مشفق خواجہ : ایک سچامحقق , کھرانقاد اور ادیب ...!
اسپیشل فیچر
مشفق خواجہ نے عمر بھر قلم سے اپنا رشتہ استوار رکھا،اُنھیں بلاشبہ اُردو ادب کے میدا ن ِتحقیق کا جری سپاہی قرار دیا جاسکتا ہے******** ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی اپنے دوستوں میں بیٹھے کہہ رہے تھے ــــ: ’’ میَں شہری زندگی سے تنگ آ چکا ہوں،صبح سے شام تک لوگ ملنے آتے رہتے ہیں،جی چاہتا ہے کہ کسی دیہات میں جا رہوں ، چھوٹا سا دیہاتی مکان ہو،میری لائبریری ہو اور چند دوست ہوں اور بس‘‘۔ ایک صاحب نے کہا : ’’ دوستوں اور ملنے والوں سے تنگ آ کر آپ دیہات میں جائیں گے،پھر چند دوستوں کو ساتھ لے جانے کا کیا مطلب ہے؟ ‘‘۔ڈاکٹر صاحب نے نہایت اطمینان سے جواب دیا : ’’ لائبریری سے استفادہ کرنے والا بھی تو کوئی ہونا چا ہیے ناں ! ‘‘۔مذکورواقعہ نام وَر محقق ،نقاد اورکالم نگار مشفق خواجہ نے ایک خط میں تحریر کیا۔ اہلِ قلم کاایک وسیع حلقہ اُن کا گرویدہ تھا۔مشفق خواجہ کے بارے میں ڈاکٹر انور سدید ؔنے بجا لکھا کہ وہ بیسویں صدی کے ربع آخر کے سب سے زیادہ خطوط لکھنے والے ادیب تھے۔مشفق خواجہ حقیقی معنوں میں ایک سنجیدہ محقق اور سچے ادیب تھے۔اُنھوں نے عمر بھر قلم سے اپنا رشتہ استوار رکھا۔اُنھیں بلاشبہ میدا ن ِتحقیق کا جری سپاہی قرار دیا جاسکتا ہے، وہ جس عہد میں زندہ رہے،اُس میں اُن کے آس پاس معمولی درجے کے تخلیق کا ر بھی شہرت کے حصول میں ہانپتے نظر آتے تھے۔دولت ،شہرت ،نام و نمود کی خواہش میں اُن کے بہت سے ہم عصر وں نے اپنی دنیا سنواری، مگر مشفق خواجہ نہایت سنجیدگی سے تحقیق سا خشک کام کرتے رہے۔کچھ دن قبل ہم نے ایف سی کالج یونی ورسٹی میں ممتاز محقق ،نقاد اور ماہر تعلیم ڈاکٹر تبسم کا شمیری کو مدعو کیا، تو اُنھوں نے بھی اس بات پر تا سف کا اظہار کیا کہ ’’ تحقیق کے حوالے سے طلبا ہی نہیں اساتذہ بھی سنجیدگی سے متوجہ نہیں ۔یہ سہل پسندی کا دَور ہے۔اب معلوم حقائق کی بازیافت کے حوالے سے بھی اساتذہ تک ابہام کا شکار ہیں۔ نجانے کیوں ہمیں اس وقت انتظار حسین کا جملہ یاد آرہا ہے، جو دس بارہ برس قبل آپ نے حلقۂ اربابِ ذوق کے سالانہ اجلاس کی صدارت میں کہا تھا: ’’ یہ عشق اور شاعری کے زوال کا زمانہ ہے‘‘۔اگر شاعری اور عشق کا یہ حال ہے، تو تحقیق اور کھوج لگانے والوںکی سہل پسندی اور ’’ اڈہاک ازم ‘‘ کس کھاتے میں شمار ہوں گے ۔میری نظر میں مشفق خواجہ ادب کے سنجیدہ اور شفیق تخلیق کار تھے۔ اُنھوںنے اپنی عمر مخطوطات کی نوک پلک سنوارنے اور اُن کی تدوین میں گزاردی۔وہ بھی چاہتے تو اپنے دیگر ہم عصر اہلِ قلم کی طرح دنیا کما سکتے تھے،مگر اُنھوں نے اہل ِ ادب اور آنے والی نسلوں کے لیے سنجیدہ کام کیے ، پڑھنے لکھنے کے سوا اُنھوں نے عمر بھر اور کچھ نہ کیا گویا بقول اقبال ساجدؔ :دنیا نے زر کے واسطے کیا کچھ نہیں کیااور ہم نے شاعری کے سوا کچھ نہیں کیا مشفق خواجہ اگر چہ1957ء سے1973ء تک موقر ادبی ادارے انجمن ترقی ِاُردو پاکستان سے وابستہ رہے تاہم یہاں اُنھوں نے بابائے اُردو مولوی عبدالحق کی صحبت سے استفادہ بھی کیا۔سہ ماہی ’’اُردو‘‘ماہنامہ ’’قومی زبان ‘‘ اور ’’قاموس الکتب ‘‘کے مدیر بھی رہے۔اُنھوں نے پاکستان میں موجود مخطوطات اور دنیا بھر میں اُن کے دیگر قلمی اور مطبوعہ نسخوں کا کتا بیاتی و سوانحی مطالعہ کیا اور اسے ’’جائزہ مخطوطات‘‘ کے نام سے شائع کیا ۔اس کی پہلی جلد 1248 صفحات پر مشتمل ہے۔اُن کی تصنیفات ومقالات کی فہرست طویل ہے اوریہ خاصاعرق ریزی کا کام ہے۔اُن کے تحقیقی مقالات کا مجموعہ ’’تحقیق نامہ ‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ ’’کلیاتِ یگانہ ‘‘، ’’تدوین ِتحقیق ‘‘ سے لے کر ’’ انتخاب ِمیرؔ‘‘، ’’پرانے شاعر نیا کلام ‘‘، ’’ تخلیقی ادب ‘‘ کی پانچ جلدیں اور اقبال کے حوالے سے ’’اقبال اور احمد زین‘‘ اُردو میں وہ پہلی کتاب ہے، جو پہلی بار علامہ اقبال کی زندگی میں شائع ہوئی، مگر بوجوہ جلا دی گئی۔ یہ کتا ب مفصل مقدمے تعلیقات و حواشی کے ساتھ آپ نے مرتب کی اور 1979ء میں اسے انجمن ترقی ِ اُردو،پاکستان سے شائع کروایا۔ اُن کی وفات کے بعد اُن کے کالموں اور خطوط کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ،جن میں ’’سخن ہائے گسترانہ‘‘، ’’ سن تو سہی ‘‘ ، ’’ جوش اور خامہ بگوش‘‘ ، ’’مشفق نامے ‘‘ ، ’’خطوط مشفق ‘‘ ، ’’ مکاتیب ِمشفق خواجہ ‘‘ شامل ہیں۔مشفق خواجہ کے کالموں اور خطوط پر مشتمل اُن کی طنزیہ اور کاٹ دار نثر قارئین میں بہت مقبول ہوئی ۔وہ اپنے خطوط میں کھل کر اپنے خیالات و جذبات کا اظہا ر کرتے رہے البتہ اُنھوں نے اپنے احباب پر پابندی لگا رکھی تھی کہ اُن کے خطوط اُن کے مرنے کے بعد شائع کیے جائیں۔اب ہم جو اُن کے خطوط پڑھتے ہیں ،توحقیقت سے آگا ہی ہوتی ہے کہ واقعتاً ادب اور ادیبوں کے حوالے سے ان کی دو ٹوک ،سچی اور کھری باتیں اس منافقانہ عہد میں کسی کو ہضم نہیں ہو سکتی تھیں۔نظیر صدیقی کو لکھے گئے خطوط میں اُنھوں نے نظیر صدیقی کو بھی ایک سچے اور کھرے دوست کی طرح مفید مشورے دیئے اور اُن کی تحریروں پر بھی بے باکانہ رائے کا اظہار کیا۔نظیر صدیقی کی آپ بیتی پڑھنے کے بعد اُنھیں لکھا : ’’ آپ کی آپ بیتی پڑھ کر مایوسی ہوئی۔آپ کے پاس جب کہنے کے لیے،بیان کرنے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں، تو آپ بیتی لکھنے کی کیا ضرورت تھی ،اس کتاب سے آپ ایک قنوطی خود آزار اور کشتہ روزگار کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں ‘‘۔مشتاق احمد یوسفی کو اس عہد کا سب سے بڑا مزاح نگار قرار دیا جاتا ہے،مگر مشفق خواجہ اُن کے تصنیف ’’ زر گزشت ‘‘ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار (29جون1976ء )کو تحریر کردہ ایک خط میں کچھ اس طرح کرتے ہیں : ’’مشتاق یوسفی کی نئی کتاب ’زر گزشت ‘زیر مطالعہ ہے،قریباََ150 صفحے پڑھ چکا ہوں ، اب تو یوسفی اس لائق ہو گیا ہے کہ اس پر تحقیق کر ڈالی جائے ۔ لکھنوی شاعروں والی رعایتِ لفظی سے ’زرگزشت‘ اتنی بوجھل ہوگئی ہے کہ ناسخؔ اور وزیرؔ کے دواوین بھی اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔طنز نگار جب لفظوں کو توڑ مروڑ کر طنز پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ خود بھی ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ ’چراغ تلے ‘ کی شہرت نے یوسفی کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔اس کے فن کا گراف مسلسل نیچے کی طرف سفر کر رہا ہے،جن لوگوں کو راتوں رات شہرت مل جاتی ہے ،وہ پھر زندگی بھر اپنی رسوائی کا سامان فراہم کرتے رہتے ہیں‘‘۔کیا فکر انگیز بات کہی مشفق خواجہ نے، کاش ہمارے نئے شعرا اس سے کچھ سبق سیکھیں،جو راتوں رات نہ صرف مشہور و مقبول ہونا چاہتے ہیںبل کہ اپنی شاعری پر یونی ورسٹیوں میں تھیسس لکھوانے کے لیے بھی بے چین رہتے ہیںحالاں کہ مشفق خواجہ ایسے شعرا اور لکھاریوں کی کتب پر اپنے کالموں میں بے باک تبصرے کر چکے ہیں ۔ شعری کتب کے حوالے سے اُن کا یہ فقرہ بہت مشہور ہوا تھا کہ ’’ان دنوں80 گرام کے کاغذ پر 20 گرام کی شاعری شائع ہو رہی ہے ‘‘۔سلیم احمد کی کتاب ’’ اقبال ایک شاعر ‘‘ پر مشفق خواجہ کے ایک خط ( بنام نظیر صدیقی )میں زبر دست تبصرہ سامنے آتا ہے: ’’36 روپے میں اتنی مختصر کتاب مع مصنف بھی مہنگی ہے۔مجھے اس کتاب میں کوئی خاص بات نظر نہیں آئی۔اقبال دراصل ہمارے نقادوں کے درمیان اس طرح ہے، جس طرح اندھوں کے درمیان ہاتھی،جس کے ہاتھ جو عضو آیا ،اُس نے اس عضو کو پورا ہاتھی سمجھ لیا ۔سلیم احمد نے اقبال کے کسی عضو پر ہاتھ رکھنے کی بجائے اپنے ہی عضا کی مالش کی ہے‘‘۔ ایک اور خط میں لکھتے ہیں : ’’ آج کل تصوف کی باتیں کرنا ایک فیشن ہے ۔لاہور میں لال بجھکڑوںکی ایک ٹولی ہے اور یہاں سلیم احمد کا حلقہ ہے، جس کا سلسلہ حسن عسکری سے ملتا ہے۔ مرحوم نے بھی زندگی کے حقائق سے بچنے کے لیے تصوف کو سلیمانی ٹوپی کے طور پر استعمال کیا تھا۔پنجابی کے ایک شاعر کی رباعی کا مفہوم یاد آرہا ہے۔آپ بھی سن لیجئے :پہلے زمانے میں صوفی نعرہ مارتے تھے، تو سننے والے بے ہوش ہو جاتے تھے، آج کل صوفی خود ہی نعرہ مارتے ہیں اور خود ہی بے ہوش ہو جاتے ہیں‘‘۔مشفق خواجہ ایک قناعت پسند انسان تھے۔ ایک خط میں لکھتے ہیں: ’’میرا عزلت نشینی کا تجربہ بہت کامیاب رہا ہے۔میَں سمجھتا ہوں کہ انسان کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ وہ اپنا وقت اپنی مرضی سے گزارے۔سو ان معنوں میں خوش قسمت ہوں۔ہفتے میں ایک دن معاشی ضرورتوں کے لیے کام کرتا ہوں اور باقی چھے دن ’’بدمعاشی‘‘کی ضرورتیں پوری کرتا رہتاہوں، یعنی کرم خوردہ مخطوطات کا مطالعہ‘‘۔آگے چل کر لکھتے ہیں : ’’روپیہ دکھ کا علاج نہیں بل کہ اس کی فراوانی بعض امراض کا سبب بنتی ہے۔میَں نے اپنی ضروریات محدود کر لیں۔اب میَں بہت خوش ہوں۔اخبار اور ریڈیو کے لیے پورے مہینے میں صرف چار دن کام کرنا پڑتا تھا، لیکن یہ چار دن مہینے کے باقی دنوں کا سکون بھی چھین کر لے جاتے تھے‘‘۔مشفق خواجہ کی تحریروں میں گہرا شعور ،تجربہ اور مشاہدہ کار فرما دکھائی دیتا ہے۔اُن کے جملوں میں شگفتگی بھی ہوتی ہے اور طنز کی کاٹ بھی۔ایک خط میں لکھتے ہیں : ’’عالی صاحب !امریکا کنیڈا میں اُردو کے جھنڈ ے گاڑرہے ہیں۔اب زمانہ بھی ایسا آگیا ہے کہ تخلیق ِادب کی حیثیت ثانوی ہوگئی ہے۔اب فضولیات کا درجہ بڑھ گیا ہے۔کاش عالی صاحب !دوبارہ تخلیق ِادب کی طرف توجہ کریںاور کچھ نہیں تو ’ غزلیں، دو ہے، گیت ‘ جیسا مجموعہ تصنیف کر ڈالیں۔اس مجموعے کے بعد اُن کی شاعری ، شاعری نہیں شاعری کی معذرت ہے‘‘۔مشفق خواجہ کے چند مزید جملے ملاحظہ کیجئے: ’’پروین رائو سے میَں نے کہہ دیا ہے کہ وہ اپنا پتا آپ کو لکھ بھیجے ۔میَں خواتین سے اُن کے پتے حاصل کرنا خلاف ِشرع سمجھتا ہوں‘‘۔کتاب کی طباعت کے سلسلے میں آپ کا یہ جملہ خاصا عبر ت انگیزہے: ’’ کتاب کی طباعت میں جاں بحق ہو گیا ہوں، ذرا اُن کا بھی خیال کیجئے ،جو کتاب کے مطالعے کے دوران جاں بحق ہوں گے۔معاف کیجئے میں کن اُلٹی باتوں میں پڑ گیا۔شاعری تو اس عہد میں صرف پروین شاکر کر رہی ہے ہم اور آپ تو گھاس کاٹتے ہیں ،میں تو گھاس نقادوں کے لیے کاٹتا ہوں آپ معلوم نہیں ایسا کیو ں کرتے ہیں؟۔حیرت ہے موصوفہ نے اسلام آباد میں آپ کو گھاس نہیں ڈالی، دراصل وہاں خود اُن کو گھاس ڈالنے والے بہت تھے۔ان گھسیاروں نے اُنھیں کسی سے ملنے ہی نہیں دیا۔ خیر اچھا ہوا ،وہ اگر گھاس ڈال بھی دیتیں ،تو آپ کون سا اسے ہضم کر لیتے ۔اس عمر میں آدمی کا حافظہ ہی نہیں ہاضمہ بھی خراب ہو جاتا ہے۔اسے یاد نہیں رہتا کہ گھاس کھانے کی عمر گزر گئی ہے‘‘ (بنام نظیر صدیقی)۔زہرہ نگاہ کے بارے میں رقم طراز ہیں: ’’ زہر ہ نگاہ کی شاعری کے بارے میری رائے کچھ زیادہ اچھی نہیں،آواز ہی آواز ہے۔دس پانچ اچھے شعر توسبھی کہہ لیتے ہیں اور پھر جو لوگ اپنی تعریف میں مضامین جلسوں میں پڑھواتے ہیںاور خوش ہوتے ہیں ،اُن کو سچا شاعر کون کہے گا ،محترمہ نے یہاں بھی اکیس توپوں والا جلسہ منعقد کرا یا تھا،اب لندن میں بھی شوق فرما رہی ہیں‘‘۔مشفق خواجہ سے میری زیادہ ملاقاتیں نہیں، کراچی جا کر بھی نہ مل سکا کہ اُن کے علاقے میں غالباًکرفیو لگا ہو اتھا، فون پر بات ہوئی، لیکن میرے پی ایچ ڈی کے مقالے کے دوران اُنھوں نے میرے لیے ایک نایاب کتاب ’’دلّی کی چند ہستیاں‘‘ فوٹو کاپی کرا کے بھجوائی ۔میَں نے اپنی ایک کتاب اُن کے نام کی، تو بہت شفقت سے مجھے خط لکھا اور ہمراہ ’’کلیات ِیگانہ ‘‘ جیسی ضخیم کتاب بھی ارسال کی۔اُن دنوں میرے ادبی اخبار ’’بجنگ آمد‘‘ ملنے پر وہ باقاعدہ رسید بھجواتے اور اس کی سال گرہ پر پیغام بھی ارسال کرتے ۔ مشفق خواجہ مرحوم کے چند خطوط میرے پاس بھی محفوظ ہیں۔موقع ملا تو اُن کو شائع کرنے کی کوشش کروں گا ۔یہ ساری باتیں گذشتہ دنوںاُن کی سال گرہ پر یاد آئیں ۔اُن کی سال گرہ 14 دسمبر کو تھی۔٭…٭…٭