پاکستان کے آثارِ قدیمہ : ٹھٹھہ
اسپیشل فیچر
ٹھٹھہ انگریزی حرف ’’ای‘‘ کی شکل سے ملتا جلتا ہے انیسویں صدی کے وسط تک اس شہر کی آبادی تین لاکھ سے کم ہو کر صرف سات ہزار رہ گئی تھی۔ لکڑی سے بنائے گئے مکانوں کے چند درجن بچے کھچے بوسیدہ آثار اب بھی نظر آتے ہیں۔ ٹھٹھہ تاریخی لحاظ سے قدیم شہر ملتان کا ہم عصر ہے کیونکہ یہاں مختلف اقوام نے شاہانہ حکومت کی اور اپنے عہد میں خوبصورت مساجد اور دیدہ زیب عمارتیں تعمیر کروائیں۔ مسلمان بادشاہوں کے علاوہ لاشاری، بلوچ، کھوسہ، رند، بروہوی اور جوکھیہ تاجر قبائل ایران اور بلوچستان سے نقل مکانی کرکے یہاں آئے اور آباد ہوئے باہر سے آنے والوں میں عباسی خاندان کے حکمران بھی قابل ذکر ہیں جو بعد میں یہیں مدفون ہوئے۔ ان لوگوں کو سندھ میں کلوڑہ کا لقب دیا گیا۔ سندھ کے علاقے میں پائی جانے والی خوبصورت اور نفیس تعمیرات، تاریخی عمارات، مساجد اور مقبروں میں سب سے زیادہ عمارتیں، مسجدیں اور مقبرے ٹھٹھہ ہی میں ہیں۔ اگرچہ بیشتر عمارتیں اور مقبرے انتہائی خستہ حالی کو پہنچ چکے ہیں تاہم ان کی بناوٹ فن تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہے۔ ٹھٹھہ، قدیم اور جدید طرز کا امتزاج رکھنے والا ایک حسین شہر ہے لیکن اب یہاں قدیم طرز تعمیر ختم ہوتا جا رہا ہے۔ قدیم طرز تعمیر میں لکڑی کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ دروبام، دالان، محرابیں، جھروکے اور بالکونیاں لکڑی کی خوبصورت کندہ کاریوں سے مزین ہوتے تھے، چھتوں پر لکڑی کے اونچے اونچے بادگیر(ہوا دان) ہوا کرتے تھے جو گرمیوں میں ٹھنڈی یخ بستہ ہوائوں کو کھینچ کر مکانوں کے اندر پہنچانے کا کام انجام دیتے تھے۔ شہر میں داخل ہوتے ہی دائیں بائیں کچھ مکانوں پرچوبی جھروکے اور شہ نشیں مہر بہ لب نظر آتے ہیں یہ وہ ہیں جو کسی زمانے میں ٹھٹھہ کی جان تھے اور اپنے حسین طرز تعمیر کی وجہ سے شہر کے حسن میں اضافہ کرتے تھے۔ ٹھٹھہ کی عمارتیں خوبصورت طرز تعمیر اور شاندار نفاست میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتیں ان میں شاہجہان مسجد، مسجد خضریٰ اور مکلی کے نفیس مقبرے شامل ہیں۔ شاہجہانی مسجد شہر کے جنوب مشرقی کونے میں واقع ہے یہ مسجد شہنشاہ ہند شاہجہان نے تعمیر کروائی تھی جو انوکھے اور خوبصورت طرز تعمیر کی حامل ہے اس مسجد کی تعمیر 1644ء میں شروع ہوئی اور 1647ء میں اپنے تکمیل کو پہنچی۔ مسجد کی دیواریں نیلی ٹائلوں سے اور راہداریاں نفیس سرخ اینٹوں سے مزین ہیں۔ خضریٰ مسجد جو شہر کے درمیان شاہی بازار میں واقع ہے اس کے بارے میں روایت ہے کہ اصل مسجد بہت پرانی ہے اتنی قدیم کہ حضرت خضر علیہ السلام نے بھی نماز کی امامت کے فرائض انجام دیئے۔ شہر سے چند کلو میٹر دور مکلی کا عظیم الشان قبرستان ہے جو پندرہ مربع کلو میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور سندھ کی تاریخ کے ایک طویل دور کی نمائندگی کرتا ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے یہاں چودھویں صدی عیسوسی سے اٹھارہویں صدی عیسوی تک کے حکمران، صوفیاء علماء سپہ سالار، فلسفی اور دیگر اہم افراد مدفون ہیں۔ یہاں مغل، ترخان، ازبک، اور غون اور سمہ خاندان کے امراء و سلاطین کے مقبرے بھی ہیں۔ مرد اور عورت کی قبروں کی نشاندہی اس طرح کی گئی ہے کہ مرد کی قبر پر ایک گھڑ سوار، سردار کی تصویر کندہ ہے اور عورت کی قبرپر زیورات کی تصویریں کندہ کی گئی ہیں یہاں آپ کو مختلف کہانیاں بھی سننے کو ملیں گی۔ آپ بڑھیوں اور معماروں سے بھی ملیں گے جو آپ کو بتائیں گے کہ کس طرح خاندانی مقبروں پر نقش و نگار بنانے والے ہنر مندوں کے ہاتھ کاٹ دیئے جاتے تھے ایسا اس لیے کیا جاتا تھا کہ دوسرا بادشاہ ان کی خدمات حاصل کرکے اسی طرح کا ڈیزائن نہ بنوا سکے ان بیتے دنوں میں زندگی خوشی دکھ جبر اور ذات پرستی کا مجموعہ تھی۔ یہاں آنے والا سیاح گزرے ہوئے مغل گورنروں کے مقبروں پر صناع کار ی کے نازک اورانوکھے نمونے تفصیل سے دیکھ سکتا ہے وہ سنگ مرمر اور چونے سے بنائے گئے مقبروں کی مضبوطی کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے جو سینکڑوں پشتیں گزرنے کے باوجود لازوال ہیں۔ ٹھٹھہ کا زوال 1739ء میں شروع ہوا اور انیسویں صدی کے اوائل میں اس کی شان و شوکت اور عظمت بالکل ہی ماند پڑ گئی۔ یہ مقبروں کا شہر بن گیا اور اسے نظر انداز کر دیا گیا تاہم اس کی تاریخی اہمیت کی وجہ سے اب ماہرین آثار قدیمہ نے ان یاد گاروں کو محفوظ کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ ٹھٹھہ پاکستان کے ان مقامات میں سے ہے جو ہر سیاح کے شوق کو ابھارتا ہے ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہر عمدہ چیز دیکھ رکھی ہے۔ سارے یورپ اور ایشیا سے مشہور دانا، اور ماہرین فن، سائنس دان اور عالم فاضل یہاں جمع ہوتے اور سیاحوں اور تاجروں کے مطابق اس شہر کی روز مرہ کی زندگی میں اسلامی تعلیمات اور علمی مباحث کو سب سے اونچا مقام حاصل تھا لکڑی کی صنعت میں ایک وقت میں کم ازکم چالیس ہزار لوگ ملازم تھے جو بہترین قسم کا کپڑا تیار کرتے تھے اس کی بندر گاہ پورے لندن کی بندرگاہ کے برابر بڑی تھی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے جہاز بیش قیمت سامان لے کر یہاں آتے تھے جہازوں کے کپتان ٹھٹھہ کو ہندوستان کی سب سے مشہور منڈیوں میں شمار کرتے تھے۔ مغلوں کی حکومت میں اسے ’’سونے کی چڑیا‘‘ خیال کیا جاتا تھا صنعتی دولت نے اس شہر کو مکمل طور پر سماجی شکل دے رکھی تھی اور یہاں کے ضاع کار اپنے وقت کے مشہور لوگوں میں گنے جاتے تھے۔1371ء سے 1739ء تک ٹھٹھہ بہت بڑا علم و تدریس کا مقام تھا اس عرصے میں چار مسلمان بادشاہوں کی پشتوں کا عروج و زوال ہوا اور سندھ کی تاریخ وقت پر منقش ہوئی۔ سمہ راجپوتوں نے 1340ء 1520ء تک یہاں حکومت کی ان کے بعد ارغون آئے اور 1520ء سے 1555ء تک برسراقدار رہے 1555ء سے 1562ء کے عنان حکومت تر خانوں کے ہاتھ میں رہی ان سب کے بعد دہلی کے مغل بادشاہ تھے جن کی تہذیب اور فنون 1739ء تک فروغ پاتے رہے۔ ٹھٹھہ کا زوال1739ء میںشروع ہوا جس کی وجہ سے اس کی عظیم معیشت بھی تباہ ہوگئی جب سندھ کا صوبہ ایران کے نادر شاہ کے حوالے کر دیا گیا۔ نادرشاہ نے اس کی حکومت میاں نور محمد کو سونپ دی جو خدا آباد منتقل ہوگیا۔ دریائے سندھ نے تو صدیوں پہلے اپنا راستہ بدل کر ٹھٹھہ کا ساتھ چھوڑ دیا تھا لیکن ہمیں پاکستان کے اس تاریخی شہر کو اس طرح ساتھ لے کر چلنا ہے کہ ماضی کا یہ عظیم الشان شہر حال کے تقاضوں کو پورا کر سکے اور کراچی و حیدر آباد کے درمیان گم ہو کر نہ رہ جائے۔٭…٭…٭