ہاتھ دھونے کا عالمی دن
اسپیشل فیچر
صحت کی حفاظت کا سادہ مگر مئوثر طریقہ
World Hand Hygiene Dayہر سال 5 مئی کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اسے عام طور پر ہاتھ دھونے کا عالمی دن بھی کہا جاتا ہے جس کا مقصد لوگوں میں ہاتھوں کی صفائی کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کا شعور پیدا کرنا ہے۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے مہنگی دواؤں یا پیچیدہ علاج سے پہلے ایک سادہ سا عمل یعنی ہاتھ دھونا،انتہائی مؤثر دفاعی ہتھیار ہے۔اس دن کا آغاز عالمی ادارۂ صحت نے 2009ء میں کیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد ہسپتالوں میں پھیلنے والے انفیکشنز کو کم کرنا تھا۔ بعد میں یہ احساس بڑھا کہ صرف ہسپتال ہی نہیں بلکہ گھروں،دفتروں، سکولوں اور عوامی مقامات پر بھی ہاتھوں کی صفائی بہت ضروری ہے۔5 مئی کی تاریخ کی خاص علامتی اہمیت ہے۔ ''5‘‘ پانچ انگلیوں کی علامت ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہاتھ ہمارے روزمرہ زندگی کا سب سے اہم ذریعہ ہیں اور ان کی صفائی بیماریوں سے بچاؤ کا پہلا قدم ہے۔آج یہ دن دنیا کے درجنوں ممالک میں منایا جاتا ہے اور ہر سال مختلف تھیمز کے ذریعے لوگوں کو آگاہی دی جاتی ہے۔2026ء کا تھیم ''ایکشن جانیں بچاتا ہے - محفوظ دیکھ بھال صاف ہاتھوں سے شروع ہوتی ہے‘‘۔
ہاتھ دھونا کیوں ضروری ہے؟
ہمارے ہاتھ دن بھر مختلف چیزوں کو چھوتے ہیں جیسے موبائل فون، دروازے، پیسے، کھانا، اور دیگر بہت سی اشیا۔ ان پر موجود جراثیم ہماری آنکھ، ناک اور منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں اور بیماری پیدا کر سکتے ہیں جیسا کہ اسہال، ٹائیفائیڈ،نزلہ زکام،ہیپاٹائٹس اے اورمختلف وائرل انفیکشنز۔ صابن سے ہاتھ دھونے کی عادت ان بیماریوں کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔ہمارے ہاں صفائی سے متعلق مسائل اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ کہیں صاف پانی کی کمی اور کہیں بے احتیاطی بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بنتی ہے۔اکثر لوگ صرف کھانے سے پہلے ہاتھ دھوتے ہیں لیکن صحیح طریقے اور وقت کی اہمیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بچوں میں پیٹ کی بیماریاں اسی وجہ سے عام ہیں۔اگر عوام میں صحیح آگاہی پیدا ہو جائے تو صحت کے مسائل میں واضح کمی آ سکتی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق ہاتھ دھونے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ صاف پانی سے ہاتھ گیلا کریں،صابن لگائیں، کم از کم 20 سے 30 سیکنڈ تک ہاتھ اچھی طرح رگڑیں، انگلیوں کے درمیان، ناخنوں اور کلائی تک صفائی کریں، صاف پانی سے دھو کر خشک کریں۔خاص طور پرکھانے سے پہلے اور بعد،بیت الخلا کے بعد،باہر سے گھر آنے کے بعد،کھانسی یا چھینک کے بعد اوربچوں کو چھونے سے پہلے ہاتھ ضرور دھونے چاہئیں۔
بچوں اور سکولوں کا کردار
بچوں کو چھوٹی عمر سے ہاتھ دھونے کی عادت سکھانا بہت ضروری ہے۔ سکول اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اگر روزانہ بچوں کو ہاتھ دھونے کی تربیت دی جائے تو وہ اس عادت کو اپنی زندگی کا معمول بنا سکتے ہیں۔ والدین کو بھی گھر میں اس عمل کو برقراررکھنا چاہیے تاکہ یہ ایک مستقل عادت بن جائے۔ہاتھ دھونے کا عالمی دن ہمیں ایک سادہ مگر انتہائی اہم سبق دیتا ہے وہ یہ کہ صفائی ہی صحت ہے۔ اگر ہم روزمرہ زندگی میں ہاتھ دھونے کی عادت کو اپنائیں تو نہ صرف بہت سی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ صحت مند معاشرہ بھی تشکیل دے سکتے ہیں۔ملک عزیز میں اس عادت کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں زیادہ صحت مند اور محفوظ زندگی گزار سکیں۔