ٹوٹے دل کی دعا جلدقبول ہوتی ہے
اسپیشل فیچر
ایک خاتون بہت پرہیز گار تھی۔ اُس کی تڑپ اور طلب یہ تھی کہ کسی دن خواب میں رسول اللہؐ کی زیارت ہوجائے۔ وہ بہت کثرت سے درود پڑھتی تھی۔ نفل پڑھنے کا بھی بہت اہتمام کرتی اور خوب دُعا مانگتی تھی۔ لیکن زیارت نصیب نہیں ہوتی تھی۔ اس خاتون کا شوہر بھی بڑا متقی اور عبادت گزار تھا۔ اس نے شوہر سے کہا، مدت گزرگئی،میں ہرطرح کے وظیفے پڑھتے پڑھتے تھک گئی لیکن میری مُراد پوری نہیں ہوئی۔ میں اب تک رسول اللہؐ کے شرفِ زیارت سے محروم ہوں۔ آپ ہی کوئی طریقہ بتائیے کہ میری تمنا پُوری ہوجائے۔ شوہر نے کہا: میں تمہاری تمنا پور ی ہونے کا طریقہ تو بتاسکتاہوں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے تم میری ایک آرزو پوری کرو۔ بیوی تڑپ کر بولی: بتائیے! آپ کی تمنا کیاہے؟ میں اسی وقت آپ کی ہر آرزو پوری کرنے کو تیار ہوں۔ شوہر نے کہا: میری تمنا یہ ہے کہ تمہیں ویسی ہی سجی بنی دلہن کے رُوپ میں دیکھوں جس طرح تم اب سے 26سال پہلے نہایت خوبصورت عروسی جوڑا پہن کر میرے آنگن میں آئی تھیں۔بیوی ہنس پڑی۔ کہنی لگی: میرے ہم سفر! یہ کونسی دشوار بات ہے۔ لیجیے میں ابھی دلہن بن کر تیار ہوجاتی ہوں۔ شوہر نے کہا: بہت خوب! تم جلدی جلدی دلہن بنو۔ میں ابھی آتاہوں۔یہ کہہ کر میاں صاحب گھر سے نکلے، سیدھے اپنے برادرنسبتی کے پاس پہنچے۔ کہنے لگے: ذرا اپنی بہن کے کرتوت دیکھو۔ میری کتنی عمر ہوگئی ہے اور وہ اس وقت کیا تماشا لگائے بیٹھی ہے۔ …برادر نسبتی نے یہ بات سُنی تو انھیں بڑا غصہ آیا۔ فوراً بہن کے گھر گئے، دیکھا کہ بہن سرخ عروسی جوڑا پہنے خوب سُرخی پوڈر لگائے بیٹھی ہیں۔یہ بہن پر برس پڑے۔ کہنے لگے: کم بخت! بوڑھی گھوڑی لال لگام! تجھے شرم نہیں آتی۔ یہ توُ کس کے لیے دلہن بنی بیٹھی ہے؟ بہن نے یہ بات سنی تو دھاڑیں مارکر رونے لگیں۔ روتے روتے سوگئیں تواِن کی قسمت جاگ اُٹھی۔ انھیں خواب میں رسالت مآبؐ کی زیارت نصیب ہوگئی۔صبح ہوئی، شوہر گھر آئے، بیگم کو بہت خوش پایا۔ پوچھا: بیگم! خیر تو ہے۔ آج بہت نہال نظر آرہی ہو۔ بیگم چہک کر بولیں: آپ نے تو زیارت کا طریقہ بتایا ہی نہیں، مگراللہ پاک نے کرم کردیا۔ آج مجھے رسول پاکؐ کی زیارت سے سرفراز فرمادیا۔ شوہر نے کہا: میری بھولی بھالی بیگم! اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ اعزاز میرے ہی بتائے ہوئے طریقے کے زیر اثر عطا کیاہے… بیگم نے پوچھا: وہ کیسے؟ شوہر بولا: بیگم ذرا توجہ سے سنو! تم جب سے میری زندگی میں داخل ہوئی ہو، تم نے ہمیشہ میرا کہا مانا، میری بڑی خدمت کی، مجھے بہت خوش رکھا، رد عمل کے طور پر میں نے بھی تمھیں خوش رکھا۔ ہر ممکن کوشش کی کہ میری کسی بات سے تمہارا دل نہ ٹوٹے۔ بس یہی بات تمہاری دعا کی قبولیت میں حائل تھی۔ ہمارے رب کریم کی عادت یہ ہے کہ وہ ٹوٹے ہوئے دل کی صدا فوراً سنتاہے اور غم زدہ انسان کی دُعا قبول فرمالیتاہے۔ میں نے تمہیں نئی نویلی دلہن بننے کو کہا اور پھر تمہارے بھائی کو بھڑکا کر تمہارے پاس بھیج دیا۔ اُس کی ڈانٹ ڈپٹ سے تمہیں بڑا صدمہ ہوا، تمھارا دل ٹوٹ گیا۔ جونہی تمہارے ٹوٹے ہوئے دل سے آہ نکلی سیدھی عرش تک جا پہنچی اور رب ذوالجلال نے تمھیں حضور رسالت مآبؐ کی زیارت سے نواز دیا۔بس اللہ سے جو کچھ مانگو دل کے درد سے مانگو، رو رو کر مانگو ،تڑپ تڑپ کر مانگو۔ دن کے اُجالے میں مانگو۔ رات کے اندھیرے میں مانگو۔ ہمارا رب کریم کسی کو پیاسا نہیں رکھتا مگر وہ سچی پیاس کا ثبوت ضرور مانگتاہے۔