دروازہ کھلا رکھنا
اسپیشل فیچر
جب بھی آپ دروازہ کھول کے اندر کمرے میں داخل ہوں، تو اسے ضرور بند کر دیا کریں اور میں نے یہ بات بیشتر مرتبہ ولائت میں قیام کے دوران سنی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ Shut the door۔ میں سوچتا تھا کہ وہ یہ کیوں کہتے ہیں کہ اندر داخل ہوں، تو دروازہ پیچھے سے بند کر دو، شاید وہاں برف باری کے باعث ٹھنڈی ہوا، بہت ہوتی ہے ۔اس وجہ سے وہ یہ جملہ کہتے ہیں، لیکن میرے پوچھنے پر میری لینڈ لیڈی نے بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ’’آپ اندر داخل ہوگئے ہیں اور اب ماضی سے آپ کا کوئی تعلق نہیں رہا، آپ صاحبِ حال ہیں،اسلئے ماضی کو بند کر دو اور مستقبل کا دروازہ آگے جانے کے لیے کھول دو۔‘‘ہمارے بابے کہتے ہیں صاحبِ ایمان اور صاحبِ حال وہ ہوتا ہے،جو ماضی کی یاد میں مبتلا نہ ہو اور مستقبل سے خوفزدہ نہ ہو۔ اب میں اس کے ذرا سا اُلٹ آپ سے بات کرنا چاہ رہا تھا کیوں کہ پیچھے کی یادیں اور ماضی کی باتیں لوٹ لوٹ کے میرے پاس آتی رہتی ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی اس میں سے کچھ حصّہ بٹائیں۔ابن ِانشاء نے کہا تھا کہ’’دروازہ کُھلا رکھنا۔‘‘ آپ دوسروں کیلئے ضرور دروازہ کھول کے رکھیں، اسے بند نہ رہنے دیں۔ آپ نے اکثرو بیشتر دیکھا ہو گا کہ ہمارے ہاں بینکوں کے دروازے شیشے والے ہوتے ہیں وہاں دروازوں پر موٹا اور بڑا Thick قسم کا شیشہ لگا ہوا ہوتا ہے۔ اگر اسے کھول دیا جائے ،تو بلا شبہ اندر آنے والے کیلئے بڑی آسانی ہوگی اور اگر آپ کسی کیلئے دروازہ کھولتے ہیں اور کسی دوسرے کو اس سے آسانی پیدا ہوتی ہے، تو اس کا آپ کو بڑا انعام ملے گا، جس کا آپ کو اندازہ نہیں۔ کسی کیلئے دروازہ کھولنا بڑے اجر کا کام ہے۔ ہمارے گھروں میں بیبیوں کوزیادہ اس کا علم نہیں، وہ بیٹھی ہی کہ دیتی ہے’’اچھا ماسی سلام، فیر ملاں گے‘‘ یہ نہیں کہ اُٹھ کے دروازہ کھول کے کہا بسم اللہ اورجانے کیلئے خود دروازہ کھولیں اور خدا حافظ کہیں۔اس میں بہت ساری برکات ہیں اور بہت سارے فوائد سے آپ مستفید ہو سکتے ہیں اور ایسا نہ کر کے آپ ان سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ بڑھاپے میں گزشتہ چالیس، پینسٹھ، باسٹھ برس کی باتیں اپنی پوری جزیات اور تفصیلات کے ساتھ یاد آجاتی ہیں اور کل کیا ہوا تھا، یہ یاد نہیں آتا۔ بڑھاپے میں بڑی کمال کمال کی چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ آدمی چڑچڑا ہوجاتا ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ میں بڑا pleasant آدمی ہوں۔ بڑا شریف آدمی ہوں۔ میں تو چڑچڑا نہیں ہوں۔ پرسوں ہی مجھے گیس کا چولہا جلانے کیلئے ماچس چاہئے تھی، میں اتنا چیخا، اوہ ! آخر کدھر گئی ماچس! میرا پوتا اور پوتی کہنے لگے کہ الحمدللہ دادا بوڑھا ہو گیا ہے۔ میں نے کہا کیوں؟ تو کہنے لگے، آپ چڑنے لگے ہیں اور ایسی تو آپ کی Language کبھی نہ تھی۔ میں نے کہا، بھئی آخر بڑھاپے میں تو داخل ہونا ہی ہے،کیا کیا جائے؟ لیکن پھر بھی تم سے بہت طاقتور ہوں۔ کہنے لگے، آپ کیسے طاقتور ہیں؟ میں نے کہا، جب تمہاری کوئی چیز زمین پر گرتی ہے تو تم اسے اٹھا لیتے ہو، لیکن اللہ نے مجھے یہ قوت دی ہے، ایک بوڑھے آدمی میں کہ جب اس کی ایک چیز گرتی ہے تو وہ نہیں اٹھاتا اور جب دوسری گرتی ہے، تو میں کہتا ہوں اکٹھی دو اٹھالیں گے، اسی لئے ہمیشہ انتظار کرتا ہے کہ دو ہوجائیں تو اچھا ہے۔ میں یہ عرض کررہا تھا کہ دوسروں کیلئے دروازہ کھولنا، ایک جادو، چالاکی، ایک تعویذ اور ایک وظیفے کی بات ہے، اگر آپ میں، مجھ میں یہ خصوصیت پیدا ہوجائے تو یہ عجیب سی بات لگے گی کہ ہم دروازہ کھولنے لگیں، لوگوں کیلئے تو یہ ایک رہبری عطا کرنے کا کام ہوگا۔ آپ لوگوں کو رہبری عطا کریں گے اپنے اس عمل سے، جس نے دروازہ کھول کے اندر جانا ہے، آخر اسے جانا تو ہے ہی، لیکن آپ اپنے عمل سے اس شخص کے رہنما بن جاتے ہیں اور جب آدمی رہنمائی کرتا ہے، تو اس کا انعام اسے ضرور ملتا ہے۔ ہمارے ہاں تو یہ رواج ذرا کم ہے۔ ہم تو دروازہ وغیرہ اس اہتمام سے نہیں کھولتے کہ ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے ۔کسی کا دروازہ کھولنے کی، جب وہ چلا جائے گا، دفع ہو جائے گا تو کھول کر اندر چلے جائیں گے۔ اگر ہم میں دروازہ کھولنے کی عادت پیدا ہو جائے۔ اگر ہم اپنے دفتر، بینک یا درس گاہ میں دروازہ خود کھولیں، چاہے ایک اْستاد ہی اپنے شاگردوں کیلئے کلاس روم کا دروازہ کیوں نہ کھولے، یہ کام برکت اور آگے بڑھنے کا ایک بڑا اچھا تعویذ ثابت ہو گا۔یہ بات واقعی توجہ طلب ہے۔ اس سے فائدہ اُٹھایا جانا چاہئے اور ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا تعلق ذاتی فائدے سے بھی ضرور ہوتا ہے۔اس میں چاہے روحانی فائدہ ہویا جسمانی یا پھر اخلاقی ہو، ہوتا ضرور ہے اور انسان سارے کا سارا محض چیزوں اور اشیاء سے ہی نہیں پہچانا جاتا۔ ہمارے ایک اُستاد تھے، میرے کولیگ، بڑے بزرگ قسم کے، وہ ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ Rich آدمی وہ ہوتا ہے، جس کی ساری کی ساری Richness اس کی امارت، اس کی دولت، سب کی سب ضائع ہو جائے اور وہ اگلے دن کیسا ہو؟ اگر وہ اگلے دن گر گیا تو اس کا سہارا اور امارت جو تھی وہ جھوٹی تھی۔ میں آپ سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ میں بھی دروازے کھولنے والوں میں ہوں گا، چاہے میں ڈگمگاتا ہوا ہی اسے کھولوں۔اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے(اللہ حافظ)٭…٭…٭