اشفاق احمد (’’داستان سرائے‘‘ کا گڈریا)
اسپیشل فیچر
اشفاق صاحب نے اس سفر میں ننگے پاؤں چلتے قصے کہانیاں لکھتے ہوئے،جب بند گلی میں داخل ہوئے، تو شہر آرزو کا حیرت کدہ سامنے پایا ،توتا کہانی اور ایک محبت سوڈرامے قلم بند کرنے والے اس تلقین شاہ نے مہمان سرائے میں قیام کیا****ذکر ہے ایک ایسے انسان کا ،جو بہت سوں کے لیے داستان گو ہے، کچھ کے لیے صدا کار ہے،کچھ کے لیے افسانہ نگار وڈراما نویس ہے اور کچھ کے لیے صوفی فلسفی اور کچھ کے لیے ’’داستان سرائے‘‘ کا ایک گڈریا ۔پائیلو کو ہیلو نے ’’الکیمسٹ‘‘ میں عجیب بات لکھی ہے ’’بھیڑوں کو صرف ایک ہی ضرورت کا احساس رہتا ہے، پانی اور خوراک اور جب تک اُن کے گڈریے کو اندلس کی بہترین چراہ گاہوں کا علم رہے گا، وہ اس کی دوست رہیں گی، باوجود اس کے اُن کا ہر دن دوسرے دن کی طرح ہوتا ہے اور یہ دن سورج کے طلوع ہونے سے غروب ہونے تک زیادہ ہی لمبا لگتا ہے‘‘۔شہر ادب و ثقافت،لاہور کے اس گڈریے کی بھیڑوں کی ضرورت بھی کچھ ایسی نہ تھی۔ علم کی کون کون سی چراہ گاہیں تھیں، جن کا اسے علم نہ تھا، جن کی اسے خبر نہ تھی اور وہ ان بہترین چراہ گاہوں کے منظر اور ذائقوں سے ساری عمر سب کی ضرورتیں، خواہشیں پوری کرتا رہااوراُنھیں خوابوں کی سرزمین دکھاتا رہا۔ طالب علم ہوتے یا پیرو جواں سارے دن کی دھوپ سہتے اور ہفتے کی کسی ایک شام ’’داستان سرائے ‘‘ایک سو اکیس سی ،ماڈل ٹاؤن کی ایک محفل کا ساتھ، ٹھنڈی ہوا کی طرح، ساری شدت اور حدت کو ہی اُڑا کے لے جاتا۔اشفاق احمد کی باتیں کانوںمیں اور پھر دل میں یوں اُترتیں، جیسے کوئی آنکھوں میں اُتر آئے اور اپنی انھی خوبیوں کی بدولت قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ادبی اُفق پر نمایاں ہونے والے ادیبوں میں اشفاق احمد کا نام نمایاں نظر آتا ہے۔ ۱شفاق ۱حمد ایک دَرد مند دل کے مالک تھے۔وہ جب بھی اپنا کوئی پروگرام ریڈیو یا ٹی وی پر ختم کرتے ،تو اس دعا سے کرتے ’’اللّٰہ آپ کو آسانیاں عطا کرے ۱ور آسانیاں بانٹنے کا شرف عطا کرے ‘‘۔اشفاق صاحب کسی کے لیے منفرد داستان گو اور افسانہ نویس تھے، کسی کے لیے خان صاحب، بہت سوں کے بابا جی اور ایک دنیا کے لیے تلقین شاہ، ایک لمحے اُن کو نام ، کام، شہرت اور مقام کی چادر کو ایک طرف کر کے دیکھا اور سوچا جائے، توجو بات خاص، ممتاز اور ممیز کرنے والی ہے، وہ اُن کی سوچ اور زندگی کی راہ ہے، جو اس راہ سے اُنھوں نے ملا دی اور اسی پہ ڈیرہ ڈال کے بیٹھ گئے جو راہِ لفظوں اور کتابوں میں گم نہیں ہو جاتی بل کہ انسانوں ، جیتے جاگتے دکھی انسانوں سے محبت، خدمت ، اپنائیت، ایثار، راہنمائی کے سنگ میل پہ جا ملتی ہے۔ اشفاق ۱حمد کے چند نمایاں فنی و ۱دبی کا ر ناموں کا ذکر بتدریج کچھ یوں ہے :٭ ’’تلقین شاہ ‘‘جو ریڈیو پاکستان کا طویل پروگرام تھا۔1962ء میں نشر ہونا شروع ہوا ، جس میں اُنھوں نے بطورِکردار تلقین شاہ کام کیا اور مختلف موضوع بنا کر قوم کو شعور دیا۔٭پاکستان ٹیلی وژن سے ایک عرصہ تک اُن کے فلسفیانہ اور صوفیانہ رنگ سے مزین پروگرام ’’گفت گو ‘‘۱ور’’ ز۱ویہ‘‘ نشر ہوتے رہے، جس میں مسلم اور مومن کے فرق کو بیان کیا جاتا تھا ۔ اشفاق صاحب کا کہنا تھا کہ اُن کے گاؤں کے ایک موچی بابا نے یہ مسئلہ حل کیا اور کہا کہ مسلم وہ ہوتا ہے ،جو اللّٰہ کو مانے او ر مومن وہ ہوتا ہے جو اللّٰہ کی مانے‘‘۔ایک مرتبہ پروگرام’’زاویہ‘‘ کی ریکارڈنگ کے دوران کسی نے اُن کی زوجہ اور ہم سب کی بانو آپا سے سوال کیا: ’’بانو آپا! کبھی اشفاق بابا سے مقابلے کا خیال آتا ہے؟‘‘ اُن کا جواب تھا ’’بیٹے! ماؤنٹ ایورسٹ سے کیا مقابلہ‘‘۔ ایسا ہی ایک سوال کسی نے اُن سے نعیم بخاری کے ایک پروگرام میں بھی کیا تھا، تب اُنھوں نے بڑی محبت سے کہا تھا ’’کسی مٹے ہوئے شخص کو کوئی کیسے مٹانے کا سوچے‘‘۔اشفاق احمد 22اگست 1925ء کو ۱نڈیا کی تحصیل فیروز پور میں ڈاکٹر محمد خان کے گھر پیدا ہوئے۔اُنھوں نے پنجاب یونی ورسٹی سے ایم اے اُردو کیا او ر1955ء میںد یال سنگھ کالج،لاہور میں اُردو ۱دبیات کے اُستاد کی حیثیت سے اُن کی نامزدگی ہوئی ۔اشفاق صاحب کچھ عرصہ۱ٹلی کی روم یونی ورسٹی کے شعبۂ اُردو کے بھی اُستاد رہے ۱ور اسی دوران ۱ ٹالین اور فرانسسی زبانیں بھی سیکھی۔ اُنھوں نے نیو یارک میں قیام کے دوران ایک عالمی نشریاتی ادارے کے ساتھ براڈکاسٹرکی حیثیت سے کام کیا اور 1966-79ء تک مرکزی اُردو بورڈ کے ڈائریکٹر بھی تعینات رہے ۔اشفاق احمد کا شمار بلا شبہ صف ِاوّل کے تخلیق کاروں میں کیا جا سکتا ہے۔ گڈریا کا یہ تخلیق کار جب سفر در سفر پہ نکلا، تو اس کی ملاقات بابا صاحبا سے ہوئی، جنھوں نے زندگی کو پرکھنے کے لیے اُن کو ایک نئی زاویۂ نگاہ دی۔ اشفاق صاحب تمام عمر ریڈیو،ٹی وی اوردرس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے اور علم وادب کے کئی چراغ روشن کیے۔ اُردو اور پنجابی زبان کی خوبصورت آمیزش سے ایک ہی بولی میں داستان لکھی۔ اشفاق صاحب نے اس سفر میں ننگے پاؤں چلتے قصے کہانیاں لکھتے ہوئے،جب بند گلی میں داخل ہوئے، تو شہر آرزو کا حیرت کدہ سامنے پایا ،توتا کہانی اور ایک محبت سوڈرامے قلم بند کرنے والے اس تلقین شاہ نے مہمان سرائے میں قیام کیا۔زندگی کے گلدان میں اُجلے پھولوں کی مہک رچائی اور معاشرتی اور رومانی موضوعات پر ایک محبت سو افسانے رقم کیے۔ اشفاق صاحب کے طلسم ہوش افزا، صبح افسانوں کا ڈھنڈورا سارے عالم میں بج چکا اوراُن کی تحریروں کی تازگی گلاب کی طرح آج بھی دنیا میں قائم و دائم ہے ۔اشفاق صاحب کی علمی و ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے اُنھیںستارۂ حسن ِکارکردگی اور نشانِ امتیاز سے نوازاتاہم وقت نے اُن کوزیادہ مہلت نہ دی کہ وہ اپنی قوم کو مزید نصیحتیں کرتے اور7ستمبر2004ء کو جگر کی رسولی کے باعث اُردو ادب کے اس گڈریاکی کہانی اختتام پذیر ہو گئی، لیکن اُن کا کام اور نام آج بھی کئی اذہان ِعالی میں زندہ ٔ جاوید ہے ۔