حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم بحیثیت ایک مبلغ
اسپیشل فیچر
آنحضورؐ نے تبلیغ کی بہت تاکید فرمائی، آپؐ کا ارشادمبارک ہے ’’مجھ سے پیغام سن کر آگے پہنچاؤ چاہے یہ ایک آیت ہی ہو‘‘۔(ترمذی)***********قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ ’’اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجئے۔(تبلیغ) اگر آپ نے ایسانہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت (کافرض) ادا نہیں کیا‘‘۔(سورہ المائدہ آیت67) اس آیۂ مبارکہ میں ایک لفظ بلّغ استعمال ہوا ہے۔ جسکے معنی عربی لغت میں کسی جگہ پہنچنا (پیغام) کسی خبر کا ملنا، متاثر کرنا کسی کو کوئی چیز پہنچا دینا اس نے علم میں بڑا درجہ حاصل کرلیا ،انتہا یا آخری ٹھکانے تک پہنچانا۔ دینی اصطلاح میں اسکے معنی اللہ تعالیٰ کا پیغام افراد تک پہنچانا ہیں تبلیغ کیلئے ایک اور لفظ ابلاغ بھی استعمال ہوتا ہے ۔اس کا مادہ بھی وہی ہے یعنی بلغ ۔ قرآن حکیم میں یہ لفظ استعمال کرکے گویا حکم دیا جارہا ہے کہ جو کچھ آپؐ پر نازل کیا گیا ہے بلا کم وکاست اور بلا خوف آپؐ لوگوں تک پہنچادیں ۔ فقہاء اس سے یہی مراد لیتے ہیں کہ جس چیز کا پیغمبر کو حکم دیا جاتا ہے وہ امت کیلئے بھی فرض بن جاتا ہے ۔ جسکی دلیل عقائد اور عبادات ہیں جو احکام ہی کی شکل میںہیں جنہیں آنحضورؐ نے امت مسلمہ کو پہنچا کر حق نبوت ادا کردیا۔حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ’’جو شخض یہ گمان کرے کہ نبیؐ نے کچھ چھپا لیا اس نے یقینا جھوٹ کہا‘‘۔ (صحیح بخاری) اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ جب قرآن نازل ہورہا تھاتو آیات و سورہ کے نزول کے وقت لفظ قل کئی مقامات پر آیا ہے اگر حضورؐ یہ لفظ قل امت تک نہ بھی پہنچاتے تو آیت کا منشاء ادا ہو سکتا تھا۔( تفصیل کیلئے دیکھئے چاروں قل پارہ30)۔ایک مرتبہ کسی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے سوال کیا کہ کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ وحی کے ذریعے سے نازل شدہ کوئی بات ہے ؟ تو انہوں نے قسم کھا کر نفی فرمائی اورفرمایاالبتہ قرآن کا فہم ہے جسے اللہ تعالیٰ کسی کو بھی عطا فرمادے۔(صحیح بخاری)حجتہ الوداع کے موقع پر آپؐ نے صحابہ کرامؓ کے ایک لاکھ سے زائد کے جم غفیر میں فرمایا’’ تم میرے بارے میں کیا کہوگے؟‘‘جم غفیرنے کہا ہم گواہی دیں گے کہ آپ ؐنے اللہ کا پیغام ہم تک پہنچا دیا اور خیر خواہی فرمائی۔ اسکے بعد آپ ؐنے آسمان کی جانب انگلی اٹھائی اور 3مرتبہ فرمایا یا’’ اللہ میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا تو گواہ رہ!تو گواہ رہ!تو گواہ رہ‘‘۔(صحیح مسلم کتاب الحج)پروفیسر ملرایک جگہ لکھتے ہیں’’اسلام ،دراصل ایک تبلیغی مذہب ہے جس نے اپنے آپ کو تبلیغ کی بنیادوں پر قائم کیا اسی کی قوت سے ترقی کی اور اسی پر اسکی زندگی کا انحصار ہے۔ تبلیغ غیر مسلم اور مسلم دونوں ہی کو ہو سکتی ہے‘‘۔ تبلیغ اسلام کیلئے انکے یہ الفاظ خراج عقیدت سے کم نہیں بلکہ ان لوگوں کو دعوت فکر بھی ہے کہ جن کا یہ متعصبا نہ بیان کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا۔اسلام روحانی ہی نہیں مادی فلاح کا بھی ضامن ہے اس لئے ہر دور میں تبلیغ کی ضرورت رہی ہے۔تبلیغ کے دو اجزاء اہم ہیں (1) نیکی کی اشاعت (2) برائی سے روکنا ۔تبلیغ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کچھ احکام نازل کئے ہیں فرمایا گیا۔ ترجمہ’’تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو نیکی کی دعوت دے بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔(سورہ آل عمران آیت 112)ایک اور مقام پر فرمایا ترجمہ’’تم سب سے اچھی جماعت ہو جو لوگوں کیلئے ظاہر کی گئی ہے تم اچھے کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو‘‘. (سورہ آل عمران آیت110)قرآن حکیم میں11 مقامات پر تبلیغ کا ذکر واضح طور پر آیا ہے۔ جبکہ 25سورتوں کی37 آیتوں میں ضمناً بھی آیا ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے۔’’پیغمبر کے ذمہ تو صرف خدا کا پیغام پہنچانا ہے اور جو کچھ تم ظاہر اور مخفی کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے ‘‘۔ (المائدہ آیت99)آنحضورؐ نے تبلیغ کی بہت تاکید فرمائی، آپؐ کا ارشادمبارک ہے ’’مجھ سے پیغام سن کر آگے پہنچاؤ چاہے یہ ایک آیت ہی ہو‘‘۔(ترمذی)آنحضور ؐ کو سب سے زیادہ عزیز تبلیغ تھی اس کی خاطر آپؐ نے بڑے دکھ جھیلے پہلی وحی کے بعد دوسری وحی کا وقفہ3سال رہا۔ اور اس عرصے میں آپؐ تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہے مگر اب وہ وقت آچکاتھا کہ آپ علی الا علان تبلیغ کریں چنانچہ ارشاد ہوا ترجمہ’’اور تجھ کو جو حکم دیا گیا ہے و اشگاف کردے‘‘۔(سورہ الحجر آیت94) ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا ’’اور اپنے نزدیک کے خاندان والوں کو خدا سے ڈرا‘‘۔(سورہ الشعراء آیت 214)احادیث و تاریخ سے ہمیں جس پہلے تبلیغی اجتماع کا ذکر ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک دن آنحضرت ؐ کو ہ صفاء پر چڑھے اور لوگوں کو پکارا ’’یا معشر القریش‘‘ اس پکار پر قریش جمع ہوگئے تو آپؐ نے فرمایا کہ’’ اے لوگواگر میں تم سے یہ کہوں کہ پہاڑی کے عقب سے ایک لشکر آرہا ہے جو تم پر حملہ کر دے گا تو کیا تم یقین کر لوگے؟ ‘‘سب نے ایک آواز ہو کر ’’یقینا ‘‘کہا کیونکہ آپؐ روزِ اول سے ہی صادق اور امین ہیں ۔ اس پر آپؐ نے فرمایا’’ اب میں یہ کہتا ہوں کہ ایک اللہ پر ایمان لاو ٔ ورنہ تم پر بھی گزشتہ اُمم کی طرح عذاب نازل ہوگا۔ یہ سن کر لوگ بشمول ابو لہب بر ہم ہو کر واپس چلے گئے‘‘۔(صحیح بخاری) چند روز کے بعد آنحضور ؐ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ جو اُس وقت نوعمر تھے سے فرمایا ’’ دعوت کا بندوست کرو‘‘۔پھر خاندان کو مدعو کیا گیا جس میں سب شریک ہوئے۔ کھانے سے فراغت کے بعد آپؐ نے فرمایا کہ ’’ میں وہ چیز لے کر آیا ہوں جو دین اور دنیا دونوں ہی کیلئے کافی ہے(یعنی اسلام ) تو اس کوہ گراں کو اُٹھانے میں کون میری مدد کرے گا؟ ۔ مجمع میں سے صرف حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کھڑے ہو کر کہا میں آپؐ کا ساتھ دوں گا۔آنحضورؐ کی اس تبلیغی دعوت سے مکہ کے لوگ متنفر ہوگئے ۔ یہ لوگ ابتداء ہی سے بت پرست تھے ہبل ان کا خدائے اعظم تھا جو خانۂ کعبہ میں 360بتوں کے ساتھ بلند ترین سطح پر نصب کیا گیا تھا۔یہی بت ان کے حاجت روا اور پیشوا تھے تو وہ خدائے واحد کی عبادت کو کیسے قبول کر لیتے ؟ اس تبلیغ کے بعد مشرک معاشرہ تو آپؐ کی جان کے درپے ہوگیا اور آپؐ کو ایذائیں دینے کے نت نئے طریقے اور منصوبے بنانے لگا۔ان ایذاؤں اور مصائب کی جھلکیاں ان تاریخی واقعات میں دیکھئے جو سیرت النبی سے ماخوذ ہیں ۔عقبہ بن معیط حضورؐ کا بڑا جانی دشمن تھا اس نے خانہ کعبہ میں آپؐ کو نماز پڑھتے دیکھ کر شانوں پر اونٹ کی اوجھ لاکر رکھدی یہ عقبہ ابوجہل کی شہ پر آیاتھا۔ایک مرتبہ آنحضورؐ ذوالمجاز کے بازار میں تبلیغ دین کر رہے تھے تو ابوجہل آپؐ پر مسلسل خاک پھینکتا رہا اور کہتا رہا اس کے فریب میں نہ آنا یہ جھوٹ کہتا ہے۔ حرم کعبہ میں نماز کے دوران عقبہ نے آپؐ کی گردن پر چادر سے پھندہ لگا کرزور سے کھینچنا شروع کردیا۔ اتفاقاً اس وقت حضرت ابو بکر صدیقؓ حرم میں داخل ہوئے اور عقبہ سے چھڑاتے ہوئے کہا کہ تم اس شخص کو مارتے ہو جو تمہیں کہتا ہے کہ صرف ایک خدا کی عبادت کرو؟ابوجہل،ابولہب،اسودبن یغوث،حارث بن قیس، ولید بن مغیرہ،امیہ بن خلف،نصر بن حارث یہ تمام لوگ آپؐ کے پڑوسی تھے اور صاحب اقتدار بھی ۔اہل مکہ پر آپؐ کی تبلیغ کا اثر نہ ہوا تو آپؐ نے ارادہ فرمایا کہ تبلیغ کا کام کسی اور شہر میں کیا جائے چنانچہ آپؐ طائف تشریف لے گئے آپؐ کے ساتھ صرف زیدبن حارثہ ؓ تھے ۔ طائف میں بڑے بڑے امراء اور رئیس رہا کرتے تھے۔ ان میں عمیر کا خاندان ان سب کا رئیس تھا ۔وہ تین بھائی تھے۔ عبدیالیل، مسعوداور حبیب آپؐ ان تینوں کے پاس علیٰحدہ علیٰحدہ گئے اور دین کی دعوت پیش کی ان تینوں نے گستاخی کی اور اسی پر اکتفا نہ کیا آپؐ پر چاروں طرف سے پتھر برسانے شروع کردئے جس سے آپؐ لہولہان ہوگئے جو تیاں خون سے چپک گئیں۔ آخر کار آپؐ نے عتبہ بن ربیعہ کے انگوروں کے باغ میں پناہ لی اس نے آپؐ کی یہ حالت دیکھ کر اپنے غلام عداس کے ساتھ انگوروں کا تحفہ بھیجا تھا اس واقعہ پر سرولیم میورنے خوبصورت تبصرہ کیا ہے اس نے لکھا کہ یہ محمد کا زور اعتماد تھا کہ وہ باوجود مکہ میں تمام ناکامیوں کے تنہا ایک مخالف شہر میں آگئے۔اسلام تبدریج طلوع ہورہاتھا سردارانِ قریش خائف تھے کہ کہیں ان سے یہ سرداری اور مال وثروت نہ چھن جائے چنانچہ انہوںنے طے کیا کہ آپؐ کو خاندان کے ہمراہ شعب ابو طالب میں محصور کردیا جائے۔ چنانچہ آپؐ 3سال تک وہاں محصوررہے اس دوران سختی کا یہ عالم تھا کہ جو شخص آپؐ کو کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرے گا اسے قتل کردیا جائیگا۔ روض الا نف میں لکھا ہے کہ سعد بن وقاصؓ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ سو کھا ہو اچمڑا ہاتھ آگیا میں نے اسکو دھویا پھر آگ پر بھونا اور پانی میں ملا کر کھا لیا۔ کچھ صحابہؓ کا بیان ہے کہ ہم نے طلح کے پتے کھا کر گزارہ کیا۔آنحضرت ؐ کا معمول تھا جب حج کا زمانہ آتا اور ہر طرف سے مکہ میں آنے والے قبائل کے پاس جاتے اور ان پر اسلام کی تبلیغ کرتے نیز عرب میں جہاں جہاں میلے لگتے ان میں آئے ہوئے قبائل پر اسلام کی تبلیغ فرماتے ۔ان مقامات پر آپؐ کے ساتھ ہمیشہ ہتک آمیز رویہ اور ایذار سانیوں کا سلسلہ جاری رہتا تھا ایسے ہی ایک موقع پر حضرت خباب ؓ نے عرض کیا حضورآپؐ انکے لئے بددعا کیوں نہیں فرماتے؟ یہ سن کر آپؐ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور فرمایا’’ تم سے پہلے وہ لوگ گزرے ہیں جن کے سرپر آرے چلائے جاتے اور چیرے جاتے تھے وہ اپنے فرض سے بازنہ آئے خدا اس کام کو پورا کرے گا یہا ںتک شترسوار صنعاء سے حضرِموت تک سفر کرے گا اور اسے خداکے سوا کسی کا ڈر نہ ہوگا‘‘۔٭…٭…٭