آج تم یاد بے حساب آئے!شوکت تھانوی :کثیر الجہت ادبی شخصیت (1904-1963ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!شوکت تھانوی :کثیر الجہت ادبی شخصیت (1904-1963ء)

اسپیشل فیچر

تحریر :


٭... 2فروری1904ء کو بندرا بن ضلع متھرا میں پیدا ہوئے، اصل نام محمد عمرتھا۔ اردو، فارسی کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی ۔
٭...والد ملازمت سے ریٹائر ہوئے تو لکھنؤ چلے آئے۔ والدین نے مستقل رہائش کیلئے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ یہیں شوکت تھانوی کی تصنیفی صلاحیت کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔
٭... اپنی تخلیقات کیلئے انہوں نے ظرافت کا انتخاب کیا۔ 1932ء میں مزاحیہ افسانہ''سودیشی ریل‘‘ لکھا تو شہرت چاروں طرف پھیل گئی۔
٭...یہی شہرت آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت ملنے کا سبب بنی۔
٭... محمد عمر نے جب شوکت قلمی نام رکھا تو وطن کی مناسبت سے اس پر تھانوی اضافہ کیا۔
٭...قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان منتقل ہو گئے، پہلے کراچی پھر راولپنڈی میں مقیم ہوئے۔یہاں بھی ریڈیو اور اخبارات کے ساتھ منسلک رہے۔
٭... وہ صحافی بھی تھے اور مضمون نگار بھی، کالم نگاری میں بھی اپنا الگ مقام رکھتے تھے ،ناول نویسی اور افسانہ نگاری میں بھی نام کمایا، براڈ کاسٹر بھی تھے اور ڈرامہ نویس بھی، مزاح نگاری ان کا میدان تھا، بطور شاعر بھی منفرد مقام بنایا جبکہ خاکے بھی تحریر کئے۔
٭... ان کی تصانیف 70 سے زائد ہیں، جن میں ناول ، افسانے، شاعری، خاکے، ڈرامے اور مضامین شامل ہیں۔
٭...''موج تبسم، بحر تبسم،دنیائے تبسم ، برق تبسم ، سیلاب، طوفان تبسم، سوتیاچاہ ، کارٹون، بدولت، جوڑتوڑ، سسرال‘‘ ان کی مشہور کتابیں ہیں۔
٭...وہ اپنی تحریروں میں لفظوں کے الٹ پھیر سے، لطیفوں سے، رعایت لفظی سے، محاورے  سے، املا کی ناہمواریوں سے اور زیادہ تر مضحکہ خیز واقعات سے مزاح پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔
٭... انہوں نے شاعری بھی کی، ریڈیو ڈرامے بھی لکھے اور ''شیش محل‘‘ کے نام سے خاکوں کا ایک مجموعہ بھی پیش کیا۔
٭...وہ اپنے دور کے سب سے زیادہ بکنے والے ادیب مانے جاتے تھے۔ انہوں نے بہت کم وقت میں بہت زیادہ ادب تخلیق کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
٭... لاہور میں 1963ء میں وفات پائی اور وہیں حضرت میاں میر کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔
٭...شوکت تھانوی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
نئی نسل، پرانی ٹیکنالوجی: لینڈ لائن کی حیران کن واپسی

نئی نسل، پرانی ٹیکنالوجی: لینڈ لائن کی حیران کن واپسی

''ٹن کین فون‘‘ ابھی صرف امریکہ اور انگلینڈ میں دستیاب ہےڈیجیٹل دور میں جہاں اسمارٹ فونز اور ٹچ اسکرینز نے انسانی زندگی کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، وہیں ایک حیران کن رجحان سامنے آیا ہے۔ جنریشن الفا (Generation Alpha) کے نوجوان اب جدید ٹیکنالوجی سے ہٹ کر ماضی کی سادگی کی طرف لوٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اسکرین سے پاک، روایتی لینڈ لائن فون، جس میں بٹن دبانے کا احساس اور گھومتی ہوئی تار کا منفرد انداز شامل ہے، ایک بار پھر مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ لینڈلائن فون 1990ء کی دہائی میں گھروں کا ایک لازمی حصہ ہوا کرتا تھا اور اب لینڈ لائن فون باضابطہ طور پر دوبارہ واپس آ گیا ہے۔ جنریشن الفا کے بچے 100 ڈالر (74 پاؤنڈ) مالیت کے ایک اسکرین سے پاک، تار والے فون کے دیوانے ہو رہے ہیں، جسے ''ٹن کین‘‘ (Tin Can) کہا جاتا ہے۔فزیکل بٹن، گھومنے والی تار اور آنسرنگ مشین کے ساتھ یہ فون ایسا لگتا ہے جیسے مشہور ٹی وی شو ''Saved by the Bell‘‘ کے کسی منظر میں فِٹ ہو جائے۔ تاہم ماضی کے لینڈ لائن فونز کے برعکس، یہ فون وائی فائی کے ذریعے جڑتا ہے، جس سے بچے انٹرنیٹ پر کالز کر سکتے ہیں۔ ویب سائٹ پر اس کی تفصیل کچھ یوں بیان کی گئی ہے کہ ''بچوں کیلئے ہمارا سپر جادوئی وائی فائی لینڈ لائن‘‘۔اس میں ایپس، ٹیکسٹنگ یا گیمز نہیں ہیں۔ صرف دوستوں، پڑوسیوں، دادادادی یا ان افراد سے گفتگو ہو سکتی ہے جنہیں آپ فہرست میں شامل کریں۔ اگرچہ آپ کو لگ سکتا ہے کہ محدود خصوصیات بچوں کو متاثر نہیں کریں گی، مگر ''ٹن کین‘‘ پہلے ہی بے حد مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ بلوم برگ کے مطابق گزشتہ سال اپریل میں لانچ ہونے کے بعد اس کے لاکھوں یونٹس فروخت ہو چکے ہیں۔ یہ تین والدین کا مشترکہ آئیڈیا ہے جنہوں نے اسے اپنے بچوں کیلئے ڈیزائن کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے ٹن کین اس لیے بنایا کیونکہ ہمیں ایسا کوئی فون نہیں مل رہا تھا جسے ہم واقعی اپنے بچوں کو دینے پر مطمئن ہوں۔ ہر دستیاب چیز کسی نہ کسی طرح سمجھوتہ محسوس ہوتی تھی، یا تو بہت زیادہ ٹیکنالوجی، یا حد سے زیادہ رسائی، یا پھر ایک اور اسکرین جسے سنبھالنا پڑے۔ ہم یہ نہیں چاہتے تھے۔ ہم صرف یہ چاہتے تھے کہ ہمارے بچے اپنے دوستوں کو محفوظ طریقے سے، خود مختاری کے ساتھ کال کر سکیں اور اس کیلئے پورا انٹرنیٹ کھولنا نہ پڑے۔ اسی لیے ہم نے کچھ مختلف بنایا۔ٹن کین فون ایک عام لینڈ لائن فون جیسا ہی دکھائی دیتا ہے، جس میں بیس اسٹینڈ، گھومتی ہوئی تار اور بڑے فزیکل بٹن شامل ہیں۔ تاہم اس کے رنگ بچوں کیلئے خاص طور پر تیار کیے گئے ہیں۔ یہ فون دیوار کے ساکٹ میں لگتا ہے اور وائی فائی کے ذریعے کام کرتا ہے، جس کی سیٹنگ والدین ایک مخصوص اسمارٹ فون ایپ کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ اسی ایپ کے ذریعے والدین اپنے بچے کیلئے منظور شدہ رابطوں کی فہرست بھی بنا سکتے ہیں، جن سے وہ محفوظ طریقے سے رابطہ کر سکیں۔ٹن کین فون پر صرف وہی رابطے کال کر سکتے ہیں جنہیں والدین موبائل ایپ کے ذریعے منظور کرتے ہیں۔ اس پر اجنبی لوگ کالز نہیں کر سکتے،اس میں صرف وہی لوگ جو واقف اور قابلِ اعتماد ہوں شامل ہیں۔ اگر کسی بچے کے دوست کے پاس بھی یہی فون موجود ہو تو وہ بغیر کسی سبسکرپشن کے ایک دوسرے کو مفت کال کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر وہ عام فون نمبرز پر کال کرنا چاہیں تو اس کیلئے دس ڈالر ماہانہ پلان دستیاب ہے۔ ایپ کے اندر والدین ''Quiet Hours‘‘ بھی سیٹ کر سکتے ہیں، جس دوران آنے اور جانے والی کالز مکمل طور پر بند ہو جاتی ہیں۔ اس جدید مگر روایتی انداز کے فون نے کئی خریداروں کو متاثر کیا ہے، اور سوشل میڈیا پر اس کی تعریف کی جا رہی ہے۔ ٹک ٹاک پر ایک صارف نے کہا کہ ہمارا نیا فون بچوں کیلئے بہترین ثابت ہوا ہے۔ وہ دن میں تین بار نانا سے صرف بات کرنے کیلئے کال کرتے ہیں، ہاہا۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ میں ٹن کین کو بچوں کیلئے 10/10 ریٹ کرتی ہوں، خاص طور پر دور رہنے والے دادا دادی یا خاندان کیلئے۔ میری بیٹیوں کو ابھی کافی عرصے تک صرف یہی فون ملے گا۔ ایک صارف نے کہا کہ یہ میرے بچوں کیلئے ایک گیم چینجر ہے۔ وہ فون استعمال کرنے کا طریقہ سیکھ رہے ہیں، دادا دادی سے بات کرتے ہیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کی ملاقاتیں طے کرتے ہیں۔ فی الحال ٹن کین فون صرف امریکہ اور کینیڈا میں دستیاب ہے، اور اس کی قیمت 100 ڈالر رکھی گئی ہے۔ٹن کین فون کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ برطانوی مارکیٹ میں اس کی ممکنہ دستیابی کے بارے میں معلومات کیلئے ڈیلی میل نے کمپنی سے رابطہ کیا ہے۔ یہ خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت نے انگلینڈ کے اسکولوں میں اسمارٹ فونز پر قانونی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگر اسمارٹ فون پابندی قانون کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یہ پورے انگلینڈ میں اسکول کے اوقات کے دوران نافذ ہوگی، تاہم چھٹی جماعت کے طلبہ اور طبی آلات کیلئے کچھ استثنی ہو سکتے ہیں۔یہ رجحان نہ صرف ٹیکنالوجی کے استعمال پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ نئی نسل کی بدلتی ہوئی ترجیحات کی بھی عکاسی کرتا ہے، جو سادگی، توجہ اور حقیقی تجربات کو اہمیت دینے لگی ہے۔

سمر قند کی عظمتِ رفتہ

سمر قند کی عظمتِ رفتہ

مشرق کا درخشاں نگینہ، جہاں صدیوں کی کہانیاں سانس لیتی ہیں تاشقند سے سمر قند کا شہر جنوب میں 332 کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ شاہراہ دو رویہ ہے۔ یہی شاہراہ سمر قند سے گزرتی ہوئی جنوب میں افغانستان کے ساتھ سرحدی شہرترمذتک چلی جاتی ہے اور دوسری شاخ سمر قند سے بخارا، خیوا ارگنچ اور ازبکستان کے مغرب میں ترکمانستان کی سرحد تک جاتی ہے۔ شاہراہ کے درمیان اور اطراف میں گھنے سایہ دار اور پھلدار درخت عجب بہار دکھاتے ہیں۔ تاشقند سے سمر قند کا رُخ کریں تو تقریباً چالیس کلومیٹر کے فاصلہ پر سر دریا کے اوپر سے گزرنا پڑتا ہے۔ سمر قند جاتے ہوئے راستے میں گلستان اور جزاکھ کے چھوٹے شہر آتے ہیں۔ کہیں کہیں موسم کے مطابق برفباری ہو رہی ہو یا گرمی کا موسم، سٹرک کے کنارے پھل اور تازہ شہد بیچنے والے کھڑے ہوتے ہیں۔ بالٹیوں اور ٹوکریوں میں سیب، خوبانی، سٹرابیری، چیری، شفتالو، آلوچہ اور آلو بخارے کے علاوہ موسم کے لحاظ سے گرما اور تربوز کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے، بچیاں، خواتین اور مرد حضرات قریبی باغات اور کھیتوں سے تازہ فروٹ لے کر سڑک سے گزرتے ہوئے مسافروں کو فروخت کیلئے پیش کرتے ہیں۔ سخت سردی اور برفباری میں برلب سڑک کھڑا ہونا بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔ یہ اشیا بازار سے ارزاں اور نہایت نفیس ہوتی ہیں۔ مسافر نہ چاہتے ہوئے بھی گاڑی کو بریکیں لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور حسب تمنا خرید لیتے ہیں۔تاشقند سے سمر قند 332 کلو میٹر کا فاصلہ چار پانچ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔سمر قند سے کوئی 100 کلو میٹر پہلے ہی پہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ تقریباً 30 کلو میٹر پہلے زرفشاں کادریا گزرتا ہے۔ دراصل سمر قند کا شہر زرفشاں وادی میں واقع ہے۔ سمر قند شہر میں داخل ہونے سے دس کلو میٹر پہلے بائیں جانب ایک پہاڑی پر الغ بیگ کی مشہور رصد گاہ آتی ہے اور اُس کے بعد سمر قند کا شہر شروع ہو جاتا ہے۔تاشقند سے سمر قند کا فضائی فاصلہ 268 کلو میٹر اور وقت ِ پرواز پچاس منٹ ہے لیکن بذریعہ ہائی وے سفر کرنے میں جو مزہ ہے وہ بذریعہ ہوائی جہاز حاصل نہیں ہو سکتا۔ ریل کے ذریعے بھی تاشقند سمر قند بخارا آپس میں منسلک ہیں۔ مصنف نے اسی روٹ پر بخارا سے سمرقنداور تاشقند کا سفر بھی کیا ہوا ہے۔ سمر قند کا شہر اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ روم اور ایتھنز کے شہر۔ تاریخ کے مطابق سمر قند کا شہر 2700 سال پرانا ہے۔ نہ جانے اس شہر میں کیا کشش تھی کہ سکندرِاعظم اور چنگیز خاں جیسے حکمرانوں نے بھی اس شہر پریلغار کی۔ لیکن امیر تیمور نے اس شہر سے پیار کیا۔ اُس نے اس شہر کو سونے سے کندن بنا دیا۔ اُس نے سمر قند کو اپنی وسیع سلطنت کا دارالخلافہ بنایا۔ تیموری دور میں یہ شہر وسطِ ایشیا میں ایک مشہور مرکزی شہر تھا۔ صدیوں پرانی شاہراہ ریشم اسی شہر سے ہو کر گزرتی تھی۔ تیمور نے سمر قند شہر کو اک نئی شان دی۔ سمر قند شہر نے بھی اپنے سپوت تیمور کے ساتھ وفا کی۔ امیر تیمور کی وفات کے بعد سمرقند شہر نے اپنا سینہ کھول دیا اور اپنے عظیم سپوت کے جسدِ خاکی کو اپنے دامن میں جگہ دی۔ دراصل یہ مقبرہ امیر تیمور نے اپنی زندگی میں اپنے پوتے محمد سلطان کیلئے بنوایا تھا۔ لیکن بعد میں وہ خود بھی اسی مقبرہ میں دفن ہوا۔ اپنی بیگم کی یاد میں مسجد بی بی خانم تعمیر کروائی جس کا مرکزی گنبد اُس وقت بلند ترین گنبد تھا۔ اس کے علاوہ امیر تیمور نے جتنے بھی ممالک اور علاقے فتح کیے وہاں سے عالم، فاضل، ماہرفن کار، ماہر تعمیرات اکٹھے کر کے سمر قند لے آیا۔ اس سے سمر قند علما، فضلا، مشائخ اور ہنر مند کاریگروں کا شہر بن گیا۔ جس طرح کوئی والد کسی دوسرے ملک یا شہر جاتا ہے تو واپسی پر اپنے بچوں کیلئے تحفے، تحائف لے کر آتا ہے اسی طرح امیر تمیور نے اہل سمر قند کوعالموں فاضلوں اور ماہر کاریگروں کا تحفہ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شہر کی مرکزی جگہ ریگستان سکوائر میں تیموری دورِ سلطنت میں مدرسہ الغ بیگ، مدرسہ شیر دور اور مدرسہ طلاکاری وجود میں آئے۔ جو اُس دور کی عظیم یونیورسٹیاں کہلاتی تھیں۔ مدرسہ الغ بیگ میں امر تیمور کا پوتا اور شاہ رخ کا بیٹا جو کہ بذات خود ایک بہت بڑا عالم اور سائنسدان تھا، طلبا کو لیکچردیا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ اساتذہ کو تربیت دینے کا اعلیٰ انتظام تھا۔ انھی خصوصیات کی بنا پر بعد میں آنے والے مورخین اور محقّقین نے سمر قند کو Gem of East ، Pearl of Estern Muslim World ، Land of Scientists ، nt Mirror of Orie اور Paradise in the world جیسے ناموں سے پُکارا۔ حقیقت میں سمر قند کا شہر وسطی ایشیا کے مرکز میں واقع ہے۔ اس سے اس شہر کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔

شوہر کی جنت!

شوہر کی جنت!

بات یہ ہے کہ ہم نے بیگم کو ہمیشہ اسی بات کا یقین دلایا ہے کہ ہم کو کسی اور جنت کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ہماری جنت تو صرف آپ کی ذات ہے۔ مگر واقعات اس کے سراسر خلاف ہیں جب کہ ہم کو تو مستقل طور پر یہ فکر ہے کہ اگر جنت میں ہمارا ساتھ ان ہی نیک بخت کا رہا تو آخر کیا ہوگا:اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے طالب علمی کے زمانے میں بورڈنگ ہاؤس کی زندگی بسر کرنے کا ہم کو پورا تجربہ ہے مگر قسم لے لیجئے جو بورڈنگ ہاؤس کے ایک قانون کو بھی صحیح سالم چھوڑا ہو۔ اسکول میں ماسٹروں سے مرعوب ہونا ہمارے نزدیک ہمیشہ ذلت کی بات تھی۔ البتہ ذرا ہیڈ ماسٹر صاحب کے گھنٹہ میں تھوڑی دیر کیلئے دم سادھ کر بیٹھنا پڑتا تھا مگر اب تو یہ حال ہے کہ گویا ہیڈ ماسٹر صاحب ہی سے شادی کرلی ہے۔ کیا مجال کے بیگم صاحبہ کے ہوتے ہوئے ہم اپنے پیدائشی حق یعنی آزادی سے کوئی بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ صبح دیر میں سوکر اٹھیں تو منحوس، منھ دھوئے بغیر چائے پی لیں تو اچھوت، دفتر دیر سے جانے کا ارادہ کریں تو کام چورنوالہ حاضر، جاڑے کا زمانہ اگر بغیر غسل کے ٹالنا چاہیں تو افیونی، تاش کھیلیں تو جواری، شطرنج سے دل بہلائیں تو نحوست کے ذمہ دار، باہر گھومنے جائیں تو آوارہ گرد، رات دیر میں لوٹ کر آئیں تو اعلیٰ درجہ کے بدمعاش، پتنگ اڑانے کا ارادہ کریں تو لوفر اور اگر کچھ بھی نہ کریں یعنی خاموش بیٹھ کر اونگھیں یا منھ اٹھائے محض بیٹھے رہیں تو بیوقوف۔ اب آپ ہی بتائیے کہ یہ زندگی ایک شوہر کی زندگی ہے یا کالے پانی کی سزا پانے والے کسی مجرم کی زندگی۔ مگر جیسی کچھ بھی زندگی ہے بہرحال اب تو اسی طرح اس کو بسر کرنا ہے۔ اس لیے کہ بیگم صاحبہ کا ساتھ کوئی ایک دودن کا تو ہے نہیں بلکہ زندگی بھر کا ساتھ ہے اور زندگی ایک اتنی بڑی مدت کا نام ہے کہ اس کا تصور کرتے کرتے بھی اختلاج ہونے لگتا ہے۔ خیر یہ زندگی تو جس طرح بسر ہورہی ہے ہوہی رہی ہے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ جنت میں کیا ہوگا۔ یعنی اگر ایک یتیم شوہر پریہ تمام زیادتیاں کرنے کے باوجود بیگم بھی اس جنت سے گئیں جہاں ہمارا جانا اس جہنمی زندگی بسر کرنے کے بعد گویا یقینی ہے تو وہاں کیا ہوگا اور وہاں سے کیوں کر ہم کو نجات مل سکے گی۔ مگر جہاں تک ہمارا خیال ہے ہماری جنت یقینا ان خطرات سے پاک ہوگی۔ اور وہاں بیگم صاحبہ ہم کو اپنا شوہر بناکر یوں نہ رکھ سکیں گی بلکہ وہاں ہم ٹانگیں پھیلا کر دن چڑھے تک سویا کریں گے۔ آفتاب کی شعاعیں ہمارے لحاف پر کھیلا کریں گی۔ مگر بیگم کی یہ مجال نہ ہوگی کہ لحاف گھسیٹ کر ہمارے کسی خواب کو نامکمل چھوڑ دیں اور ہم کو اندھیرے منھ نودس بجے دن کو اٹھاکر بٹھادیں۔ ہمارا جب تک جی چاہے گا سویاکریں گے، چاہے ہفتوں سوتے رہیں یا مہینوں سوکر نہ اٹھیں۔ پھر یہ بھی کوئی ضروری بات نہ ہوگی کہ سوکر اٹھے تو منہ بھی دھوئیں ورنہ چائے نہ ملے گی۔یہ تمام پابندیاں تو اس بیگم والی دنیا اور شوہرانہ زندگی تک ہیں۔ جنت میں تو ہمارا منہ اپنا ذاتی منہ ہوگا خواہ اس کو دھوئیں ی نہ دھوئیں اور چائے بے چاری کی توخیر کیا مجال ہے کہ وہ اپنے لیے ہمارا منہ دھلوائے بلکہ جہاں تک چائے کا تعلق ہے وہ تو سوتے میں بھی ہم پی سکیں گے۔ اس لیے کہ چائے کی خواہش کو پورا کرنا ہمارا کام نہ ہوگا بلکہ یہ خود چائے کا فرض ہوگاکہ وہ وقت مقررہ پر ہماری اس طلب کو پوراکرے یعنی وہ ہمارے معدے میں اپنی ذمہ داری کے ساتھ پہونچا کرے گی۔ مثلاً فرض کرلیجئے کہ ہم سورہے ہیں تومحض چائے کیلئے بیدار ہونا اور اپنی نیند میں خلل ڈالنا نہ پڑے گا بلکہ چائے کا فرض ہوگا کہ وہ خود ہی بنے، بن کر کیتلی سے دم کھاتی ہوئی پیالی میں آئے۔ پھر وہ پیالی اس چائے کو لے کر ہمارے بسترتک دبے پاؤں آئے گی اور نہایت احتیاط کے ساتھ لحاف کے اندرپہونچ کر ہمارے لبوں سے لگ جائے گی تاکہ چائے اس پیالی سے نکل کر ہمارے لبوں سے ہوتی ہوئی آہستہ آہستہ حلق کے نیچے اترجائے اور ہم کو خبر بھی نہ ہو۔ اسی طرح چائے کے ساتھ کا ناشتہ اپنے فرائض منصبی کو خود ہی محسوس کرے گا۔ مطلب کہنے کا یہ کہ یہ تو خیر ایک آدھ مثال تھی جو ہم نے پیش کردی ورنہ عام طور پر تو یہ ہوگا کہ ہم خود کسی کام کیلئے کبھی مجبور نہ ہوں گے بلکہ ہر کام خود ہمارے لیے جنت میں مجبور ہوگا اور کسی قسم کے کسی قاعدہ یا قانون کی پابندی ہم پر فرض نہ ہوگی بلکہ ہر قاعدہ اور قانون ہمارا پابند ہوگا۔اب جاڑے کے زمانہ میں نہانے ہی کولے لیجیے کہ بیگم ناک میں دم رکھتی ہیں۔ اور دسمبر یا جنوری کے زمانہ میں بھی ان کو ذرا بھی ترس نہیں آتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کو مرمرکے نہانا پڑتا ہے۔ لیکن جنت میں یہ ظلم ہم پر نہ ہوسکے گا۔ وہاں تو جب ہم چاہیں گے بغیر غسل کیے غسل کی تازگی اپنے اوپر طاری کر لیا کریں گے۔ خواہ وہ دسمبر اور جنوری کا زمانہ ہویا مئی او ر جون کا موسم اور جب یہ صورت ہمارے اختیار میں ہوگی تو اس کے بعد آپ ہی بتائیے کہ بلاوجہ غسل کرنا وقت برباد کرنا نہیں تو اور کیا ہے۔ بیگم ہمارے ان اختیارات کو دیکھیں گی اور تعجب کریں گی اور صرف یہی کیا ان کو تو سب سے زیادہ چڑ ہے ہمارے تاش کھیلنے سے۔ یہاں تک کہ گھر میں کبھی کوئی تاش کا پیکٹ رہنے ہی نہیں پاتا اور اگر کبھی ہم نے تاش کی ایک آدھ بازی برس چھ مہینے کے بعد کھیل لی تو اتنے ہی دنوں تک اس کی جواب دہی بھی کرنا پڑتی ہے اور اٹھتے بیٹھتے ہر وقت طعنے سنتے ہیں۔ مگر جنت میں دیکھیں وہ کیسے منع کرتی ہیں۔

حکایت سعدیؒ:مال و دولت کا غلط استعمال

حکایت سعدیؒ:مال و دولت کا غلط استعمال

ایک پارسا کے لڑکے کو اپنے چچا کے مرنے پر بہت سا مال و دولت ترکے میں ملا۔ مالِ مفت دلِ بے رحم۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے یہ مال و دولت عیاشی و بدکاری میں اڑانا شروع کر دی۔ میں نے ایک بار اسے نصیحت کی کہ ''اے بیٹے! آمدنی سے زیادہ خرچ نہیں کرنا چاہیے کہ اس کا نتیجہ ہمیشہ برا ہوتا ہے‘‘۔اس نوجوان نے میری نصیحت کو دیوانے کی بڑ سمجھا اور کہا کہ آج کی راحت کو چھوڑ کر کل کے غم میں دبلا ہونا محض حماقت ہے۔ میں نے سمجھ لیا کہ بے وقوف آدمی پر کلام نرم و نازک بے اثر ہے چنانچہ اس سے کنارہ کشی کر لی۔ کچھ عرصہ بعد وہی ہوا جس کا مجھے اندیشہ تھا۔ نوجوان نے تمام جائیدار عیاشی اور فضول خرچی میں برباد کر ڈالی، ٹکڑے ٹکڑے کا محتاج ہو گیا۔ میں نے اسے پیوند لگے کپڑے پہنے بھیک مانگتے دیکھا تو سخت غصہ آیا اور جی میں آیا کہ اس سے کہوں کہ کیوں میں تجھے اس دن سے ڈراتا نہ تھا؟ پھر یہ سوچ کر خاموش ہو گیا کہ اس حالت میں میری بات اس کے زخموں پر نمک چھڑکے گی اور اس کے دکھ میں اضافہ ہو گا۔ ٭...٭...٭

آج کا دن

آج کا دن

''وینس مشن‘‘ کی روانگی4مئی 1989ء کو''ناسا‘‘ نے اپنا وینس (زہرہ) کیلئے خلائی مشن ''ایس ٹی ایس 30‘‘ روانہ کیا۔ یہ ناسا کا 29واں جبکہ مذکورہ خلائی شٹل کا چوتھا خلائی مشن تھا۔ زہرہ سورج کے بعد دوسرا سیارہ ہے جومریخ کے قریب ترین واقع ہے جبکہ جسامت میں اپنے مداری سیارے زمین کے برابر ہے۔ 4 مئی کو روانہ ہونے والا یہ مشن 8مئی کو زہرہ پر اترا۔اس مشن کا مقصد زہرہ کی سطح اور جغرافیائی ساخت کا تفصیلی مطالعہ کرنا تھا۔نپولین کی جلاوطنی1814ء میں آج کے روز نپولین بوناپارٹ اپنی جلاوطنی کے آغاز کیلئے ایلباپہنچے۔ یہ واقعہ یورپی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا، کیونکہ نپولین شکست کھا کر اقتدار سے محروم ہو چکا تھا۔ بظاہر یہ جلاوطنی ان کے سیاسی کیریئر کا اختتام معلوم ہوتی تھی، مگر نپولین نے ہمت نہ ہاری۔ وہ تقریباً دس ماہ تک ایلبا میں مقیم رہے،بالآخر 1815 میں وہاں سے فرار ہو کر دوبارہ فرانس پہنچے اور اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی۔لاتویا کی آزادی4مئی 1990ء کو لاتویانے سوویت یونین سے اپنی آزادی کا اعلان کیا۔ لاتویا کی سپریم کونسل نے ایک تاریخی قرارداد منظور کی، جس کے تحت ملک نے سوویت حکمرانی کو مسترد کرتے ہوئے اپنی خودمختاری بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں سوویت حکومت نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا، مگر عوامی حمایت اور سیاسی جدوجہد کے باعث لاتویا بالآخر 1991 میں مکمل طور پر آزاد ریاست بن گیا۔ یہ واقعہ سوویت یونین کے خاتمے کی اہم پیش رفتوں میں شمار ہوتا ہے۔پہلے ''ایمی ایوارڈز‘‘ کا انعقاد1959ء میں آج کے روز دنیائے موسیقی کے سب سے معتبر سمجھے جانے والے ''ایمی ایوارڈز‘‘ کی پہلی تقریب کا انعقاد ہوا۔ جس میں 1958ء میں اپنے کام سے لوگوں کو متاثر کرنے والے فنکاروں کے فن کا اعتراف کیا گیا۔ ایمی ایوارڈ کی یہ پہلی تقریب اس حوالے سے منفرد تھی کی اس کا اہتمام بیک وقت دو مختلف شہروں بیورلے ہلز کیلیفورنیا کے ساتھ نیویارک میں منعقد ہوئی جس میں 15کیٹیگریز میں ایوارڈز دیئے گئے۔''سیئرز ٹاور‘‘ کا اعزازشکاگو کے 108 منزلہ ''سیئرز ٹاور‘‘ کو 4مئی 1973ء کو دنیا کی بلند ترین عمارت قرار دیا گیا۔ اس کی اونچائی 1451 فٹ تھی۔ اس شاندار عمارت کی تعمیر نے انجینئرنگ اور تعمیراتی مہارت کا ایک نیا معیار قائم کیا۔ سیئرز ٹاور نہ صرف ایک تجارتی مرکز تھا بلکہ جدید فن تعمیر کی علامت بھی تھا۔دبئی میں برج الخلیفہ بننے کے بعد ''سیئرز ٹاور‘‘ سے یہ اعزاز چھن گیا۔ اس عمارت کا افتتاح 2010ء میں ہوا تھا۔ آسٹریلیشیا کپ کا فائنل1990ء میں آج کے روز کھیلے گئے آسٹریلیشیا کپ میں پاکستان نے آ سٹر یلیا کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ آسٹریلیشیا کپ 25اپریل سے 4مئی کے درمیان متحدہ عرب امارات میں کھیلا گیا، جس میں 6ٹیموں آسٹریلیا، بنگلہ دیش، بھارت، نیوزی لینڈ، پاکستان اور سری لنکا نے حصہ لیا۔ ٹیموں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پاکستان کو ٹورنامنٹ جیتنے پر 30ہزار ڈالر کی انعامی رقم دی گئی۔

امریکہ کی ناپسندیدہ ریاستیں

امریکہ کی ناپسندیدہ ریاستیں

امریکہ جیسے وسیع اور متنوع ملک میں ہر ریاست اپنی الگ شناخت، ثقافت اور طرزِ زندگی رکھتی ہے، مگر حالیہ سروے نے ایک دلچسپ اور کسی حد تک چونکا دینے والی حقیقت کو سامنے لایا ہے۔ اس تحقیق میں ان ریاستوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں عوامی رائے میں سب سے زیادہ ناپسند کیا جاتا ہے۔ یہ فہرست نہ صرف سماجی رویوں اور علاقائی تعصبات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس بات پر بھی روشنی ڈالتی ہے کہ مختلف وجوہات جیسے معیشت، طرزِ حکمرانی، جرائم کی شرح یا عوامی رویے کس طرح کسی ریاست کی مجموعی شہرت کو متاثر کرتے ہیں۔ اس انکشاف نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آخر کن عوامل کی بنیاد پر کسی خطے کو پسند یا ناپسند کیا جاتا ہے اور اس کے اثرات وہاں کے باسیوں پر کیسے پڑتے ہیں۔''ورلڈ پاپولیشن ریویو‘‘ نے اس بات کا تعین کرنے کیلئے تین اہم عوامل کا تجزیہ کیا کہ کونسی ریاستیں سب سے زیادہ منفی جذبات پیدا کرتی ہیں، کتنے رہائشیوں نے اپنی ریاست کو بدترین قرار دیا، آبادی میں کمی کی شرح، اور دوسری ریاستوں کی جانب سے انہیں سب سے زیادہ ناپسندیدہ پڑوسی کے طور پر نامزد کیے جانے کی تعداد۔کچھ معاملات میں یہ ناپسندیدگی بڑھتی ہوئی مہنگائی، روزگار کے محدود مواقع یا بدلتے ہوئے طرزِ زندگی پر لوگوں کی ناراضی کی عکاسی کرتی ہے۔جبکہ دیگر صورتوں میں طویل عرصے سے جاری علاقائی رقابتیں، خاص طور پر کھیلوں اور علاقائی شناخت کے حوالے سے، عوامی رائے پر غیر معمولی اثر ڈالتی ہیں۔آبادی میں اضافے اور کمی کا تجزیہ کرتے ہوئے محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ لوگ بہتر مواقع کی تلاش میں کن ریاستوں کو چھوڑ رہے ہیں۔اس تجزیے میں یہ اصول اپنایا گیا کہ جس ریاست میں آبادی میں زیادہ کمی ہو، اسے درجہ بندی میں زیادہ منفی تصور کیا جائے گا۔ اس مقصد کیلئے محققین نے ''امریکن کمیونٹی سروے ‘‘ کے اعداد و شمار استعمال کیے اور دو حالیہ سالوں کے ڈیٹا کا موازنہ کیا۔آخر میں تحقیق میں اس بات کو بھی شامل کیا گیا کہ باقی ملک ان ریاستوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ محققین کے مطابق بیرونی رائے کسی بھی ریاست کی ساکھ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ پڑوسی علاقوں کی منفی رائے اکثر پرانی رقابتوں، تعصبات یا علاقائی شکایات کی عکاسی کرتی ہے۔ان تینوں عوامل رہائشیوں کی عدم اطمینان، آبادی میں تبدیلی، اور ملک گیر رائے کو یکجا کر کے ایک حتمی کمپوزٹ اسکور بنایا گیا۔امریکی عوام نے اس بات پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے کہ وہ کن ریاستوں کو ناپسند کرتے ہیں۔ ایک درجہ بندی کے مطابق Illinois کو ملک کی سب سے زیادہ ناپسند کی جانے والی ریاست قرار دیا گیا ہے، جہاں 25 فیصد مقامی رہائشیوں نے خود اپنی ریاست کو رہائش کیلئے بدترین جگہ قرار دیا۔یہ شدید عدم اطمینان اس حقیقت کے ساتھ جڑا ہے کہ ریاست کی آبادی میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے، جس کے مطابق حالیہ برسوں میں Illinois کی آبادی میں تقریباً 0.54 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔دوسرے نمبر پر نیو جرسی رہی، جو طویل عرصے سے ایک کم خوشگوار قومی شہرت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔اس ریاست کو اکثر تیز رفتار ڈرائیونگ کے حوالے سے اسٹیریو ٹائپس اور فلموں و ٹی وی میں طنزیہ حوالوں کا سامنا رہا ہے۔''گارڈن اسٹیٹ‘‘ کہلانے والی یہ ریاست اپنے پڑوسی ریاستوں کی تنقید کی زد میں بھی رہی، جہاں پانچ ریاستوں نے اسے سب سے زیادہ ناپسندیدہ پڑوسی قرار دیا۔تیسرے نمبر پر نیو یارک رہی، جہاں 12 فیصد رہائشیوں نے اسے رہائش کیلئے بدترین ریاست قرار دیا، جو ایک حیران کن حقیقت ہے کیونکہ یہ ریاست دنیا کے مشہور ترین مقامات میں شمار ہوتی ہے۔یہاں علاقائی رقابتیں بھی کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہیں، کیونکہ رپورٹ کے مطابق میسا چوسٹس (Massachusetts) کے رہائشیوں نے نیو یارک کو اپنا سب سے ناپسندیدہ پڑوسی قرار دیا، جس کی وجہ ممکنہ طور پر کھیلوں کی پرانی رقابتیں اور علاقائی کشیدگیاں ہو سکتی ہیں۔فہرست میں آگے بڑھتے ہوئے ویسٹ ورجینیا چوتھے نمبر پر رہی، جس کی بڑی وجہ اس کی کم ہوتی ہوئی آبادی اور بہتر مواقع کی تلاش میں مسلسل لوگوں کا انخلا بتایا گیا ہے۔کیلیفورنیا (California )حیران کن طور پر پانچویں نمبر پر رہی، حالانکہ اسے اکثر ایک پرکشش اور بااثر ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ نو دیگر ریاستوں نے اسے اپنا سب سے ناپسندیدہ پڑوسی قرار دیا، جو اس مطالعے میں سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔اس کے بعد میساچوسٹس بھی اس فہرست میں شامل رہی، جہاں اندرونی سطح پر عدم اطمینان اور بیرونی رقابتوں نے اسے ناپسندیدہ ریاستوں کے اعلیٰ درجے میں پہنچا دیا۔مشی گن (Michigan) بھی اس فہرست کا حصہ بنی، جہاں تقریباً ہر دس میں سے ایک رہائشی نے اپنی ہی ریاست کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا۔ محققین کے مطابق یہ رویہ معاشی دباؤ اور صنعتی تبدیلیوں سے جڑا ہو سکتا ہے۔کونیکٹیکٹ(Connecticut )ایک غیر معمولی کیس کے طور پر سامنے آئی، کیونکہ کسی دوسری ریاست نے اسے سب سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں کہا، لیکن خود اس کے تقریباً 17 فیصد رہائشیوں نے وہاں رہنے کو ناپسندیدہ قرار دیا، جو اندرونی تنقید کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔کینٹکی(Kentucky )اس فہرست میں دسویں نمبر پر رہی، جہاں پڑوسی ریاستوں تنیسی (Tennessee) اور انڈیانا (Indiana) نے اسے اپنا کم پسندیدہ قرار دیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حتیٰ کہ برانڈ اور ثقافت کے حوالے سے مشہور ریاستیں بھی علاقائی رقابتوں سے محفوظ نہیں۔محققین نے واضح کیا کہ ''سب سے زیادہ ناپسندیدہ‘‘ کا لیبل لازماً یہ معنی نہیں رکھتا کہ ان ریاستوں میں کشش یا خوبی نہیں۔ بلکہ یہ درجہ بندی آبادی میں تبدیلیوں، معاشی چیلنجز اور ثقافتی تصورات کی عکاسی کرتی ہے، جو یہ طے کرتے ہیں کہ لوگ اپنی رہائش گاہوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔