نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:تاجروں اورایف بی آرکےدرمیان مذاکرات کامیاب
  • بریکنگ :- تاجروں کیساتھ بیٹھ کرتحفظات دورکرنےکیلئےتیارہیں،قیصراقبال
  • بریکنگ :- پوائنٹ آف سیلز،سیلزٹیکس ترمیمی آرڈیننس پرتاجروں میں پھوٹ پڑگئی
  • بریکنگ :- اسلام آباد:مرکزی تنظیم تاجران کاہڑتال مؤخرکرنےکااعلان
  • بریکنگ :- آل پاکستان انجمن تاجران کا 29 ستمبرکوایف بی آرکاگھیراؤکرنےکااعلان
  • بریکنگ :- پوائنٹ آف سیل پرڈیوائس لگانےکی اجازت نہیں دیں گے،اجمل بلوچ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:سیلزٹیکس رجسٹریشن کومستردکرتےہیں،اجمل بلوچ
  • بریکنگ :- آئی ایم ایف کاوزیرخزانہ کسی صورت قابل قبول نہیں،اجمل بلوچ
  • بریکنگ :- ایف بی آرتاجروں کوہراساں کرنےکاعمل بندکرے،اجمل بلوچ
  • بریکنگ :- ایف بی آرسےمذکرات میں تحفظات دورہوگئے،کاشف چودھری
  • بریکنگ :- ایف بی آرہیڈکوارٹرزسےلیکرنچلی سطح تک کمیٹیوں کوفعال کیاجائےگا،کاشف چودھری
  • بریکنگ :- 27 ستمبرکی ہڑتال کی کال مؤخرکرتےہیں،کاشف چودھری
  • بریکنگ :- اسلام آباد:تاجروں نے 27 ستمبرکی ہڑتال مؤخرکرنےکااعلان کردیا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:ہمارےتحفظات دورہوگئے،تاجررہنماؤں کااعلان
  • بریکنگ :- سیلزٹیکس چھوٹےتاجرکامسئلہ نہیں،ممبرآپریشن ایف بی آرقیصراقبال
  • بریکنگ :- بجلی کےبل پرعائدٹیکس کااطلاق چھوٹےتاجرپرنہیں ہوگا،قیصراقبال
  • بریکنگ :- وہ لوگ جوٹیکس نہیں دےرہےانہیں ٹیکس نیٹ میں لارہےہیں،قیصراقبال
Coronavirus Updates

فقیرخانہ: تبرکات اور نوادرات سے مالا مال عجائب گھر

فقیرخانہ: تبرکات اور نوادرات سے مالا مال عجائب گھر

اسپیشل فیچر

تحریر : شیخ نوید اسلم


شہر لاہور کی عظمت و شوکت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں اسلامی تبرکات کے آثار بھی موجود ہیں۔ تبرکات مقدسہ کا ذکر خیر بھی ان ہی بیش قیمت آثار کے ذیل میں آتا ہے لاہور میں یہ آثار دو مقامات پر ہیں بازار حکیماں کے فقیر سید مغیث الدین بخاری کے دارالنور میں اور بادشاہی مسجد کے صدر دروازے کی گیلری میں۔ ان تبرکات مقدسہ کی تاریخ صدیوں پرانی ہے ۔بھاٹی دروازے سے قدیم لاہور میں داخل ہوں تو کچھ فاصلے پر دائیں جانب ایک بڑی سی حویلی نظر آتی ہے، اسے ’’فقیرخانہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس عمارت کو لاہور کا دوسرا بڑا عجائب خانہ تسلیم کیا گیا ہے۔ یہیں دربار عالی ہے جوکہ فقیر خانہ کا ایک حصہ ہے جہاں تبرکات اپنی اصلی حالت میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔ان تبرکات کی تعداد ستائیس ہے۔ متولی فقیر سید مغیث الدین بخاری مرحوم نے ہزاروں روپے کے تصرف سے دربار عالی تعمیر کیا۔ ان تبرکات میں حضور نبی کریمﷺ کا موئے مبارک، چادر، تسبیح، مسواک، کفشس اور جائے نماز شامل ہیں۔ کچھ تبرکات حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت امام حسین، حضرت امام حسن، حضرت امام زین العابدین، حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرۃ اور حضرت سید شیخ عبدالقادر جیلانی سے منسوب ہیں۔ یہاں چار تبرکات ایسے ہیں جو خاندان فقرا کو اپنے مورث اعلیٰ حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت بخاری سے ورثے میں ملے ہیں باقی تمام تبرکات وہ ہیں جو شاہ محمد باز سے فقیر سید نور الدین نے تین لاکھ روپے کے عوض حاصل کرکے انہیں ایک خاص عمارت میں محفوظ رکھا اور ان کی دیکھ بھال کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے تقریباً آٹھ لاکھ کی جائیداد بھی وقف کی۔ فقیر خانہ عجائب گھر، میں سات ہزار نوادرات موجود ہیں ۔اس کے علاوہ چھ ہزار سکے بھی ہیں۔ سکوں کو ملا کر ان کی تعداد تیرہ ہزار کے لگ بھگ بن جاتی ہے تبرکات اور نوادرات کی تاریخ بہت پرانی ہے خاندان فقراء کے بزرگ وزیر فقیر سید نورالدین نے1853ء میں لارڈ لارنس کی فرمائش پر ان تبرکات کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور ان کی تفصیل فارسی زبان میں قلمبند کی۔ یہ سادات خاندان اٹھارویں صدی میں اوچ شریف سے چونیاں اور پھر لاہور آ کر آباد ہوا۔ اس دور میں انہوں نے بھاٹی گیٹ سے باہر ایک مدرسہ قائم کیا جہاں دینی اور دنیاوی تعلیم دی جاتی تھی یہ تکیہ غلام شاہ کے نام سے مشہور تھا۔ لاہور کے معززین نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کو خط لکھا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں اور ہر قسم کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں اس کے بعد ان بزرگوں میں طبیب بھی تھے، مہاراجہ رنجیت سنگھ کی آنکھیں خراب ہوئیں اور اس بیماری سے اس کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی جب دوسری آنکھ خراب ہونے لگی تو اس نے شاہی حکماء کو علاج کے لیے طلب کیا ان میں خاندان سادات کے بزرگ حکیم فقیر سید غلام محی الدین بھی تھے جنہوں نے رنجیت سنگھ کو بتایا کہ ان کے بیٹے فقیر سید عزیز الدین ان کا علاج کرینگے ان کے ہمراہ حکیم حاکم رائے اور حکیم بشن داس بھی تھے۔ جب مہاراجہ کا علاج شروع ہوا تو فقیر سید عزیزالدین کی شخصیت سے متاثر ہو کر مہاراجہ نے ان سے کہا کہ وہ حکومتی معاملات میں بھی اس کی معاونت کریں۔ سید عزیزالدین دیوان تھے وہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی عدالت میں رہے مہاراجہ ان کی خدمات سے متاثر ہوا۔ فقیر سید عزیزالدین کے ساتھ ان کے دو چھوٹے بھائی فقیر سید امام الدین اور فقیر سید نورالدین بھی تھے، ان کی ذہانت سے متاثر ہو کر فیقر سید نورالدین کو لاہور کا گورنر مقرر کر دیا گیا یہ بھی سب دیوان تھے اس دور میں زیادہ نوادرات اکٹھے ہوئے تبرکات تو خاندانی طور پر ورثہ میں چلے آ رہے تھے۔ فقیر سید نورالدین نے تقریباً 7 ہزار کتب جمع کیں جن کا ثبوت تاریخ سے ملتا ہے پھر یہ نوادرات ورثہ کی طرح اولاد میں تقسیم ہوتے رہے اور اس میں سے کچھ انمول خزانہ ضائع بھی ہوا جو کتابں، نوادرات اور تبرکات بچے انہیں فقیر خانہ میں جمع کر دیا۔ سید نورالدین نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں پینٹنگز کی ایک نمائش کرائی جس میں لکھنؤ کانگڑہ اور جموں و کشمیر کے علاقہ سے بیشمار مصوروں کی پینٹنگز لائی گئیں آج بھی کئی پینٹنگز انہی سے منسوب ہیں اس کے علاوہ کتابیں، ظروف بہت اہم شاہکار ہیں۔ گندھارا تہذیب کے نوادرات میں تاریخی سکے بھی موجود ہیں لکڑی کے ہاتھی دانت کی مصنوعات، پیتل اور تانبے کے کئی شاہکار بھی موجود ہیں فرنیچر کے علاوہ اسلامک آرٹ یا کیلی گرافی کے بہت سے نمونے اس عجائب گھر میں موجود ہیں۔‘‘ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں لاہور میں ایک سو سات خطاطی کے سکول تھے اس لیے ہر قسم کی پینٹنگز اس عجائب گھر میں موجود ہیں نوادرات کا یہ خزانہ نسل در نسل منتقل ہونے کے باوجود بالکل محفوظ ہے فقیر سید نورالدین نے اپنے بیٹے قمرالدین کو دیا اور انہوں نے اپنے بیٹے فقیر سید جلال الدین کو دیا اور اس میں اضافہ بھی کیا۔ اس کے بعد سید جلال الدین نے اپنے بیٹے فقیر سید مغیث الدین کو دیا اس وقت ان کے بیٹے فقیر سید سیف الدین اس عجائب گھر کے انچارج ہیں۔نوادرات سے محبت ان کے خاندان کے خون میں رچی بسی ہوئی ہے فقیر سید نورالدین کے بعد یہ نوادرات جس کے حوالے ہوئے اس نے نہ صرف پوری ذمہ داری سے ان کی حفاظت کی بلکہ اس میں اضافہ بھی کیا۔ اس طرح تقریباً اڑھائی سو سال سے یہ خاندان ان تبرکات کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔1901ء میں فقیر خانہ کو عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا آج بھی دنیا کے خطہ سے لوگ اس کو دیکھنے آتے ہیں۔ فقیر خانہ میں سیاحوں کی جو ڈائری رکھی گئی ہے اس کے مطابق اب تک تین لاکھ سے زائد افراد اس عجائب گھر کو دیکھ چکے ہیں فقیر سید سیف الدین نے بتایا کہ ان کے والد فقیر سید مغیث الدین کے پاس نوادرات کا ایک بڑا خزانہ موجود تھا، جگہ نہ ہونے کے باعث بیشتر سامان آج بھی بند پڑا ہے۔1974ء میں سید مغیث الدین نے500 سے زائد نوادرات لاہور عجائب گھر کو بطور امانت دے دیئے تاکہ محفوظ رہیں اور خاص و عام ان سے مستفید ہو سکیں۔ فقیر سید مغیث الدین کے انتقال کے بعد ان کی بیگم کشور جہاں نے فقیر خانہ عجائب گھر کی اپنے بچوں کی طرح حفاظت کی۔ ایک ایک چیز کو اس کی اصلی حالت میں رکھنا، موسمی اثرات اور دیمک سے محفوظ رکھنا بڑے بڑے اداروں کے بس میں نہیں لیکن بیگم فقیر سید مغیث الدین نے بڑی جانفشانی سے ایک ایک چیز کی حفاظت کی اور ان کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فقیر خانہ عجائب گھر ہر خاص و عام کے لیے کھلا ہے سکالر، محقق، سیاح، طالب علم اور مورخ بھی اس عجائب گھر کو دیکھنے آتے ہیں۔ یہ پاکستان میں ذاتی نوعیت کا واحد عجائب گھر ہے تبرکات کے علاوہ یہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت میں ہونے والی عدالتی کارروائیوں کی تفصیلات اور ان کے فرامین بھی موجود ہیں۔ چار سو سال قبل ازمسیح کے سکے اور گندھارا آرٹ کے نمونے بھی موجود ہیں فقیر سید سیف الدین نے بتایا کہ آج بھی اگر انہیں پتہ چلے کہ نوادرات کہیں سے مل سکتے ہیں تو وہ کوشش کرتے ہیں کہ اسے فقیر خانہ کی زینت بنایا جائے۔ یہاں آنے والوں کو ایک ایک چیز کے بارے میں تفصیلات بتائی جاتی ہیں۔(پاکستان کے آثارِ قدیمہ)٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
پٹیالہ گھرانے کا ہونہار سپوت گلوکار اسد امانت علی خان

پٹیالہ گھرانے کا ہونہار سپوت گلوکار اسد امانت علی خان

گائیکی کی ہر صنف مہارت سے گانے والے کلاسیکل گائیک کے یوم پیدائش پر خصوصی تحریرپٹیالہ گھرانے کے چشم و چراغ اسد امانت علی خاں کسی تعارف کے محتاج نہیں، ان کے گائے ہوئے گیت ان کی پہچان ہیں۔ کافی ''عمراں لنگھیاں پبّاں بھار‘‘ ہو، غزل ''انشا جی اٹھو‘‘ ہو یا فلمی گیت ''کیا گلبدنی‘‘ گائیکی کی تمام اصناف میں ان کی مہارت نظر آتی ہے۔ کلاسیکی موسیقی کے اس عظیم گائیک کا آج چھیاسٹھواں یوم پیدائش ہے۔ 25 ستمبر 1955ء کو مایہ نازگائیک استاد امانت علی خاں کے گھر آنکھ کھولی، وہ استاد فتح علی اور استاد حامد علی خان کے بھتیجے اور شفقت امانت علی خان کے بڑے بھائی تھے۔اسد امانت علی خان کی شکل اپنے پڑدادا علی بخش جرنیل سے بہت مشابہہ تھی۔ ریڈیو پاکستان ریسرچ سیل میں علی بخش جرنیل کی ایک تصویر آویزاں ہے۔ اْس تصویر کی جھلک اسد میں موجود تھی۔ اسد امانت علی خان نے موسیقی اپنے دادا اختر حسین اور چچا استاد فتح علی خان سے سیکھی۔ انہوں نے اپنی گائیگی کا آغاز 10 سال کی عمر سے کیا۔ ان کا پہلا گاناان کے دادا اختر حسین کے البم میں شامل کیا گیا تھا تاہم انہوں نے اپنے میوزیکل کریئر کا باضابطہ آغاز ''ٹھمری‘‘ گا کر اس وقت کیا جب ان کی عمر تقریباً 18 برس تھی۔ ان کی آواز نہایت قد آور، رینج دار اور اپنے والد استاد امانت علی خان کی طرح سوز و گداز میں ڈوبی ہوئی تھی۔ انہیں گائیکی کی تمام اصناف گانے پر عبور حاصل تھا۔ وہ غزل، گیت، ٹھمری، لوک گیت اور دیگر اصناف کی گائیکی میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ شروع میں اپنے والد استاد امانت علی خان مرحوم کی آواز میں گائے ہوئے آئٹم گا کر خوب داد سمیٹی۔ خصوصاً اْن کی گائی ہوئی غزل ''انشا جی اْٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کا لگانا کیا‘‘ گا کر سامعین کا دل موہ لیا کرتے تھے۔اسد امانت علی خان کی کافی ''عمراں لنگھیاں پبّاں بھار‘‘بھی بہت مشہور ہے جسے وہ نہایت ڈوب کر گایا کرتے تھے اور اسے گاتے ہوئے وہ اکثر آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے۔ جس محفل میں وہ گاتے سامعین اْن سے یہ کافی ضرور سنتے۔انہوں نے 1974ء میں اپنے والد کی موت کے بعد باقاعدگی سے پی ٹی وی پر پرفارم کرنا شروع کردیا تھا مگر اپنے والد کے برعکس اسد نے اردو فلموں کے لیے بھی بطور پلے بیک سنگر گانا شروع کیا۔ کئی فلموں کے لیے نغمات ریکارڈ کروائے اور ان کے جونغمے مقبول ہوئے ان میں فلم ''ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ کا گیت ''کیا گلبدنی، کیا گلبدنی، کیا گلبدنی ہے‘‘ اور فلم ''آواز‘‘ کا گیت ''تو مرے پیار کا گیت ہے‘‘ نمایاں ہیں۔ان کے دیگر معروف گیتوں اور غزلوں میں غم تیرا ہم نے، ذرا ذرا دل میں درد ہوا اور کل چودھویں کی رات تھی، شامل ہیں۔شوبز حلقوں کے مطابق اسد امانت علی خان بحیثیت انسان نہایت باادب، یاروں کے یار اور دید لحاظ والے انسان تھے۔ جگت بازی کے عادی تھے، جہاں بیٹھ جاتے محفل کشتِ زعفران بن جایا کرتی تھی۔مایہ نازگائیک استاد امانت علی خاں کے صاحبزادے اور استاد علی بخش کے پوتے اسد امانت علی خان کو موسیقی کی دنیا میں ان کی خوبصورت آواز پر تمغہ حُسن کارکردگی سے نوازا گیا۔وہ حضرت امام حسینؓ کے عاشق تھے، سوز و سلام پڑھتے ہوئے ان پر رقت طاری ہو جایا کرتی تھی اور روتے روتے سلام پیش کرتے تھے۔وہ غزل کنسرٹس کے لیے مقبول تھے اور اپنی مشہور غزلیں، فلمی گانے اور وہ جو ان کے والد کی تھیں، گاتے تھے۔ 2006ء میں پی ٹی وی میں ایک کنسرٹ کے دوران انہوں نے اختتامیے کے طور پر انشاء جی اٹھو گائی۔ اتفاقاً یہ ان کا آخری کنسرٹ ثابت ہوا اور انشاء جی اٹھو وہ آخری گانا تھا جو انہوں نے عوام کے سامنے پرفارمنس کے دوران گایا۔چند ماہ بعد ہی اسد کا انتقال ہوگیا۔ اسد کی عمر بھی موت کے وقت اپنے والد کی طرح 52 سال تھی۔ بیٹی کے ساتھ کرکٹ کھیلنے میں مشغول تھے، گیند زمین سے اٹھانے کے لیے جْھکے تو پھر اْٹھ نہ سکے۔

انسان کے متعلق حیران کن معلومات

انسان کے متعلق حیران کن معلومات

انسان ایک رات کی نیند میں ساڑھے چھ ہزار مرتبہ سانس لیتا ہے ۔انسان دو ہفتوں تک بغیر کھائے تو زندہ رہ سکتا ہے لیکن اگر وہ صرف دس دن کے لئے بھی نہ سوئے تو اس کی موت واقع ہو سکتی ہے ۔ہماری ناک کا سائز ہمارے انگھوٹھے کے سائز کے برابر ہوتا ہے ۔پیدائشی اندھے لوگ بھی خواب دیکھتے ہیں ،لیکن وہ تصویر یں نہیں بلکہ صرف خوشبو، جذبات اور چھونے کے احساسات کو استعمال کرتے ہیں۔ انسانی آنکھ کو اندھیرے سے مکمل عادی ہونے کے لیے تقریباًایک گھنٹہ لگ سکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ پرانے زمانے کے ڈاکواپنی ایک آنکھ پر پٹی باندھے رکھتے تھے اور جب اندھیرے میں جاتے تھے تو پٹی اتار دیتے تھے ،چونکہ ان کی ایک آنکھ پہلے سے ہی اندھیرے کی عادی ہو چکی ہوتی ہے اس لئے انہیں اندھیرے میں دیکھنے کے لئے زیادہ پریشانی نہیں ہوتی تھی۔انسانی جسم کی سب سے بڑی ہڈی ران کی ہڈی ہوتی ہے اور اس کے بعد ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ایک حالیہ تحقیق کے مطابق عورتیں سب سے زیادہ سانپوں سے اور مرد سب سے زیادہ دفن ہونے سے ڈرتے ہیں۔انسانی جسم میں سب سے سخت چیز اس کے دانتوں کے اوپر کی پالش ہے ۔جب ہم بولتے ہیں تو تقریباً ستر اعضا ء حرکت کرتے ہیں ۔انسانی جسم میں تقریباً پچیس لاکھ مسام ہوتے ہیں۔ انسانی دماغ میں نوے فیصد پانی ہوتا ہے ۔انسانی دماغ ایک سو واٹ بلب جتنی توانائی سے چلتا ہے۔

مہاشیر:پاکستان کی قومی مچھلی ,نایاب ہوتی نسل کو بچانے کیلئے 80ایکڑ رقبہ مختص

مہاشیر:پاکستان کی قومی مچھلی ,نایاب ہوتی نسل کو بچانے کیلئے 80ایکڑ رقبہ مختص

جس طرح پاکستان کا قومی کھیل, قومی زبان , قومی پھول , قومی جانور اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے قومی کرداروں کی درجہ بندیاں کی گئی ہیں اسی طرح سمندری مخلوق کی سب سے اہم مخلوق یعنی مچھلیوں کی بھی درجہ بندی کرتے ہوئے ''مہاشیر مچھلی‘‘ کو پاکستان کی قومی مچھلی قرار دیا گیا ہے۔ابھی حال ہی میں جب سیکرٹری جنگلات و فشریز کا یہ تشویش ناک بیان پڑھا کہ پاکستان کی قومی مچھلی مہاشیر نہ صرف کم ہوتی جارہی ہے بلکہ ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ جہاں ایک طرف یہ بیان باعث تشویش تھا وہیں یک گونہ تسلی کا باعث بھی۔ وہ یوں کہ مذکورہ سیکرٹری صاحب نے ساتھ ہی یہ حوصلہ افزا خبر بھی سنائی تھی کہ مہاشیر کی نسل میں اضافے، تحفظ اور ذخیرہ کے لئے اٹک میں حاجی شاہ ڈیم کے 80 ایکڑ رقبے کو مختص کر دیا گیا ہے جہاں 2500 مہاشیر نسل کی مچھلیاں ڈالی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے یہ خبر بھی حوصلہ کا باعث تھی کہ مہاشیر کی نسل میں اضافے اور تحفظ کی خاطر دیگر آبی ذخائر کو بھی مختص کرنے کے پروگرام پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔کچھ عرصہ پہلے ایک معروف غیر ملکی نشریاتی ادارے نے پاکستان کی آبی حیات بلخصوص مچھلیوں کی تیزی سے کم ہوتی نسل بارے ایک معلوماتی پروگرام میں جب مختلف اقسام کی مچھلیوں کی نشاندہی کی تو وہیں اس ادارے نے بطور خاص ''مہاشیر مچھلی‘‘ کا ذکر بھی کیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ مذکورہ ادارے نے اس مچھلی کی کم ہوتی نسل بارے یہ افسوس ناک انکشاف بھی کیا کہ کے پی کے اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں سردیوں میں مچھلیاں پکڑنے کے لئے نالوں میں بارودی مواد کے دھماکے کئے جاتے ہیں جس سے مچھلیوں کے ساتھ ساتھ ان کے بچے بھی ہلاک ہو جاتے ہیں جو اس نایاب نسل کی معدومیت کے لئے خطرے کی بہت بڑی گھنٹی ہے۔ چنانچہ اسی لمحے مجھے اس نایاب اور قیمتی مچھلی بارے جاننے کا تجسس ہوا۔ ذیل میں میں اس نایاب مچھلی بارے کچھ معلومات شیئر کرنے کی کوشش کروں گا۔مہاشیر مچھلی پاکستان کے صوبہ کے پی کے اور بلوچستان میں پائی گئی ہے جبکہ پاکستان میں عام طور پر مہاشیر مچھلیوں کی دو بڑی اقسام پائی جاتی ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ پائی جانے والی نسل ''گولڈن مہا شیر‘‘ ہے۔ جس کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ صرف ہمالیہ کے پہاڑی سلسلہ میں پائی جاتی ہے اور اس کے علاوہ دنیا کے کسی اور حصے میں اس کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے۔ یہ بنیادی طور پر میٹھے پانیوں کی مچھلی ہے۔ کھانے میں یہ اس قدر لذیذ ہے کہ بہت کم دوسری مچھلیاں اس کی لذت کے معیار کو چھوتی ہونگی۔ یہ اپنے نام کی مناسبت سے سنہرے رنگوں میں پائی جاتی ہے۔ اب سندھ کے ماہی گیر اس بارے یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ جس تیز رفتاری سے دریا خشک ہوتے جا رہے ہیں اس قدر تیزی سے مہاشیر کی نسل بھی معدومیت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کی دوسری قسم بلوچستان میں پائی جاتی ہے جو کے پی کے کی نسل سے قدرے مختلف ہے۔ اس کا اور گولڈن مہاشیر کا واضح فرق یہ ہے کہ اس کی بڑی بڑی موچھیں ہیں جبکہ اس کا سر قدرے چپٹا ہے یہ چونکہ بلوچستان کے علاقے ژوب میں پائی جاتی ہے اس لئے اس کی شناخت ''ژوبی مہاشیر ‘‘ کے نام سے کی جاتی ہے۔ ژوبی مہاشیر کی موجودگی دریائے کابل، دریائے گومل اور دریائے کرم میں بھی پائی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق مہاشیر مچھلی پاپلیٹ یا سرمئی پاپلیٹ مچھلی کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی خوراک کا زیادہ تر دارومدار چھوٹی مچھلیوں پر ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو گی کہ کچھ عرصہ پہلے بلوچستان کے ضلع خضدار کے مقام ''نال‘‘ میں جب محکمہ آثار قدیمہ نے کھدائی کا کام شروع کیا تو وہاں انہیں کثرت سے مٹی کے برتن نظر آئے۔ ان برتنوں میں جو بات مشترک تھی وہ ان برتنوں پر ''مہاشیر مچھلی‘‘ کی بنائی گئی تصاویر تھیں۔ ماہرین آثار قدیمہ کہتے ہیں کہ اس دریافت سے اس قیاس کو تقویت ملتی ہے کہ مہاشیر مچھلی صدیوں سے بلوچستان کے خطے کی ''باسی‘‘ چلی آ رہی ہے۔ لیکن اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ برتنوں پر اس کی تصاویر اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ سکھوں اور ہندوؤں کے نزدیک متبرک جنس تصور کی جاتی تھی۔

’’پارتھینون‘‘:قدیم یونانی آرٹ کا شاہکار

’’پارتھینون‘‘:قدیم یونانی آرٹ کا شاہکار

پارتھینون یونانی دیوی ایتھنا کا مندر ہے جسے موجودہ یونانی دارالحکومت ایتھنز کے مشہور زمانہ ایکروپولس میں 5 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔ یہ قدیم یونان کی عمارات میں سب سے زیادہ بہتر حالت میں ہے ۔ اس میں موجود بت یونانی آرٹ کے عروج کی داستانیں بیان کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ سیاحوں کو اپنی جانب کھینچنے والے یونانی آثار قدیمہ پارتھینون قدیم یونان اور ایتھنز کی جمہوریہ کی علامت اور دنیا کی عظیم ثقافتی یادگاروں میں سے ایک ہے ۔ یونانی وزارت ثقافت اس کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے منصوبے پر کام کر رہی ہے ۔قدیم پارتھینون 480 قبل مسیح میں فارسیوں کے حملے میں تباہ ہو گیا تھا جس کے بعد موجودہ پارتھینون کو اس قدیم مندر کی جگہ تعمیر کیا گیا۔ تمام قدیم یونانی مندروں کی طرح پارتھینون بھی خزانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ چھٹی صدی عیسوی میں پارتھینون عیسائی گرجے میں تبدیل کر دیا گیا۔ 1460ء کے اوائل میں عثمانیوں کے ہاتھوں ایتھنز اور یونان کی فتح کے بعد اسے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔ 28 ستمبر 1687ء کو عثمانیوں کے اسلحہ خانے میں دھماکے سے پارتھینون کو شدید نقصان پہنچا۔ 1806ء میں تھامس بروس عثمانیوں کی اجازت سے بچنے والے مجسموں کو اپنے ساتھ لے گیا۔ یہ مجسمے 1816ء میں برٹش میوزیم، لندن کو فروخت کر دیے گئے جہاں یہ آج بھی موجود ہیں۔ یونانی حکومت اس مجسموں کی یونان واپسی کا مطالبہ کرتی رہی ہے تاہم ابھی تک اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔عثمانیوں کے دور میں اس عمارت میں ایک مینار بھی شامل کیا گیا تھا اور 17 ویں صدی کے یورپی سیاحوں نے بھی اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے کہ عثمانیوں نے اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پارتھینون سمیت کسی بھی آثار قدیمہ کو نقصان نہیں پہنچایا اور یہ بالکل بہترین حالت میں ہیں۔امریکہ میں قائم پارتھینون کی نقل1975ء میں یونانی حکومت نے یورپی یونین کے مالی و تکنیکی تعاون سے پارتھینون اور ایکروپولس کی دیگر عمارات کی بحالی کے منصوبے کا آغاز کیا۔اِس وقت ایتھنز کے آثار قدیمہ کو سب سے زیادہ خطرہ 1960ء کی دہائی سے اب تک پھیلنے والی آلودگی سے ہے ۔ اس کا سنگ مرمر تیزابی بارش اور گاڑیوں کی آلودگی سے شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ امریکہ کی ریاست ٹینیسی کے شہر نیشویل میں اصل پارتھینون کی طرح کی ایک عمارت بنائی گئی ہے ۔ یہ عمارت 1897ء میں تعمیر ہوئی۔

 دستر خوان ۔۔۔ تہذیبی و ثقافتی روایت

دستر خوان ۔۔۔ تہذیبی و ثقافتی روایت

دستر خوان پر بیٹھنا ایک تہذیبی اقدام ہے جبکہ کھڑے ہو کر کھانابد تہذیبی ہےزمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں تو اس کی غذائیت گئی گنا بڑھ جاتی ہےایک زمانہ ہوا کرتا تھا جب تمام خاندان ایک جگہ بیٹھ کر زمین پر جمع ہوتا اور گھر کی خواتین پکایا ہوا کھانا چن دیتی تھی اور سب افراد خانہ بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے ۔یہ ایک ایسی روایت تھی جس میں گھر کے تمام لوگ ایک دوسرے کے درمیان بیٹھ جاتے گفتگو سے ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی حاصل کرلیتے اور گھر کے بڑے صلاح مشورے کے علاوہ مشکلات کا حل بتا یا کرتے تھے ۔سچی بات تو یہ ہے کہ دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھانے کی روایت ہمارا عزیز ترین ثقافتی ورثہ تھا جس کے ساتھ ہم نے عزیزان مصر جیسا سلوک کیا اور اب یہ روایت اول تو کہیں نظر ہی نہیں آ تی اور کہیں نظر آ جائے تو مارے شرمندگی کے فی الفور خود میں سمٹ جاتی ہے ۔ حالانکہ اس میں شرمندہ ہونے کی قطعاََ کوئی بات نہیں بلکہ میں تو کہوں گا دستر خوان پر بیٹھنا ایک تہذیبی اقدام ہے جبکہ کھڑے ہو کر کھانا بد تہذیبی ہے ۔ مثلاََ یہی دیکھئے کہ جب آپ دستر خوان پر بیٹھتے ہیں تو دائیں بائیں یا سامنے بیٹھے ہوئے شخص سے آپ کے برادرانہ مراسم فی الفور استوار ہو جاتے ہیں ۔ آپ محسوس کرتے ہیں کہ جیسے چند ساعتو ں کے لیے آپ دونوں ایک دوسرے کی خوشیوں ، غموں اور بوٹیوں میںشریک ہو گئے ہیں۔ چنانچہ جب آپ کے سامنے بیٹھا ہو ا آپ کا کرم فرما کمال دریا دلی اور مروت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے پلیٹ کا شامی کباب اپنی رکابی میں رکھ دیتا ہے تو جواب آں غزل کے طور پر آپ بھی اپنی پلیٹ سے مرغ کی ٹانگ نکال کر اسے پیش کر دیتے ہیں۔ ا س کے بعد کھانا کھانے کے دوران لین دین کی وہ خوشگوار فضا از خود قائم ہو جاتی جو ہماری ہزار ہا برس کی تہذیبی ثقافت کی مظہر ہے ۔ دستر خوان کی یہ خوبی ہے کہ اس پر بیٹھتے ہی اعتماد کی فضا بحال ہو جاتی ہے اور آپ کو اپنا شریک ِطعام حد درجہ معتبر ، شریف اور نیک نام دکھائی دینے لگتا ہے ۔ دوسری طرف کسی بھی بوفے ضیافت کا تصور کیجئے تو آپ کو نفسانفسی خود غرضی اور چھینا جھپٹی کی فضا کا احساس ہو گا اور ڈارون کا جہد البقاء کا نظریہ آپ کو بالکل سچا اور برحق نظر آنے لگے گا۔دستر خوان کی ایک اور خوبی اس کی خود کفالت ہے ۔ جب آپ دستر خوان پر بیٹھتے ہیں تو اس یقین کے ساتھ کہ آپ کی جملہ ضروریات کو بے طلب پور ا کر دیا گیا ہے چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ سامنے دستر خوان پر ضرورت کی ہر چیز موجود ہے ۔ حتی ٰ کہ اچار ، چٹنی اور پانی کے علاوہ خلال تک مہیا کر دیے گئے ہیں۔ دستر خوان پر بیٹھنے کے بعد اگر آپ کسی کو مدد کے لیے بلانے پر مجبور ہوں تو اس کا مطلب یہ کہ میزبان نے یا تو حق ِ میزبانی ادا نہیں کیا یا مہمان نے اپنے منصب کو نہیں پہچانا۔دستر خوان کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ آپ کو زمین سے قریب کر دیتا ہے جبکہ میز کرسی پر آتے ہی آپ زمین کے لمس سے محروم ہو جاتے ہیں۔ زمین ایک زندہ ،دھڑکتی اور پھڑکتی ہوئی شے ہے جس کی تحویل میں ایک پر اسرار قوت بھی ہے۔ پرانے زمانے کے لوگوں کو نہ صرف اسکی موجودگی کاعلم تھا بلکہ وہ قدم قدم پر اس کے لمس سے بھی آشنا ہوتے تھے۔دستر خوان کی خوبی یہ ہے کہ وہ دوبارہ انسان کو زمین کے سینے سے چمٹا دیتا ہے تاکہ وہ براہ راست زمین سے اس کی پر اسرار قوت کو کشید کر سکے ۔ دستر خوان دراصل زمین کا لباس ہے اور دستر خوان پر بنی ہوئی قوسیں ، دائرے اور لکیریں زمینی قوت کی گزر گاہوں کے مماثل ہیں۔ چنانچہ جب آپ دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں تو اسکی غذائیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے ۔ جبکہ میز کرسی پر یا چل پھر کر کھانا کھائیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس کھانے میں وہ برقی رو موجود نہیں ۔

الزائمر۔۔۔۔بھول جانے کی بیماری

الزائمر۔۔۔۔بھول جانے کی بیماری

وہ شاعر نے کہا تھااُسے اب بھول جانے کا ارادہ کر لیا ہےبھروسہ غالباً خود پر زیادہ کر لیا ہےشاعر اپنے محبوب کو بھولے نہ بھولے مگر طبی ماہرین کا کہنا ہے بھولنا ایک بیماری ہے جس کا علاج ہر صورت ضروری ہے، یہی وجہ ہے پاکستان سمیت دنیا بھر میں21 ستمبر کو الزائمر کی بیماری یعنی بھول جانے کی بیماری کے سد باب کا دن منایا جاتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیابھر میں تقریباً 55 ملین انسانوں کو بھولنے کا مرض لاحق ہے۔ ان مریضوں میں سے 60 فیصد کا تعلق کم یا درمیانے درجے کی آمدن رکھنے والے ممالک سے ہے۔ جس تناسب سے الزائمرا یعنی بھولنے کی بیماری بڑھ رہی ہے، اندازہ ہے کہ 2030 تک اس کی تعداد 78 ملین جبکہ 2050ء میں یہ تعداد 139ملین سے تجاوز کرسکتی ہے۔بھولنے کی بیماری کا مرض دنیا بھر میں اوسطًا عمر کے اضافے کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے اور یہ عام طور پر پینسٹھ سال کے بعد لاحق ہوتا ہے ۔ پاکستان میں اس مرض کے اعداد و شمار پر بات کریں تو تشخیص شدہ مریضوں کی محتاط ترین تعداد تقریباً سات لاکھ سے زائد ہے جبکہ پاکستان میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد دس لاکھ کے قریب ہے۔الزائمر ڈیمینشیا کی ایک قسم ہے جبکہ ڈیمینشیا بیماریوں یا دماغی چوٹ کی وجہ سے یادداشت، سوچ اور طرز عمل پر پڑنے والے منفی اثرات کے زیادہ تر افراد میں 65 سال کی عمر کے بعد ہی اس کی تشخیص ہوتی ہے۔اگر اس سے پہلے ہی اس کی تشخیص ہوجائے تو اسے عام طور پر الزائمر کی بیماری کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔ ویسے تو الزائمر کا کوئی علاج نہیں ہے البتہ ایسے علاج موجود ہیں جن سے اس مرض کی شدت کم ہوسکتی ہے۔اگرچہ بہت سے لوگوں نے الزائمر کی بیماری کے بارے میں سنا ہوگا لیکن آپ کو اس بارے میں شاید درست معلوم نہ ہو کہ یہ ہے کیا۔ یہاں اس بیماری کے بارے میں کچھ حقائق درج ہیں:الزائمر کی بیماری ایک دائمی حالت ہے۔اس کی علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں اور دماغ پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی وجہ سے یادداشت میں سستی آجاتی ہے۔الزائمر کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن دستیاب علاج اس مرض کی شدت کو کم کرنے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں اور معیار زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔کوئی بھی الزائمر کا شکار ہوسکتا ہے، لیکن کچھ لوگ اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیںماہرین نے الزائمر کی بیماری کی کسی ایک وجہ کی نشاندہی نہیں کی لیکن انہوں نے خطرے کے کچھ عوامل کا ضرور بتایاہے:فیملی ہسٹری: اگر آپ کے خاندان کا کوئی فرد اس بیماری میں مبتلا ہے تو آپ کو بھی الزائمر ہونے کا امکان ہے۔وراثت: کچھ جینز الزائمر سے جڑے ہوئے ہیں۔اس بیماری میں مبتلا افراد کو وقتاً فوقتاً بھولنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن کچھ افراد مستقل طور پر کچھ ایسی علامات ظاہر کرتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خراب ہوتی جاتی ہیں:روز مرہ کی سرگرمیوں پر اثر، جیسے وعدوں کو یاد رکھنے کی اہلیت۔وزمرہ کے کاموں میں پریشانی۔مسائل حل کرنے میں مشکلات۔بولنے یا لکھنے میں دشواری۔اوقات یا مقامات کے بارے میں الجھن محسوس کرنا۔مزاج اور شخصیت میں تبدیلی۔دوستوں، کنبہ اور برادری سے دستبرداری۔ماہرین کا کہنا ہے الزائمر کی بیماری کا کوئی خاص علاج نہیں ہے تاہم آپ کے ڈاکٹر اس کی علامات کو دور کرنے اور بیماری کے بڑھنے سے روکنے میں ادویات اور علاج کی سفارش کرسکتے ہیں۔خواتین میں مردوں کے مقابلے میں الزائمر کی بیماری پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ خواتین کی اوسط عمر مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے جس کی وجوہات واضح نہیں ہیں۔ مجموعی طور پر الزائمر کے مرض میں مبتلا ہونے کی حتمی وجہ تاحال تحقیق کے مراحل سے ہی گزر رہی ہے۔ جو افراد مستقل بنیادوں پر ذہنی اورجسمانی معمولات کو اپنا کر رکھتے ہیں، ان میں بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ترین ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب فضائی آلودگی بھی ڈیمینشیا کے ہونے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ اگر آ پ اپنے گھر کے کسی بھی فرد میں ایسی علامات دیکھیں تو علاج و تشخیص کے لیے کسی بھی ماہر اِمراضِ دماغ و اعصاب (نیورولوجسٹ) سے فوری رجوع کریں ۔ بعض اوقات اس بیماری کا مریض اہلِ خانہ کیلئے بے شمار مسائل کا باعث بن جاتا ہے۔یاد رہے الزائمر میں مبتلا انسان کے بیشتر معمولاتِ زندگی، مزاج اور روئیے میں ابتدا میں چھوٹی معمولی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اگر ان پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو ان میں نہ صرف اضافہ ہو جاتا ہے بلکہ آ خر میں الزائمر کا پیش خیمہ بن جاتا ہے، اس لیے ابتدائی علامات ہونے کی صورت میں معالج سے رجوع کرنا نہایت ضروری اور مفید ہے۔ اگر الزائمر سے مکمل چھٹکارا ناممکن بھی ہو توبروقت تشخص و علاج اس مرض کی پیچیدگیوں اور مرض کو تیزی سے بڑھنے سے روکنے میں معاون و مددگار ثابت ہو تی ہے۔تمام تشخیص شدہ مریضوں میں جہاں ادویات کا استعمال اہم ہے وہیں سماجی سرگرمیاں بھی مریضوں کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس بھولنے کی بیماری میں چونکہ مریض میںیا سیت و مایوسی اور اضطراب خاصا بڑھ جاتا ہے لہٰذا نفسیاتی و ذہنی مسائل کی بروقت تشخیص کر کے طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانا نہایت مفید ہوتا ہے۔مرض کی علامات بڑھنے کی صورت میں مریض ایسی ایسی حرکات کردیتے ہیں جنہیں اہل خانہ نہ صرف حیرت کی نظر سے دیکھتے ہیں بلکہ ناقابلِ یقین صورتِ حال کا شکار ہو جاتے ہیں لہٰذا ایسے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے اہل خانہ کا خصوصی کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ان مریضوں کو ادویات کے ساتھ ساتھ تازہ آب و ہوا ور ماحول کی تبدیلی سے لطف اندوز ہونے کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔مرض سے محفوظ رہنے کے لیے متوازن غذا بالخصوص سبزیوں اور پھلوں کا استعمال، جسمانی ورزش و چہل قدمی ،ہر قسم کی تمباکو نوشی اور نشے سے مکمل دور رہنے کے ساتھ ساتھ سماجی میل ملاقات، دماغی نشوونما کے لیے مطالعہ بہتخوشگوار اثرات ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسی مثبت سرگرمیوں میں بھی حصہ لینا نہایت مفید ہے جس سے ذہن متحرک رہے۔چلتے پھرتے رہنے والے رہتے ہیں محفوظبیٹھے بیٹھے بن جاتا ہے ہر اک شخص مریض