باتیں بزرگوں کی
اسپیشل فیچر
بزرگوں کی صحبت اور مجالس میں شرکت سے نہایت سبق آموز نصائح اور زندگی کے نشیب و فراز میں تلخ و شیریں حقائق سے آشنائی ہوتی ہے اور زندگی بسر کرنے میں معقول رہنمائی بھی ملتی ہے۔ اس سلسلے میں بعض بزرگ حضرات جن سے میرا تعلق رہا ہے۔ ان کی زرّیں باتیں میں اپنے قارئین اور احباب تک پہنچانے میں مسرت محسوس کرتا ہوں ۔مولوی ظفر اقبال مرحوممولوی ظفر اقبال مرحوم ،ڈاکٹر ریاض قدیر مرحوم (میو ہسپتال کے معروف سرجن اور پرنسپل کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور )کے بڑے بھائی تھے۔ نہایت دین دار اور صاحب ِ علم تھے۔ گورنمنٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹرار بھی رہے اور پھر گورنمنٹ کالج، کیمبلپور کے پرنسپل بھی متعین رہے۔ ریٹائر ہونے پر وہ دائرۂ معارفِ اسلامیہ اردو میں مولوی محمد شفیع مرحوم چیئرمین ادارہ کے سیکرٹری کے عہدہ پر بھی کام کرتے رہے۔ یعنی اُستاد اور شاگرد ایک ہی ادارہ میں نمایاں رنگ رکھتے تھے۔ جب میں ادارہ میں اردو اور انگریزی ٹائپ کا کام کرتا تھا اُس وقت ایک نوجوان عبدالرؤف بطور سینئر کلرک کام کرتے تھے۔ اُن کا وزیر آباد شہر سے تعلق تھا۔ ایک دن انہوں نے چاقو اور چھریوں کا ایک ڈبہ مولوی ظفر اقبال صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔ مولوی صاحب نے دریافت کیا کہ یہ کس غرض کے لیے مجھے دے رہے ہو۔ کیا کسی کام کے لیے رشوت کے طور پر پیش کر رہے ہو؟ وہ کچھ جواب نہ دے سکے۔ مولوی ظفر اقبال صاحب نے عبدالرؤف کو کہا کہ تم نے مجھے لالچ دے کر میری اہانت کی ہے۔ اب تم اپنی تبدیلی کروالو یا استعفیٰ دے دو، میرے پاس کام نہیں کر سکتے۔ ان دونوں کے درمیان عدمِ تعاون کا نتیجہ یہ نکلا کہ عبدالرؤف صاحب مستعفی ہو کر ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں چلے گئے۔ مولوی ظفر اقبال کی طرح پاکستانی اداروں میں تمام ذمہ دار عہدہ دار اپنے وقار کا لحاظ برقرار رکھتے ہوئے رشوت اور تحائف کے خلاف ایسا روّیہ اختیار کریں تو اس میدان میں بڑی اصلاح ہوسکتی ہے۔مولوی ظفر اقبال صاحب ایک دفعہ مجھے بتانے لگے کہ جب وہ محکمہ تعلیم میں رجسٹرار تھے تو میرے چپڑاسی نے ایک ماہ رخصت کی درخواست دی میں نے اُسے منظور کر لیا۔ اس نے ہندوستان کے کسی شہر میں جانا تھا۔ دفتر کے بند ہونے سے کچھ وقت پہلے میں نے اُسے دس روپے دئیے اور چند اشیاء خریدنے کے لیے بازار بھیجا اور ہدایت کی کہ اگر دیر ہوجائے اور میں چلا جائوں تو تمام اشیاء اور بقایا میری میز کی دراز میں رکھ کر چلے جانا۔ چپڑاسی کو واپسی میں دیر ہوگئی اور میں دفتر سے گھر چلا گیا۔ دوسرے دن صبح جب میں دفتر گیا تو میں نے میز کی دراز کھول کر دیکھا تو تمام اشیاء اور بقایا پڑا ہوا تھا لیکن میں نے اُسے ہاتھ نہیں لگایا اور دراز بند کر دیا۔ چپڑاسی جب مہینہ کی رخصت کے بعد دفتر آیا تو اس نے مجھ سے پہلا سوال کیا کہ کیا آپ نے سامان اور بقایا لے لیا ہے۔ میرے انکار پر وہ آیا اور اس نے سامان اور بقایا نکال کر میرے حوالے کیا تو میں نے وصول کیا۔ پرانے بزرگ اپنے اعمال اور کردار کو صاف اور شفاف رکھنے میں کتنا اہتمام کرتے تھے، اب زمانہ ان سے بیگانہ ہوگیا ہے۔مولوی ظفر اقبال مرحوم اپنا نجی کام دفتر کے اوقات میں نہ کراتے اگر کوئی کام ہوتا تو مجھے فرماتے کہ چھٹی کے بعد چلے نہ جانا مجھے ٹائپ کاکام کرانا ہے۔ چپڑاسی کو کہتے کہ اچھی قسم کی چائے دانی میں لائو اور اس کے ساتھ اچھی قسم کے بسکٹ بھی لے آئو۔ میز پر سب اشیاء چُن دی جاتیں۔ مجھے فرماتے آئو کچھ کھا پی لیں پھر کام کریں گے۔ جب فارغ ہو کر میں کام شروع کرتا تو پیمانہ لے کر مجھے کاغذ پر حاشیہ چھوڑنے اور لائنوں کے درمیان فاصلہ رکھنے کی ہدایت کرتے۔ میں اس پابندی کے ساتھ ٹائپ کرتا اور وہ میرے کام سے خوش ہوتے۔ انہوں نے ہر لحاظ سے خصوصاً دین کے بارے میں میری خوب تربیت کی۔ایک دفعہ مولوی محمد شفیع مرحوم اور ان کے شاگرد مولوی ظفر اقبال مرحوم کے درمیان دفتر میں کسی علمی مسئلہ پر بحث چل پڑی جس سے تلخی بڑھ گئی۔ سٹاف بھی پریشان ہوگیا۔ آخر مولوی ظفر اقبال مرحوم چیئرمین کے کمرہ سے باہر آگئے۔ اور اپنی کرسی پر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد عبدالرحمن چپڑاسی کو بلایا اور اُسے عمدہ چائے اور بسکٹ لانے کے لیے بازار بھیجا۔ جب وہ تمام اشیاء لے آیا اور میز پررکھ دیں تو چپڑاسی کو کہا کہ مولوی صاحب کو کہیں کہ آکر چائے پی لیں لیکن وہ راضی نہ ہوئے۔ اس پر مولوی ظفر اقبال خود اُٹھے اور کمرے میں جا کر اپنے استاد سے کہاکہ یہ تو علمی بحث تھی۔ ایسے مسائل پر مَیں آپ سے خوب بحث کا حق رکھتا ہوں لیکن بطور شاگرد آپ کی عزت کرتا ہوں اور اُن کو زبردستی اُٹھا کر باہر لے آئے اور مل کر چائے نوش فرمائی۔بعد میں مجھے کہنے لگے مسائل پر بحث کرتے آپس میں تلخی ہوجاتی ہے مَیں پسند نہیں کرتا کہ اپنے اُستاد سے ایسی تلخی پیدا ہو۔ اس پر انہوں نے ادارہ کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا گو مولوی محمد شفیعؒ نے انہیں استعفیٰ واپس لینے کی ترغیب دی لیکن وہ نہ مانے۔(بشکریہ ماہنامہ البرہان لاہور)