طہارت و پاکیزگی کی اہمیت
اسپیشل فیچر
طہارت و پاکیزگی اسلام کے اولین احکام میں سے ہے۔ اسلام میں اس کی بہت اہمیت و فضیلت ہے اسی لئے تو طہارت ،پاکیزگی کو فرض قرار دیا گیا ہے۔ طہارت جسمانی ہوتی ہے روحانی بھی اور ذہنی بھی۔ اللہ کے محبوب کریم ؐنے یہاں تک ارشاد فرمایا کہ’’ اسلام کی بنیاد صفائی و پاکیزگی پر رکھی گئی ہے‘‘۔ اس لئے تمام عبادات کرنے سے پہلے خاص قسم کی طہارت پاکیزگی کا اہتمام کرنا لازم ہے۔ اسلام نے طہارت وپاکیزگی کے اصول مقرر کر دئیے ہیں ۔ سرکار دوعالم ؐنے اپنی تعلیمات کے ذریعے ان کی حدود بھی مقرر فرما دی ہیں۔ جس طرح نفس کی پاکیزگی ایک بہت بڑی نعمت ہے اسی طرح جسمانی پاکیزگی بھی گراں قدر نعمت ہے اور انسان پر اللہ کی نعمت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک انسان کا نفس اور اس کا جسم دونوں ہی پاکیزگی و طہارت کیلئے تیار نہیں ہوں گے۔ نماز جو سب سے اہم اور فرض عبادت ہے اس کی درست ادائیگی کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ نمازی کا بدن ،کپڑے اور نماز پڑھنے کی جگہ ہر قسم کی نجاست اور آلودگی سے پاک ہوں۔ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے ۔ترجمہ:’’ مومنو!جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کیا کرو تو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پائوں( دھو لیا کرو ) ہو تم جنابت (کی حالت) میں تو غسل کرو‘‘۔(سورۃ المائدہ،6)نماز کی تیاری کیلئے پاک صاف لباس زیب زینت اختیار کرنا پسند کیا گیا ہے اور اللہ کے گھروں یعنی مساجد میں پاک صاف لباس اور قلبی پاکیزگی کے ساتھ داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے، ترجمہ :’’ اے اولاد آدم!تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنے آپ کو (صاف ستھرے لباس سے)مزین کیا کرو۔‘‘(سورۃ الاعراف :31)غسل انسان کی جسمانی طہارت وپاکیزگی کیلئے جامع مکمل اور ہمہ گیر عمل ہے ۔اللہ کے رسول کریمؐ نے ہمیں ہمیشہ پاک وصاف رہنے کی تلقین فرمائی ۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آپؐ خود ظاہری و باطنی پاکیزگی کے لحاظ سے پوری امت مسلمہ کیلئے بہترین نمونہ ہیں ۔آپؐ کا لباس مبارک ہمیشہ پاک وصاف ہو تا تھا اور ہر مسلمان کیلئے بھی یہی حکم ہے کہ وہ پاک وصاف لباس زیب تن کرے۔ اہل عرب پانی کی کمی کی وجہ سے بہت کم نہاتے تھے اور ان کے لباس عموما موٹے کپڑے کے ہوا کرتے تھے اور جب یہ محنت مزدوری کرتے تو پسینے میں شرابور ہو جاتے تھے۔ چونکہ وہ ایک لباس کئی دنوں تک پہنے رکھتے تو جب وہ مسجد میں آتے تو ان کے لباس او رجسموں سے بہت بد بو آتی تھی تو اس پر اسلام نے ہفتے میں ایک دن جمعہ کے روز غسل کرنے کو واجب قرار دے دیا ۔چنانچہ اللہ کے رسول پاکؐ نے فرمایا کہ’’ جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ پر ضروری ہے۔‘‘ طہارت و پاکیزگی اللہ اور اس کے رسول پاک ؐ کو بہت پسند ہے اور یہ ان کی محبت اور حصول رضا کا ذریعہ ہے۔ اللہ نے اپنے بے مثال کلام مقدس میں اس کا یوں ذکر فرمایا ،ترجمہ :’’بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک وصاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔‘‘ (البقرہ)اہل عرب کو دوسری وحشی قوموں کی طرح طہارت و پاکیزگی کی کوئی تمیز نہ تھی۔ ایک مرتبہ ایک بدو نے مسجد نبوی ؐ میں آکر سب کے سامنے گندگی کر دی یہ دیکھ صحابہ کرام ؓ اس کو مارنے کے لئے دوڑے تو نبی کریم ؐ نے ان کو روکا اور اس بدو کو اپنے پاس بلا کر نہایت شفقت سے فرمایا کہ’’ یہ نماز پڑھنے کی جگہ ہے ،یہاں گندگی نہیں کرتے‘‘ اور پھر صحابہ کرام ؓ سے ارشاد فرمایا کہ’’ یہاں پانی بہا دو‘‘ اس تعلیم نے جوصرف نماز کیلئے دی گئی تھی اہل عرب اور عام مسلمانوں کو پاک وصاف رہنے کا خوگر بنا دیا اور طہارت و پاکیزگی کے وہ آدا ب سکھائے کہ جن سے آج کی بڑی بڑی متمدن قومیں بھی نہ آشنا ہیں۔نبی کریم ؐنے اپنے غلاموں کو نجاستوں سے اپنے بدن ،گھروں ،دلوں کو لباس کو مسجدوں کو پاک وصاف کرنے کاحکم دیا ۔آپؐ کے صحابہ کرامؓ ؓطہارت و پاکیزگی کا خصوصی اہتمام فرمایا کرتے۔اسلام نے طہارت و پاکیزگی کو اللہ کی رضا کا ذریعہ ٹھہرایا تو اس عظیم نعمت سے کون کلمہ پڑھنے والا محروم ہو نا پسند کرتا ہے۔ نماز ادا کرنے والا ہر ایک نمازی اپنے بدن اپنے کپڑے پاک وصاف رکھتا ہے اسی طرح زندگی کے دیگر معمولات میں بھی وہ صفائی پاکیزگی کا خاص خیال رکھے گا ۔سرکاردوعالم ؐنے فرمایا’’ جب کوئی شخص سو کر اٹھے تو جب تک تین بار ہاتھ نہ دھو لے اسے پانی کے برتن میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہیے‘‘۔ اسی طرح اسلام نے دانتوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنے کا حکم بھی دیا ہے کیونکہ دانت نہ صاف کرنے سے بہت سی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ نبی اکرم ؐنے مسواک کی اتنی تاکید فرمائی کہ وہ واجب ہونے کے قریب ہو گئی۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ’’ اگر میری امت پر شاق نہ گزرتا تو میں مسواک کو ضروری قرار دیتا‘‘۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر لمحہ اپنے حبیب کریم ؐ کی محبت میں گم فرما دے اور اسلام کے ان مقدس اصولوں پر ہر ہر لمحہ عمل کرنے والا بنا دے۔ زندگی کے ایک لمحے کا کچھ معلوم نہیں اگر ہم ناپاک رہے یا پاک وصاف نہ رہے، کیا خبر اسی لمحے ہماری موت آجائے تو کتنا افسوس کا مقام ہے کہ رسول ؐاللہ کا کلمہ گو اس دنیا سے حالت ناپاکی سے رخصت ہو گیا ۔اسلام نے تو ہمیں موت کے بعد بھی پاک و صاف حالت میں غسل کے بعد قبر میں دفن کرنے کا حکم دیا ہے کہ جب نبی پاک ؐ کا امتی اپنی قبر میں جائے تو وہاں بھی پاک وصاف ہو ۔ اللہ ہمیں اسلام کی تعلیمات پر اپنی زندگی بسر کرنے کی تو فیق عطا فرمائے۔ آمین ٭…٭…٭