بھارت کا ایک اور فالس فلیگ آپریشنکئی سال سے پاکستان بھارت کے ایک اور فالس فلیگ آپریشن کے خدشات کے بارے بین الاقوامی برادری کو خبردار کرتا آیا ہے۔ان خدشات کی تصدیق اس وقت ہوئی جب گزشتہ برس 22 اپریل کو مقبوضہ جموں و کشمیرکے ضلع اننت ناگ میں پہلگام کے سیاحتی مقام پر ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔اس واقعے کے چند منٹوں کے اندر ہی بھارتی میڈیا نے پاکستان کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر دیا اورمیڈیا کے ذریعے پیدا کردہ ہسٹیریا کو بھارتی حکمران طبقے کے جنگجوانہ بیانات نے مزید تقویت بخشی۔پہلگام حملے کا وقت خصوصی طور قابل ِغور ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا جب نریندر مودی سعودی عرب کے دورے پر تھا جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے خاندان کے ساتھ ہندوستان کا دورہ کر رہے تھے۔ بھارت کے داخلی محاذ پر دیکھا جا ئے تو وقف ایکٹ ، جسے شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے بعد ایک اور مسلم مخالف قانون کے طور پر دیکھا جاتا ہے، کے خلاف مسلمانوں کی طرف سے بھارت میں ملک گیر احتجاج جاری تھا۔ اسی سال کے آخر میں بہار میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات بی ہو رہے تھے۔ اس طرح بھارتی حکومت کیلئے خلفشار پیدا کرنے اور اس صورتحال سے عوامی توجہ ہٹانے کیلئے ایک مضبوط ترغیب موجود تھی۔ بھارت نے کسی طرح کے شواہد کے بغیر اس واقعے کا الزام پاکستان پر ڈال دیااور پاکستان کے خلاف بہت سے ''اقدامات‘‘ کی دھمکی دے ڈالی جن میں 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کی معطلی ،انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ اٹاری کو بند کرنے اور بھارت میں موجود پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے کیلئے صرف 48 گھنٹے کا وقت دیا گیا۔ بھارت نے یہ بھی اعلان کیا کہ سارک ویزا استثنیٰ سکیم کے تحت پاکستانی شہریوں کو بھارت کا سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور پاکستانیوں کو جاری کردہ ایسے تمام ویزے منسوخ کردیئے گئے۔ نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن میں تعینات ڈیفنس؍ملٹری، نیول اور ایئر ایڈوائزرز کو ملک چھوڑنے کیلئے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا اور اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمیشن سے اپنے دفاعی؍بحریہ؍فضائی مشیروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے جواب میں پاکستان نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے غیر قانونی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے بھارت کو خبردار کیا کہ اس معاہدے کی کوئی شق معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ پاکستان کی طرف سے واضح کیا گیا کہ پانی کے بہاؤ کا رخ موڑنے کے کسی بھی اقدام کوجنگی کارروائی کے طور پر لیا جائے گا اور اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ پاکستان نے بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔ اگرچہ پاکستان نے 5 اگست 2019 ء کو مقبوضہ کشمیرکے بارے میں بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد پہلے ہی دوطرفہ تجارت معطل رکھی تھی لیکن اب ہر قسم کی تجارت کو روکنے کا اعلان کیا گیا جس میں پاکستان کی سرزمین کے ذریعے تیسرے ملک کے ساتھ بھارتی تجارت بھی شامل تھی۔ پاکستان نے سکھ یاتریوں کے علاوہ سبھی بھارتی شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی نیز یہ کہ دوطرفہ معاہدوں بشمول شملہ معاہدے کو معطل کرنے کا بھی کہا گیا ۔ پاکستان نے کسی بھی مہم جوئی کے خلاف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کے پختہ عزم کا اظہار بھی کیا۔ اگرچہ پاکستان پر الزام تراشی بھارت کا وتیرہ ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ ایسے واقعات کی پوری سیریز کو یاد کیا جائے جن میں ہندو انتہا پسندوں اور بھارتی ریاست کے حمایت یافتہ عناصر نے بھارت میں پاکستانی شہریوں اور ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سرزمین پر بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کا ارتکاب کیا۔ تقریباً 19 سال پہلے لاہور آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین پر حملے کا واقعہ قابل ذکر ہے جس میں 40 پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے۔ بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے اس واقعے میں سوامی اسیمانند ، لیفٹیننٹ کرنل پروہت، سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، کمل چوہان، راجندر چوہدری اور لوکیش شرما کو مجرم قرار دیا تھا۔ دہشت گردی کے اس وقوعے کاماسٹر مائنڈ سوامی اسیمانند آر ایس ایس کا سرگرم رکن تھا۔ادھرمقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے دہشت گردی کا راج مسلط کر رکھا ہے اور بے گناہ کشمیریوں کو اجتماعی سزا دی جاتی ہے۔ پہلگام واقعے کے بعد بھارتی قابض فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں متعدد گھروں کو مسمار کیا ۔ عام کشمیریوں کے گھروں کے خلاف اس طرح کے اقدامات نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ، حریت کانفرنس اور جسٹس ڈیویلپمنٹ فرنٹ سمیت پوری کشمیری قیادت کو مجبور کیا کہ بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کی جائے۔پہلگا م واقعہ در حقیقت ایک پرانا سکرپٹ ہے جسے مودی حکومت دہراتی آ ئی ہے، اور اس کا مقصد لوگوں میں مودی سرکار کی مقبولیت کا گراف اونچا کرنا، بھارت کے اندرکے سنگین مسائل سے توجہ ہٹانا ، عالمی سطح پر رائے عامہ کو گمراہ کرنا ، بھارت کیلئے ہمدردی کی لہر پیدا کرنا، خود کو ایک امن پسند لیکن دہشت گردی کے 'شکار‘ کے طور پر پیش کرنا ۔ پاکستان کو بدنام کرنا اور اس کے بین الاقوامی تشخص کو داغدار کرنا ہے۔ 2019ء کا پلوامہ واقعہ بھی ایسا ہی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا جس کی مزید تصدیق مقبوضہ کشمیرکے سابق گورنر ستیہ پال ملک کے انکشافات سے ہوئی۔ یہ حقیقت اب دنیا کی نظروں سے اوجھل نہیں کہ پہلگام کا واقعہ بھارتی ریاستی ایما پر کروایا گیا ایک فالس فلیگ آپریشن تھا۔ اس کی بنیاد پر اگرچہ نئی دہلی نے پاکستان کے خلاف ایک مہم شروع کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت خود پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو جو بھارتی بحریہ کا حاضر سروس کمانڈر تھا ، اس وقت بھی پاکستان کی تحویل میں ہے۔نیز بی جے پی کے رہنما اور بھارتی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول خود یہ قبول کر چکا ہے کہ بھارت پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے، جبکہ کینیڈا اور امریکہ کی حکومتوں نے اپنے ممالک میں قتل اور اقدام قتل کی وارداتوں میں بھارتی حکومتی ایجنٹوں کے ملوث ہونے کے شواہد جمع کئے اور ملزموں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمے چلائے جارہے ہیں۔ بھارت کے جھوٹے بیانیے اور بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے پاکستان نے یہ پیش کش کی تھی کہ ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے وہ کسی بھی غیر جانبدار، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کیلئے تیار ہے۔ یہ پیش کش بھارت کو اپنے الزامات کو ثابت کرنے کا موقع فراہم کرتی، اگر ایسا کوئی ثبوت ہوتا۔ مگر بھارت کا اس پیش کش کو قبول نہ کرنا خود ہی ایک ثبوت ہے کہ اُس کے پاس پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت نہ تھا۔یہ صورتحال بھارتی الزامات کے کھوکھلا پن اور اس کی سات دہائیوں سے زیادہ کی دھوکہ دہی کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔