صدی کے آخر تک گرمی اور خشک سالی کا خطرہ 5 گناہ زیادہ

صدی کے آخر تک گرمی اور خشک سالی کا خطرہ 5 گناہ زیادہ

اسپیشل فیچر

تحریر : شہرام خان


دنیا اس وقت ماحولیاتی تبدیلی کے ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں موسمی حالات پہلے سے زیادہ غیر متوازن اور شدید ہو رہے ہیں۔جرمنی اور چین کے ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ عالمی پالیسیاں تبدیل نہ ہوئیں اور کاربن اخراج کی یہی رفتار برقرار رہی تو رواں صدی کے اختتام تک دنیا کی تقریباً 30 فیصد آبادی کو شدید گرمی اور خشک سالی کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ نتائج نہ صرف ماحول بلکہ انسانی زندگی، معیشت اور خوراک کے نظام کے لیے بھی سنگین چیلنجز ظاہر کرتے ہیں۔اس تحقیق میں جس رجحان پر توجہ دی گئی ہے اسے Compound hot-dry extremesکہا جاتا ہے یعنی ایسی صورتحال جس میں شدید گرمی اور خشک سالی ایک ساتھ وقوع پذیر ہوں۔یہ دونوں عوامل الگ الگ بھی نقصان دہ ہیں لیکن جب یہ بیک وقت ہوں تو اثرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ زمین کی نمی تیزی سے ختم ہو جاتی ہے، درجہ حرارت مزید بڑھتا ہے اور خطرناک موسمی صورتحال جنم لیتی ہے جس کے نتیجے میںفصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی،جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات میں اضافہ،پانی کے ذخائر میں تیزی سے کمی اورانسانی صحت پر شدید اثرات ہو سکتے ہیں۔تحقیقی ماڈلز کے مطابق یہ واقعات مستقبل میں بار بار اور زیادہ طویل مدت تک جاری رہ سکتے ہیں۔
متاثرہ آبادی اور خطرے کی شدت
تحقیق کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو صدی کے آخر تک تقریباً 2.6 ارب افراد اس خطرے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ دنیا کی آبادی کا تقریباً 28 سے 30 فیصد حصہ بنتا ہے۔مزید اہم بات یہ ہے کہ ان واقعات کی شدت موجودہ دور کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا بڑھ سکتی ہے۔ان کا دورانیہ بھی نمایاں طور پر طویل ہو سکتا ہے۔کئی خطے مسلسل گرمی اور خشک سالی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف وقتی نہیں بلکہ طویل مدتی اور عالمی نوعیت کا ہے۔
عالمی درجہ حرارت میں اضافہ
اس بحران کی بنیادی وجہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہے۔ سائنسی ماڈلز کے مطابق اگر اخراج کی موجودہ شرح برقرار رہی تو صدی کے آخر تک زمین کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 2.7 ڈگری سیلسیس تک بڑھ سکتا ہے۔یہ اضافہ بظاہر کم لگتا ہے لیکن اس کے اثرات انتہائی شدید ہوتے ہیں کیونکہ یہ موسمی نظام کو غیر متوازن کر دیتا ہے،بارشوں کے پیٹرن بدل جاتے ہیں،خشک سالی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں،گرمی کی لہریں زیادہ شدید اور طویل ہو جاتی ہیں۔تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس بحران کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے اور گرم خطوں پر پڑے گا۔یہ صورتحال ماحولیاتی نا انصافی کے مسئلے کو بھی جنم دیتی ہے کیونکہ وہ ممالک جو کاربن اخراج میں کم حصہ ڈالتے ہیںجیسا کہ پاکستان، وہی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
زراعت، خوراک اور معیشت
گرمی اور خشک سالی کا براہ راست اثر زرعی نظام پر بھی پڑتا ہے۔ فصلیں مناسب پانی اور درجہ حرارت نہ ملنے کی وجہ سے متاثر ہوتی ہیں۔اس کے نتیجے میںفصلوں کی پیداوار میں کمی، خوراک کی قلت،قیمتوں میں اضافہ اورغذائی عدم تحفظ میں اضافہ ہوتا ہے۔زرعی نقصان براہ راست معیشت کو متاثر کرتا ہے خاص طور پر ان ممالک میں جہاں زراعت معیشت کی بنیاد ہوتی ہے۔
پانی کے وسائل پر دباؤ
خشک سالی کی وجہ سے پانی کے وسائل شدید دباؤ میں آ جاتے ہیں۔ جب بارشیں کم ہوں اور درجہ حرارت زیادہ ہو توزیر زمین پانی کی سطح گر جاتی ہے،دریا اور جھیلیں سکڑ جاتی ہیں،پینے کے پانی کی کمی ہوجاتی ہے اوریہ صورتحال نہ صرف روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ صحت، صفائی اور زرعی پیداوار کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
ممکنہ حل اور عالمی اقدامات
ماہرین کے مطابق اس خطرے کو مکمل طور پر روکا تو نہیں جا سکتا لیکن اسے کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں تو صورتحال میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔اس سلسلے میں جو اہم اقدامات تجویز کئے جاتے ہیں ان میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی،قابل تجدید توانائی (جیسا کہ سولر اور ونڈ) کا استعمال،جنگلات کا تحفظ اور شجر کاری مہم،پانی کے وسائل کا بہتر انتظام اورماحولیاتی تحفظ کے عالمی معاہدوںپر مکمل عمل قابل ذکر ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر ان اقدامات پر عمل کیا جائے تو خطرے سے متاثر ہونے والی آبادی 30 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 18 فیصد تک آ سکتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ سامنے کی حقیقت ہے۔ شدید گرمی اور خشک سالی کا بڑھتا ہوا امتزاج انسانی زندگی کے لیے بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔اگر دنیا نے بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی دہائیوں میں پانی، خوراک اور صحت کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم عالمی سطح پر تعاون اور پالیسیوں میں بہتری لائی جائے تو اس خطرے کو کافی حد تک کم بھی کیا جا سکتا ہے اور محفوظ مستقبل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ہاتھ دھونے کا عالمی دن

ہاتھ دھونے کا عالمی دن

صحت کی حفاظت کا سادہ مگر مئوثر طریقہWorld Hand Hygiene Dayہر سال 5 مئی کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اسے عام طور پر ہاتھ دھونے کا عالمی دن بھی کہا جاتا ہے جس کا مقصد لوگوں میں ہاتھوں کی صفائی کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کا شعور پیدا کرنا ہے۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے مہنگی دواؤں یا پیچیدہ علاج سے پہلے ایک سادہ سا عمل یعنی ہاتھ دھونا،انتہائی مؤثر دفاعی ہتھیار ہے۔اس دن کا آغاز عالمی ادارۂ صحت نے 2009ء میں کیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد ہسپتالوں میں پھیلنے والے انفیکشنز کو کم کرنا تھا۔ بعد میں یہ احساس بڑھا کہ صرف ہسپتال ہی نہیں بلکہ گھروں،دفتروں، سکولوں اور عوامی مقامات پر بھی ہاتھوں کی صفائی بہت ضروری ہے۔5 مئی کی تاریخ کی خاص علامتی اہمیت ہے۔ ''5‘‘ پانچ انگلیوں کی علامت ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہاتھ ہمارے روزمرہ زندگی کا سب سے اہم ذریعہ ہیں اور ان کی صفائی بیماریوں سے بچاؤ کا پہلا قدم ہے۔آج یہ دن دنیا کے درجنوں ممالک میں منایا جاتا ہے اور ہر سال مختلف تھیمز کے ذریعے لوگوں کو آگاہی دی جاتی ہے۔2026ء کا تھیم ''ایکشن جانیں بچاتا ہے - محفوظ دیکھ بھال صاف ہاتھوں سے شروع ہوتی ہے‘‘۔ہاتھ دھونا کیوں ضروری ہے؟ہمارے ہاتھ دن بھر مختلف چیزوں کو چھوتے ہیں جیسے موبائل فون، دروازے، پیسے، کھانا، اور دیگر بہت سی اشیا۔ ان پر موجود جراثیم ہماری آنکھ، ناک اور منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں اور بیماری پیدا کر سکتے ہیں جیسا کہ اسہال، ٹائیفائیڈ،نزلہ زکام،ہیپاٹائٹس اے اورمختلف وائرل انفیکشنز۔ صابن سے ہاتھ دھونے کی عادت ان بیماریوں کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔ہمارے ہاں صفائی سے متعلق مسائل اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ کہیں صاف پانی کی کمی اور کہیں بے احتیاطی بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بنتی ہے۔اکثر لوگ صرف کھانے سے پہلے ہاتھ دھوتے ہیں لیکن صحیح طریقے اور وقت کی اہمیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بچوں میں پیٹ کی بیماریاں اسی وجہ سے عام ہیں۔اگر عوام میں صحیح آگاہی پیدا ہو جائے تو صحت کے مسائل میں واضح کمی آ سکتی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق ہاتھ دھونے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ صاف پانی سے ہاتھ گیلا کریں،صابن لگائیں، کم از کم 20 سے 30 سیکنڈ تک ہاتھ اچھی طرح رگڑیں، انگلیوں کے درمیان، ناخنوں اور کلائی تک صفائی کریں، صاف پانی سے دھو کر خشک کریں۔خاص طور پرکھانے سے پہلے اور بعد،بیت الخلا کے بعد،باہر سے گھر آنے کے بعد،کھانسی یا چھینک کے بعد اوربچوں کو چھونے سے پہلے ہاتھ ضرور دھونے چاہئیں۔بچوں اور سکولوں کا کرداربچوں کو چھوٹی عمر سے ہاتھ دھونے کی عادت سکھانا بہت ضروری ہے۔ سکول اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اگر روزانہ بچوں کو ہاتھ دھونے کی تربیت دی جائے تو وہ اس عادت کو اپنی زندگی کا معمول بنا سکتے ہیں۔ والدین کو بھی گھر میں اس عمل کو برقراررکھنا چاہیے تاکہ یہ ایک مستقل عادت بن جائے۔ہاتھ دھونے کا عالمی دن ہمیں ایک سادہ مگر انتہائی اہم سبق دیتا ہے وہ یہ کہ صفائی ہی صحت ہے۔ اگر ہم روزمرہ زندگی میں ہاتھ دھونے کی عادت کو اپنائیں تو نہ صرف بہت سی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ صحت مند معاشرہ بھی تشکیل دے سکتے ہیں۔ملک عزیز میں اس عادت کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں زیادہ صحت مند اور محفوظ زندگی گزار سکیں۔

آج کا دن

آج کا دن

نپولین بوناپارٹ کی وفاتنپولین بوناپارٹ 5 مئی 1821ء کو جزیرہ سینٹ ہیلینا میں انتقال کر گیا۔ نپولین نے فرانس میں انقلاب کے بعد اقتدار سنبھالا اور اپنی فوجی صلاحیتوں کے ذریعے یورپ کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ اس کی قیادت میں فرانس نے کئی اہم جنگیں جیتیں لیکن 1815ء میں واٹرلو کی جنگ میں شکست کے بعد اسے جلاوطن کر دیا گیا۔سینٹ ہیلینا ایک دور افتادہ جزیرہ تھا جہاں نپولین کو سخت نگرانی میں رکھا گیا۔ اس کی صحت جلاوطنی کے دوران بتدریج خراب ہوتی گئی۔ اس کی موت کے بارے میں مختلف نظریات بھی موجود ہیں تاہم زیادہ تر مورخین اسے معدے کے کینسر کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ جنگِ پیوبلا5 مئی 1862ء کو میکسیکو کے شہر پیوبلا میں میکسیکن فوج نے فرانسیسی افواج کے خلاف ایک اہم جنگ جیتی، جسے جنگِ پیوبلا کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ اس لحاظ سے اہم تھی کہ میکسیکو کی کمزور اور محدود وسائل رکھنے والی فوج نے فرانسیسی فوج کو شکست دی۔ جنرل اگناسو زاراگوزا کی قیادت میں میکسیکن فوج نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا اور دشمن کو پسپا کر دیا۔ اگرچہ یہ فتح جنگ کا فیصلہ کن موڑ نہیں تھی لیکن اس نے میکسیکن عوام کے حوصلے بلند کیے۔آج بھی 5 مئی کو میکسیکو میں Cinco de Mayoکے طور پر منایا جاتا ہے، جو میکسیکن ثقافت اور مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔ ایلن شیپرڈ کی خلا میں پرواز 5 مئی 1961 ء کو امریکہ کے خلا باز ایلن شیپرڈ خلا میں جانے والے پہلے امریکی انسان بنے۔ یہ مشن فریڈم 7 کے نام سے جانا جاتا ہے اور ناسا کے پروگرام ''مرکری‘‘ کا حصہ تھا۔ یہ ایک سب آربٹل پرواز تھی جو تقریباً 15 منٹ تک جاری رہی۔یہ واقعہ سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان خلائی دوڑ کا حصہ تھا۔ اس سے پہلے اپریل 1961ء میں سوویت خلا باز یوری گاگرین خلا میں جا چکے تھے اس لیے امریکہ کے لیے یہ کامیابی بہت اہم تھی۔شیپرڈ کی پرواز نے امریکی خلائی پروگرام کو نئی توانائی دی اور بعد میں چاند پر انسان بھیجنے کے منصوبے کی بنیاد رکھی۔ یورپ میں دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ 5 مئی 1945ء کو نیدرلینڈز میں جرمن افواج نے اتحادی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے جس کے نتیجے میں اس ملک کو آزادی حاصل ہوئی۔ یہ دن یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے آخری مراحل میں سے ایک اہم دن تھا۔نیدرلینڈز کئی سالوں سے نازی جرمنی کے قبضے میں تھا اور وہاں کے عوام نے شدید مشکلات برداشت کیں۔ 5 مئی کو آزادی کے اعلان نے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔آج بھی نیدرلینڈز میں اس دن کو Liberation Day کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ILOVEYOU وائرس کا پھیلاؤ 5 مئی 2000ء کو دنیا کے سب سے خطرناک کمپیوٹر وائرسز میں سے ایک ''ILOVEYOU‘‘ وائرس نے تیزی سے پھیلنا شروع کیا۔ یہ وائرس ای میل کے ذریعے پھیلتا تھا ۔جیسے ہی صارف متاثرہ فائل کو کھولتا وائرس کمپیوٹر کے ڈیٹا کو نقصان پہنچاتا اور خودبخود مزید لوگوں کو ای میل کر دیتا۔ اس وائرس نے دنیا بھر میں لاکھوں کمپیوٹرز کو متاثر کیا اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔یہ وائرس فلپائن سے شروع ہوا تھا اور اس نے سائبر سکیورٹی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں انٹرنیٹ سکیورٹی کے قوانین اور نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا۔

نئی نسل، پرانی ٹیکنالوجی: لینڈ لائن کی حیران کن واپسی

نئی نسل، پرانی ٹیکنالوجی: لینڈ لائن کی حیران کن واپسی

''ٹن کین فون‘‘ ابھی صرف امریکہ اور انگلینڈ میں دستیاب ہےڈیجیٹل دور میں جہاں اسمارٹ فونز اور ٹچ اسکرینز نے انسانی زندگی کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، وہیں ایک حیران کن رجحان سامنے آیا ہے۔ جنریشن الفا (Generation Alpha) کے نوجوان اب جدید ٹیکنالوجی سے ہٹ کر ماضی کی سادگی کی طرف لوٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اسکرین سے پاک، روایتی لینڈ لائن فون، جس میں بٹن دبانے کا احساس اور گھومتی ہوئی تار کا منفرد انداز شامل ہے، ایک بار پھر مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ لینڈلائن فون 1990ء کی دہائی میں گھروں کا ایک لازمی حصہ ہوا کرتا تھا اور اب لینڈ لائن فون باضابطہ طور پر دوبارہ واپس آ گیا ہے۔ جنریشن الفا کے بچے 100 ڈالر (74 پاؤنڈ) مالیت کے ایک اسکرین سے پاک، تار والے فون کے دیوانے ہو رہے ہیں، جسے ''ٹن کین‘‘ (Tin Can) کہا جاتا ہے۔فزیکل بٹن، گھومنے والی تار اور آنسرنگ مشین کے ساتھ یہ فون ایسا لگتا ہے جیسے مشہور ٹی وی شو ''Saved by the Bell‘‘ کے کسی منظر میں فِٹ ہو جائے۔ تاہم ماضی کے لینڈ لائن فونز کے برعکس، یہ فون وائی فائی کے ذریعے جڑتا ہے، جس سے بچے انٹرنیٹ پر کالز کر سکتے ہیں۔ ویب سائٹ پر اس کی تفصیل کچھ یوں بیان کی گئی ہے کہ ''بچوں کیلئے ہمارا سپر جادوئی وائی فائی لینڈ لائن‘‘۔اس میں ایپس، ٹیکسٹنگ یا گیمز نہیں ہیں۔ صرف دوستوں، پڑوسیوں، دادادادی یا ان افراد سے گفتگو ہو سکتی ہے جنہیں آپ فہرست میں شامل کریں۔ اگرچہ آپ کو لگ سکتا ہے کہ محدود خصوصیات بچوں کو متاثر نہیں کریں گی، مگر ''ٹن کین‘‘ پہلے ہی بے حد مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ بلوم برگ کے مطابق گزشتہ سال اپریل میں لانچ ہونے کے بعد اس کے لاکھوں یونٹس فروخت ہو چکے ہیں۔ یہ تین والدین کا مشترکہ آئیڈیا ہے جنہوں نے اسے اپنے بچوں کیلئے ڈیزائن کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے ٹن کین اس لیے بنایا کیونکہ ہمیں ایسا کوئی فون نہیں مل رہا تھا جسے ہم واقعی اپنے بچوں کو دینے پر مطمئن ہوں۔ ہر دستیاب چیز کسی نہ کسی طرح سمجھوتہ محسوس ہوتی تھی، یا تو بہت زیادہ ٹیکنالوجی، یا حد سے زیادہ رسائی، یا پھر ایک اور اسکرین جسے سنبھالنا پڑے۔ ہم یہ نہیں چاہتے تھے۔ ہم صرف یہ چاہتے تھے کہ ہمارے بچے اپنے دوستوں کو محفوظ طریقے سے، خود مختاری کے ساتھ کال کر سکیں اور اس کیلئے پورا انٹرنیٹ کھولنا نہ پڑے۔ اسی لیے ہم نے کچھ مختلف بنایا۔ٹن کین فون ایک عام لینڈ لائن فون جیسا ہی دکھائی دیتا ہے، جس میں بیس اسٹینڈ، گھومتی ہوئی تار اور بڑے فزیکل بٹن شامل ہیں۔ تاہم اس کے رنگ بچوں کیلئے خاص طور پر تیار کیے گئے ہیں۔ یہ فون دیوار کے ساکٹ میں لگتا ہے اور وائی فائی کے ذریعے کام کرتا ہے، جس کی سیٹنگ والدین ایک مخصوص اسمارٹ فون ایپ کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ اسی ایپ کے ذریعے والدین اپنے بچے کیلئے منظور شدہ رابطوں کی فہرست بھی بنا سکتے ہیں، جن سے وہ محفوظ طریقے سے رابطہ کر سکیں۔ٹن کین فون پر صرف وہی رابطے کال کر سکتے ہیں جنہیں والدین موبائل ایپ کے ذریعے منظور کرتے ہیں۔ اس پر اجنبی لوگ کالز نہیں کر سکتے،اس میں صرف وہی لوگ جو واقف اور قابلِ اعتماد ہوں شامل ہیں۔ اگر کسی بچے کے دوست کے پاس بھی یہی فون موجود ہو تو وہ بغیر کسی سبسکرپشن کے ایک دوسرے کو مفت کال کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر وہ عام فون نمبرز پر کال کرنا چاہیں تو اس کیلئے دس ڈالر ماہانہ پلان دستیاب ہے۔ ایپ کے اندر والدین ''Quiet Hours‘‘ بھی سیٹ کر سکتے ہیں، جس دوران آنے اور جانے والی کالز مکمل طور پر بند ہو جاتی ہیں۔ اس جدید مگر روایتی انداز کے فون نے کئی خریداروں کو متاثر کیا ہے، اور سوشل میڈیا پر اس کی تعریف کی جا رہی ہے۔ ٹک ٹاک پر ایک صارف نے کہا کہ ہمارا نیا فون بچوں کیلئے بہترین ثابت ہوا ہے۔ وہ دن میں تین بار نانا سے صرف بات کرنے کیلئے کال کرتے ہیں، ہاہا۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ میں ٹن کین کو بچوں کیلئے 10/10 ریٹ کرتی ہوں، خاص طور پر دور رہنے والے دادا دادی یا خاندان کیلئے۔ میری بیٹیوں کو ابھی کافی عرصے تک صرف یہی فون ملے گا۔ ایک صارف نے کہا کہ یہ میرے بچوں کیلئے ایک گیم چینجر ہے۔ وہ فون استعمال کرنے کا طریقہ سیکھ رہے ہیں، دادا دادی سے بات کرتے ہیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کی ملاقاتیں طے کرتے ہیں۔ فی الحال ٹن کین فون صرف امریکہ اور کینیڈا میں دستیاب ہے، اور اس کی قیمت 100 ڈالر رکھی گئی ہے۔ٹن کین فون کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ برطانوی مارکیٹ میں اس کی ممکنہ دستیابی کے بارے میں معلومات کیلئے ڈیلی میل نے کمپنی سے رابطہ کیا ہے۔ یہ خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت نے انگلینڈ کے اسکولوں میں اسمارٹ فونز پر قانونی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگر اسمارٹ فون پابندی قانون کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یہ پورے انگلینڈ میں اسکول کے اوقات کے دوران نافذ ہوگی، تاہم چھٹی جماعت کے طلبہ اور طبی آلات کیلئے کچھ استثنی ہو سکتے ہیں۔یہ رجحان نہ صرف ٹیکنالوجی کے استعمال پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ نئی نسل کی بدلتی ہوئی ترجیحات کی بھی عکاسی کرتا ہے، جو سادگی، توجہ اور حقیقی تجربات کو اہمیت دینے لگی ہے۔

سمر قند کی عظمتِ رفتہ

سمر قند کی عظمتِ رفتہ

مشرق کا درخشاں نگینہ، جہاں صدیوں کی کہانیاں سانس لیتی ہیں تاشقند سے سمر قند کا شہر جنوب میں 332 کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ شاہراہ دو رویہ ہے۔ یہی شاہراہ سمر قند سے گزرتی ہوئی جنوب میں افغانستان کے ساتھ سرحدی شہرترمذتک چلی جاتی ہے اور دوسری شاخ سمر قند سے بخارا، خیوا ارگنچ اور ازبکستان کے مغرب میں ترکمانستان کی سرحد تک جاتی ہے۔ شاہراہ کے درمیان اور اطراف میں گھنے سایہ دار اور پھلدار درخت عجب بہار دکھاتے ہیں۔ تاشقند سے سمر قند کا رُخ کریں تو تقریباً چالیس کلومیٹر کے فاصلہ پر سر دریا کے اوپر سے گزرنا پڑتا ہے۔ سمر قند جاتے ہوئے راستے میں گلستان اور جزاکھ کے چھوٹے شہر آتے ہیں۔ کہیں کہیں موسم کے مطابق برفباری ہو رہی ہو یا گرمی کا موسم، سٹرک کے کنارے پھل اور تازہ شہد بیچنے والے کھڑے ہوتے ہیں۔ بالٹیوں اور ٹوکریوں میں سیب، خوبانی، سٹرابیری، چیری، شفتالو، آلوچہ اور آلو بخارے کے علاوہ موسم کے لحاظ سے گرما اور تربوز کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے، بچیاں، خواتین اور مرد حضرات قریبی باغات اور کھیتوں سے تازہ فروٹ لے کر سڑک سے گزرتے ہوئے مسافروں کو فروخت کیلئے پیش کرتے ہیں۔ سخت سردی اور برفباری میں برلب سڑک کھڑا ہونا بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔ یہ اشیا بازار سے ارزاں اور نہایت نفیس ہوتی ہیں۔ مسافر نہ چاہتے ہوئے بھی گاڑی کو بریکیں لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور حسب تمنا خرید لیتے ہیں۔تاشقند سے سمر قند 332 کلو میٹر کا فاصلہ چار پانچ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔سمر قند سے کوئی 100 کلو میٹر پہلے ہی پہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ تقریباً 30 کلو میٹر پہلے زرفشاں کادریا گزرتا ہے۔ دراصل سمر قند کا شہر زرفشاں وادی میں واقع ہے۔ سمر قند شہر میں داخل ہونے سے دس کلو میٹر پہلے بائیں جانب ایک پہاڑی پر الغ بیگ کی مشہور رصد گاہ آتی ہے اور اُس کے بعد سمر قند کا شہر شروع ہو جاتا ہے۔تاشقند سے سمر قند کا فضائی فاصلہ 268 کلو میٹر اور وقت ِ پرواز پچاس منٹ ہے لیکن بذریعہ ہائی وے سفر کرنے میں جو مزہ ہے وہ بذریعہ ہوائی جہاز حاصل نہیں ہو سکتا۔ ریل کے ذریعے بھی تاشقند سمر قند بخارا آپس میں منسلک ہیں۔ مصنف نے اسی روٹ پر بخارا سے سمرقنداور تاشقند کا سفر بھی کیا ہوا ہے۔ سمر قند کا شہر اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ روم اور ایتھنز کے شہر۔ تاریخ کے مطابق سمر قند کا شہر 2700 سال پرانا ہے۔ نہ جانے اس شہر میں کیا کشش تھی کہ سکندرِاعظم اور چنگیز خاں جیسے حکمرانوں نے بھی اس شہر پریلغار کی۔ لیکن امیر تیمور نے اس شہر سے پیار کیا۔ اُس نے اس شہر کو سونے سے کندن بنا دیا۔ اُس نے سمر قند کو اپنی وسیع سلطنت کا دارالخلافہ بنایا۔ تیموری دور میں یہ شہر وسطِ ایشیا میں ایک مشہور مرکزی شہر تھا۔ صدیوں پرانی شاہراہ ریشم اسی شہر سے ہو کر گزرتی تھی۔ تیمور نے سمر قند شہر کو اک نئی شان دی۔ سمر قند شہر نے بھی اپنے سپوت تیمور کے ساتھ وفا کی۔ امیر تیمور کی وفات کے بعد سمرقند شہر نے اپنا سینہ کھول دیا اور اپنے عظیم سپوت کے جسدِ خاکی کو اپنے دامن میں جگہ دی۔ دراصل یہ مقبرہ امیر تیمور نے اپنی زندگی میں اپنے پوتے محمد سلطان کیلئے بنوایا تھا۔ لیکن بعد میں وہ خود بھی اسی مقبرہ میں دفن ہوا۔ اپنی بیگم کی یاد میں مسجد بی بی خانم تعمیر کروائی جس کا مرکزی گنبد اُس وقت بلند ترین گنبد تھا۔ اس کے علاوہ امیر تیمور نے جتنے بھی ممالک اور علاقے فتح کیے وہاں سے عالم، فاضل، ماہرفن کار، ماہر تعمیرات اکٹھے کر کے سمر قند لے آیا۔ اس سے سمر قند علما، فضلا، مشائخ اور ہنر مند کاریگروں کا شہر بن گیا۔ جس طرح کوئی والد کسی دوسرے ملک یا شہر جاتا ہے تو واپسی پر اپنے بچوں کیلئے تحفے، تحائف لے کر آتا ہے اسی طرح امیر تمیور نے اہل سمر قند کوعالموں فاضلوں اور ماہر کاریگروں کا تحفہ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شہر کی مرکزی جگہ ریگستان سکوائر میں تیموری دورِ سلطنت میں مدرسہ الغ بیگ، مدرسہ شیر دور اور مدرسہ طلاکاری وجود میں آئے۔ جو اُس دور کی عظیم یونیورسٹیاں کہلاتی تھیں۔ مدرسہ الغ بیگ میں امر تیمور کا پوتا اور شاہ رخ کا بیٹا جو کہ بذات خود ایک بہت بڑا عالم اور سائنسدان تھا، طلبا کو لیکچردیا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ اساتذہ کو تربیت دینے کا اعلیٰ انتظام تھا۔ انھی خصوصیات کی بنا پر بعد میں آنے والے مورخین اور محقّقین نے سمر قند کو Gem of East ، Pearl of Estern Muslim World ، Land of Scientists ، nt Mirror of Orie اور Paradise in the world جیسے ناموں سے پُکارا۔ حقیقت میں سمر قند کا شہر وسطی ایشیا کے مرکز میں واقع ہے۔ اس سے اس شہر کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔

شوہر کی جنت!

شوہر کی جنت!

بات یہ ہے کہ ہم نے بیگم کو ہمیشہ اسی بات کا یقین دلایا ہے کہ ہم کو کسی اور جنت کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ہماری جنت تو صرف آپ کی ذات ہے۔ مگر واقعات اس کے سراسر خلاف ہیں جب کہ ہم کو تو مستقل طور پر یہ فکر ہے کہ اگر جنت میں ہمارا ساتھ ان ہی نیک بخت کا رہا تو آخر کیا ہوگا:اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے طالب علمی کے زمانے میں بورڈنگ ہاؤس کی زندگی بسر کرنے کا ہم کو پورا تجربہ ہے مگر قسم لے لیجئے جو بورڈنگ ہاؤس کے ایک قانون کو بھی صحیح سالم چھوڑا ہو۔ اسکول میں ماسٹروں سے مرعوب ہونا ہمارے نزدیک ہمیشہ ذلت کی بات تھی۔ البتہ ذرا ہیڈ ماسٹر صاحب کے گھنٹہ میں تھوڑی دیر کیلئے دم سادھ کر بیٹھنا پڑتا تھا مگر اب تو یہ حال ہے کہ گویا ہیڈ ماسٹر صاحب ہی سے شادی کرلی ہے۔ کیا مجال کے بیگم صاحبہ کے ہوتے ہوئے ہم اپنے پیدائشی حق یعنی آزادی سے کوئی بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ صبح دیر میں سوکر اٹھیں تو منحوس، منھ دھوئے بغیر چائے پی لیں تو اچھوت، دفتر دیر سے جانے کا ارادہ کریں تو کام چورنوالہ حاضر، جاڑے کا زمانہ اگر بغیر غسل کے ٹالنا چاہیں تو افیونی، تاش کھیلیں تو جواری، شطرنج سے دل بہلائیں تو نحوست کے ذمہ دار، باہر گھومنے جائیں تو آوارہ گرد، رات دیر میں لوٹ کر آئیں تو اعلیٰ درجہ کے بدمعاش، پتنگ اڑانے کا ارادہ کریں تو لوفر اور اگر کچھ بھی نہ کریں یعنی خاموش بیٹھ کر اونگھیں یا منھ اٹھائے محض بیٹھے رہیں تو بیوقوف۔ اب آپ ہی بتائیے کہ یہ زندگی ایک شوہر کی زندگی ہے یا کالے پانی کی سزا پانے والے کسی مجرم کی زندگی۔ مگر جیسی کچھ بھی زندگی ہے بہرحال اب تو اسی طرح اس کو بسر کرنا ہے۔ اس لیے کہ بیگم صاحبہ کا ساتھ کوئی ایک دودن کا تو ہے نہیں بلکہ زندگی بھر کا ساتھ ہے اور زندگی ایک اتنی بڑی مدت کا نام ہے کہ اس کا تصور کرتے کرتے بھی اختلاج ہونے لگتا ہے۔ خیر یہ زندگی تو جس طرح بسر ہورہی ہے ہوہی رہی ہے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ جنت میں کیا ہوگا۔ یعنی اگر ایک یتیم شوہر پریہ تمام زیادتیاں کرنے کے باوجود بیگم بھی اس جنت سے گئیں جہاں ہمارا جانا اس جہنمی زندگی بسر کرنے کے بعد گویا یقینی ہے تو وہاں کیا ہوگا اور وہاں سے کیوں کر ہم کو نجات مل سکے گی۔ مگر جہاں تک ہمارا خیال ہے ہماری جنت یقینا ان خطرات سے پاک ہوگی۔ اور وہاں بیگم صاحبہ ہم کو اپنا شوہر بناکر یوں نہ رکھ سکیں گی بلکہ وہاں ہم ٹانگیں پھیلا کر دن چڑھے تک سویا کریں گے۔ آفتاب کی شعاعیں ہمارے لحاف پر کھیلا کریں گی۔ مگر بیگم کی یہ مجال نہ ہوگی کہ لحاف گھسیٹ کر ہمارے کسی خواب کو نامکمل چھوڑ دیں اور ہم کو اندھیرے منھ نودس بجے دن کو اٹھاکر بٹھادیں۔ ہمارا جب تک جی چاہے گا سویاکریں گے، چاہے ہفتوں سوتے رہیں یا مہینوں سوکر نہ اٹھیں۔ پھر یہ بھی کوئی ضروری بات نہ ہوگی کہ سوکر اٹھے تو منہ بھی دھوئیں ورنہ چائے نہ ملے گی۔یہ تمام پابندیاں تو اس بیگم والی دنیا اور شوہرانہ زندگی تک ہیں۔ جنت میں تو ہمارا منہ اپنا ذاتی منہ ہوگا خواہ اس کو دھوئیں ی نہ دھوئیں اور چائے بے چاری کی توخیر کیا مجال ہے کہ وہ اپنے لیے ہمارا منہ دھلوائے بلکہ جہاں تک چائے کا تعلق ہے وہ تو سوتے میں بھی ہم پی سکیں گے۔ اس لیے کہ چائے کی خواہش کو پورا کرنا ہمارا کام نہ ہوگا بلکہ یہ خود چائے کا فرض ہوگاکہ وہ وقت مقررہ پر ہماری اس طلب کو پوراکرے یعنی وہ ہمارے معدے میں اپنی ذمہ داری کے ساتھ پہونچا کرے گی۔ مثلاً فرض کرلیجئے کہ ہم سورہے ہیں تومحض چائے کیلئے بیدار ہونا اور اپنی نیند میں خلل ڈالنا نہ پڑے گا بلکہ چائے کا فرض ہوگا کہ وہ خود ہی بنے، بن کر کیتلی سے دم کھاتی ہوئی پیالی میں آئے۔ پھر وہ پیالی اس چائے کو لے کر ہمارے بسترتک دبے پاؤں آئے گی اور نہایت احتیاط کے ساتھ لحاف کے اندرپہونچ کر ہمارے لبوں سے لگ جائے گی تاکہ چائے اس پیالی سے نکل کر ہمارے لبوں سے ہوتی ہوئی آہستہ آہستہ حلق کے نیچے اترجائے اور ہم کو خبر بھی نہ ہو۔ اسی طرح چائے کے ساتھ کا ناشتہ اپنے فرائض منصبی کو خود ہی محسوس کرے گا۔ مطلب کہنے کا یہ کہ یہ تو خیر ایک آدھ مثال تھی جو ہم نے پیش کردی ورنہ عام طور پر تو یہ ہوگا کہ ہم خود کسی کام کیلئے کبھی مجبور نہ ہوں گے بلکہ ہر کام خود ہمارے لیے جنت میں مجبور ہوگا اور کسی قسم کے کسی قاعدہ یا قانون کی پابندی ہم پر فرض نہ ہوگی بلکہ ہر قاعدہ اور قانون ہمارا پابند ہوگا۔اب جاڑے کے زمانہ میں نہانے ہی کولے لیجیے کہ بیگم ناک میں دم رکھتی ہیں۔ اور دسمبر یا جنوری کے زمانہ میں بھی ان کو ذرا بھی ترس نہیں آتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کو مرمرکے نہانا پڑتا ہے۔ لیکن جنت میں یہ ظلم ہم پر نہ ہوسکے گا۔ وہاں تو جب ہم چاہیں گے بغیر غسل کیے غسل کی تازگی اپنے اوپر طاری کر لیا کریں گے۔ خواہ وہ دسمبر اور جنوری کا زمانہ ہویا مئی او ر جون کا موسم اور جب یہ صورت ہمارے اختیار میں ہوگی تو اس کے بعد آپ ہی بتائیے کہ بلاوجہ غسل کرنا وقت برباد کرنا نہیں تو اور کیا ہے۔ بیگم ہمارے ان اختیارات کو دیکھیں گی اور تعجب کریں گی اور صرف یہی کیا ان کو تو سب سے زیادہ چڑ ہے ہمارے تاش کھیلنے سے۔ یہاں تک کہ گھر میں کبھی کوئی تاش کا پیکٹ رہنے ہی نہیں پاتا اور اگر کبھی ہم نے تاش کی ایک آدھ بازی برس چھ مہینے کے بعد کھیل لی تو اتنے ہی دنوں تک اس کی جواب دہی بھی کرنا پڑتی ہے اور اٹھتے بیٹھتے ہر وقت طعنے سنتے ہیں۔ مگر جنت میں دیکھیں وہ کیسے منع کرتی ہیں۔

حکایت سعدیؒ:مال و دولت کا غلط استعمال

حکایت سعدیؒ:مال و دولت کا غلط استعمال

ایک پارسا کے لڑکے کو اپنے چچا کے مرنے پر بہت سا مال و دولت ترکے میں ملا۔ مالِ مفت دلِ بے رحم۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے یہ مال و دولت عیاشی و بدکاری میں اڑانا شروع کر دی۔ میں نے ایک بار اسے نصیحت کی کہ ''اے بیٹے! آمدنی سے زیادہ خرچ نہیں کرنا چاہیے کہ اس کا نتیجہ ہمیشہ برا ہوتا ہے‘‘۔اس نوجوان نے میری نصیحت کو دیوانے کی بڑ سمجھا اور کہا کہ آج کی راحت کو چھوڑ کر کل کے غم میں دبلا ہونا محض حماقت ہے۔ میں نے سمجھ لیا کہ بے وقوف آدمی پر کلام نرم و نازک بے اثر ہے چنانچہ اس سے کنارہ کشی کر لی۔ کچھ عرصہ بعد وہی ہوا جس کا مجھے اندیشہ تھا۔ نوجوان نے تمام جائیدار عیاشی اور فضول خرچی میں برباد کر ڈالی، ٹکڑے ٹکڑے کا محتاج ہو گیا۔ میں نے اسے پیوند لگے کپڑے پہنے بھیک مانگتے دیکھا تو سخت غصہ آیا اور جی میں آیا کہ اس سے کہوں کہ کیوں میں تجھے اس دن سے ڈراتا نہ تھا؟ پھر یہ سوچ کر خاموش ہو گیا کہ اس حالت میں میری بات اس کے زخموں پر نمک چھڑکے گی اور اس کے دکھ میں اضافہ ہو گا۔ ٭...٭...٭