صدی کے آخر تک گرمی اور خشک سالی کا خطرہ 5 گناہ زیادہ
اسپیشل فیچر
دنیا اس وقت ماحولیاتی تبدیلی کے ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں موسمی حالات پہلے سے زیادہ غیر متوازن اور شدید ہو رہے ہیں۔جرمنی اور چین کے ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ عالمی پالیسیاں تبدیل نہ ہوئیں اور کاربن اخراج کی یہی رفتار برقرار رہی تو رواں صدی کے اختتام تک دنیا کی تقریباً 30 فیصد آبادی کو شدید گرمی اور خشک سالی کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ نتائج نہ صرف ماحول بلکہ انسانی زندگی، معیشت اور خوراک کے نظام کے لیے بھی سنگین چیلنجز ظاہر کرتے ہیں۔اس تحقیق میں جس رجحان پر توجہ دی گئی ہے اسے Compound hot-dry extremesکہا جاتا ہے یعنی ایسی صورتحال جس میں شدید گرمی اور خشک سالی ایک ساتھ وقوع پذیر ہوں۔یہ دونوں عوامل الگ الگ بھی نقصان دہ ہیں لیکن جب یہ بیک وقت ہوں تو اثرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ زمین کی نمی تیزی سے ختم ہو جاتی ہے، درجہ حرارت مزید بڑھتا ہے اور خطرناک موسمی صورتحال جنم لیتی ہے جس کے نتیجے میںفصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی،جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات میں اضافہ،پانی کے ذخائر میں تیزی سے کمی اورانسانی صحت پر شدید اثرات ہو سکتے ہیں۔تحقیقی ماڈلز کے مطابق یہ واقعات مستقبل میں بار بار اور زیادہ طویل مدت تک جاری رہ سکتے ہیں۔
متاثرہ آبادی اور خطرے کی شدت
تحقیق کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو صدی کے آخر تک تقریباً 2.6 ارب افراد اس خطرے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ دنیا کی آبادی کا تقریباً 28 سے 30 فیصد حصہ بنتا ہے۔مزید اہم بات یہ ہے کہ ان واقعات کی شدت موجودہ دور کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا بڑھ سکتی ہے۔ان کا دورانیہ بھی نمایاں طور پر طویل ہو سکتا ہے۔کئی خطے مسلسل گرمی اور خشک سالی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف وقتی نہیں بلکہ طویل مدتی اور عالمی نوعیت کا ہے۔
عالمی درجہ حرارت میں اضافہ
اس بحران کی بنیادی وجہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہے۔ سائنسی ماڈلز کے مطابق اگر اخراج کی موجودہ شرح برقرار رہی تو صدی کے آخر تک زمین کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 2.7 ڈگری سیلسیس تک بڑھ سکتا ہے۔یہ اضافہ بظاہر کم لگتا ہے لیکن اس کے اثرات انتہائی شدید ہوتے ہیں کیونکہ یہ موسمی نظام کو غیر متوازن کر دیتا ہے،بارشوں کے پیٹرن بدل جاتے ہیں،خشک سالی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں،گرمی کی لہریں زیادہ شدید اور طویل ہو جاتی ہیں۔تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس بحران کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے اور گرم خطوں پر پڑے گا۔یہ صورتحال ماحولیاتی نا انصافی کے مسئلے کو بھی جنم دیتی ہے کیونکہ وہ ممالک جو کاربن اخراج میں کم حصہ ڈالتے ہیںجیسا کہ پاکستان، وہی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
زراعت، خوراک اور معیشت
گرمی اور خشک سالی کا براہ راست اثر زرعی نظام پر بھی پڑتا ہے۔ فصلیں مناسب پانی اور درجہ حرارت نہ ملنے کی وجہ سے متاثر ہوتی ہیں۔اس کے نتیجے میںفصلوں کی پیداوار میں کمی، خوراک کی قلت،قیمتوں میں اضافہ اورغذائی عدم تحفظ میں اضافہ ہوتا ہے۔زرعی نقصان براہ راست معیشت کو متاثر کرتا ہے خاص طور پر ان ممالک میں جہاں زراعت معیشت کی بنیاد ہوتی ہے۔
پانی کے وسائل پر دباؤ
خشک سالی کی وجہ سے پانی کے وسائل شدید دباؤ میں آ جاتے ہیں۔ جب بارشیں کم ہوں اور درجہ حرارت زیادہ ہو توزیر زمین پانی کی سطح گر جاتی ہے،دریا اور جھیلیں سکڑ جاتی ہیں،پینے کے پانی کی کمی ہوجاتی ہے اوریہ صورتحال نہ صرف روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ صحت، صفائی اور زرعی پیداوار کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
ممکنہ حل اور عالمی اقدامات
ماہرین کے مطابق اس خطرے کو مکمل طور پر روکا تو نہیں جا سکتا لیکن اسے کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں تو صورتحال میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔اس سلسلے میں جو اہم اقدامات تجویز کئے جاتے ہیں ان میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی،قابل تجدید توانائی (جیسا کہ سولر اور ونڈ) کا استعمال،جنگلات کا تحفظ اور شجر کاری مہم،پانی کے وسائل کا بہتر انتظام اورماحولیاتی تحفظ کے عالمی معاہدوںپر مکمل عمل قابل ذکر ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر ان اقدامات پر عمل کیا جائے تو خطرے سے متاثر ہونے والی آبادی 30 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 18 فیصد تک آ سکتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ سامنے کی حقیقت ہے۔ شدید گرمی اور خشک سالی کا بڑھتا ہوا امتزاج انسانی زندگی کے لیے بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔اگر دنیا نے بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی دہائیوں میں پانی، خوراک اور صحت کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم عالمی سطح پر تعاون اور پالیسیوں میں بہتری لائی جائے تو اس خطرے کو کافی حد تک کم بھی کیا جا سکتا ہے اور محفوظ مستقبل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔