتی ہے۔ دو ایک مرتبہ چراغ ان کی چوری کرتے بھی پکڑا گیا، لیکن باپ درمیان میں دخل اندازی کرا کر معاملہ رفع دفع کر ادیتا۔ایک روز گائوں کے باہر ایک نوجوان کی ملاقات سیماں سے ہوئی۔ وہ اسے اپنا بھائی فیروز سمجھ کر اپنے گھر لے آئی اور ماں سے ملوایا۔ نوجوان فیروز (سنتوش) اس گھر میں گو سیماں کا بھائی بن کر رہنے لگا مگر اندرون خانہ وہ بھی سیماں سے پیار کرنے لگا تھا لیکن سیماں نے کبھی اسے اظہار کا موقع نہ دیا۔ شہر میں ڈاکٹر (ہمالیہ والا) رہتا ہے جس کا ایک بیٹا ڈاکٹر اسلم (جہانگیر خان) ہے، وہ دورے پر جانے کا پروگرام بناتا ہے۔ باپ کو بتاتا ہے کہ وہ موراں والی جارہا ہے۔ ڈاکٹر اسے کچھ رقم دیتا ہے کہ وہاں پٹواری فضل کو قم دے دے۔ ڈاکٹر اسلم گائوں آتا ہے کہ اس کی مڈبھیڑ لڑکیوں سے ہوتی ہے جن میں سیماں سب سے آگے ہے۔ وہ ڈاکٹر کو پانی میں دھکا دے کر بھاگتی ہے لیکن اس کا دوپٹہ ڈاکٹر کے ہاتھ میں رہ جاتا ہے اور وہ اسے نہیں دیتا تو وہ اس کے بوٹ اٹھا کر بھاگ جاتی ہے۔ ڈاکٹر پائوں سے ننگا ہے۔ وہ اپنے معاون کو کہتا ہے کہ کہیں جوتی لے کر آئے۔ چوپال میں پٹواری احمو خان کے ساتھ چوپٹ کھیل رہا ہے۔ معاون ان کی جوتیاں اٹھا کر لے جاتا ہے، ادھر جب جوتی غائب ہونے کا پتہ چلتا ہے تو اسے وہ بوٹ مل جاتے ہیں جو سیماں ڈاکٹر کے چرا کر لائی تھی۔ ڈاکٹر وہی جوتی پہن کر پٹواری کو رقم دینے آتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے پائوں میں اپنی جوتی دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ جہاں ڈاکٹر کو پتہ چلتا ہے کہ سیماں فضل کی ہی بیٹی ہے۔ سیماں اور ڈاکٹر میں ملاقاتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ ایک دن فیروز دیکھ کر ناراض ہوتا ہے۔ سیماں کے دریافت کرنے پر کہ وہ کیوں ناراض ہے وہ تو اس کا بھائی ہے اور محبت کرنے کا حق ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ وہ در پردہ اس سے محبت کرتا ہے۔ وہ محض اس کے قریب رہنے کے لیے بھائی بنا ہوا تھا۔ فیروز ان دونوں کے درمیان سے نکل جاتا ہے۔ اسلم شادی کے بارے میں فضل پٹواری سے بات کرتا ہے لیکن پٹواری تو اپنے بیٹے سے شادی کرانے کے چکر میں تھا۔ وہ جواب دے دیتا ہے۔ اسلم سیماں سے کہتا ہے کہ اس طرح بات نہیں بنے گی دوسرا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ اگلے روز سیماں پر جن سوار ہوجاتا ہے جسے دور کرنے کے لیے اسلم ہی بزرگ بن کر آجاتا ہے۔ فضل اور اس کے ساتھ رحمو کو مجبور کرتا ہے کہ ابھی اور اسی وقت دونوں کا نکاح کر دیا جائے چنانچہ حافظ کو بلایا جاتا ہے جو اندھا ہے۔ نکاح ہوجاتاہے۔ نکاح نامہ حافظ اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔ اسلم سیماں کو لے کر ڈاک بنگلہ میں آجاتا ہے۔ اگلی صبح وہ ایک ماہ بعد واپس آنے کا کہہ کر شہر چلا جاتا ہے۔ اسی دوران سیماں کی ماں خیراں مر جاتی ہے۔ سیماں حاملہ ہوجاتی ہے تو فضل اور رحمو وغیرہ سازش کرکے اسے پنچایت کے آگے پیش کرتے ہیں۔ سیماں صفائی میں حافظ کو پیش کرتی ہے۔ حافظ نکاح نامہ پیش کرتا ہے جو سادہ کاغذ پر ہوتا ہے کیونکہ اصل نکاح نامہ رحمو چرا کر لے گیا ہوتا ہے۔ یہاں فیروز بھی آجاتا ہے۔ وہ بھی سیماں کی صفائی پیش کرتا ہے جہاں اس کی خوب پٹائی ہوتی ہے اور سیماں کو گائوں بدر کر دیا جاتا ہے۔ اب چراغ کا ذہن بدلتا ہے۔ وہ زخمی فیروز اور سیماں کو لے کر شہر آتا ہے۔ وہ اسلم کے ہاں جاتے ہیں جہاں اس کا باپ اسے قبول نہیں کرتا۔ اسلم لندن جا چکا ہے۔ سیماں شہر میں بسیرا کرتی ہے اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے۔ اسلم جب واپس آتا ہے اور باپ کو بتاتا ہے کہ وہ شادی کر چکا ہے اور وہ موراں والی سیماں کو لینے جاتا ہے جہاں اسے بتایا جاتا ہے کہ وہ فیروز کے ساتھ فرار ہوگئی ہے۔ اسلم غلط فہمی میں مبتلا ہو کر واپس آجاتا ہے۔ ہسپتال میں اپنے باپ کو ملنے آتا ہے۔ وہاں فیروز داخل ہے۔ سیماں بھی وہاں آجاتی ہے۔ یہاں فیروز اس کی غلط فہمی دور کرتا ہے اور مر جاتا ہے۔ سیماں اور اسلم مل جاتے ہیں۔اس فلم کے نغمہ نگار ایف ڈی شرف (فیروز دین شرف) پنجابی کے مشہور شاعر تھے جو اس سے قبل کلکتہ میں سسی پنوں (1940ء) وغیرہ کے نغمات تحریر کرکے شہرت پا چکے تھے۔ چن وے کی کامیابی سے لاہور میں شوکت صاحب، فیروزنظامی اور ان کے ساتھ ساتھ نورجہاں کا امیج بھی بن گیا۔ 1947ء میں جگنو کے بعد 1951ء یعنی چار سال کے گیپ کے بعد نورجہاں کی فلم نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی جس کو خاطر خواہ ریسیپشن ملا۔ لاہور کے مین سنیما میں ان دنوں یہ فلم 18ہفتہ زیر نمائش رہی۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ہنر مند نوجوان خوشحال پاکستان

ہنر مند نوجوان خوشحال پاکستان

ہر سال 15 جولائی کو دنیا بھر میں نوجوانوں کیلئے مہارتوں کا عالمی دن(World Youth Skills Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد نوجوانوں میں فنی، پیشہ ورانہ، ڈیجیٹل اور عملی مہارتوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے تاکہ وہ بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کر سکیں۔ آج کے دور میں صرف ڈگری کافی نہیں بلکہ کامیابی کے لیے عملی مہارت، تخلیقی سوچ، جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نوجوانوں کی مہارتوں میں سرمایہ کاری کو قومی ترقی کی بنیاد تصور کرتے ہیں۔ نوجوان سرمایہپاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں کی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔اگر اس نوجوان آبادی کو معیاری تعلیم کے ساتھ جدید فنی اور تکنیکی مہارتیں فراہم کی جائیں تو یہ نوجوان ملکی معیشت کو مضبوط، بے روزگاری کو کم اور پاکستان کو ترقی کی نئی منزلوں تک پہنچا سکتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں بہت سے نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے باوجود عملی مہارتوں سے محروم رہتے ہیں جس کے باعث انہیں روزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ تعلیمی نظام کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے اور نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ عملی تربیت بھی دی جائے۔ہنر ،ترقی اور خود انحصاری آج کا دور تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ کمپیوٹر، مصنوعی ذہانت، ویب ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس اور فری لانسنگ جیسی مہارتیں نوجوانوں کے لیے کامیابی کے نئے دروازے کھول رہی ہیں۔ پاکستان کے ہزاروں نوجوان آن لائن خدمات فراہم کرکے نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں بلکہ ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی کما رہے ہیں۔فنی اور تکنیکی مہارتیں نوجوانوں کو ملازمت تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل بھی بناتی ہیں۔ ایک ہنرمند نوجوان صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتا بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہارتوں کو غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، صنعتوں، نجی شعبے اور والدین سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ضروری ہے کہ ہر ضلع میں جدید ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز قائم کیے جائیں، صنعتوں کی ضروریات کے مطابق تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں، نوجوانوں کو انٹرن شپ اور اپرنٹس شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں اور خواتین کے لیے بھی مساوی تربیتی سہولیات یقینی بنائی جائیں۔اساتذہ اور والدین کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ صرف ڈگری حاصل کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ کسی نہ کسی فنی یا ڈیجیٹل مہارت میں بھی مہارت حاصل کریں۔ اسی طرح نوجوانوں کو بھی وقت کی قدر کرتے ہوئے نئی چیزیں سیکھنے، تحقیق کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو مسلسل نکھارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ہنرمند نوجوان، روشن پاکستان نوجوانوں کی مہارتوں کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کسی بھی ملک کی حقیقی طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ پاکستان نوجوان آبادی کے اعتبار سے ایک خوش نصیب ملک ہے لیکن یہ نعمت اسی وقت قومی طاقت بن سکتی ہے جب نوجوان تعلیم کے ساتھ جدید مہارتوں سے بھی آراستہ ہوں۔ اگر حکومت، تعلیمی ادارے، نجی شعبہ اور معاشرہ مل کر نوجوانوں کی تربیت پر توجہ دیں تو پاکستان بے روزگاری میں کمی، معاشی استحکام، صنعتی ترقی اور عالمی مسابقت میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ نوجوانوں کو صرف ملازمت کے امیدوار نہیں بلکہ ہنرمند، خوداعتماد، باصلاحیت اور بااختیار شہری بنایا جائے۔ یہی نوجوان مستقبل میں پاکستان کی معیشت، صنعت، زراعت، سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی ترقی کے معمار ثابت ہوں گے۔ ایک ہنر مند نوجوان ہی ایک مضبوط خاندان، خوشحال معاشرے اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہے، لہٰذا ہمیں نوجوانوں کی مہارتوں میں سرمایہ کاری کو قومی ترجیح بنانا چاہیے، کیونکہ آج کا ہنرمند نوجوان ہی کل کے روشن، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی بنیاد ہے۔

وائیجر1:کائنات کی وسعتوں کا مسافر

وائیجر1:کائنات کی وسعتوں کا مسافر

لائٹ ڈے سے کتنا دور؟جب انسان نے خلا کی وسعتوں کو سمجھنے کا سفر شروع کیا تو اس کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ نظامِ شمسی سے باہر کی دنیا کے بارے میں بھی جان سکے۔ اسی مقصد کے تحت امریکی خلائی ادارے ناسا نے 5 ستمبر 1977ء کو voyager 1 خلائی تحقیقاتی مشن روانہ کیا۔ اس خلائی جہاز کا بنیادی مقصد مشتری (Jupiter) اور زحل (Saturn) سمیت بیرونی سیاروں کا مطالعہ کرنا تھا مگر یہ مشن توقعات سے کہیں زیادہ کامیاب ثابت ہوا۔آج تقریباً نصف صدی گزرنے کے باوجود وائجر 1 خلا میں مسلسل محو پرواز ہے اور یہ انسان کا تیار کردہ سب سے طویل دوری پر موجود خلائی آلہ ہے اب بین النجمی خلا (Interstellar Space) میں داخل ہو چکا ہے۔ مگر ایک حیران کن حقیقت یہ ہے کہ یہ ابھی تک روشنی کے صرف ایک دن کے سفر کے برابر فاصلہ بھی مکمل نہیں کر سکا۔گزشتہ سال دسمبر میں وائجر پراجیکٹ کی منیجر سوزی ڈاڈ نے سی این این کو بتایا تھا کہ نومبر 2026ء میں وائجر 1زمین سے ایک لائٹ ڈے کے فاصلے پر پہنچ جائے گا۔ نوری سال اور نوری دن؟عام طور پر ہم نوری سال (Light Year) کے بارے میں سنتے ہیں لیکن لائٹ ڈے بھی فاصلے کی ایک اہم اکائی ہے۔ اس سے مراد وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک دن میں طے کرتی ہے۔روشنی کی رفتار تقریباً 299,792 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے جو کائنات میں معلوم ہونے والی سب سے زیادہ رفتار ہے۔ اسی رفتار سے روشنی ایک دن میں تقریباً 25.9 ارب کلومیٹر کا فاصلہ طے کر لیتی ہے۔دوسری طرف وائجر 1 تقریباً 61 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے، جو انسانی ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بے حد تیز رفتار ہے مگر روشنی کی رفتار کے مقابلے میں یہ انتہائی سست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً پچاس برس کے مسلسل سفر کے باوجود یہ ابھی تک ایک لائٹ ڈے کے فاصلے تک نہیں پہنچ سکا۔یہ حقیقت نہ صرف حیران کن ہے بلکہ ہمیں یہ احساس بھی دلاتی ہے کہ کائنات کتنی وسیع اور ناقابلِ تصور حد تک بڑی ہے۔وائجر 1 کی کامیابیاںوائجر 1 نے اپنے سفر کے دوران سائنس کو بے شمار قیمتی معلومات فراہم کی ہیں۔ اس نے مشتری کے گرد موجود چاند، زحل کے حلقوں، سیاروں کے ماحول اور مقناطیسی میدانوں کے بارے میں ایسی معلومات بھیجیں جنہوں نے فلکیات کی دنیا میں نئی راہیں کھول دیں۔2012 ء میں وائجر 1 نے ایک اور تاریخی سنگ میل عبور کیا، جب یہ ہیلیوسفیئر (Heliosphere) سے نکل کر بین النجمی خلا میں داخل ہونے والا پہلا انسانی ساختہ خلائی آلہ بن گیا۔ اس کے بعد سے یہ مسلسل ایسے علاقے سے معلومات بھیج رہا ہے جہاں پہلے کبھی کوئی انسانی مشن نہیں پہنچا ۔اگرچہ اب اس کے کئی سائنسی آلات بند کیے جا چکے ہیں تاکہ محدود توانائی کو بچایا جا سکے لیکن اس کے بعض آلات اب بھی فعال ہیں اور زمین تک قیمتی سائنسی ڈیٹا بھیج رہے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق آنے والے چند برسوں میں اس کی توانائی مزید کم ہو جائے گی جس کے بعد اس سے رابطہ ختم ہونے کا امکان ہے، تاہم یہ خلائی جہاز اربوں سال تک خلا میں اپنا سفر جاری رکھے گا۔کائنات کی وسعت کا خاموش پیغاموائجر 1 کی کہانی صرف ایک خلائی مشن کی داستان نہیں بلکہ یہ انسانی جستجو، سائنسی ترقی اور کائنات کی بے پناہ وسعت کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ جب ہم سنتے ہیں کہ تقریباً پچاس سال تک مسلسل سفر کرنے والا خلائی جہاز بھی روشنی کے صرف ایک دن کے سفر کے برابر فاصلہ مکمل نہیں کر سکا تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ستاروں، کہکشاؤں اور کائنات کے درمیان فاصلے ہماری روزمرہ زندگی کے پیمانوں سے کہیں زیادہ عظیم ہیں۔یہ مشن آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک علامت ہے کہ علم کی تلاش کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ممکن ہے ایک دن انسان ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کر لے جو موجودہ رفتار سے کہیں زیادہ تیز ہو لیکن فی الحال وائجر 1 انسانی تاریخ کے سب سے کامیاب اور طویل المدت خلائی مشنز میں شمار ہوتا ہے۔وائجر 1 آج بھی خاموشی سے خلا کی تاریکی میں اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ نہ صرف سائنسدانوں کے لیے معلومات کا خزانہ ہے بلکہ پوری انسانیت کے لیے اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ ہماری زمین اس وسیع کائنات کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے اور ابھی دریافت کی جانے والی دنیا ہمارے تصور سے کہیں زیادہ بڑی اور پراسرار ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

پہلی صلیبی جنگ 15 جولائی 1099ء کو پہلی صلیبی جنگ میں صلیبی لشکر یروشلم کے شدید محاصرے کے بعد شہر کی فصیل توڑ کر اندر داخل ہوگیا اور شہر میں بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا۔ تاریخی روایات کے مطابق ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی گئی۔ اس واقعے نے پوری مسلم دنیا کو شدید صدمہ پہنچایا۔ بعد ازاں مسلم حکمرانوں نے اپنی باہمی اختلافات کم کرنے کی کوشش کی خاص طور پر صلاح الدین ایوبی نے مسلمانوں کو متحد کیا اور 1187ء میں جنگِ حطین میں فتح کے بعد یروشلم میں مسلم اقتدارکو بحال کیا۔ روزیٹا سٹون کی دریافت15 جولائی 1799ء کو مصر کے شہر رشید (Rosetta) کے قریب فرانسیسی فوجی افسر پیئر فرانسوا بوشار نے ایک سیاہ پتھر دریافت کیا جو بعد میں روزیٹا سٹون کے نام سے مشہور ہوا۔ اس وقت نپولین بوناپارٹ کی فوج مصر میں موجود تھی۔ اس پتھر پر ایک ہی فرمان تین مختلف رسم الخط ،قدیم مصری ہائروگلیفک، ڈیموٹک اور یونانی،میں کندہ تھا۔ چونکہ یونانی زبان پڑھی جا سکتی تھی اس لیے ماہرین نے اس کے ذریعے قدیم مصری رسم الخط کو سمجھنے کی کوشش کی۔ بالآخر فرانسیسی ماہرِ لسانیات ژاں فرانسوا شامپولیوں نے 1822ء میں ہائروگلیفک رسم الخط کو کامیابی سے پڑھنے کا طریقہ دریافت کیا۔ اس کامیابی نے مصر کی قدیم تہذیب، فرعونوں، مذہب، قانون اور ثقافت کے ہزاروں سال پرانے راز دنیا کے سامنے کھول دیے۔ بوئنگ کمپنی کا قیام15 جولائی 1916ء کو امریکی صنعت کار ولیم ای بوئنگ اور جارج ویسٹرویلٹ نے سیئٹل میں پیسیفک ایرو پروڈکٹس کمپنی قائم کی جس کا نام بعد میں بوئنگ رکھ دیا گیا۔ ابتدا میں یہ ایک چھوٹی فضائی کمپنی تھی جو سمندری جہاز(Seaplanes) تیار کرتی تھی لیکن وقت کے ساتھ یہی ادارہ دنیا کی سب سے بڑی ہوابازی اور دفاعی صنعتوں میں شامل ہوگیا۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے دوران بوئنگ نے فوجی طیارے تیار کیے اور بعد میں اس نے تجارتی ہوابازی میں انقلاب برپا کیا۔ بوئنگ 707، 737، 747، 777 اور 787 جیسے مسافر بردار طیاروں نے عالمی فضائی سفر کو نئی جہت دی۔ اپولوسویوز خلائی مشن کا آغاز15 جولائی 1975ء کو امریکہ اور سوویت یونین نے سرد جنگ کے دوران ایک تاریخی مشترکہ خلائی مشن کا آغاز کیا جسے اپولوسویوز ٹیسٹ پراجیکٹ کہا جاتا ہے۔ امریکی خلائی جہاز اپولو اور سوویت خلائی جہاز سویوز الگ الگ روانہ ہوئے اور دو دن بعد خلا میں ایک دوسرے سے کامیابی کے ساتھ جڑ گئے۔ دونوں ممالک کے خلا بازوں نے خلا میں ہاتھ ملا کر دنیا کو امن اور سائنسی تعاون کا پیغام دیا۔ یہ مشن اس لیے بھی اہم تھا کہ اس نے کئی دہائیوں سے جاری سیاسی کشیدگی کے باوجود خلائی میدان میں تعاون کی نئی راہیں کھولیں۔ بعد میں اسی تجربے نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن جیسے مشترکہ منصوبوں کی بنیاد مضبوط کی۔ جیانی ورساچے کا قتل15 جولائی 1997ء کو اٹلی کے مشہور فیشن ڈیزائنر جیانی ورساچے کو امریکی شہر میامی میں ان کی رہائش گاہ کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ ورساچے دنیا کے معروف ترین فیشن ڈیزائنرز میں شمار ہوتے تھے ۔ ان کی اچانک موت نے پوری دنیا کو صدمے میں مبتلا کر دیا۔ ورساچے کی وفات کے بعد ان کے خاندان نے فیشن ہاؤس کو کامیابی سے جاری رکھا ، آج بھی ورساچے عالمی فیشن انڈسٹری کا ایک ممتاز برانڈ ہے۔

نمک پر مبنی بیٹریاں

نمک پر مبنی بیٹریاں

کیا انقلاب برپا کر سکتی ہیں؟دنیا توانائی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں ماحول دوست ذرائع، الیکٹرک گاڑیاں (EVs) اور قابلِ تجدید توانائی مستقبل کی بنیاد بن چکے ہیں۔ اس تبدیلی کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی پیدا ہوا ہے کہ توانائی کو محفوظ اور کم لاگت میں کیسے ذخیرہ کیا جائے۔ گزشتہ چند برسوں میں لیتھیم آئن بیٹریاں اس میدان میں سب سے کامیاب ٹیکنالوجی ثابت ہوئی ہیں لیکن اب سائنسدانوں اور صنعتکاروں کی توجہ ایک نئی ایجاد یعنی سوڈیم آئن (نمک پر مبنی) بیٹریوں کی طرف مبذول ہو رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی اپنی موجودہ رفتار سے ترقی کرتی رہی تو آنے والے برسوں میں یہ الیکٹرک گاڑیوں اور بجلی کے ذخیرے کے نظام میں ایک اہم تبدیلی لا سکتی ہے۔سوڈیم آئن بیٹری کیا ہے ، کیسے کام کرتی ہے؟سوڈیم آئن بیٹری میں توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے لیتھیم کے بجائے سوڈیم آئن استعمال کیے جاتے ہیں۔ سوڈیم ایک ایسا عنصر ہے جو زمین پر بہت زیادہ مقدار میں موجود ہے اور عام نمک سمیت مختلف قدرتی ذرائع سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ان بیٹریوں کا بنیادی اصول لیتھیم آئن بیٹریوں سے ملتا جلتا ہے۔ چارج ہونے کے دوران سوڈیم آئن ایک الیکٹروڈ سے دوسرے الیکٹروڈ کی طرف منتقل ہوتے ہیں اور ڈسچارج کے وقت یہی عمل الٹی سمت میں ہوتا ہے جس سے برقی توانائی پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ دونوں ٹیکنالوجیز کا بنیادی طریقہ کار ایک جیسا ہے لیکن سوڈیم کی فراوانی اور کم قیمت اسے معاشی اعتبار سے زیادہ پرکشش بناتی ہے۔الیکٹرک گاڑیوں کیلئے فوائدسوڈیم آئن بیٹریوں کا سب سے بڑا فائدہ ان کی نسبتاً کم قیمت ہے۔ چونکہ سوڈیم دنیا کے تقریباً ہر خطے میں دستیاب ہے اس لیے اس کی فراہمی میں قلت کا خطرہ کم ہے۔ اس کے برعکس لیتھیم کے ذخائر چند ممالک تک محدود ہیں جس کے باعث قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین کے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ایک اور اہم خوبی ان کی بہتر حفاظتی خصوصیات ہیں۔ سوڈیم آئن بیٹریوں میں آگ لگنے یا زیادہ گرم ہونے کا خطرہ کئی روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں کم سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں بجلی کے بڑے سٹوریج نظام کے لیے موزوں تصور کیا جا رہا ہے جہاں ہزاروں بیٹریاں ایک ہی جگہ نصب ہوتی ہیں۔قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً شمسی اور وِنڈ بجلی موسم کے مطابق پیدا ہوتی ہے۔ جب پیداوار زیادہ ہو تو اضافی بجلی کو محفوظ کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ ضرورت کے وقت استعمال کی جا سکے۔ کم قیمت اور بہتر استحکام کی وجہ سے سوڈیم آئن بیٹریاں اس مقصد کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔اگرچہ یہ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے لیکن ابھی کچھ اہم چیلنجز بھی موجود ہیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ توانائی کی کثافت (Energy Density) ہے۔ سوڈیم آئن بیٹریاں فی کلوگرام لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں کم توانائی ذخیرہ کرتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ ایک ہی وزن میں ان سے کم فاصلہ طے کیا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ فی الحال لمبے فاصلے طے کرنے والی مہنگی الیکٹرک کاروں میں لیتھیم آئن بیٹریاں زیادہ موزوں سمجھی جاتی ہیں۔ تاہم شہری استعمال، چھوٹی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، بسوں اور تجارتی گاڑیوں کے لیے سوڈیم آئن بیٹریاں مؤثر اور کم خرچ متبادل بن سکتی ہیں۔اس کے علاوہ نئی ٹیکنالوجی ہونے کی وجہ سے اس کی بڑے پیمانے پر پیداوار، معیار اور طویل مدتی کارکردگی پر ابھی تحقیقات جاری ہے۔ جیسے جیسے پیداوار بڑھے گی توقع ہے کہ ان کی کارکردگی اور قیمت میں مزید بہتری آئے گی۔ عالمی امکانات اور مستقبلدنیا کی کئی بڑی بیٹری ساز کمپنیاں سوڈیم آئن بیٹریوں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ چین، یورپ اور دیگر ممالک میں متعدد کارخانے قائم کیے جا رہے ہیں جبکہ کئی گاڑیاں بنانے والی کئی کمپنیاں بھی اس ٹیکنالوجی کو اپنی مستقبل کی مصنوعات میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔تاہم ماہرین کے مطابق آئندہ دس برسوں میں سوڈیم آئن بیٹریاں خاص طور پر گرڈ سٹوریج، شمسی توانائی کے منصوبوں، کم قیمت الیکٹرک گاڑیوں اور عوامی ٹرانسپورٹ میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف بجلی کے ذخیرے کی لاگت کم ہوگی بلکہ صاف توانائی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔پاکستان جیسے ممالک جہاں شمسی توانائی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر کم قیمت اور محفوظ بیٹریاں دستیاب ہو جائیں تو گھروں، صنعتوں اور دیہی علاقوں میں سولر انرجی کو زیادہ مؤثر انداز میں ذخیرہ کیا جا سکے گا جس سے بجلی کے بحران میں کمی آ سکتی ہے۔اگرچہ سوڈیم آئن بیٹریاں ابھی اپنی ترقی کے ابتدائی مرحلے میں ہیں لیکن ان کے امکانات انتہائی روشن ہیں۔ اگرچہ یہ فوری طور پر لیتھیم آئن بیٹریوں کی مکمل جگہ نہیں لے سکتیں تاہم کم قیمت، بہتر دستیابی، زیادہ تحفظ اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ان کی افادیت انہیں مستقبل کی اہم ترین بیٹری ٹیکنالوجیز میں شامل کرتی ہے۔ آنے والے برسوں میں ممکن ہے کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو جہاں الیکٹرک گاڑیوں، گھریلو توانائی کے نظام اور بجلی کے بڑے ذخیرے میں نمک پر مبنی بیٹریاں مرکزی کردار ادا کر رہی ہوں۔

قرض کے بدلے تعلیم

قرض کے بدلے تعلیم

نیا تصور اور توقعاتدنیا اس وقت ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں ایک طرف ترقی پذیر ممالک بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور دوسری طرف تعلیم جیسے بنیادی شعبے کے لیے مالی وسائل مسلسل سکڑتے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو (UNESCO) کی تازہ رپورٹ:Turning debt into education investment اسی سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک قابلِ عمل حل پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ سے جزوی نجات دے کر وہی وسائل تعلیم کے شعبے میں منتقل کیے جائیں تاکہ مستقبل کی انسانی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یونیسکو کے مطابق تعلیم پر خرچ ہونے والی ہر رقم درحقیقت کسی ملک کی معاشی، سماجی اور انسانی ترقی میں سرمایہ کاری ہوتی ہے، نہ کہ محض ایک سرکاری خرچ۔بڑھتا ہوا قرض، سکڑتا ہوا تعلیمی بجٹگزشتہ ایک دہائی کے دوران عالمی معیشت کو کووڈ19 ، مہنگائی، توانائی کے بحران، موسمیاتی تبدیلی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان عوامل نے ترقی پذیر ممالک کی مالی حالت کو مزید کمزور کر دیا۔ بہت سے ممالک اپنی آمدنی کا بڑا حصہ بیرونی قرضوں کے سود اور اصل رقم کی ادائیگی پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں جس کے باعث تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے شعبوں کے لیے وسائل محدود ہو گئے ہیں۔یونیسکو کے مطابق کئی کم اور درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک میں قرضوں کی ادائیگی پر ہونے والے اخراجات تعلیم کے سالانہ بجٹ سے زیادہ ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر دسیوں لاکھ بچوں کی تعلیم پر پڑ رہا ہے۔ متعدد علاقوں میں نئے سکول تعمیر نہیں ہو پا رہے، موجودہ تعلیمی اداروں کی بنیادی سہولیات ناکافی ہیں، اساتذہ کی کمی ہے اور جدید تدریسی وسائل کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔یہ صورتِ حال اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف یعنی سب کے لیے معیاری اور مساوی تعلیم، کے حصول کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو عالمی سطح پر تعلیمی عدم مساوات مزید گہری ہوگی اور غربت کے خاتمے کی کوششیں بھی متاثر ہوں گی۔تعلیم کیلئے عالمی امداد میں کمیرپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تعلیم کے لیے بین الاقوامی ترقیاتی امداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ یونیسکو کے مطابق 2023ء سے 2027ء کے درمیان کم اور درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک کو تعلیم کے لیے ملنے والی بین الاقوامی امداد میں تقریباً 30 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مزید برآں، 2025ء میں امریکہ نے اپنی مجموعی غیر ملکی امداد میں 57 فیصد، یورپی یونین نے 14 فیصد اور جاپان نے 6 فیصد کمی کی۔ ان فیصلوں کے اثرات ان ممالک پر سب سے زیادہ مرتب ہوئے جو پہلے ہی مالی بحران کا شکار تھے۔ ایسے حالات میں ترقی پذیر ممالک کے لیے متبادل مالی ذرائع تلاش کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔قرض کے بدلے تعلیمیونیسکو کی رپورٹ کا مرکزی نکتہ Debt for education swaps ہے، یعنی قرض کے بدلے تعلیم ۔اس نظام کے تحت قرض دینے والا ملک یا مالیاتی ادارہ قرض لینے والے ملک کا کچھ حصہ معاف کر دیتا ہے یا اس کی ادائیگی کی شرائط آسان بنا دیتا ہے۔ اس کے بدلے متعلقہ حکومت اتنی ہی رقم اپنے قومی تعلیمی منصوبوں پر خرچ کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ یوں ایک طرف قرضوں کا بوجھ کم ہوتا ہے اور دوسری طرف تعلیم کے شعبے کو اضافی وسائل میسر آ جاتے ہیں۔یہ ماڈل محض نظریاتی تجویز نہیں بلکہ کئی ممالک میں کامیابی سے آزمایا جا چکا ہے۔ پیرو، مصر اور آئیوری کوسٹ سمیت مختلف ممالک نے قرضوں کی تنظیمِ نو کے نتیجے میں نئے سکول تعمیر کیے، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت بہتر بنائی، تعلیمی سہولیات میں اضافہ کیا اور محروم طبقات کے بچوں تک تعلیم کی رسائی کو وسیع کیا۔تاہم یونیسکو اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ ایسے پروگرام صرف اسی صورت کامیاب ہو سکتے ہیں جب ان میں مکمل شفافیت، مؤثر نگرانی اور احتساب کا نظام موجود ہو۔ وزارتِ خزانہ، وزارتِ تعلیم، قرض دہندگان، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مربوط تعاون اس ماڈل کی کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔ ترقی پذیر ممالک کیلئے سبقپاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ قرض کے بدلے تعلیم کا ماڈل غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان ہر سال اپنے بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کرتا ہے جبکہ تعلیم پر اخراجات عالمی معیار سے کم ہیں۔ اس کے نتیجے میں قریب ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں، سرکاری تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور اساتذہ کی کمی سمیت متعدد مسائل برقرار ہیں۔اگر پاکستان مستقبل میں قرض دہندگان اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ایسے معاہدوں کی جانب پیش رفت کرے جن کے تحت قرضوں کی جزوی معافی کے بدلے تعلیم میں سرمایہ کاری کی جائے تو اس سے تعلیمی نظام میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ تعلیم پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ مستقبل میں زیادہ پیداواری معیشت، بہتر روزگار، کم غربت، سماجی استحکام اور مضبوط جمہوری اداروں کی صورت میں کئی گنا منافع دیتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ ترقی پذیر ممالک کو صرف مزید قرض فراہم کرنے کے بجائے ایسے مالیاتی ماڈلز اختیار کرے جو انسانی ترقی کو ترجیح دیں۔ اسی طرح ترقی پذیر ممالک کو بھی تعلیم کو اخراجات نہیں بلکہ قومی سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے اپنے بجٹ میں اس کا حصہ بڑھانا ہوگا۔ اگر قرضوں کے بوجھ کو کم کرکے تعلیم میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے تو نہ صرف معیاری تعلیم کا خواب حقیقت بن سکتا ہے بلکہ غربت کے خاتمے، معاشی ترقی، سماجی انصاف اور پائیدار ترقی کے عالمی اہداف کا حصول بھی زیادہ تیزی سے ممکن ہوگا۔

آج کا دن

آج کا دن

باستیل قلعے پر حملہ14 جولائی 1789ء کو پیرس میں عوام نے باستیل نامی قلعے اور جیل پر حملہ کیا۔ یہ واقعہ فرانسیسی انقلاب کا نقطہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اس زمانے میں فرانس کے بادشاہ لوئی XVI کی حکومت تھی۔ ملک شدید معاشی بحران، مہنگائی اور بے روزگاری کا شکار تھا۔ عام عوام پر بھاری ٹیکس عائد تھے جبکہ اشرافیہ بہت سی مراعات سے فائدہ اٹھا رہی تھی۔باستیل جیل میں اس وقت بہت کم قیدی موجود تھے لیکن یہ شاہی ظلم، آمریت اور عوامی آزادیوں کی پامالی کی علامت بن چکی تھی۔ ہزاروں شہریوں نے اس پر حملہ کیا، طویل جھڑپ کے بعد قلعے پر قبضہ کر لیا۔ اس حملے کے بعد فرانس میں انقلابی تحریک مزید مضبوط ہوگئی اور جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔ میرینر 4 مریخ مشن14 جولائی 1965ء کو ناسا کے خلائی جہامیرینر 4 نے پہلی مرتبہ مریخ کے انتہائی قریب کامیاب پرواز کی۔ یہ انسانی تاریخ کا پہلا مشن تھا جس نے کسی دوسرے سیارے کی قریبی تصاویر زمین پر بھیجیں۔ اس مشن کا آغاز 28 نومبر 1964 کو کیا گیا تھا اور تقریباً آٹھ ماہ کے سفر کے بعد یہ مریخ تک پہنچا۔میرینر 4 نے مریخ کی 21 تصاویر زمین پر ارسال کیں۔اس مشن نے مریخ کے ماحول کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کیں۔اس کامیابی نے وائکنگ، پاتھ فائنڈر، کیوراسٹی، پرسیویرنس اورسرخ سیارے کے دیگر مشنز کی بنیاد مضبوط کی اور خلائی تحقیق میں ایک تاریخی سنگِ میل قائم کیا۔ عراق میں انقلاب14 جولائی 1958ء کو عراق میں ایک فوجی انقلاب برپا ہوا ۔ اس انقلاب کی قیادت بریگیڈیئر عبدالکریم قاسم اور کرنل عبدالسلام عارف نے کی۔ اس وقت عراق پر شاہ فیصل دوم کی بادشاہت قائم تھی جبکہ وزیر اعظم نوری السعید تھے۔انقلابی فوجی دستے بغداد میں داخل ہوئے اور شاہی محل پر قبضہ کر لیا۔ اس کارروائی میں شاہ فیصل دوم، ولی عہد شہزادہ عبدالالٰہ اور شاہی خاندان کے دیگر افراد قتل کر دیے گئے۔ کچھ ہی دیر بعد وزیر اعظم نوری السعید بھی ہلاک ہوگئے ۔ اس واقعے کے بعد خطے میں قوم پرستی، فوجی حکومتوں اور سیاسی تبدیلیوں کا ایک نیا دور شروع ہوا جس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے گئے۔ سیڈیشن ایکٹ کی منظوری14 جولائی 1798ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیڈیشن ایکٹ نافذ کیا گیا۔اس قانون کے تحت حکومت، کانگریس یا صدر کے خلاف توہین آمیز یا بدنیتی پر مبنی تحریری یا زبانی بیانات کو جرم قرار دیا گیا۔ تاہم ناقدین نے اس قانون کو اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔اس قانون کے تحت کئی اخبارات کے مدیران، صحافیوں اور حکومت کے مخالف سیاست دانوں پر مقدمات قائم کیے گئے۔ اس کے باعث امریکی معاشرے میں شدید سیاسی بحث چھڑ گئی۔ بہت سے لوگوں نے دلیل دی کہ یہ قانون امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے خلاف ہے، جو آزادی اظہار اور آزادی صحافت کی ضمانت دیتی ہے۔بعد میں یہ قانون ختم ہوگیا۔ K2 کی پہلی کامیاب فتح14 جولائی 1954ء کو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی K2 (بلندی 8611 میٹر) پہلی مرتبہ سر کی گئی۔ یہ کارنامہ دو اطالوی کوہ پیماؤں نے انجام دیا۔ 1954ء سے پہلے کئی بین الاقوامی مہمات اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کر چکی تھیں لیکن سب ناکام رہیں یا شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا۔اطالوی مہم نے طویل منصوبہ بندی، جدید کوہ پیمائی تکنیک اور غیر معمولی جسمانی و ذہنی صلاحیت کے ذریعے یہ تاریخی کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابی عالمی کوہ پیمائی کی تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے اور پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں کو بین الاقوامی سطح پر مزید شہرت ملی۔آج بھی K2 کو ماؤنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور خطرناک چوٹی تصور کیا جاتا ہے۔