مسلمان قاضیوں کا بے لاگ عدل : قاضی ابو یوسفؒ
اسپیشل فیچر
قاضی أبو یوسف ؒ خلیفہ ہارون رشید عباسی (170ھ، 786ء تا ،809ء)کے زمانہ میں سلطنت عباسیہ کے قاضی القضاۃ یعنی موجود ہ دور کے چیف جسٹس تھے۔ بہت کم گو اور انصاف پسند تھے۔ بادشاہِ وقت کے سامنے بھی حق بات کہنے سے نہیں چوکتے تھے۔ ایک مرتبہ جمعہ کے روز ایک شخص ہارون کے سامنے کھڑا ہوا جب کہ وہ منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔ اس شخص نے ہارون سے کہا:’’خدا کی قسم تم تقسیم دولت میں مساوات کو ملحوظ نہیں رکھتے۔ نہ رغبت کے ساتھ عدل کرتے ہو، تم نے یہ کیا اور وہ کیا‘‘۔ ہارون کے حکم سے وہ شخص فوراً گرفتار کر لیا گیا اور نماز جمعہ کے بعد خلیفہ کے حضور میں پیش کیا گیا۔ ہارون نے امام أبو یوسف ؒ کو بلوایا۔ وہ جب پہنچے تو انہوںنے دیکھا کہ ایک شخص ہتھکڑی اور بیڑیوںمیں جکڑا کھڑا ہے۔ جلاد اس کے سر پر کوڑے لئے کھڑے ہیں۔ ہارون امام أبو یوسفؒ کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے کہا ’’اے یعقوب ! اس شخص نے مجھ سے ایسی باتیں کہی ہیں جو آج تک کسی کو کہنے کی جرات نہیں ہوئی تھی۔ ‘‘امام أبو یوسف نے کہا :’’امیر المومنین !کون سی بات ہو گئی؟ اس طرح کی باتیں تو آنحضرتؐ کے ساتھ بھی کی گئیں اور آپؐ نے معاف کر دیا اور درگزر سے کام لیا ۔ چناں چہ ایک مرتبہ ایک شخص نے آپ ؐ کو قسم دی ۔ ’’میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ عدل کیجئے!‘‘ آپ ؐنے جواب میں فرمایا:’’اگر میں عدل نہ کروں گا تو کون کرے گا؟‘‘اور اسے معاف فرما دیا۔ ایک مرتبہ اس سے بھی سنگین واقعہ ہوا۔ زبیر ؓ اور ایک انصاری مدعی اور مدعا علیہ بن کر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؐ نے فیصلہ زبیر ؓ کے حق میں دیا ، جس پر انصاری نے کہا ۔’’یا رسول اللہ ؐکیا یہ فیصلہ آپؐ نے اس لئے کیا ہے کہ زبیر ؓ آپ ؐکی پھوپھی کے بیٹے ہیں۔ آپؐ نے یہ سنا اور اسے معاف کر دیا۔‘‘ امام أبو یوسف ؒ کی یہ باتیں سن کر ہارون کا غصہّ ٹھنڈا ہو گیا اور اس نے اس شخص کی رہائی کا حکم صادر کر دیا۔‘‘ امام أبویوسفؒ کی حق گوئی اور جرأت و دلیری کا یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک مصنف کے مطابق: ’’جب قیصر روم کی بار بار عہد شکنی ،سرکشی اور سرحد پر قتل و غارت سے ہارون تنگ آ گیا تو ایک روز نہایت غصہ سے اس نے قاضی القضاہ حضرت امام أبو یوسفؒ سے پوچھا کہ عہد اسلامی میں عیسائیوں کے گرجاگھر کیوں محفوظ رہے ہیں اور کس نے ان کو اس بات کی اجازت دی کہ شہروں میں اعلانیہ جلوس نکالیں؟ اس پر امام أبو یوسف ؒ نے بڑی جرأت سے جواب دیا: ’’حضرت عمر ؓ کے عہد میں جب رومی ممالک فتح ہوئے تو عیسائیوں کو یہ لکھ کر دے دیا گیا تھا کہ تمہارے گرجا محفوظ رہیں گے اور تمہیں اپنے مذہبی اعمال بجا لانے اور صلیب نکالنے میں پوری آزادی ہو گی۔ پس اب کس کی مجال ہو سکتی ہے کہ اس حکم کو منسوخ کر دے۔‘‘یہ سن کر ہارون الرشید چپ ہو گیا اور پھر ساری عمر کبھی مسیحی آبادی کے مذہبی امور میں کوئی مداخلت نہیں کی۔علامہ شبلی نعمانی ذمیوں کے حقوق سے متعلق اپنے ایک مقالہ میں اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں:’’ہارون الرشید جب قیصر روم کی بار بار بغاوت سے نہایت برہم ہوا تو مسیحی آبادی کے حوالے سے اس کے خیالات تبدیل ہوگئے، غالباً اسی کااثر تھا کہ اس نے قاضی أبو یوسف ؒ سے پوچھا کہ مسیحی آبادی کے گرجے مسلمانوں کے دورِ اقتدارمیں کیوں محفوظ رہے اور آج ان کو کیوں کر یہ اجازت حاصل ہے کہ وہ اعلانیہ صلیب نکالتے ہیں؟ اس کا جواب قاضی صاحب نے کچھ یوں دیا:ترجمہ:’’یعنی مسلمانوں اور ذمیوں میں جزیہ کی بناء پر جو صلح ہوئی تھی۔ یہ شرط کچھ یوں تھی کہ ان کی خانقاہیں اور گرجے،شہر کے اندر ہوں یاباہر، برباد نہ کئے جائیں گے اور یہ کہ ان کا کوئی دشمن ان پر چڑھ آئے تو ان کی طرف سے مقابلہ کیا جائے گا اور یہ کہ وہ تیوہاروں میں صلیب نکالنے کے مجاز ہیں۔ چناں چہ تمام شام اور حیرہ (باستثناء بعض مواضع کے)انہیں شرائط پر فتح ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ خانقاہیں اور گرجے چھوڑ دیئے گئے اور برباد نہیں کئے گئے۔‘‘٭…٭…٭