چن وے ( شاہ نور فلمز کی پہلی پنجابی فلم )

چن وے ( شاہ نور فلمز کی پہلی پنجابی فلم )

اسپیشل فیچر

تحریر : یسٰین گوریجہ


چن وے پاکستان کی پہلی فلم ہے جسے کسی عورت نے ڈائریکٹ کیا۔ نور جہاں پہلی ہدایت کارہ تھیں، جنہوں نے ہیروئن کے ساتھ ساتھ اس فلم کی ڈائریکشن کے فرائض بھی انجام دیئے۔ لاہور کے ریجنٹ سنیما میں یہ فلم 24مارچ 1951ء کو ریلیز کی گئی۔ اس کی ابتدائی لمبائی اٹھارہ ہزار فٹ ہوگئی تھی۔ نمائش کے بعد اس میں سے تین ہزار فٹ کا ٹکڑا کاٹ دیا گیا کیونکہ یہ ضرورت سے زیادہ لمبی ہوگئی تھی۔ اس فلم کی کہانی کا آغاز ایک گائوں موراں والی سے ہوتا ہے جہاں پٹواری فضل (غلام محمد) اپنی دوسری بیوی خیراں (نفیس بیگم) بیٹی سیماں (نورجہاں) اور بیٹے چراغ (سلیم رضا) کے ساتھ رہتا ہے۔ چراغ پٹواری فضل کا پہلی بیوی سے بیٹا ہے۔ دونوں باپ بیٹا اس چکر میں رہتے ہیں کہ خیراں کی پراپرٹی اور نقد رقم پر ہاتھ صاف کیا جائے۔ سیماں، خیراں کی پہلے خاوند سے بیٹی ہے جبکہ اس کا ایک بھائی فیروز جنگ پر گیا ہے اور لاپتہ ہے۔ کہنے کو سیماں، چراغ کی سوتیلی بہن ہے لیکن وہ اس پر بری آنکھ رکھتا ہے اور فضل کی مرضی اس میں شامل ہے۔ سیماں اپنے سوتیلے بھائی کی بری نظر کے بارے میں اکثر ماں سے شکایت بھی کرتی ہے۔ دو ایک مرتبہ چراغ ان کی چوری کرتے بھی پکڑا گیا، لیکن باپ درمیان میں دخل اندازی کرا کر معاملہ رفع دفع کر ادیتا۔ایک روز گائوں کے باہر ایک نوجوان کی ملاقات سیماں سے ہوئی۔ وہ اسے اپنا بھائی فیروز سمجھ کر اپنے گھر لے آئی اور ماں سے ملوایا۔ نوجوان فیروز (سنتوش) اس گھر میں گو سیماں کا بھائی بن کر رہنے لگا مگر اندرون خانہ وہ بھی سیماں سے پیار کرنے لگا تھا لیکن سیماں نے کبھی اسے اظہار کا موقع نہ دیا۔ شہر میں ڈاکٹر (ہمالیہ والا) رہتا ہے جس کا ایک بیٹا ڈاکٹر اسلم (جہانگیر خان) ہے، وہ دورے پر جانے کا پروگرام بناتا ہے۔ باپ کو بتاتا ہے کہ وہ موراں والی جارہا ہے۔ ڈاکٹر اسے کچھ رقم دیتا ہے کہ وہاں پٹواری فضل کو قم دے دے۔ ڈاکٹر اسلم گائوں آتا ہے کہ اس کی مڈبھیڑ لڑکیوں سے ہوتی ہے جن میں سیماں سب سے آگے ہے۔ وہ ڈاکٹر کو پانی میں دھکا دے کر بھاگتی ہے لیکن اس کا دوپٹہ ڈاکٹر کے ہاتھ میں رہ جاتا ہے اور وہ اسے نہیں دیتا تو وہ اس کے بوٹ اٹھا کر بھاگ جاتی ہے۔ ڈاکٹر پائوں سے ننگا ہے۔ وہ اپنے معاون کو کہتا ہے کہ کہیں جوتی لے کر آئے۔ چوپال میں پٹواری احمو خان کے ساتھ چوپٹ کھیل رہا ہے۔ معاون ان کی جوتیاں اٹھا کر لے جاتا ہے، ادھر جب جوتی غائب ہونے کا پتہ چلتا ہے تو اسے وہ بوٹ مل جاتے ہیں جو سیماں ڈاکٹر کے چرا کر لائی تھی۔ ڈاکٹر وہی جوتی پہن کر پٹواری کو رقم دینے آتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے پائوں میں اپنی جوتی دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ جہاں ڈاکٹر کو پتہ چلتا ہے کہ سیماں فضل کی ہی بیٹی ہے۔ سیماں اور ڈاکٹر میں ملاقاتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ ایک دن فیروز دیکھ کر ناراض ہوتا ہے۔ سیماں کے دریافت کرنے پر کہ وہ کیوں ناراض ہے وہ تو اس کا بھائی ہے اور محبت کرنے کا حق ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ وہ در پردہ اس سے محبت کرتا ہے۔ وہ محض اس کے قریب رہنے کے لیے بھائی بنا ہوا تھا۔ فیروز ان دونوں کے درمیان سے نکل جاتا ہے۔ اسلم شادی کے بارے میں فضل پٹواری سے بات کرتا ہے لیکن پٹواری تو اپنے بیٹے سے شادی کرانے کے چکر میں تھا۔ وہ جواب دے دیتا ہے۔ اسلم سیماں سے کہتا ہے کہ اس طرح بات نہیں بنے گی دوسرا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ اگلے روز سیماں پر جن سوار ہوجاتا ہے جسے دور کرنے کے لیے اسلم ہی بزرگ بن کر آجاتا ہے۔ فضل اور اس کے ساتھ رحمو کو مجبور کرتا ہے کہ ابھی اور اسی وقت دونوں کا نکاح کر دیا جائے چنانچہ حافظ کو بلایا جاتا ہے جو اندھا ہے۔ نکاح ہوجاتاہے۔ نکاح نامہ حافظ اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔ اسلم سیماں کو لے کر ڈاک بنگلہ میں آجاتا ہے۔ اگلی صبح وہ ایک ماہ بعد واپس آنے کا کہہ کر شہر چلا جاتا ہے۔ اسی دوران سیماں کی ماں خیراں مر جاتی ہے۔ سیماں حاملہ ہوجاتی ہے تو فضل اور رحمو وغیرہ سازش کرکے اسے پنچایت کے آگے پیش کرتے ہیں۔ سیماں صفائی میں حافظ کو پیش کرتی ہے۔ حافظ نکاح نامہ پیش کرتا ہے جو سادہ کاغذ پر ہوتا ہے کیونکہ اصل نکاح نامہ رحمو چرا کر لے گیا ہوتا ہے۔ یہاں فیروز بھی آجاتا ہے۔ وہ بھی سیماں کی صفائی پیش کرتا ہے جہاں اس کی خوب پٹائی ہوتی ہے اور سیماں کو گائوں بدر کر دیا جاتا ہے۔ اب چراغ کا ذہن بدلتا ہے۔ وہ زخمی فیروز اور سیماں کو لے کر شہر آتا ہے۔ وہ اسلم کے ہاں جاتے ہیں جہاں اس کا باپ اسے قبول نہیں کرتا۔ اسلم لندن جا چکا ہے۔ سیماں شہر میں بسیرا کرتی ہے اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے۔ اسلم جب واپس آتا ہے اور باپ کو بتاتا ہے کہ وہ شادی کر چکا ہے اور وہ موراں والی سیماں کو لینے جاتا ہے جہاں اسے بتایا جاتا ہے کہ وہ فیروز کے ساتھ فرار ہوگئی ہے۔ اسلم غلط فہمی میں مبتلا ہو کر واپس آجاتا ہے۔ ہسپتال میں اپنے باپ کو ملنے آتا ہے۔ وہاں فیروز داخل ہے۔ سیماں بھی وہاں آجاتی ہے۔ یہاں فیروز اس کی غلط فہمی دور کرتا ہے اور مر جاتا ہے۔ سیماں اور اسلم مل جاتے ہیں۔اس فلم کے نغمہ نگار ایف ڈی شرف (فیروز دین شرف) پنجابی کے مشہور شاعر تھے جو اس سے قبل کلکتہ میں سسی پنوں (1940ء) وغیرہ کے نغمات تحریر کرکے شہرت پا چکے تھے۔ چن وے کی کامیابی سے لاہور میں شوکت صاحب، فیروزنظامی اور ان کے ساتھ ساتھ نورجہاں کا امیج بھی بن گیا۔ 1947ء میں جگنو کے بعد 1951ء یعنی چار سال کے گیپ کے بعد نورجہاں کی فلم نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی جس کو خاطر خواہ ریسیپشن ملا۔ لاہور کے مین سنیما میں ان دنوں یہ فلم 18ہفتہ زیر نمائش رہی۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
رمضان کے پکوان:ڈیٹس پائی

رمضان کے پکوان:ڈیٹس پائی

تیاری کا وقت :بیس سے پچیس منٹ بیکنگ کا وقت : بیس سے پچیس منٹ تعداد : دس سے بارہ عدد اجزاء :میدہ دوپیالی ، کھجوریں 200گرا م ، نمک چٹکی بھر ، بیکنگ پائوڈر دوچائے کے چمچ ،پسی ہوئی چینی دوکھانے کے چمچ ، مکھن یا مارجرین ایک کھانے کا چمچ ، ترکیب : بناسپتی گھی کو کانٹے کی مددسے ہلکا سا پھینٹ لیں اور فریج میں رکھ کر ٹھنڈا کرلیں۔ میدہ میں بیکنگ پائوڈر ڈال کر چھان لیں پھر اس میں نمک اوربناسپتی گھی ڈال کر دوکانٹوں کی مدد سے ملالیں۔ درمیان میں حسب ضرورت ٹھنڈا یخ پانی ایک ایک چمچ کرکے ڈالتے جائیں تاکہ وہ گندھے ہوئے آٹے کی شکل میں آجائے۔ خیال رہے کہ یہ سارا عمل ٹھنڈی جگہ پر کریں اور اس آٹے کو دس منٹ کیلئے فریج میں رکھ دیں۔ پھر اس کی روٹی بیل لیں اور کٹر کی مددسے گول پور یوں کی طرح کاٹ لیں ۔مفن پین کو ہلکا سا چکنا کرکے اس میں خشک میدہ چھڑک لیں اور ہرپوری کو احتیاط سے ایک ایک سانچے میں لگالیں۔ کانٹے سے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سوراخ کردیں تاکہ بیک ہوتے ہوئے پھولنے نہ پائے۔ اوون کو 180Cپربیس منٹ پہلے گرم کرکے اس سانچے کو اس میں رکھیں اور بیس سے پچیس منٹ کیلئے بیک کرلیں۔ گولڈن برائون ہونے پر اوون سے نکال کر ٹھنڈا کرلیں۔ فلنگ بنانے کیلئے : کھجوروں کو صاف دھوکر ان کے بیج نکال لیں اور ان کو ہلکی آنچ پر پکنے رکھ دیں، پانچ سے سات منٹ پکانے کے بعد اس میں ایک کا چمچ مارجرین یا مکھن اور چینی ڈال کر چولہے سے اتارلیں ۔چمچ سے کچلتے ہوئے ٹھنڈا کرلیں اور ہرپائی شیل میں ایک ایک کھانے کا چمچ ڈال دیں۔ اس خوبصورت اور مزیدار ڈش کوآج کل مہمانوں کو بنا کر پیش کریں۔

آج کا دن

آج کا دن

'' آپریشن رد الفساد‘‘ کا آغاز22فروری2017ء کو ملک بھر میں ''آپریشن رد الفساد‘‘ شروع کیا گیا۔ جس کا مقصد دہشت گردوں کا بلا امتیاز خاتمہ کرنا تھا۔ اس آپریشن کے نتیجہ میں کراچی کی روشنیاں بحال ہوئیں۔ سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جینس اداروں کی طرف سے چار لاکھ سے زائد کارروائیاں کی گئیں جن میں چار سو زائد دہشت گرد جہنم واصل اور سیکڑوں گرفتار ہوئے جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زائد شدت پسندوں نے ہتھیار ڈالے۔دہشت گردوں کے 400 سے زائد مذموم منصوبے ناکام بنائے گئے۔سوچنے کا عالمی دنہر سال 22 فروری کو دنیا بھر میں ''ورلڈ تھنکنگ ڈے‘‘ یعنی ''سوچنے کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا آغاز 1926ء میں چوتھی گرل گائیڈ بین الاقوامی کانفرنس کے دوران امریکہ میں ہواتھا۔ اِس کانفرنس میں موجود لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ایک خاص دن ہونا چاہیے جب گرل گائیڈز اور اسکاؤٹس پوری دنیا میں ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرسکیں اور ایک دوسرے کو سراہا جاسکے ۔ امریکہ نے فلوریڈاخریدا22جنوری1819 ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ اور سپین کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جسے ''ایڈمز،اونس معاہدہ‘‘ یا ''ٹرانس کانٹی نینٹل ٹریٹی‘‘ اور ''فلوریڈا پرچیز ٹریٹی‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سپین کی جانب سے فلوریڈا کو امریکہ کے حوالے کیا گیا ۔اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان ایک مستقل سرحدی تنازع حل ہو گیا۔ ''فلوریڈا معاہدے ‘‘کو امریکی سفارتکاری کی فتح کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔

کنگفوروبوٹس

کنگفوروبوٹس

مصنوعی ذہانت کا نیا شاہکار دنیا تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مشینیں صرف احکامات پر عمل کرنے تک محدود نہیں رہیں بلکہ انسانی حرکات و سکنات کی نقل بھی حیران کن مہارت سے کرنے لگی ہیں۔ حال ہی میں چین میں تیار کیے گئے انسانی شکل کے روبوٹس نے کنگفو کے پیچیدہ کرتب دکھا کر ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ روبوٹس نہ صرف ککس اور قلابازیاں لگاتے ہیں بلکہ ننچک جیسے روایتی ہتھیار کے ساتھ مہارت کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔''سی سی ٹی وی اسپرنگ فیسٹیول گالا‘‘ میں درجنوں روبوٹس نے اسٹیج پر اپنے کرتب پیش کیے۔سرخ واسکٹ پہنے کنگفو روبوٹس ککس، قلابازیاں اور حتیٰ کہ ننچک، تلواریں اور چھڑیاں استعمال کرتے ہوئے مہارت کے کرتب دکھاتے رہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ جرات مندانہ مظاہرہ انسانی بچوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ روبوٹس بنانے والی معروف کمپنی ''یونٹری‘‘ کی جانب سے شو کی شائع کردہ شاندار ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔یوٹیوب پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مداح نے لکھا: پانچ سال قبل یہ سب سائنس فکشن ہوتا۔ ایک اور نے کہا:اگر میں یہ براہِ راست یونٹری روبوٹکس کے چینل سے نہ دیکھ رہا ہوتا، تو کہتا یہ AI ہے۔ چین میں ہونے والے اس گالا میں انسانی خصوصیات کے حامل روبوٹس بنانے والی چار کمپنیوں یونٹری روبوٹکس، گالبوٹ، نوئٹکس اور میجک لیب کے تیار کردہ روبوٹس نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ یونٹری کے درجنوں روبوٹس ''جی ون‘‘(G1)اسٹیج پر آئے، جو یونٹری کے بقول ''مَنکی کنگ کے ہتھیاروں‘‘ سے لیس تھے۔ لڑائی کے مناظر میں تکنیکی طور پر ایک منفرد سیکوئنس بھی شامل تھا، جس میں ''نشے میں مارشل آرٹس‘‘ کے انداز کی ڈگمگاتی حرکتوں اور پیچھے گرنے کے کرتب کی نقل کی گئی۔اس خاص سیکوئنس سے ''یونٹری ‘‘ نے متعدد روبوٹس کی ہم آہنگی اور فالٹ ریکوری کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا یعنی روبوٹ گرنے کے بعد خود اٹھ سکتا ہے۔یونٹری نے اپنے یوٹیوب ویڈیو کی تفصیل میں بتایاکہ درجنوں ''جی ون‘‘ روبوٹس نے دنیا کی پہلی مکمل خودمختار ہیومنائیڈ روبوٹ کنگفو پرفارمنس انجام دی، جس میں تیز حرکات شامل تھیں۔ ان روبوٹس نے کئی عالمی ریکارڈ قائم کیے۔ ''جی ون‘‘ ہیومنائیڈ روبوٹ کا وزن 35 کلوگرام (77 پاؤنڈ)، قد 1.32 میٹر (4.33 فٹ) اور جوڑوں میں 23 ڈگری کی آزادی ہے، جو اسے اوسط انسانی جسم سے زیادہ حرکت پذیر بناتی ہے۔ اپنے سادہ چہرے کے پیچھے، یہ روبوٹ ایک جدید سسٹم چھپا کر رکھتا ہے، جس میں 3D LiDAR سینسر اور ڈیپتھ سینسنگ کیمرا شامل ہیں۔ یہ خصوصیات اسے دنیا کے سب سے جدید کمرشل دستیاب ہیومنائیڈ روبوٹس میں سے ایک بناتی ہیں۔گزشتہ سال کے گالا میں، 16 یونٹری روبوٹس نے ایک نسبتاً سادہ روٹین پیش کی تھی، جس میں وہ رومال گھما رہے تھے اور رقص کر رہے تھے۔ ٹیکنالوجی کنسلٹنسی کمپنی Stieler کے ایشیاء میں منیجنگ ڈائریکٹر اور روبوٹکس و آٹومیشن کے سربراہ جورج اسٹیلر کے مطابق یہ تبدیلی صرف ایک سال میں ہوئی اوراس کے بعد ان روبوٹس کی پرفارمنس میں یہ فرق حیران کن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ روبوٹس کی متاثر کن موشن کنٹرول یونٹری کے اس مقصد کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ روبوٹ کے ''دماغ‘‘ یعنی AI سے چلنے والا سافٹ ویئر تیار کرنے پر توجہ دے رہا ہے، جو انہیں نفیس حرکی کام انجام دینے کے قابل بناتا ہے اور یہ حقیقی دنیا کی فیکٹری سیٹنگز میں استعمال ہو سکتے ہیں۔گزشتہ سال کی نسبت اس سال کی بہتری کو یوٹیوب پر بھی کئی ناظرین نے نوٹ کیا۔یونٹری کے ہیومنائیڈ روبوٹس پہلے بھی اپنی عجیب و غریب حرکتوں کی وجہ سے وائرل ہو چکے ہیں۔گزشتہ سال، چینی روبوٹکس فرم نے اپنی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرنے کیلئے دنیا کا پہلا ہیومنائیڈ روبوٹ باکسنگ ٹورنامنٹ منعقد کیا تھا۔ ایک وائرل کلپ میں، دو حقیقی سائز کے روبوٹس، جنہوں نے باکسنگ گلوز اور حفاظتی ہیڈ گیئر پہنے ہوئے تھے، رنگ میں ایک دوسرے سے لڑتے ہیں جبکہ ایک انسانی ریفری انہیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اگرچہ لڑتے ہوئے روبوٹس کچھ ککس اور پنچ لگا پائے، لیکن اکثر انہیں اپنا مخالف تلاش کرنے اور اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں دشواری پیش آئی۔یہ مظاہرہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے میدان میں غیر معمولی پیش رفت کی علامت ہے، جو مستقبل میں صنعت، تعلیم اور تفریح سمیت کئی شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ حفاظتی اور اخلاقی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ کیا انسان اور مشین کا یہ قرب مستقبل میں کسی نئے چیلنج کا پیش خیمہ تو نہیں؟

اپنی زبان، اپنی پہچان

اپنی زبان، اپنی پہچان

21 فروری کودنیا بھر میں مادری زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہےانسان کی پہلی پہچان اس کی مادری زبان ہوتی ہے۔ یہی وہ زبان ہے جس میں بچہ اپنی ماں کی لوری سنتا ہے، جذبات کا اظہار سیکھتا ہے اور اپنے گردوپیش کی دنیا کو سمجھنے لگتا ہے۔ مادری زبان نہ صرف ابلاغ کا ذریعہ ہے بلکہ تہذیب، تاریخ اور اجتماعی شعور کی امین بھی ہے۔ کسی بھی قوم کی فکری بالیدگی اور ثقافتی استحکام کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے کس قدر وابستگی رکھتی ہے۔عالمی سطح پر21فروری کو یونیسکو (UNESCO) کے تحت عالمی یومِ مادری زبان منایا جاتا ہے، جس کا مقصد لسانی تنوع کا تحفظ اور مقامی زبانوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مادری زبان محض بول چال کا وسیلہ نہیں بلکہ ہماری شناخت، روایت اور فکری آزادی کی بنیاد ہے۔مادری زبان کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کیلئے عالمی ادارہ یونیسکو نے 1999ء میں 21 فروری کو مادری زبان کاعالمی دن قرار دیاتھا،جو پوری دنیا میں منایا جاتاہے۔ عوام میں مادری زبانوں کی اہمیت اورافادیت کا شعور اُجاگر کرنے کیلئے مختلف تنظیمیں تقریبات کا اہتمام کرتی ہیں،واک اور بینر ڈسپلے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔بہت ساری زبانیں دم توڑ رہی ہیں۔جب تک حکومت، اخبارات، جرائد و رسائل اور خاص کر الیکٹرانک میڈیا مادری زبانوں کے تحفظ کیلئے بھر پور حصہ نہیں لیں گے، اس دن کو منانے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ۔کثیر لسانی تعلیم میں نوجوانوں کی آواز:2026ء کا موضوعحالیہ برسوں میں لسانی منظرنامے میں گہری تبدیلیاں آئی ہیں، جنہیں بڑھتی ہوئی ہجرت، تیز رفتار تکنیکی ترقی اور کثیر لسانیت کے ادراکی، سماجی اور معاشی فوائد کے بڑھتے ہوئے اعتراف نے شکل دی ہے۔ آج کثیر لسانیت کو صرف ایک سماجی حقیقت ہی نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی خصوصیت اور ایک مؤثر تعلیمی طریقہ کار کے طور پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ نوجوان اس ارتقا میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ زبانوں کے تحفظ اور احیا کیلئے آواز بلند کرتے ہیں، ڈیجیٹل مواد تخلیق کرتے ہیں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے لسانی تنوع کو زیادہ نمایاں اور باوقار بناتے ہیں۔ یہ کوششیں زبان، شناخت، تعلیم، فلاح و بہبود اور سماجی شرکت کے درمیان گہرے تعلق کو مضبوط کرتی ہیں اور ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں جو طلبہ کی زبانوں کو تسلیم اور سہارا دے۔اس کے ساتھ ساتھ نمایاں چیلنجز بھی موجود ہیں، کیونکہ دنیا بھر میں اب بھی 40 فیصد طلبہ کو اس زبان میں تعلیم میسر نہیں جسے وہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں، اور اس صورتحال سے مقامی، مہاجر اور اقلیتی نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کیلئے ایسی تعلیمی پالیسیوں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے جو کثیر لسانی تعلیم کو اپنی بنیاد بنائیں، تاکہ شمولیت، مساوات اور مؤثر تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ ٹھوس اقدامات کو آگے بڑھا کر، کامیاب تجربات کو شیئر کر کے اور نوجوانوں، اساتذہ اور پالیسی سازوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دے کر عالمی اقدامات ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں جہاں خیالات کا تبادلہ ہو اور ایسے حل تلاش کیے جائیں جو دنیا بھر کے اسکولوں اور معاشروں میں لسانی تنوع کو مضبوط کریں۔ دنیا میں سب سے زیادہ 860 مادری زبانیں نیوگنی میں بولی جاتی ہیں۔انڈونیشیا میں 742، نائیجیریا میں 516،بھارت میں425،امریکہ 311،آسٹریلیا میں 275 اور چین میں241 زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ دنیا بھر میں تقریباً کل 6912 زبانیں بولی جاتی ہیں۔آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ بولی جانے والی والی زبان چینی ہے ۔دوسرے نمبر پر ( اُردو یا ہندی) ہے۔ تیسرا نمبر انگلش کو حاصل ہے ۔اس کے بعد ہسپانوی ،عربی ،بنگالی زبان وغیرہ کا نمبر آتا ہے ۔پنجابی 11 او ر (صرف) اُردو، بولی جانے والی زبانوں میں 19 ویں نمبر پر ہے ۔مادری زبان کا عالمی دن، جس کا اعلان پہلے یونیسکو نے کیا اور بعد ازاں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسے منظور کیا، شمولیت کے فروغ اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں زبانوں کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ کثیر لسانی تعلیم نہ صرف جامع معاشروں کے قیام میں مدد دیتی ہے بلکہ غیر غالب، اقلیتی اور مقامی زبانوں کے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ سب کیلئے مساوی تعلیمی رسائی اور تاحیات سیکھنے کے مواقع کے حصول کی ایک بنیادی ستون ہے۔

رمضان کے پکوان:نیپالی رول

رمضان کے پکوان:نیپالی رول

اجزاء : مرغی 250 گرام (صرف گوشت)، آلو (درمیانہ سائز) ایک عدد، انڈا ایک عدد پیاز (چھوٹی ) ایک عدد، ڈبل روٹی کے سلائس (بڑے ) چھ عدد، کالی مرچ پاؤڈر آدھا ٹی سپون، مکھن ایک ٹیبل سپون، ہرا دھنیا، پو دینہ اور مرچ آدھا کپ، نمک حسب ذائقہ،آئل تلنے کیلئے۔ترکیب: مرغی، انڈے اور آلو ابال لیں۔ گوشت کے باریک ریشے کر لیں۔ انڈے اور آلو کو کچل کر گوشت میں شامل کر دیں۔ چوکور پیاز، ہرا دھنیا اور ہری مرچ و پو دینہ بھی گوشت میں ملا دیں۔ اب اس میں مکھن، کالی مرچ اور نمک شامل کر کے اچھی طرح ملائیں۔ سلائس کو ہلکا گیلا کر کے تھوڑا سا پھیلا لیں۔ بنا ہوا مصالحہ حسب انداز درمیان میں رکھ کر رول کی شکل میں بنا لیں۔ ایک گھنٹہ فریج میں رکھ کر آئل میں فرائی کر یں اور جاذب کاغذ پر رکھیں۔قیمے کے سموسے اجزاء: قیمہ 250 گرام، میدہ 500 گرام، میٹھا سوڈا 2 چٹکی، اناردانہ تھوڑا سا، گھی 90 گرام، ہری مرچ چار عدد، ہرا دھنیا ،نمک حسب ضرورت۔ترکیب:میدے کو گھی میں گوندھیں اور اس میں نمک اور سوڈا ملا دیں اور تھوڑا سا پانی بھی ملائیں مگر میدہ سخت ہونا چاہیے۔ اس کے پیڑے بنا کر بیلن سے بیل کر چھوٹی چھوٹی روٹیاں بنا لیں اور ان کو درمیان سے کاٹ لیں پھر ان کو دوہرا کر کے ان میں قیمہ بھر لیں۔ یہ سموسوں کی شکل کے بن جائیں گے۔ انہیں گھی میں تل لیں اور تناول فرمائیں۔

آج کا دن

آج کا دن

نکسن کا تاریخی دورہ چین1972ء میں امریکہ کے صدر رچرڈ نکسن نے عوامی جمہوریہ چین کا ایک تاریخی دورہ کیا۔ جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا تھا۔ یہ دورہ سرد جنگ کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا کیونکہ اس سے پہلے امریکہ اور چین کے تعلقات کشیدہ اور تقریباً منقطع تھے۔ اس پیش رفت نے عالمی سیاست میں ایک نئی جہت پیدا کی، طاقت کے توازن کو متاثر کیا اور بعد ازاں سفارتی و تجارتی روابط کی بحالی کی راہ ہموار کی۔مصر کی آزادی1922ء میں مصر نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔سولہویں صدی سے بیسویں صدی کے آغاز تک مصر پر بیرونی طاقتوں نے ہی حکمرانی کی۔ پہلے سلطنت عثمانیہ اور اس کے بات برطانیہ نے مصر کو اپنی حکومت کا حصہ بنایا۔ مصر کو برطانیہ سے آزادی ملی لیکن آزادی کے فوراً بعد وہاں بادشاہت قائم ہو گئی اور برطانوی فوج کا غلبہ برقرار رہا۔ 1952ء میں مصر میں انقلاب آیا اور مصر کے لوگوں نے برطانوی فوج اور افسروں کو اپنے ملک سے نکلنے پر مجبور کر دیا اوراس طرح مصر نے مکمل آزادی حاصل کی۔کیوبا:کاروبارحکومتی تحویل میں1960ء میں کیوبا کے صدر فیڈل کاسترونے تمام کاروبار حکومتی تحویل میں لے لیے۔ کاسترو نے تقریباً 50 سال کیوبا پر حکمرانی کی۔ فیڈل کاسترو 1959ء سے 1976ء تک کیوبا کے وزیر اعظم رہے اور 1976ء سے 2008ء تک ملک کے صدر رہے۔ 2006ء میں طبیعت کی خرابی پر سیاست سے دور ہو گئے اور 2008ء میں تمام معاملات اپنے بھائی راوّل کاسترو کے حوالے کر دیئے۔ فیڈل کاسترو کے دور میں کیوبا اور امریکا کے تعلقات بہت کشیدہ رہے۔ کیوباکے تمام کاروبار کو حکومتی تحویل میں لینے پر فیڈل کاسترو پر بھی بہت تنقید ہوئی لیکن انہوں نے اس کو اپنے ملک کا اندرونی معاملہ کہتے ہوئے اسے ملکی مفاد میں قرار دیا۔مسافر جہاز پر اسرائیلی حملہلیبیا عرب ائیر لائنر کی پرواز 114 طرابلس سے قاہرہ کیلئے ایک طے شدہ پرواز تھی جسے 21 فروری 1973ء میں اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے حملہ کر کے گرا دیا۔ بن غازی سے پرواز بھرنے کے بعد خراب موسم اور آلات کی خرابی کی وجہ سے جہاز اپنے راستے سے بھٹک گیا۔ راستہ بھٹکنے کی وجہ سے یہ اسرائیل کے زیر کنٹرول فضائی حدود میں داخل ہو اجہاں اسرائیلی جہازوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد108تھی۔واشنگٹن یادگار مکمل ہوئی1885ء میں یادگار واشنگٹن کو مکمل کیا گیا۔ 169 اعشاریہ 3 میٹر طویل یہ دنیا کی بلند ترین یادگار ہے۔یہ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں واقع ہے ۔اسے امریکہ کے بانی جارج واشنگٹن کی یاد میں تعمیر کیا گیا۔ اگرچہ واشنگٹن یادگار نیو یارک میں پائی جانے والی عمارتوں کے مقابلے میں چھوٹی سی معلوم ہوتی ہے لیکن قانونی لحاظ سے یہ اب بھی ڈی سی کی سب سے اونچی عمارت ہے۔