افلاطون کا نظریہ علم
اسپیشل فیچر
افلاطون کا نظریہ علم اس کے مرشد سقراط کے نظریہ علم کی تشریح، توضیح اور توسیع ہے۔ سقراط کی طرح اس نے اپنے نظریہ علم کی بنیاد حسی ادراک کی بجائے تعقلات پر رکھی ہے۔ یہ سوفسطائیوں کے اس نظریہ علم کے خلاف زیادہ منظم کوشش تھی جس کے ذریعے انہوں نے علم کی معروضی صداقت کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔افلاطون کے نظریہ علم کے اجزا اس کے دو مکالمات…’’ری پبلک‘‘ اور ’’تھیاٹیئس‘‘ (Theaeteus) میں ملتے ہیں۔’’ری پبلک‘‘ میں اس نے علم کے متعلق ایجابی نظریات پیش کیے ہیں اور ’’تھیاٹیئس‘‘ میں سوفطائیوں کے نظریہ علم کے کھوکھلے پن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔’’تھیاٹئیس‘‘ میں دو کردار آپس میں گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک تو ظاہر ہے کہ سقراط ہے اور دوسرا تھیاٹیئس جوکہ ایک ریاضی دان ہے۔ سقراط تھیاٹیئس سے پوچھتا ہے کہ علم کیا ہے؟ اس کے جواب میں تھیاٹیئس ریاضی کے مختلف اصول بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس پر سقراط اعتراض وارد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرا سوال یہ نہیں ہے کہ علم کے مشتملات کیا کیا ہیں۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ علم دراصل ہے کیا؟ اب تھیاٹئیس سوچ و بچار کے بعد سوفسطائیوں کے نظریہ علم کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’علم دراصل حسی ادراک ہے۔‘‘ یہی وہ پوائنٹ ہے جس کی طرف سقراط تھیاٹئیس کو لانا چاہتا تھا تاکہ وہ اس کی نامعقولیت کو ثابت کرکے بتا سکے کہ علم کی بنیاد حسی ادراک پر نہیں بلکہ تعقصلات پر رکھنی چاہیے۔ایک اور مقام پر وہ مشہور سوفسطائی پروٹاگورس سے مکالمہ کرتے ہوئے ثابت کرتا ہے کہ پروٹاگورس کے نظریئے کارد اس کی اپنی ہی اس دلیل میں پوشیدہ ہے جس میں پروٹاگورس کہتا ہے جو کچھ میں محسوس کرتا ہوں، وہی درست ہے۔ اس پر افلاطون کہتا ہے کہ پھر تو میں بھی یہ محسوس کرتا ہوں کہ پروٹاگورس کا نظریہ غلط ہے۔ سو اب واجب آتا ہے کہ پروٹاگورس تسلیم کرے کہ میں سچ کہتا ہوں۔ مکالمے کے اصل الفاظ دیکھیے:پروٹاگورس:’’افلاطون! جو تمہارے لیے سچ ہے، وہ تمہارے لیے سچ ہے اور جو میرے لیے سچ ہے، وہ میرے لیے سچ ہے۔‘‘افلاطون:’’کیا تمہارا مطلب ہے کہ میری ذاتی رائے سچ ہے؟‘‘پروٹاگورس:’’یقیناً میرا یہی مطلب ہے۔‘‘افلاطون: ’’لیکن میرے عزیز پروٹاگورس! میری رائے یہ ہے کہ صداقت اضافی نہیں، یہ مطلق اور معروضی حیثیت رکھتی ہے۔ مزید برآں میری رائے یہ ہے کہ تمہارا صداقت کے بارے میں یہ نظریہ کہ وہ اضافی ہے، سراسر غلط ہے اور اس کو ترک کر دینا چاہیے۔ کیا تمہارا اب بھی یہ نظریہ ہے کہ میری رائے سچی ہے؟‘‘پروٹاگورس:’’ہاں! تم بالکل درست کہتے ہو۔‘‘افلاطون اپنے نظریات کے حق میں جابجا مثالوں کا استعمال کرتا ہے۔ ایک مثال نہایت سائنسی معقولیت لیے ہوئے ہے۔ وہ کہتا ہے، تین برتن لیں۔ ایک میں سرد، ایک میں گرم اور ایک میں معتدل پانی ڈال لیں۔ اب آپ اپنا دایاں ہاتھ ٹھنڈے پانی میں ڈالیے اور بایاں گرم پانی میں۔ کچھ دیر بعد دونوں ہاتھ اس برتن میں ڈالیں جس میں معتدل پانی ہے۔ آپ کا دایاں ہاتھ محسوس کرے گا کہ پانی گرم ہے اور بایاں ہاتھ احساس دلائے گا کہ پانی ٹھنڈا ہے۔ اب اگر حسی ادراک کو ذریعہ علم مان لیا جائے تو معلوم ہوا کہ یہ تو متناقص اطلاعات فراہم کر رہا ہے جس کو بیک وقت تسلیم کرنا ممکن نہیں ہے۔سقراط کے نزدیک تو تعقلات کی حیثیت سراسر علمیاتی (Epistomological) ہے مگر افلاطون نے تعقلات کو مزید ترقی دیتے ہوئے اس کے لیے ایک مخصوص اصطلاح’’امثال‘‘(Ideas) استعمال کی اور کہا کہ تعقلات صرف ذہن انسانی تک محدود نہیں بلکہ مادی دنیا(غیر حقیقی دنیا یاپر چھائیں) کی تخلیق بھی انہی سے ہوئی ہے۔(ظفر سپل کی کتاب ’’ ورثہ ِ دانش ِ یونان‘‘ ناشر: بُک ہوم،لاہور)٭…٭…٭