مشفق خواجہ : ایک سچامحقق , کھرانقاد اور ادیب ...!

مشفق خواجہ : ایک سچامحقق , کھرانقاد اور ادیب ...!

اسپیشل فیچر

تحریر : ڈاکٹر اختر شمار


مشفق خواجہ نے عمر بھر قلم سے اپنا رشتہ استوار رکھا،اُنھیں بلاشبہ اُردو ادب کے میدا ن ِتحقیق کا جری سپاہی قرار دیا جاسکتا ہے******** ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی اپنے دوستوں میں بیٹھے کہہ رہے تھے ــــ: ’’ میَں شہری زندگی سے تنگ آ چکا ہوں،صبح سے شام تک لوگ ملنے آتے رہتے ہیں،جی چاہتا ہے کہ کسی دیہات میں جا رہوں ، چھوٹا سا دیہاتی مکان ہو،میری لائبریری ہو اور چند دوست ہوں اور بس‘‘۔ ایک صاحب نے کہا : ’’ دوستوں اور ملنے والوں سے تنگ آ کر آپ دیہات میں جائیں گے،پھر چند دوستوں کو ساتھ لے جانے کا کیا مطلب ہے؟ ‘‘۔ڈاکٹر صاحب نے نہایت اطمینان سے جواب دیا : ’’ لائبریری سے استفادہ کرنے والا بھی تو کوئی ہونا چا ہیے ناں ! ‘‘۔مذکورواقعہ نام وَر محقق ،نقاد اورکالم نگار مشفق خواجہ نے ایک خط میں تحریر کیا۔ اہلِ قلم کاایک وسیع حلقہ اُن کا گرویدہ تھا۔مشفق خواجہ کے بارے میں ڈاکٹر انور سدید ؔنے بجا لکھا کہ وہ بیسویں صدی کے ربع آخر کے سب سے زیادہ خطوط لکھنے والے ادیب تھے۔مشفق خواجہ حقیقی معنوں میں ایک سنجیدہ محقق اور سچے ادیب تھے۔اُنھوں نے عمر بھر قلم سے اپنا رشتہ استوار رکھا۔اُنھیں بلاشبہ میدا ن ِتحقیق کا جری سپاہی قرار دیا جاسکتا ہے، وہ جس عہد میں زندہ رہے،اُس میں اُن کے آس پاس معمولی درجے کے تخلیق کا ر بھی شہرت کے حصول میں ہانپتے نظر آتے تھے۔دولت ،شہرت ،نام و نمود کی خواہش میں اُن کے بہت سے ہم عصر وں نے اپنی دنیا سنواری، مگر مشفق خواجہ نہایت سنجیدگی سے تحقیق سا خشک کام کرتے رہے۔کچھ دن قبل ہم نے ایف سی کالج یونی ورسٹی میں ممتاز محقق ،نقاد اور ماہر تعلیم ڈاکٹر تبسم کا شمیری کو مدعو کیا، تو اُنھوں نے بھی اس بات پر تا سف کا اظہار کیا کہ ’’ تحقیق کے حوالے سے طلبا ہی نہیں اساتذہ بھی سنجیدگی سے متوجہ نہیں ۔یہ سہل پسندی کا دَور ہے۔اب معلوم حقائق کی بازیافت کے حوالے سے بھی اساتذہ تک ابہام کا شکار ہیں۔ نجانے کیوں ہمیں اس وقت انتظار حسین کا جملہ یاد آرہا ہے، جو دس بارہ برس قبل آپ نے حلقۂ اربابِ ذوق کے سالانہ اجلاس کی صدارت میں کہا تھا: ’’ یہ عشق اور شاعری کے زوال کا زمانہ ہے‘‘۔اگر شاعری اور عشق کا یہ حال ہے، تو تحقیق اور کھوج لگانے والوںکی سہل پسندی اور ’’ اڈہاک ازم ‘‘ کس کھاتے میں شمار ہوں گے ۔میری نظر میں مشفق خواجہ ادب کے سنجیدہ اور شفیق تخلیق کار تھے۔ اُنھوںنے اپنی عمر مخطوطات کی نوک پلک سنوارنے اور اُن کی تدوین میں گزاردی۔وہ بھی چاہتے تو اپنے دیگر ہم عصر اہلِ قلم کی طرح دنیا کما سکتے تھے،مگر اُنھوں نے اہل ِ ادب اور آنے والی نسلوں کے لیے سنجیدہ کام کیے ، پڑھنے لکھنے کے سوا اُنھوں نے عمر بھر اور کچھ نہ کیا گویا بقول اقبال ساجدؔ :دنیا نے زر کے واسطے کیا کچھ نہیں کیااور ہم نے شاعری کے سوا کچھ نہیں کیا مشفق خواجہ اگر چہ1957ء سے1973ء تک موقر ادبی ادارے انجمن ترقی ِاُردو پاکستان سے وابستہ رہے تاہم یہاں اُنھوں نے بابائے اُردو مولوی عبدالحق کی صحبت سے استفادہ بھی کیا۔سہ ماہی ’’اُردو‘‘ماہنامہ ’’قومی زبان ‘‘ اور ’’قاموس الکتب ‘‘کے مدیر بھی رہے۔اُنھوں نے پاکستان میں موجود مخطوطات اور دنیا بھر میں اُن کے دیگر قلمی اور مطبوعہ نسخوں کا کتا بیاتی و سوانحی مطالعہ کیا اور اسے ’’جائزہ مخطوطات‘‘ کے نام سے شائع کیا ۔اس کی پہلی جلد 1248 صفحات پر مشتمل ہے۔اُن کی تصنیفات ومقالات کی فہرست طویل ہے اوریہ خاصاعرق ریزی کا کام ہے۔اُن کے تحقیقی مقالات کا مجموعہ ’’تحقیق نامہ ‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ ’’کلیاتِ یگانہ ‘‘، ’’تدوین ِتحقیق ‘‘ سے لے کر ’’ انتخاب ِمیرؔ‘‘، ’’پرانے شاعر نیا کلام ‘‘، ’’ تخلیقی ادب ‘‘ کی پانچ جلدیں اور اقبال کے حوالے سے ’’اقبال اور احمد زین‘‘ اُردو میں وہ پہلی کتاب ہے، جو پہلی بار علامہ اقبال کی زندگی میں شائع ہوئی، مگر بوجوہ جلا دی گئی۔ یہ کتا ب مفصل مقدمے تعلیقات و حواشی کے ساتھ آپ نے مرتب کی اور 1979ء میں اسے انجمن ترقی ِ اُردو،پاکستان سے شائع کروایا۔ اُن کی وفات کے بعد اُن کے کالموں اور خطوط کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ،جن میں ’’سخن ہائے گسترانہ‘‘، ’’ سن تو سہی ‘‘ ، ’’ جوش اور خامہ بگوش‘‘ ، ’’مشفق نامے ‘‘ ، ’’خطوط مشفق ‘‘ ، ’’ مکاتیب ِمشفق خواجہ ‘‘ شامل ہیں۔مشفق خواجہ کے کالموں اور خطوط پر مشتمل اُن کی طنزیہ اور کاٹ دار نثر قارئین میں بہت مقبول ہوئی ۔وہ اپنے خطوط میں کھل کر اپنے خیالات و جذبات کا اظہا ر کرتے رہے البتہ اُنھوں نے اپنے احباب پر پابندی لگا رکھی تھی کہ اُن کے خطوط اُن کے مرنے کے بعد شائع کیے جائیں۔اب ہم جو اُن کے خطوط پڑھتے ہیں ،توحقیقت سے آگا ہی ہوتی ہے کہ واقعتاً ادب اور ادیبوں کے حوالے سے ان کی دو ٹوک ،سچی اور کھری باتیں اس منافقانہ عہد میں کسی کو ہضم نہیں ہو سکتی تھیں۔نظیر صدیقی کو لکھے گئے خطوط میں اُنھوں نے نظیر صدیقی کو بھی ایک سچے اور کھرے دوست کی طرح مفید مشورے دیئے اور اُن کی تحریروں پر بھی بے باکانہ رائے کا اظہار کیا۔نظیر صدیقی کی آپ بیتی پڑھنے کے بعد اُنھیں لکھا : ’’ آپ کی آپ بیتی پڑھ کر مایوسی ہوئی۔آپ کے پاس جب کہنے کے لیے،بیان کرنے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں، تو آپ بیتی لکھنے کی کیا ضرورت تھی ،اس کتاب سے آپ ایک قنوطی خود آزار اور کشتہ روزگار کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں ‘‘۔مشتاق احمد یوسفی کو اس عہد کا سب سے بڑا مزاح نگار قرار دیا جاتا ہے،مگر مشفق خواجہ اُن کے تصنیف ’’ زر گزشت ‘‘ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار (29جون1976ء )کو تحریر کردہ ایک خط میں کچھ اس طرح کرتے ہیں : ’’مشتاق یوسفی کی نئی کتاب ’زر گزشت ‘زیر مطالعہ ہے،قریباََ150 صفحے پڑھ چکا ہوں ، اب تو یوسفی اس لائق ہو گیا ہے کہ اس پر تحقیق کر ڈالی جائے ۔ لکھنوی شاعروں والی رعایتِ لفظی سے ’زرگزشت‘ اتنی بوجھل ہوگئی ہے کہ ناسخؔ اور وزیرؔ کے دواوین بھی اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔طنز نگار جب لفظوں کو توڑ مروڑ کر طنز پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ خود بھی ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ ’چراغ تلے ‘ کی شہرت نے یوسفی کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔اس کے فن کا گراف مسلسل نیچے کی طرف سفر کر رہا ہے،جن لوگوں کو راتوں رات شہرت مل جاتی ہے ،وہ پھر زندگی بھر اپنی رسوائی کا سامان فراہم کرتے رہتے ہیں‘‘۔کیا فکر انگیز بات کہی مشفق خواجہ نے، کاش ہمارے نئے شعرا اس سے کچھ سبق سیکھیں،جو راتوں رات نہ صرف مشہور و مقبول ہونا چاہتے ہیںبل کہ اپنی شاعری پر یونی ورسٹیوں میں تھیسس لکھوانے کے لیے بھی بے چین رہتے ہیںحالاں کہ مشفق خواجہ ایسے شعرا اور لکھاریوں کی کتب پر اپنے کالموں میں بے باک تبصرے کر چکے ہیں ۔ شعری کتب کے حوالے سے اُن کا یہ فقرہ بہت مشہور ہوا تھا کہ ’’ان دنوں80 گرام کے کاغذ پر 20 گرام کی شاعری شائع ہو رہی ہے ‘‘۔سلیم احمد کی کتاب ’’ اقبال ایک شاعر ‘‘ پر مشفق خواجہ کے ایک خط ( بنام نظیر صدیقی )میں زبر دست تبصرہ سامنے آتا ہے: ’’36 روپے میں اتنی مختصر کتاب مع مصنف بھی مہنگی ہے۔مجھے اس کتاب میں کوئی خاص بات نظر نہیں آئی۔اقبال دراصل ہمارے نقادوں کے درمیان اس طرح ہے، جس طرح اندھوں کے درمیان ہاتھی،جس کے ہاتھ جو عضو آیا ،اُس نے اس عضو کو پورا ہاتھی سمجھ لیا ۔سلیم احمد نے اقبال کے کسی عضو پر ہاتھ رکھنے کی بجائے اپنے ہی عضا کی مالش کی ہے‘‘۔ ایک اور خط میں لکھتے ہیں : ’’ آج کل تصوف کی باتیں کرنا ایک فیشن ہے ۔لاہور میں لال بجھکڑوںکی ایک ٹولی ہے اور یہاں سلیم احمد کا حلقہ ہے، جس کا سلسلہ حسن عسکری سے ملتا ہے۔ مرحوم نے بھی زندگی کے حقائق سے بچنے کے لیے تصوف کو سلیمانی ٹوپی کے طور پر استعمال کیا تھا۔پنجابی کے ایک شاعر کی رباعی کا مفہوم یاد آرہا ہے۔آپ بھی سن لیجئے :پہلے زمانے میں صوفی نعرہ مارتے تھے، تو سننے والے بے ہوش ہو جاتے تھے، آج کل صوفی خود ہی نعرہ مارتے ہیں اور خود ہی بے ہوش ہو جاتے ہیں‘‘۔مشفق خواجہ ایک قناعت پسند انسان تھے۔ ایک خط میں لکھتے ہیں: ’’میرا عزلت نشینی کا تجربہ بہت کامیاب رہا ہے۔میَں سمجھتا ہوں کہ انسان کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ وہ اپنا وقت اپنی مرضی سے گزارے۔سو ان معنوں میں خوش قسمت ہوں۔ہفتے میں ایک دن معاشی ضرورتوں کے لیے کام کرتا ہوں اور باقی چھے دن ’’بدمعاشی‘‘کی ضرورتیں پوری کرتا رہتاہوں، یعنی کرم خوردہ مخطوطات کا مطالعہ‘‘۔آگے چل کر لکھتے ہیں : ’’روپیہ دکھ کا علاج نہیں بل کہ اس کی فراوانی بعض امراض کا سبب بنتی ہے۔میَں نے اپنی ضروریات محدود کر لیں۔اب میَں بہت خوش ہوں۔اخبار اور ریڈیو کے لیے پورے مہینے میں صرف چار دن کام کرنا پڑتا تھا، لیکن یہ چار دن مہینے کے باقی دنوں کا سکون بھی چھین کر لے جاتے تھے‘‘۔مشفق خواجہ کی تحریروں میں گہرا شعور ،تجربہ اور مشاہدہ کار فرما دکھائی دیتا ہے۔اُن کے جملوں میں شگفتگی بھی ہوتی ہے اور طنز کی کاٹ بھی۔ایک خط میں لکھتے ہیں : ’’عالی صاحب !امریکا کنیڈا میں اُردو کے جھنڈ ے گاڑرہے ہیں۔اب زمانہ بھی ایسا آگیا ہے کہ تخلیق ِادب کی حیثیت ثانوی ہوگئی ہے۔اب فضولیات کا درجہ بڑھ گیا ہے۔کاش عالی صاحب !دوبارہ تخلیق ِادب کی طرف توجہ کریںاور کچھ نہیں تو ’ غزلیں، دو ہے، گیت ‘ جیسا مجموعہ تصنیف کر ڈالیں۔اس مجموعے کے بعد اُن کی شاعری ، شاعری نہیں شاعری کی معذرت ہے‘‘۔مشفق خواجہ کے چند مزید جملے ملاحظہ کیجئے: ’’پروین رائو سے میَں نے کہہ دیا ہے کہ وہ اپنا پتا آپ کو لکھ بھیجے ۔میَں خواتین سے اُن کے پتے حاصل کرنا خلاف ِشرع سمجھتا ہوں‘‘۔کتاب کی طباعت کے سلسلے میں آپ کا یہ جملہ خاصا عبر ت انگیزہے: ’’ کتاب کی طباعت میں جاں بحق ہو گیا ہوں، ذرا اُن کا بھی خیال کیجئے ،جو کتاب کے مطالعے کے دوران جاں بحق ہوں گے۔معاف کیجئے میں کن اُلٹی باتوں میں پڑ گیا۔شاعری تو اس عہد میں صرف پروین شاکر کر رہی ہے ہم اور آپ تو گھاس کاٹتے ہیں ،میں تو گھاس نقادوں کے لیے کاٹتا ہوں آپ معلوم نہیں ایسا کیو ں کرتے ہیں؟۔حیرت ہے موصوفہ نے اسلام آباد میں آپ کو گھاس نہیں ڈالی، دراصل وہاں خود اُن کو گھاس ڈالنے والے بہت تھے۔ان گھسیاروں نے اُنھیں کسی سے ملنے ہی نہیں دیا۔ خیر اچھا ہوا ،وہ اگر گھاس ڈال بھی دیتیں ،تو آپ کون سا اسے ہضم کر لیتے ۔اس عمر میں آدمی کا حافظہ ہی نہیں ہاضمہ بھی خراب ہو جاتا ہے۔اسے یاد نہیں رہتا کہ گھاس کھانے کی عمر گزر گئی ہے‘‘ (بنام نظیر صدیقی)۔زہرہ نگاہ کے بارے میں رقم طراز ہیں: ’’ زہر ہ نگاہ کی شاعری کے بارے میری رائے کچھ زیادہ اچھی نہیں،آواز ہی آواز ہے۔دس پانچ اچھے شعر توسبھی کہہ لیتے ہیں اور پھر جو لوگ اپنی تعریف میں مضامین جلسوں میں پڑھواتے ہیںاور خوش ہوتے ہیں ،اُن کو سچا شاعر کون کہے گا ،محترمہ نے یہاں بھی اکیس توپوں والا جلسہ منعقد کرا یا تھا،اب لندن میں بھی شوق فرما رہی ہیں‘‘۔مشفق خواجہ سے میری زیادہ ملاقاتیں نہیں، کراچی جا کر بھی نہ مل سکا کہ اُن کے علاقے میں غالباًکرفیو لگا ہو اتھا، فون پر بات ہوئی، لیکن میرے پی ایچ ڈی کے مقالے کے دوران اُنھوں نے میرے لیے ایک نایاب کتاب ’’دلّی کی چند ہستیاں‘‘ فوٹو کاپی کرا کے بھجوائی ۔میَں نے اپنی ایک کتاب اُن کے نام کی، تو بہت شفقت سے مجھے خط لکھا اور ہمراہ ’’کلیات ِیگانہ ‘‘ جیسی ضخیم کتاب بھی ارسال کی۔اُن دنوں میرے ادبی اخبار ’’بجنگ آمد‘‘ ملنے پر وہ باقاعدہ رسید بھجواتے اور اس کی سال گرہ پر پیغام بھی ارسال کرتے ۔ مشفق خواجہ مرحوم کے چند خطوط میرے پاس بھی محفوظ ہیں۔موقع ملا تو اُن کو شائع کرنے کی کوشش کروں گا ۔یہ ساری باتیں گذشتہ دنوںاُن کی سال گرہ پر یاد آئیں ۔اُن کی سال گرہ 14 دسمبر کو تھی۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ہوابازی کا نیا دور:جاپانی ایئرپورٹس پر روبوٹس کی تعیناتی

ہوابازی کا نیا دور:جاپانی ایئرپورٹس پر روبوٹس کی تعیناتی

ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی نے دنیا کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے، اور اب ہوا بازی کا میدان بھی اس انقلاب کی زد میں آ چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور روبوٹکس کے امتزاج نے وہ کام ممکن بنا دیے ہیں جو کبھی صرف انسانوں کے دائرہ کار میں سمجھے جاتے تھے۔ حال ہی میں جاپان ایئرلائنز کی جانب سے انسانی شکل کے روبوٹس کو سامان اٹھانے اور اتارنے کیلئے استعمال کرنے کا اقدام اسی تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہے بلکہ مستقبل کے ہوائی اڈوں کی جھلک بھی پیش کرتی ہے، جہاں انسان اور مشینیں مل کر کام کریں گی۔گمشدہ سامان اور خراب بیگز کا مسئلہ جلد ماضی کا حصہ بن سکتا ہے، کیونکہ جاپان ایئرلائنز نے روبوٹک بیگیج ہینڈلرز کی آزمائش شروع کر دی ہے۔ مئی سے ٹوکیو کے مصروف ہنیڈا ایئرپورٹ پر انسانی عملے کو دو سالہ تجرباتی منصوبے کے تحت انسانی شکل کے روبوٹس کی مدد حاصل ہوگی۔ چین میں تیار کیے گئے یہ روبوٹس زمین پر ہونے والے کام، جیسے سامان سے بھرے کارگو کنٹینرز کو جہازوں پر چڑھانا اور اتارنا، انجام دینے کی تربیت حاصل کریں گے۔جاپان ایئرلائنز (JAL) کو امید ہے کہ یہ نئے روبوٹک کارکن جاپان میں بڑھتی ہوئی سیاحت اور کم ہوتی افرادی قوت کے مسائل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ''وائر ایوی ایشن‘‘ کے مطابق ایئرپورٹ پر دو روبوٹس کا تجربہ کیا جائے گا۔ ایک 130 سینٹی میٹر قد کا ''یونٹری جی1‘‘ اور دوسرا بڑا 172 سینٹی میٹر کا ''یو بی ٹیک واکر ای‘‘۔میڈیا کیلئے کیے گئے مظاہرے میں دیکھا گیا کہ ''یونٹری جی1‘‘ نہایت نرمی سے، اگرچہ کچھ غیر مستحکم انداز میں، ایک کارگو کنٹینر کو کنویئر بیلٹ کی طرف دھکیل رہا تھا۔ اگرچہ یہ مہارت ابھی زیادہ متاثر کن نہیں لگتی، تاہم ''جاپان ایئر لائنز‘‘ کو یقین ہے کہ 2028ء تک روبوٹس بعض شعبوں میں انسانوں کی جگہ لینا شروع کر دیں گے۔ جاپان ایئرلائنز کے گراؤنڈ سروس کے صدر یوشیترو سوزوکی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھاری کاموں کیلئے روبوٹس کا استعمال ملازمین کیلئے نمایاں فوائد فراہم کرے گا۔دو سالہ تجرباتی منصوبہ ابتدائی طور پر اس بات پر توجہ دے گا کہ روبوٹس کو ہر جسمانی طور پر مشکل کام انجام دینے کا طریقہ سکھایا جائے، جس کیلئے ہر کام کو چھوٹی چھوٹی حرکات (موومنٹس) میں تقسیم کیا جائے گا۔ جب روبوٹس بڑے اور بھاری کارگو کنٹینرز کو لوڈ اور اَن لوڈ کرنا سیکھ لیں گے، تو وہ ایئرپورٹ کی گراؤنڈ سروسز ٹیم میں باقاعدہ طور پر کام شروع کر سکیں گے۔جاپان ایئرلائنزکا کہنا ہے کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ یہ روبوٹس 2027ء کے آخر تک ہنیڈا ایئر پورٹ کے عملی ورک فلو کا باقاعدہ حصہ بن جائیں گے، جو سالانہ 60 ملین سے زائد مسافروں کو سنبھالتا ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو یہ روبوٹس ایئرپورٹ کے نظام کا مستقل حصہ بن جائیں گے۔ بعد ازاں ان روبوٹس کو مختلف کاموں کیلئے استعمال کیا جائے گا، جن میں سامان کی لوڈنگ، کیبن کی صفائی اور حتیٰ کہ گراؤنڈ سپورٹ ایکوئپمنٹ جیسے ٹگس اور فیولرز کو چلانا بھی شامل ہو گا۔ اگرچہ یہ روبوٹس سکیورٹی مینجمنٹ جیسے فرائض انجام نہیں دے سکیں گے، تاہم ایئرلائنز کا خیال ہے کہ یہ انسانی شکل کے روبوٹس افرادی قوت کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔''جی ایم او آرٹیفیشل انٹیلی جنس اینڈ روبوٹکس‘‘ کے صدر توموہیرو اوچیدا، جو اس منصوبے میں ''جال‘‘ کے شراکت دار ہیں، نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایئر پورٹس بظاہر انتہائی خودکار اور معیاری نظام رکھتے ہیں، لیکن ان کے پس پردہ کام اب بھی بڑی حد تک انسانی محنت پر منحصر ہیں اور وہاں شدید افرادی قلت پائی جاتی ہے۔ ''جال‘‘ کے پاس پہلے ہی تقریباً 4ہزار گراؤنڈ اسٹاف موجود ہیں، لیکن جاپان کی بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کی وجہ سے افرادی قوت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔جاپان کی تقریباً 30 فیصد آبادی پہلے ہی 65 سال سے زائد عمر کی ہے، جبکہ ہر 10 میں سے ایک شخص اب 80 سال سے بھی زیادہ عمر کا ہے۔ اس صورتحال کے باعث صرف 60 فیصد آبادی کام کرنے کی عمر میں رہ گئی ہے، اور توقع ہے کہ یہ شرح مزید کم ہو جائے گی کیونکہ بزرگ آبادی بڑھ رہی ہے اور شرحِ پیدائش میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2040ء تک جاپان کو اپنی معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کیلئے 65 لاکھ سے زائد غیر ملکی مزدوروں کی ضرورت ہوگی، کیونکہ مقامی افرادی قوت میں نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے۔اسی دوران جاپان سیاحت کے لحاظ سے پہلے سے کہیں زیادہ مقبول ملک بنتا جا رہا ہے۔ جاپان نیشنل ٹورازم آرگنائزیشن کے مطابق صرف 2026ء کے ابتدائی دو ماہ میں ہی 70 لاکھ سے زائد غیر ملکی سیاح ملک کا دورہ کر چکے ہیں۔ یہ اضافہ گزشتہ سال کے ریکارڈ توڑ 4 کروڑ 27 لاکھ سیاحوں کے بعد ہوا ہے، اگرچہ چین سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔ ان دونوں عوامل کا مجموعہ اب جاپان کے مصروف ہوائی اڈوں کے عملے کیلئے ایک بڑا مسئلہ پیدا کر رہا ہے، جس کے حل کے طور پر روبوٹس کو تیزی سے دیکھا جا رہا ہے۔ انسانی ملازمین کے مقابلے میں ہیومنائیڈ روبوٹس کم لاگت ہیں، وہ سخت جسمانی کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور خطرناک ماحول میں بھی کام کر سکتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ انسانوں جیسی شکل ہونے کی وجہ سے ایئر پورٹس کو اپنے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) میں بڑی تبدیلی کرنے یا انسانی عملے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایئر لائنز نسبتاً مشکل اور جسمانی محنت والے کام روبوٹک عملے کے سپرد کر سکتی ہیں، جبکہ چند انسان نگرانی اور آپریشن کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے موجود رہیں گے۔ اسی طرح کے تجربات فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس میں بھی کیے جا رہے ہیں، جہاں روبوٹس باورچی خانے کے کاموں یا حتیٰ کہ گاہکوں کے ساتھ تعامل (انٹرایکشن) کی ذمہ داری بھی سنبھال سکتے ہیں۔ چین کے شہر شنگھائی میں ہیومنائیڈ روبوٹس ایک ریسٹورنٹ میں کھانے پیش کر رہے ہیں اور صارفین کو تفریح بھی فراہم کر رہے ہیں۔ یہ مشینیں چینی کمپنی کی فراہم کردہ ہیں اور انہیں ایک تجرباتی منصوبے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مستقبل میں روبوٹس فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس میں معمول کے کام سنبھال سکتے ہیں۔

تندرستی:زندگی کی سب سے بڑی نعمت

تندرستی:زندگی کی سب سے بڑی نعمت

تندرستی انسان کی وہ انمول نعمت ہے جس کے بغیر زندگی کی تمام رنگینیاں اور آسائشیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ صحت مند جسم اور توانا ذہن ہی انسان کو زندگی کے خوشگوار لمحات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا موقع دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تندرستی ہزار نعمت ہے، کیونکہ جب انسان بیماری یا کمزوری کا شکار ہو جائے تو دنیا کی ہر سہولت اور خوشی اس کیلئے بے وقعت ہو جاتی ہے۔ موجودہ دور میں، جب مختلف بیماریوں اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، تندرستی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحت کی حفاظت اور اس کی قدر کرنا ہر فرد کیلئے ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔تندرستی کے معنی ہیں صحت کی درستی، خیر و عافیت، آرام، خیریت، درستی اور سلامتی وغیرہ۔صحت کیلئے اردو زبان میں متبادل کے طور پرتندرستی کا لفظ مستعمل ہے۔ یہ لفظ دو الفاظ تن اور درستی کا مرکب ہے۔ اس سے مرادجسم کی وہ کیفیت ہے جو معمول کے مطابق ہو یا جسمانی و ذہنی تندرستی ہے۔ہر انسان کے جسم سے بیماریوں سے لڑنے کی ایک فطری طاقت ہوتی ہے جس کو قوت مدافعت کہتے ہیں۔ اس کے ذریعہ انسانی جسم مختلف امراض سے لڑتا ہے، یہ قوت بچوں اور بوڑھوں میں کمزور ہوتی ہے لہٰذا ان کی صحت پر زیادہ توجہ دینا چاہئے۔بلاشبہ صحت مند زندگی انسان کیلئے انمول نعمت ہے، دنیا کی آسائشیں اورآرام ایک طرف لیکن صحت نہ ہو تو زندگی خوشیوں سے خالی ہوجاتی ہے۔ انسان جب تک صحت مند وتندرست رہتا ہے اپنی زندگی کے خوشگوار لمحات سے محفوظ ہوتا ہے، اگر خدانخواستہ وہ بیمار ہوجائے تو ساری خوشیاں اور زندگی کی آسانیاں خاک میں مل جاتی ہیں۔ تندرستی کو برقرار رکھنے کیلئے جہاں ہمیں غذا وقت پر لینے کی عادت ڈالنا چاہئے، وہیں متوازن غذا لینے کی اہمیت بھی سمجھنی چاہئے۔ کسی دانا کا قول ہے کہ ''انسان اپنے دانتوں سے خود کی قبر کھودتا ہے‘‘۔ یہاں میں متوازن غذا کی وضاحت کرنا مناسب سمجھتی ہوں۔صحتمند اور متوازن غذا کا استعمال، اچھی صحت کو برقرار رکھنے کا نہایت اہم حصہ ہے۔کھانا جلدی جلدی نہیں کھانا چاہیے بلکہ سکون سے چھوٹے چھوٹے لقمے بنا کر اچھی طرح چبا کرکھائیں۔ دانتوں کا کام ہے کھانے کو چبانا، اگر ہم اچھی طرح نہیں چباکرکھائیں گے تو یہ ذمہ داری معدہ پر آجائے گی اور معدہ میں چبانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ماہرین کے بقول تمام بیماریاں معدے کی خرابی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔انسانی صحت کا چہل قدمی سے بہت گہرا رشتہ ہے۔ آج مصروف ترین زندگی میں سے تھوڑا وقت نکال کر ہر انسان چہل قدمی کرکے اپنے جسم کو متناسب رکھ سکتا ہے۔ چہل قدمی ایک ورزش بھی ہے اور یہ آسان عمل ہے جسے ہر عمر کے فرد بآسانی انجام دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے کام خود انجام دیں اور خود کو جسمانی طور پر متحرک اور چست رکھیں۔ماہرین فٹنس کیلئے کی جانے والی چہل قدمی کے بارے میں دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سے تھکن کم ہوجاتی ہے اور بیش از بیش فوائد حاصل ہوتے ہیں ، سب کو ہی اپنے جسموں کو صحت مند رکھنے کیلئے چہل قدمی ضرور کرنا چاہئے۔

جگر گوشے

جگر گوشے

دس سال سے یعنی جس دن سے میری شادی ہوئی ہے، یہی ایک سوال بار بارکسی نہ کسی صورت میں ہمارے سامنے دہرایا جاتا ہے، آپ کے ہاں بچّہ کیوں نہیں ہوتا؟ یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ آپ کے ہاں روٹی ہے؟ گھر ہے؟ روزگار ہے؟ خوشی ہے؟ عقل ہے؟ سب یہی پوچھتے ہیں کہ آپ کے ہاں بچّہ ہے؟ گویا بچّہ ان تمام ضروریاتِ زندگی کا نعم البدل مان لیا گیا ہے، ہم دونوں کو اس سوال سے انتہائی کوفت ہوتی ہے مگر کیا کریں سکون کی خاطر طرح طرح سے اس سوال کو ٹالنا پڑتا ہے۔میرے ایک دوست ہیں ماشاء اللہ سات عدد بچّوں کے باپ ہیں اور آٹھویں کی فکر میں ہیں، ان کے بچّے اکثر بیمار رہتے ہیں، آج ایک کو کالی کھانسی ہے، تو دوسرے کو بخار ہے، تیسرے کو چیچک نکل آئی ہے، تو چوتھے نے سڑک پر گر کر اپنا سر پھوڑ لیاہے، پانچویں کی آنکھیں دکھتی ہیں، تو چھٹا اس بات پر ادھار کھائے ہے کہ کب کسی مہمان کی گود میں بیٹھے اور پیشاب کرے، مگر اس روشن اولاد کے باپ کو صرف ایک ہی غم کھائے جا رہا ہے، اٹھتے، بیٹھتے مجھ سے سوال کرتے رہتے ہیں۔ ''آپ کے ہاں بچّہ کیوں نہیں ہوتا؟‘‘میں اس سوال کے جواب میں اکثر اپنی ڈبڈبائی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاکر نہایت مسکین لہجے میں جواب دیتا ہوں ''کیا بتاؤں نہیں ہوتا‘‘۔ گویا اس حادثہ یا عدم حادثہ کی ذمّے داری مجھ پر نہیں خدا پر عائد ہوتی ہے مگر میرے دوست کی تسلّی اس جواب سے نہیں ہوتی۔ آگے جھک کر بڑے رازدارانہ لہجے میں فرماتے ہیں ''کسی ڈاکٹر کی مدد لیجئے‘‘۔ میں کہتا ہوں ''کیسے لے سکتا ہوں۔ جس ڈاکٹر کے ہاں ہم لوگوں کا علاج ہوتا ہے اس کے ہاں خود کوئی بچّہ نہیں ہے‘‘۔ وہ فوراً گھبرا کر کہتے ہیں ''آپ سمجھے نہیں، میرا مطلب ہے، کسی ڈاکٹر کو دکھایئے، ممکن ہے آپ کے اندر کوئی نقص۔۔۔‘‘میں بات کاٹ کر کہتا ہوں، ''دکھایا ہے۔ کوئی نقص نہیں ہے‘‘۔''اور ہماری بھابی؟‘‘''وہ بھی ٹھیک ہیں‘‘۔''وہ بھی ٹھیک ہیں، آپ بھی ٹھیک ہیں‘‘۔ میرے دوست بڑی حیرت سے کہتے، ''پھر بھی بچّہ نہیں ہوتا۔ حیرت کی بات ہے صاحب؟‘‘ایک اور دوست ہیں ہمارے، انہیں یہ تو شبہ نہیں ہے کہ ہم دونوں میاں بیوی میں خدانخواستہ کوئی نقص ہے مگر وہ یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ ہم لوگ دیدہ ودانستہ بچّہ پیدا نہیں کرتے۔ وہ جب بھی ہمارے گھر آتے ہیں بچّوں کے فوائد پر مختلف زاویوں سے روشنی ڈالتے ہیں۔ البتہ تقریر کرتے وقت انداز سیاستداں کا سا نہیں ہوتا بلکہ ایسے بروکرکا ہوتا جیسے ہمارے ہاں بچّہ ہونے پر ان کو فوراً کمیشن ملے گا۔میں ان سے بہت الجھتا ہوں۔ کیوں کہ مجھے خواہ مخواہ شبہ ہوجاتا ہے کہ بچّہ میں پیدا کروں اور فائدہ ان کو ہوگا۔ جی چاہتا ہے کہ محض ان کو زک دینے کیلئے زندگی بھر کوئی بچّہ پیدا نہ کیا جائے۔ اکثر فرماتے رہتے ہیں، اگر آپ کے گھر کوئی بچّہ ہوتا تو میں اس کی شادی اپنی مْنّی سے کرتا۔ ان کی مْنّی انتہائی بدصورت، بھینگی، بدمزاج، اور مرگھِلی ہے۔ محلّے کے سب بچّوں سے لڑتی رہتی ہے۔ اس کے سر پر بال اس قدر کم ہیں کہ بڑی ہونے پر انشاء اللہ واقعی گنجی ثابت ہوگی۔ مگر یہ حضرت ہیں کہ میرے گھر میں اسی چاند سی بیوی کا اضافہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس مْنّی کو دیکھ کر مجھے نہ صرف اپنے بلکہ ان تمام بچّوں کی خوش قسمتی پر رشک ہوتا ہے جو ابھی پیدا نہیں ہوئے یا جن کے پیدا ہونے کی کوئی امیّد نہیں ہے۔ہمارے ایک تایا ہیں، پچاس برس کی عمر ہونے پر بھی ان کا نام چْھٹن لال ہے۔ تایا چْھٹن لال بچّوں کے بے حد قائل ہیں اور جوں جوں بوڑھے ہوتے جاتے ہیں بچّوں کے زیادہ سے زیادہ قائل ہوتے جاتے ہیں۔ گھر آتے ہی میرے سر پر بڑی شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہیں۔ مجھ پر کم، میری بیوی پر زیادہ۔ پھر ایک آہ سرد بھر کر کہتے ہیں: ''افسوس تمہارے ہاں کوئی بچّہ نہ ہوا، اسے گود میں کھلانے کا ارمان دل ہی میں رہ گیا‘‘۔میں جواب دیتا ہوں ''تایا جی! مجھے ہی گود میں کھلا لیجئے‘‘۔ تو اس پر برہم ہو جاتے ہیں، کہتے ہیں ''تو نہیں جانتا، تو تو احمق ہے، نرا پورا احمق! بچّے تو گھر کی رونق ہوتے ہیں۔ وہ کبھی جھگڑتے ہیں، کبھی ہنستے ہیں، کبھی روتے ہیں، کبھی چلّاتے ہیں، دھول دھپّا کرتے ہیں، بچّوں کے ہونے سے گھر میں عجیب رونق سی رہتی ہے‘‘۔میں کہتا ہوں، ''اس کام کیلئے ہمسائے کے بچّے کیا کافی نہیں ہوتے؟ پھرجہاں تک چیخنے چلاّنے کا تعلق ہے آدمی بچّے کیوں پیدا کرے وہ آل انڈیا ریڈیو کا کوئی ڈرامہ کیوں نہ سن لے۔ جس میں چیخنے چلاّنے کے سوا اور کچھ ہوتا ہی نہیں۔ اس لئے ایک بچّے کوپالنا پوسنا اور اس پر ہزاروں روپے خرچ کرنا کیا ضروری ہے۔ جبکہ یہ کام بہ آسانی ریڈیو کی ایک سوئی گھومانے سے سرانجام دیا جا سکتا ہے‘‘۔

حکایت سعدیؒ:نادانی

حکایت سعدیؒ:نادانی

حضرت سعدیؒ بیان کرتے ہیں، میرے جاننے والوں میں ایک منشی روزگار نہ ملنے سے بہت پریشان تھا۔ ایک دن وہ میرے پاس آیا اور اپنا حال بیان کرنے کے بعد کہا کہ بادشاہ کے دربار میں آپ کی رسائی ہے۔ کسی عہدیدار سے کہہ سن کر کوئی کام دلوا دیں۔ میں نے کہا، بھائی، بادشاہوں کی ملازمت خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔ نان ہاتھ آنے کی امید کے ساتھ جان جانے کا امکان بھی ہوتا۔میں نے یہ نصیحت اس کی بھلائی کیلئے کی تھی لیکن اس نے خیال کیا کہ میں اسے ٹالنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ کہنے لگا، یہ بات ٹھیک ہو گی لیکن جو لوگ ایمانداری اور محنت سے اپنا کام کریں انہیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے! آپ نے سنا ہو گا کہ میلے کپڑے ہی کو دھوبی پٹرے پر مارتا ہے۔میں نے اسے پھر سمجھایا کہ تو ٹھیک کہتا ہے۔ سانچ کو آنچ نہیں، بہت مشہور بات ہے۔ لیکن بادشاہوں اور حاکموں کے بارے میں اس لومڑی کی سی احتیاط برتنی چاہیے جو گرتی پڑتی، بھاگتی چلی جاتی تھی،کسی نے پوچھا کہ خالہ لومڑی کیا مصیبت پڑی ہے جو یوں بھاگی چلی جا رہی ہو؟ لومڑی بولی، میں نے سنا ہے بادشاہ کے سپاہی اونٹ بیگار میں پکڑ رہے ہیں۔ اس نے ہنس کر کہا عجب بے وقوف ہے! اگر اونٹ پکڑے جا رہے ہیں تو تجھے کیا ڈر؟ تو تو لومڑی ہے۔ لومڑی نے جواب دیا، تیری بات ٹھیک ہے لیکن اگر کسی دشمن نے کہہ دیا کہ یہ اونٹ کا بچہ ہے، اسے بھی پکڑ لو تو میں کیا کروں گی؟ جب تک یہ تحقیق ہو گی کہ میں لومڑی ہوں یا اونٹ کا بچہ، میرا کام تمام ہو چکا ہو گا۔ مثل مشہور ہے کہ جب تک عراق سے تریاق آئے گا، وہ بیمار چل بسا ہو گا جس کیلئے تریاق منگوایا گیا ہو گا۔میر ی بات بالکل درست تھی لیکن وہ اپنے خیال پر قائم رہا اور میں نے اس کی حالت کا اندازہ کر کے اسے بادشاہ کے دربار میں ملازمت دلوا دی۔ شروع شروع تو اسے ایک معمولی ساکام ملا لیکن چونکہ آدمی قابل تھا اس لیے بہت ترقی کر گیا اور عزت و آرام کے ساتھ زندگی گزارنے لگا۔کچھ دن بعد میں ایک قافلے کے ساتھ حج کے سفر پر روانہ ہو گیا اور جب اس مبارک سفر سے واپس آیا تو وہ شخص کئی منزل چل کر میرے استقبال کیلئے آیا لیکن میں نے دیکھا کہ اس کی حالت سے پریشانی ظاہر ہوتی تھی۔ حالات پوچھے تو اس نے بتایا کہ مجھے اب معلوم ہوا کہ آپ نے جو بات کہی تھی وہ بالکل ٹھیک تھی۔ میں نے اپنی قابلیت اور محنت سے ترقی کی تو حسد کرنے والوں کو یہ بات بری لگی اور انھوں نے مجھ پر الزام لگا کر قید کر دیا۔ اب حاجیوں کے قافلے کی خیریت سے لوٹنے کی خوشی میں قیدیوں کو آزاد کیا گیا ہے تو مجھے بھی رہائی نصیب ہوئی۔ ورنہ بادشاہ نے تو یہ تحقیق کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہ کی تھی کہ میں گناہ گار ہوں یا بے گناہ۔ میں نے کہا، افسوس !تو نے میری بات نہ مانی میں نے تو تجھے پہلے ہی سمجھایا تھا کہ بادشاہ کا قرب سمندر کے سفر کی مانند ہوتا ہے کہ اس سے انسان کو بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں لیکن ساتھ جان جانے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں بھی بادشاہوں کا قرب حاصل کرنے کی جگہ قناعت اور صبر کی زندگی بسرکرنے کو افضل بتایا ہے۔ ان کے زمانے کے مطلق العنان بادشاہوں کے انداز فکر و عمل کے بارے میں تو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ ان کی ہر الٹی سیدھی بات قانون کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہ بات آج کے صاحب اختیار لوگوں کے بارے میں بھی بالکل درست ہے کہ جب تک پوری صلاحیت اور اہلیت حاصل نہ ہو ان کا قرب خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔

آج تم یاد بے حساب آئے!مجید امجد اُردو کے نامور شاعر (1974-1914ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!مجید امجد اُردو کے نامور شاعر (1974-1914ء)

٭...29 جون1914ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے،اصل نام عبدالمجید تھا۔ ٭... 1930ء میں میٹرک اور 1932ء میں انٹر کا امتحان جھنگ سے نمایاں حیثیت سے پاس کیا۔٭...1934ء میں اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کرنے کے بعد شعبہ صحافت سے کریئر کا آغاز کیا، بعد ازاں سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔٭...1935ء میں رسالہ ''عروج‘‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے اورکافی عرصہ اس سے منسلک رہے۔ ٭...1938ء میں انگریزوں کے خلاف ایک نظم قصریت کی اشاعت کے بعد انہیں اس جریدے کی ادارت سے ہاتھ دھونا پڑے۔٭...1939ء میں ان کی شادی ان کی خالہ کی بیٹی سے ہوئی جو ایک معلمہ تھیں۔ باہمی اختلاف طبع کے باعث یہ شادی زیادہ کامیاب نہ ہو سکی۔٭...1949ء میں محکمہ خوارک میں ملازم ہوگئے۔ 1972ء میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر ساہیوال کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔٭...مجید امجد کو شعروسخن سے فطری لگا ؤ تھا۔ غزل کی نسبت نظم سے زیادہ شغف تھا۔ ٭...مجید امجد کا شمار اردو کے اہم نظم گو شعرا میں ہوتا ہے اور ان کی شاعری میں موضوعات کا بڑا تنوع پایا جاتا ہے۔٭...1958 میں ان کا پہلا مجموعہ کلام ''شب رفتہ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔٭...ان کے کئی شعری مجموعے شائع ہوئے جن میں ''شب رفتہ‘‘، ''شب رفتہ کے بعد‘‘، '' چراغ طاق جہاں‘‘، ''طاق ابد ‘‘اور ''مرے خدا مرے دل‘‘ شامل ہیں۔ ٭...مجید امجد اچھے نثر نگار بھی تھے۔ ان کے کچھ نامکمل مباحث اور کچھ تراجم غیر مطبوعہ تھے جنھیں کلیات نثر مجید امجد کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔٭... ان کی کلیات ''لوح دل‘‘ کے نام سے بھی چھپی ہے۔٭... مجید امجد کا بچپن اور آخری عمر بہت زیادہ تنگی و عسرت اور مشکلات میں گزری، جس کا اثر ان کی شاعری میں بھی ملتا ہے۔٭...11مئی1974ء کو ساہیوال میں انتقال ہوا اور 12مئی کو جھنگ میں دفن ہوئے۔ ٭...ان کے انتقال کے بعد ساہیوال کے مشہور باغ ''کنعاں پارک‘‘ اور ''ساہیوال ہال‘‘ کا نام بدل کر علی الترتیب ''امجد پارک‘‘ اور ''امجد ہال‘‘ رکھ دیا گیا۔ چند اشعارمیں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہےمیں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا٭٭٭٭٭٭٭مسیح و خضر کی عمریں نثار ہوں اس پروہ ایک لمحہ جو یاروں کے درمیاں گزرے٭٭٭٭٭٭٭سلام ان پہ تہ تیغ بھی جنہوں نے کہاجو تیرا حکم جو تیری رضا جو تو چاہے٭٭٭٭٭٭٭ہائے وہ زندگی فریب آنکھیںتو نے کیا سوچا میں نے کیا سمجھا٭٭٭٭٭٭٭میں ایک پل کے رنج فراواں میں کھو گیامرجھا گئے زمانے مرے انتظار میں٭٭٭٭٭٭٭کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کاکوئی نہیں جہاں میں کوئی نہیں کسی کا٭٭٭٭٭٭٭ہر وقت فکر مرگ غریبانہ چاہئےصحت کا ایک پہلو مریضانہ چاہئے٭٭٭٭٭٭٭زندگی کی راحتیں ملتی نہیں ملتی نہیںزندگی کا زہر پی کر جستجو میں گھومیے٭٭٭٭٭٭٭نگہ اٹھی تو زمانے کے سامنے ترا روپپلک جھکی تو مرے دل کے روبرو ترا غم٭٭٭٭٭٭٭دن کٹ رہے ہیں کشمکش روزگار میںدم گھٹ رہا ہے سایۂ ابر بہار میں

آج کا دن

آج کا دن

ڈیپ بلیو کمپیوٹر11مئی1997ء کو شطرنج کھیلنے والا سپر کمپیوٹر ''ڈیپ بلیو‘‘نے مشہور عالمی چیمپئن گیری کاسپاروف کو شکست دی۔ اس کامیابی کے ساتھ ڈیپ بلیو پہلی ایسی کمپیوٹر مشین بن گئی جس نے کلاسیکی میچ فارمیٹ میں کسی عالمی شطرنج چیمپئن کو ہرایا۔ یہ واقعہ مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹر سائنس کی تاریخ میں ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ اس مقابلے نے ثابت کیا کہ مشینیں پیچیدہ حکمتِ عملی پر مبنی کھیلوں میں بھی انسانی ذہانت کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ کانگو میں بھگدڑ2014ء میں آج کے روز جمہوریہ کانگو کے دارالحکومت کنشاسا میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں 15 افراد ہلاک اور 46 زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ ایک فٹ بال اسٹیڈیم میں اس وقت پیش آیا جب پولیس اہلکاروں نے تماشائیوں کے اسٹینڈز میں آنسو گیس پھینکی، جس سے شدید بھگدڑ مچ گئی۔ خوف اور افراتفری کے باعث لوگ ایک دوسرے پر گرتے رہے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ ترکی میں کار بم دھماکے11مئی 2013ء میں ترکی میں کار بم دھماکے ہوئے۔یہ دھماکے صوبہ حاتے میں ہوئے جو شام کی سرحد کے قریب اور مصروف ترین علاقہ ہے۔ سرحدی چوکی سے5کلومیٹر دور64افراد پر مشتمل علاقے ریہانلی میں د و کار دھماکے ہوئے،اس حملے میں تقریباً52افراد ہلاک اور140زخمی ہوئے۔ترک حکومت نے الزام لگایا کہ ان حملوں میں شامی حکوت ملوث ہے۔حملے کے بعد 12ترک شہریوں پر فرد جرم عائد کی گئی۔ شامی حکومت نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا۔سعادت حسن منٹواردو کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ منٹو اردو کے واحد افسانہ نگار ہیں جن کی تلخ مگر سچی تحریریں آج بھی شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ منٹو کے افسانے، مضامین اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت رکھتے ہیں۔ منٹو ایک معمار افسانہ نویس تھے جنہوں نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی۔ ان کے مقبول افسانوں میں ''ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت ‘‘نمایاں ہیں۔ 18جنوری 1955ء کو ان کا انتقال ہوا۔فضائی حادثہ1996ء میں آج کے روز میامی سے روانگی کے بعد والوجیٹ ایئرلائنز کی پرواز 592 کے کارگو ہولڈ میں آگ لگ گئی۔ یہ پرواز اٹلانٹا جا رہی تھی، اور آگ تیزی سے پھیلنے کے باعث ڈگلس ڈی سی -9 طیارہ فلوریڈا کے ایورگلیڈز کے علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔ اس افسوسناک حادثے میں طیارے میں سوار تمام 110 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ سانحہ ہوا بازی کی تاریخ کے بدترین حادثات میں شمار ہوتا ہے اور اس نے فضائی حفاظتی قوانین پر سخت سوالات اٹھائے۔