سمر قند کی عظمتِ رفتہ
اسپیشل فیچر
مشرق کا درخشاں نگینہ، جہاں صدیوں کی کہانیاں سانس لیتی ہیں
تاشقند سے سمر قند کا شہر جنوب میں 332 کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ شاہراہ دو رویہ ہے۔ یہی شاہراہ سمر قند سے گزرتی ہوئی جنوب میں افغانستان کے ساتھ سرحدی شہرترمذتک چلی جاتی ہے اور دوسری شاخ سمر قند سے بخارا، خیوا ارگنچ اور ازبکستان کے مغرب میں ترکمانستان کی سرحد تک جاتی ہے۔ شاہراہ کے درمیان اور اطراف میں گھنے سایہ دار اور پھلدار درخت عجب بہار دکھاتے ہیں۔
تاشقند سے سمر قند کا رُخ کریں تو تقریباً چالیس کلومیٹر کے فاصلہ پر سر دریا کے اوپر سے گزرنا پڑتا ہے۔ سمر قند جاتے ہوئے راستے میں گلستان اور جزاکھ کے چھوٹے شہر آتے ہیں۔ کہیں کہیں موسم کے مطابق برفباری ہو رہی ہو یا گرمی کا موسم، سٹرک کے کنارے پھل اور تازہ شہد بیچنے والے کھڑے ہوتے ہیں۔ بالٹیوں اور ٹوکریوں میں سیب، خوبانی، سٹرابیری، چیری، شفتالو، آلوچہ اور آلو بخارے کے علاوہ موسم کے لحاظ سے گرما اور تربوز کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے، بچیاں، خواتین اور مرد حضرات قریبی باغات اور کھیتوں سے تازہ فروٹ لے کر سڑک سے گزرتے ہوئے مسافروں کو فروخت کیلئے پیش کرتے ہیں۔ سخت سردی اور برفباری میں برلب سڑک کھڑا ہونا بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔ یہ اشیا بازار سے ارزاں اور نہایت نفیس ہوتی ہیں۔ مسافر نہ چاہتے ہوئے بھی گاڑی کو بریکیں لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور حسب تمنا خرید لیتے ہیں۔
تاشقند سے سمر قند 332 کلو میٹر کا فاصلہ چار پانچ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔سمر قند سے کوئی 100 کلو میٹر پہلے ہی پہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ تقریباً 30 کلو میٹر پہلے زرفشاں کادریا گزرتا ہے۔ دراصل سمر قند کا شہر زرفشاں وادی میں واقع ہے۔ سمر قند شہر میں داخل ہونے سے دس کلو میٹر پہلے بائیں جانب ایک پہاڑی پر الغ بیگ کی مشہور رصد گاہ آتی ہے اور اُس کے بعد سمر قند کا شہر شروع ہو جاتا ہے۔
تاشقند سے سمر قند کا فضائی فاصلہ 268 کلو میٹر اور وقت ِ پرواز پچاس منٹ ہے لیکن بذریعہ ہائی وے سفر کرنے میں جو مزہ ہے وہ بذریعہ ہوائی جہاز حاصل نہیں ہو سکتا۔ ریل کے ذریعے بھی تاشقند سمر قند بخارا آپس میں منسلک ہیں۔ مصنف نے اسی روٹ پر بخارا سے سمرقنداور تاشقند کا سفر بھی کیا ہوا ہے۔
سمر قند کا شہر اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ روم اور ایتھنز کے شہر۔ تاریخ کے مطابق سمر قند کا شہر 2700 سال پرانا ہے۔ نہ جانے اس شہر میں کیا کشش تھی کہ سکندرِاعظم اور چنگیز خاں جیسے حکمرانوں نے بھی اس شہر پریلغار کی۔ لیکن امیر تیمور نے اس شہر سے پیار کیا۔ اُس نے اس شہر کو سونے سے کندن بنا دیا۔ اُس نے سمر قند کو اپنی وسیع سلطنت کا دارالخلافہ بنایا۔ تیموری دور میں یہ شہر وسطِ ایشیا میں ایک مشہور مرکزی شہر تھا۔ صدیوں پرانی شاہراہ ریشم اسی شہر سے ہو کر گزرتی تھی۔
تیمور نے سمر قند شہر کو اک نئی شان دی۔ سمر قند شہر نے بھی اپنے سپوت تیمور کے ساتھ وفا کی۔ امیر تیمور کی وفات کے بعد سمرقند شہر نے اپنا سینہ کھول دیا اور اپنے عظیم سپوت کے جسدِ خاکی کو اپنے دامن میں جگہ دی۔ دراصل یہ مقبرہ امیر تیمور نے اپنی زندگی میں اپنے پوتے محمد سلطان کیلئے بنوایا تھا۔ لیکن بعد میں وہ خود بھی اسی مقبرہ میں دفن ہوا۔
اپنی بیگم کی یاد میں مسجد بی بی خانم تعمیر کروائی جس کا مرکزی گنبد اُس وقت بلند ترین گنبد تھا۔ اس کے علاوہ امیر تیمور نے جتنے بھی ممالک اور علاقے فتح کیے وہاں سے عالم، فاضل، ماہرفن کار، ماہر تعمیرات اکٹھے کر کے سمر قند لے آیا۔ اس سے سمر قند علما، فضلا، مشائخ اور ہنر مند کاریگروں کا شہر بن گیا۔ جس طرح کوئی والد کسی دوسرے ملک یا شہر جاتا ہے تو واپسی پر اپنے بچوں کیلئے تحفے، تحائف لے کر آتا ہے اسی طرح امیر تمیور نے اہل سمر قند کوعالموں فاضلوں اور ماہر کاریگروں کا تحفہ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شہر کی مرکزی جگہ ریگستان سکوائر میں تیموری دورِ سلطنت میں مدرسہ الغ بیگ، مدرسہ شیر دور اور مدرسہ طلاکاری وجود میں آئے۔ جو اُس دور کی عظیم یونیورسٹیاں کہلاتی تھیں۔
مدرسہ الغ بیگ میں امر تیمور کا پوتا اور شاہ رخ کا بیٹا جو کہ بذات خود ایک بہت بڑا عالم اور سائنسدان تھا، طلبا کو لیکچردیا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ اساتذہ کو تربیت دینے کا اعلیٰ انتظام تھا۔ انھی خصوصیات کی بنا پر بعد میں آنے والے مورخین اور محقّقین نے سمر قند کو Gem of East ، Pearl of Estern Muslim World ، Land of Scientists ، nt Mirror of Orie اور Paradise in the world جیسے ناموں سے پُکارا۔ حقیقت میں سمر قند کا شہر وسطی ایشیا کے مرکز میں واقع ہے۔ اس سے اس شہر کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔