پاک فضائیہ ابتدا سے آج تک

 پاک فضائیہ ابتدا سے آج تک

اسپیشل فیچر

تحریر : ایئرکموڈور طارق محمود


شاہینوں کی جرات اوردلیری کی ایقان افروز داستان… یوم فضائیہ کے حوالے سے خصوصی تحریر*******سات ستمبر کو یوم فضائیہ کہا جاتا ہے، یہ 1965ء کے اس دن کی یادگار ہے جب پاکستانی فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے پرخچے اڑا دئیے، ہمارے شاہین پائلیٹوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنی بہادری اور دلیری کی حیرت انگیز مثال قائم کی۔ دنیا بھر میں پاکستانی فضائیہ کے اس کردار کو مانا اور تسلیم کیا جاتا ہے۔ کئی ممالک کی فضائیہ کی اکیڈمیوں میں ہمارے پائلٹوں کی پرفارمنس ڈسکس کی جاتی اور اس سے سبق اخذ کئے جاتے ہیں۔ آج اس دن کی یاد منانے کے ساتھ ہم اپنی فضائیہ کی تاریخ پر بھی نظر ڈالتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ ابتداکہاں سے ہوئی اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔تقسیم ہند کے وقت جس طرح دوسرے اثاثوں سے پاکستان کو محروم رکھا گیا،اسی طرح ہماری فضائیہ کو بھی اس کے حصّے کی افرادی قوّت اور طیارے نہیں دئیے گئے لیکن اس کے باوجود آج ہماری فضائیہ ہماری فضائوں کی حفاظت کیلئے پوری طرح چوکس ہے۔ اس نے وسائل کی کمی کے مقابلہ اچھّی تربیّت سے کیا ہے۔آج ہم نہ صرف چھوٹے جہاز خود بنا رہے ہیں بلکہ دوست ملک چین کی مدد سے جے ایف 7 تھنڈر کی پیداوار بھی شروع ہوچکی ہے ۔ذیل میں پاک فضائیہ کی ابتدا سے آج تک کی داستان بیان کی جارہی ہے۔چودہ اگست 1947ء برصغیر کے مسلمانوں کیلئے بہت اہمیّت کا حامل ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے ان پراپنا خصوصی کرم کیا اورانہیں پاکستان جیسا خوبصورت ملک عطا کیا۔جب پاکستان بن گیا تو اس میں رہنے والے مسلمانوں کیلئے سب سے بڑا چیلنج اس نوزائیدہ مملکت کواپنے پاؤں پر کھڑا کرنا تھا۔ بانی پاکستانؒ بھی ملک کو تعمیر وترقّی کی شاہراہ پر رواں دواں دیکھنا چاہتے تھے۔ ملک کے دفاع کومضبوط اور ناقابل تسخیر بنانا ان کے ایجنڈے میں سرفہرست تھا۔ جب بھی انہیں کچھ وقت ملتا تووہ فوج کی یونٹوں اوردیگر دفاعی تنصیبات کا دورہ کرتے تھے۔ وہ اپنی گوناں گوں مصروفیات سے کچھ وقت کسی نہ کسی طرح نکال ہی لیتے تھے اور دفاع پاکستان کے حوالے سے تیاریوں کا جائزہ لیتے تھے۔تقسیم کے وقت دوسرے ملکی اداروں کی طرح دفاع کا بھی بُراحال تھا۔ائیرفورس کا نام اس وقت رائل ائیرفورس آف پاکستان تھا جس کی زبوں حالی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی کل افرادی قوّت 2232 افراد پر مشتمل تھی۔یہ مُٹھی بھر جوان اور افسر آج کی مضبوط پاک فضائیہ کے اصل معمار ہیں جنہوں نے نہ صرف پاک فضائیہ کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا بلکہ آج کے پائلٹس کوجدید ترین ایف سولہ اور جے ایف 17 تھنڈر طیارے اڑانے کیلئے مضبوط بنیاد بھی فراہم کی۔یہی لوگ قوم کے اصلی ہیروز ہیں جنہوں نے سرفراز رفیقی‘یونس‘ ایم ایم عالم‘ علاؤ الدین‘ راشد منہاس اور منیر جیسے بہادر پائلٹس کی کھیپ تیار کی۔ قیام پاکستان کے وقت ہماری فضائیہ کے پاس مختلف اقسام کے صرف 122 جہاز تھے جن میں 32 ڈکوٹاز‘ 35 ٹیمپیئس‘ 29 ہاورڈز‘ 16 ٹائیگرموتھ‘ 3 آسٹرفائیو اور سیون آسر چھ شامل تھے جنہیں کوہاٹ‘ چکلالہ اور رسالپور کے سٹیشن ہیڈ کوارٹرز میں تقسیم کیا گیا تھا۔اس وقت ہماری فضائیہ کے پاس صرف ایک فلائٹ سکواڈرن تھا۔قائداعظمؒ دوسری جنگ عظیم (1939-45ء) کے دوران فضائیہ کی کارکردگی کا بہت باریک بینی سے مشاہدہ کر چکے تھے اسی لئے 1941ء میں علی گڑھ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے قائداعظمؒ نے کہا تھا کہ ’’مستقبل میں جو بھی جنگیں لڑی جائیں گی وہ فضائیہ کے درمیان ہی ہوں گی۔‘‘ ان کے اس خطاب سے قائداعظمؒ کی دوراندیشی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کیونکہ انہیں اندازہ تھا کہ مستقبل کی جنگوں میں فیصلہ کُن کردار فضائیہ ہی ادا کرے گی۔ آزادی کے کچھ ہی عرصے بعد13 اپریل 1948ء کو قائداعظمؒ نے ائیرفورس ٹریننگ اکیڈمی رسالپور کا دورہ کیا تھا اوراس موقع پر کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ’’ جس ملک کی فضائیہ مضبوط نہیں ہوتی وہ جارح قوتوں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ پاکستان کو اپنی فضائیہ کو جتنی جلدی ممکن ہوترقّی دینا ہوگی۔ یہ مستعد فضائیہ ہوگی جو کسی سے بھی کم تر نہیں ہوگی۔‘‘ بابائے قومؒ کا یہ خطاب پاک فضائیہ کی ترقّی کیلئے ملک کے غیر متزلزل عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ پاک فضائیہ کے جو بھی سربراہان آئے،انہوں نے بانی پاکستان کے ان الفاظ کو فضائیہ کی ترقّی اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے روشنی کے مینار کے طور پر استعمال کیا۔ پاک فضائیہ کی ہر دور کی قیادت کا یہ پختہ ایمان رہا ہے کہ ہم وسائل کی کمی کا مقابلہ اچھّی ٹریننگ سے کرسکتے ہیں۔ہماری فضائیہ کی تاریخ میں 23 مئی 1956ء خاص اہمیّت کا حامل ہے کہ اس روز رائل پاکستان ائیرفورس کا نام بدل کر پاکستان ائیرفورس رکھا گیا تھا جس سے نہ صرف ائیرفورس کے جوانوں اور افسروں بلکہ پوری قوم کوخود اعتمادی حاصل ہوئی۔ اب پاک فضائیہ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنے بیڑے میں عمر پوری کرچکنے والے جہازوں کی جگہ نئے اورجدید طیاروں کی شمولیت کا تھا۔وسائل کی کمی کی وجہ سے پاک فضائیہ کے سامنے اور کوئی راستہ نہیں تھااس لئے 1957ء کے اوائل میں امریکہ سے 100 ایف 86 سیبر ائیرکرافٹ حاصل کئے گئے۔ 23 مارچ 1957ء کو ہمارے پائلٹس نے 64 درآمد شدہ طیاروں کا شاندار ائیرشو پیش کیا جونہ صرف ہمارے پائلٹس کی مہارت کا آئینہ دار تھا بلکہ پاک فضائیہ کے انجینئرزاور ماہرین کی ہُنرمندی کا بھی عکاس تھا۔یہ سال پاک فضائیہ کی تاریخ میں ایک اور حوالے سے بھی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ جولائی 1957ء میں ائیرمارشل نورخان نے پاک فضائیہ کے پہلے سربراہ کے طور پراپنی ذمّہ داریاں سنبھالی تھیں۔انہوں نے پی اے ایف کو جدید خطوط پر استوار کیا جس کا عملی مظاہرہ 1965ء میں پاک بھارت جنگ میں سامنے آیا جب ہماری فضائیہ نے اپنے سے کئی گنا بڑی فضائیہ کے یخئے ادھیڑ کر رکھ دئیے۔ اس وقت پاک فضائیہ کے پاس 148 ائیرکرافٹ تھے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت کے پاس 532 فائٹر جیٹ تھے۔پاک فضائیہ کے 22 بمباروں نے 167 کامیاب حملے کئے جبکہ بھارت کے 60 فائٹر جیٹ صرف 92 پروازیں ہی کرسکے۔اس طرح پاک فضائیہ کے شاہینوں نے فضائیہ کی تاریخ میں نئے ابواب کا اضافہ کیا۔ پی اے ایف فائٹرز کی اس شاندار کارکردگی کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے نہ صرف دونوں ممالک پرپابندیاں لگادیں بلکہ اسلحے اور ہتھیارو ں کی فراہمی پر بھی پابندی عائد کر دی جس کے نتیجے میں بھارتی فضائیہ کو تو کوئی نقصان نہیں ہواکیونکہ وہ تو پہلے ہی امریکہ کی بجائے سوویت یونین پر زیادہ انحصار کر رہا تھا البتہ پاکستان کی فضائیہ کیلئے یہ پابندیاں بہت مُہلک ثابت ہوئیں لیکن ہماری قیادت کی بصیرت کے باعث یہ پابندیاں ہمارے لئے رحمت بن گئیں کیونکہ مُلکی دفاعی تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے نئی راہیں دریافت کر لی گئیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کے سب سے قابل اعتماد اور سدا بہار دوست چین کا کردار سب سے نمایاں ہے جس نے ہمیں ایف 6‘ اے 5 اور ایف 7 پی طیاروں کی خریداری کی اجازت دی۔ اس ڈیل سے نہ صرف ملکی دفاع مضبوط ہوا بلکہ خود انحصاری کی راہ پر بھی ہمیں گامزن کر دیاجس کے بعد ہم نے ترقی کرتے ہوئے چین کی مدد سے کامرہ میں ایروناٹیکل کمپلیکس کی تعمیر کی۔شروع شروع میں وہاں پی اے ایف کے طیاروں کی اوورہالنگ کی جاتی تھی لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس نے دوست ممالک سے بھی طیاروں کی مرمّت اور اوورہالنگ کے آرڈر لیناشروع کر دئیے جس سے نہ صرف بھاری زرمبادلہ کی بچت ہوئی بلکہ بھاری زرمبادلہ ملک میں آیا۔اگلے مرحلے میں اس ادارے نے جنگجوبیڑے کی اب گریڈیشن بھی شروع کر دی۔ ساتھ ساتھ تربیتی طیاروں مشاق ‘ سُپر مشاق اورقراقرم 8 کی تیاری بھی شروع کر دی۔یہ تربیتی طیار ے نہ صرف پاک فضائیہ کی ضرورت پوری کررہے ہیں بلکہ دوست ممالک کو برآمد بھی کئے جا رہے ہیں۔1980ء میں بدلے ہوئے عالمی منظرنامے اورافغان جہاد کے لئے امریکہ کو پاکستان کی ضرورت تھی اس لئے اس نے پاکستان پر عائد پابندیاں اُٹھالیں اور پاکستان کو یہ موقع فراہم کیاکہ وہ اپنے فضائی بیڑے میں جدید ترین ایف سولہ طیارے شامل کرلے جن میں کچھ ایف سولہ طیارے توفوری طور پر پاکستان کے حوالے کر دئیے گئے جبکہ باقی کے بارے میں بہانہ تراشا گیا کہ پاکستان چونکہ اپنا ایٹم بم بنا رہا ہے اس لئے ہم اسے ایف سولہ طیارے نہیں دے سکتے۔اگرچہ ان طیاروں کی قیمت بھی ادا کر دی گئی تھی۔1988ء میں پاکستان نے اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کیلئے ایف 7 پی طیارے درآمد کئے۔ 1977ء میں پاکستان ائیرفورس کی قیادت نے پرانے طیاروں کی جگہ ایف 7 پی جی کو بیڑے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔اس طرح 27 مارچ 2002ء کو نئے طیاروںنے 36 سالہ پرانے ایف 6 طیاروں کی جگہ لی۔1992ء میں چین نے پاکستان کو ہلکے طیاروں کی تیاری میں شامل ہونے کی دعوت دی تو پی اے ایف پہلے ہی ایسی ٹیکنالوجی کی تلاش میں تھا اس لئے یہ دعوت قبول کرلی گئی اور1995ء میں دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پردستخط کردیئے گئے۔اس منصوبے کے تحت سُپر7 طیارے تیار ہونا تھے لیکن بعد میں ان طیاروں کا نام بدل کر جے ایف 17 تھنڈر رکھ دیا گیا۔ 1999ء میں حتمی معاہدے پر دستخط ہوئے اور 2002ء میں باقاعدہ پیداوار شروع ہوگئی ۔ستمبر 2002ء میں طیارے کا پہلا ڈیزائن تیار کیا گیا اور 2003ء میں پہلی بار یہ طیارہ جانگ دو ائیربیس چین کی فضا میں بلند ہوا جس کے چوتھے نمونے نے ہتھیاروں سے مسلّح ہو کردس مئی 2006ء کو کامیاب پرواز کی۔ یہ طیارہ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد 23 مارچ 2007ء کو پہلی بار پاکستان کی فضاؤں میں بلند ہوا۔جے ایف تھنڈر ہر قسم کے ہتھیار اور میزائل لے جا سکتا ہے اوراس کی پاکستان ایرونا ناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں پیداوار شروع ہو چکی ہے۔یہ طیارہ پاک فضائیہ کے عمر پوری کرچکنے والے اے 5‘ ایف 7 اور میراج طیاروں کی جگہ لے گا۔ یہ طیارہ دن اور رات میں یکساں مہارت کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ پاک فضائیہ ملکی سلامتی کو درپیش چیلنجز سے بے خبر نہیں،ہمارے شاہین ہر قسم کے خطرے کا جواب دینے اور ملکی سرحدوں کا دفاع کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یوم فضائیہ ہمیں ایک بار پھر یہ یاد دلاتا ہے کہ ملک وقوم کے سپوتوں نے کس طرح جرات کے ساتھ جنگ پینسٹھ میں دفاع کیا اور جب بھی مشکل وقت آیا، یہ ایمان افروز داستان دہرائی جائے گی، انشااللہ۔ ٭٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت

انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت

حیران کن مماثلت اور نئے سوالاتگزشتہ چند برسوں میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) خصوصاً لینگویج ماڈلز نے انسانی سوچ، زبان اور فہم کے بارے میں ہمارے روایتی تصورات کو چیلنج کیا ہے۔ ابتدا میں یہ خیال عام تھا کہ کمپیوٹر اور انسانی دماغ کے درمیان کوئی گہری مماثلت ممکن نہیں مگر حالیہ سائنسی تحقیقات نے اس تصور کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم کی تازہ تحقیق جو ' Nature Communications‘میں شائع ہوئی ہے، اس کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسانی دماغ زبان کو سمجھنے کے عمل میں حیرت انگیز طور پر ویسے ہی کام کرتا ہے جیسے جدید مصنوعی ذہانت کے زبان پر مبنی ماڈلز، مثلاً GPT اور LLaMA۔یہ تحقیق بنیادی طور پر اس سوال کا جواب تلاش کرتی ہے کہ انسان بولی گئی زبان کو کس طرح سمجھتا ہے۔ کیا دماغ الفاظ کے معنی کو فوراً مکمل طور پر سمجھ لیتا ہے یا یہ عمل بتدریج انجام پاتا ہے؟ اس مقصد کے لیے سائنسدانوں نے چند رضاکاروں کے دماغی سگنلز کا مشاہدہ کیا جب وہ تقریباً تیس منٹ پر مشتمل ایک کہانی سن رہے تھے۔تحقیق میں الیکٹروکارٹیکوگرافی (ECoG) نامی جدید طریقہ استعمال کیا گیا جس کے ذریعے دماغ کی سطح پر پیدا ہونے والی برقی سرگرمی کو انتہائی باریکی سے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے محققین کو یہ جاننے کا موقع دیا کہ دماغ زبان کے مختلف مراحل پر کس طرح ردعمل ظاہر کرتا ہے۔لفظ سے معنی تکاس تحقیق کا سب سے اہم نتیجہ یہ تھا کہ انسانی دماغ زبان کو ایک ہی لمحے میں مکمل طور پر نہیں سمجھتا بلکہ یہ عمل مرحلہ وار ہوتا ہے۔ سب سے پہلے دماغ آوازوں اور الفاظ کی بنیادی ساخت پر توجہ دیتا ہے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ ان الفاظ کو جملوں کے سیاق و سباق میں جوڑ کر معنی اخذ کیے جاتے ہیں۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت کے درمیان مماثلت نمایاں ہوتی ہے۔ جدید AI لینگویج ماڈلز بھی متن یا گفتگو کو تہہ در تہہ پراسیس کرتے ہیں۔ ابتدائی تہیں الفاظ اور ساخت کو دیکھتی ہیں جبکہ بعد کی تہیں مفہوم، سیاق اور معنوی ربط کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔دماغی حصے اور AI کی تہیںتحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ دماغ کے مختلف حصے زبان کے مختلف پہلوؤں کو سنبھالتے ہیں۔ مثال کے طور پر بروکا ایریا جیسے حصے جو زبان کی تیاری اور فہم سے وابستہ ہیں اس وقت زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں جب جملے کا گہرا مطلب سامنے آتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی کردار AI ماڈلز کی آخری تہیں ادا کرتی ہیں جہاں محض الفاظ نہیں بلکہ پورے خیال اور مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ دماغ کے حیاتیاتی نیورونز اور AI کے مصنوعی نیورل نیٹ ورکس دونوں کا طرزِ عمل حیرت انگیز طور پر ایک دوسرے سے ملتا جلتا ہے۔روایتی نظریات کو چیلنجیہ نتائج لسانیات اور دماغی سائنس کے کئی روایتی نظریات کے لیے ایک چیلنج ہیں۔ ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ زبان کے لیے دماغ میں سخت اور واضح قواعد پر مبنی نظام موجود ہے جہاں ہر لفظ اور جملہ ایک طے شدہ اصول کے تحت سمجھا جاتا ہے۔ مگر نئی تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زبان کی فہم ایک لچکدار عمل ہے جو سیاق و سباق، تجربے اور تسلسل پر منحصر ہے۔یہی طریقہ کار مصنوعی ذہانت میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں ماڈلز کسی جامد لغت یا قواعد کے بجائے بڑی مقدار میں ڈیٹا سے سیکھ کر معنی اخذ کرتے ہیں۔انسان اور مشین ، فرق کے باوجود مماثلتاگرچہ یہ کہنا درست نہیں کہ انسانی دماغ اور AI ایک جیسے ہیں۔ دماغ ایک حیاتیاتی نظام ہے جس میں احساسات، شعور اور جذبات شامل ہیں جبکہ AI محض ریاضیاتی ماڈلز اور الگورتھمز پر مشتمل ہے۔ تاہم یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ دونوں میں فنکشنل سطح پر کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں خاص طور پر زبان کے حوالے سے۔یہ مماثلتیں اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ شاید انسانی فہم اور ذہانت کے کچھ بنیادی اصول ایسے ہیں جو چاہے حیاتیاتی نظام میں ہوں یا مصنوعی، دونوں میں یکساں طور پر کارفرما رہتے ہیں۔مستقبل کے امکاناتاس تحقیق کے اثرات نہ صرف مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے اہم ہیں بلکہ یہ انسانی دماغ کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر AI ماڈلز واقعی انسانی دماغ کے عمل کی عکاسی کرتے ہیں تو مستقبل میں انہیں دماغی بیماریوں، زبان کی خرابیوں اور یادداشت کے مسائل کو سمجھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔مزید یہ کہ محققین نے اس تحقیق کا ڈیٹا اوپن سورس کر دیا ہے تاکہ دنیا بھر کے سائنسدان اس پر مزید کام کر سکیں۔ یہ قدم علم کے اشتراک اور سائنسی ترقی کی ایک عمدہ مثال ہے۔یہ تحقیق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت کے درمیان تعلق محض ایک تصور نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ زبان، جو انسان کی شناخت کا بنیادی عنصر ہے، اس میدان میں دونوں کے درمیان سب سے مضبوط پل ثابت ہو رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ تحقیق نہ صرف AI کو مزید انسانی بنانے میں مدد دے گی بلکہ ہمیں خود اپنے دماغ کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔

خلا میں ’دوسرا گھر‘  ایک نیا سیارہ جو زمین جیسا لگتا ہے

خلا میں ’دوسرا گھر‘ ایک نیا سیارہ جو زمین جیسا لگتا ہے

انسان ہمیشہ سے اس سوال کا جواب تلاش کرتا رہا ہے کہ کیا ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟ کیا ہماری زمین جیسی کوئی دوسری دنیا بھی ہے جہاں زندگی ممکن ہو؟ جدید دور کے خلائی مشنز اور طاقتور دوربینوں نے ہمیں اس سوال کے قریب پہنچا دیا ہے۔ حال ہی میں سائنسدانوں نے ایک ایسے سیارے کا پتہ لگایا ہے جو بہت زیادہ حد تک زمین سے ملتی ہوئی خصوصیات کا حامل ہے۔ اس دریافت نے فلکیات کے شعبے میں نئی امیدیں جگا دی ہیں۔ زمین جیسا سیارہ؟سائنسدانوں نے دور دراز ستاروں کے ڈیٹاکا دوبارہ جائزہ لیا ہے اور ایک کم روشنی والے سگنل کی بنیاد پر ایک ممکنہ سیارے کی موجودگی کا اندازہ لگایا ہے۔ یہ سیارہ ایک ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے جو ہمارے سورج جیسا دکھائی دیتا ہے۔ حیران کن طور پر یہ سیارہ زمین سے کچھ فیصد ہی بڑا ہے اور اس کا مدار بھی زمین کے مدار کے بہت قریب ہے ، یعنی اس کے سال کی لمبائی تقریباً ہماری طرح ہے۔ اس سیارے کی دوری تقریباً 146 نوری سال ہے، یعنی یہ ہمارے نظام شمسی سے بہت دور واقع ہے ،لیکن فلکیاتی پیمانے پر قریب ہی سمجھا جاتا ہے۔ کس طرح معلوم ہوا؟یہ دریافت بظاہر پرانے دوربین ڈیٹا کے دوبارہ تجزیے سے سامنے آئی۔ ناسا کے کیپلر سپیس ٹیلی سکوپ نے ہزاروں ستاروں کا مسلسل مشاہدہ کیا اور ان کی روشنی میں وقتاً فوقتاً ہونے والی معمولی کمی کو نوٹ کیا۔ جب کسی ستارے کی روشنی میں بار بار معمولی کمی آتی ہے تو یہ ایک سیارے کے اس کے سامنے سے گزرنے کی علامت ہو سکتی ہے۔ اس طریقے کو ٹرانزٹ میتھڈ کہا جاتا ہے جو اَب تک کی موزوں ترین تکنیکوں میں سے ایک ہے۔ اس نئے سیارے کے معاملے میں اسی پرانے ڈیٹا کا دوبارہ تجزیہ کیا گیا تو اس سے اس نئے سیارے کی پہلی جھلک ملی۔ البتہ ابھی تک اسے مکمل طور پر تصدیق شدہ دریافت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ مزید مشاہدات اور مطالعے کی ضرورت ہے۔ زمین جیسا سیارہ،کیوں یہ اہم ہے؟ سائنسدان سیاروں کو ' زمین جیسا‘ تب کہتے ہیں جب وہ زمین کے سائز، ستارے کے گرد مدار اور روشنی کی مقدار میں مماثلت رکھتے ہوں۔ اس نئے سیارے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس کا سائز تقریباً زمین جتنا یا تھوڑا بڑا ہے ۔ اس کا مدارزمین جیسا ہے جو ستارے کے گرد تقریباً ایک سال کی مدت میں گردش کرتا ہے۔ یہ ستارہ سورج کی طرح ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ سیارے کو ملنے والی توانائی بھی زمین جیسی ہو سکتی ہے۔ یہ مماثلتیں سب سے اہم ہیں کیونکہ زمین پر زندگی کا قیام پانی، درجہ حرارت اور روشنی کے مناسب امتزاج پر منحصر ہے۔ اگر کوئی سیارہ صحیح مقدار میں روشنی اور توانائی حاصل کرتا ہے تو وہاں مائع پانی موجود ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور یہی زندگی کے لیے بنیادی شرط ہے۔ کیا یہ واقعی قابلِ حیات ہے؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ابھی تک معلوم نہیں۔ اگرچہ مدار، حجم اور ستارے کی نوعیت زمین جیسی ہے لیکن ماحول یا زندگی کے بارے میں ابھی کوئی براہِ راست معلومات نہیں ۔اس کے لیے سائنسدانوں کو یہ پتہ لگانا ضروری ہے کہ کیا وہاں کوئی مستقل ماحول ہے؟ صرف کسی سیارے کے وجود سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہاں گیسوں کا ماحول موجود ہے جو زندگی کو ممکن بنا سکے۔ درجہ حرارت کیا ہے؟ اگر سیارہ بہت ٹھنڈا یا بہت گرم ہو تو مائع پانی موجود رہنا ناممکن ہوگا۔ کئی دوسرے سیارے جیسے HD 137010 b بھی ممکنہ طور پر شدید سرد ہیں۔یہ بھی جاننا ہو گا کہ مذکورہ سیارے کی سطح پرپانی موجود ہے تو وہ مائع کے طور پر موجود ہے یا برف کی شکل میں۔اس سیارے پر زمین جیسے ماحول یا حیات کے شواہد حاصل کرنا بہت پیچیدہ مرحلہ ہے، اس کے لیے مستقبل کی طاقتور خلائی دوربینوں اور مشنز کی ضرورت ہوگی۔بہرکیف یہ نئی دریافت اپنے آپ میں بہت اہم ہے مگر گزشتہ برسوں میں سائنسدانوں نے متعدد ایسے سیاروں کی نشاندہی کی ہے جنہیں ''زمین نما‘‘ سمجھا جاتا ہے:کیپلر 452 بی:سورج جیسے ستارے کے گرد گردش کرنے والا ایک بڑا سیارہ جو زمین کے مدار کے قریب ہے۔ جے جی 1002بی : 16 نوری سال دور ایک ممکنہ قابلِ حیات زمین جیسا سیارہ۔ وولف 1069 بی:جو اپنے ستارے کے مناسب فاصلے پر گردش کرتا ہے اور ممکنہ طور پر یہاں مائع پانی موجودہے۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ کہکشاں میں زمین جیسے سیارے کثرت سے موجود ہو سکتے ہیں البتہ ان کی حیات یا قابلِ رہائش خصوصیات کا فیصلہ مزید تحقیق کے بغیر ممکن نہیں۔ سائنس اور مستقبلہر نئی دریافت ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات بے پناہ وسیع ہے اور شاید اس میں بے شمار ایسے دنیائیں ہیں جو ہماری زمین سے میل کھاتی ہیں۔ اگر سائنسدان کسی سیارے پر بائیوسگنیچرز یعنی ایسی نشانیاں جو حیاتیاتی عمل کی طرف اشارہ کریں ، دریافت کر لیں تو یہ کہیں زیادہ اہم ہوگا۔ موجودہ دور میں ہم جس سطح پر ہیں وہاں زمین ایسے دیگر سیاروں پر زندگی کی موجودگی یا عدمِ موجودگی کے بارے میں یقینی طور پر کچھ کہنابہت مشکل ہے۔ پھر بھی ہر نئی دریافت ہمارے سوالات کے دائرے کو وسیع کر دیتی ہے اور ہمیں حیران کر دیتی ہے کہ شاید ایک دن ہم واقعی ''دوسری زمین‘‘تلاش بھی کر لیں۔

آج کا دن

آج کا دن

جوہانس گٹن برگ کا انتقالیورپ میں علمی انقلاب کی بنیاد رکھنے والے عظیم موجد جوہانس گٹن برگ 3 فروری 1468ء کو جرمنی کے شہر مائنز میں انتقال کر گیا۔ گٹن برگ کی اصل پہچان پرنٹنگ پریس کی ایجاد ہے جس نے دنیا میں علم کی ترسیل کا پورا نظام بدل کر رکھ دیا۔گٹن برگ نے دھاتی متحرک حروف (Movable Type)، تیل پر مبنی سیاہی اور مکینیکل پریس کو یکجا کر کے ایک ایسا نظام بنایا جس سے کم وقت میں زیادہ اور معیاری نقول تیار ہونا ممکن ہو گیا۔اگرچہ گٹن برگ کو اپنی زندگی میں مالی مشکلات اور قانونی تنازعات کا سامنا رہا مگر ان کی ایجاد نے بعد ازاں نشاۃ ثانیہ، سائنسی انقلاب اور اصلاحِ مذہب جیسی تحریکوں کو تقویت دی۔ فیلکس مینڈلسون کی پیدائش3 فروری 1809ء کو جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں فیلکس مینڈلسون پیدا ہوا جو بعد میں کلاسیکی موسیقی کے عظیم ترین موسیقاروں اور کنڈکٹرز میں شمار ہوا۔ مینڈلسون بچپن ہی سے غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل تھا اور کم عمری میں ہی موسیقی کے پیچیدہ شاہکار تخلیق کرنے لگا۔اس نے کلاسیکی روایت کو رومانوی دور کی حساسیت کے ساتھ جوڑا جس کی جھلک ان کی سمفنیز، اوورچرز اور کنسرٹوز میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔مینڈلسون کا ایک بڑا کارنامہ یوان سباسچین باخ کی موسیقی کو دوبارہ زندہ کرنا بھی ہے۔ امریکہ میں انکم ٹیکس3 فروری 1913ء کو امریکہ میں آئین کی سولہویں ترمیم کی توثیق کی گئی جس کے نتیجے میں وفاقی حکومت کو انکم ٹیکس عائد کرنے کا مستقل آئینی اختیار حاصل ہو گیا۔ اس سے پہلے امریکی حکومت زیادہ تر محصولات ٹیرف اور بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل کرتی تھی جو غیر مستحکم اور ناکافی تھے۔ صنعتی ترقی، بڑھتی آبادی اور عالمی ذمہ داریوں کے باعث حکومت کو مستقل آمدنی کے ایک منصفانہ نظام کی ضرورت تھی۔ انکم ٹیکس کو اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا۔ دی ڈے دی میوزک ڈائیڈ3 فروری 1959ء کو امریکی موسیقی کی تاریخ کا ایک افسوسناک دن پیش آیا جسے بعد میں'The Day the Music Died ‘کہا گیا۔ اس دن ایک چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار ہوا جس میں مشہور راک اینڈ رول گلوکار بڈی ہولی، رچی ویلنس اور جے پی دی بگ باپر رچرڈسن ہلاک ہو گئے۔یہ حادثہ آئیووا میں خراب موسم کے باعث پیش آیا۔ تینوں فنکار ایک کنسرٹ ٹور پر تھے کہ ان طیارہ پرواز کے چند ہی منٹ بعد گر کر تباہ ہو گیا۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کیا3 فروری 1974ء کو پاکستان نے باضابطہ طور پر بنگلہ دیش کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا۔ 1971ء کے واقعات کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار تھے تاہم لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں بنگلہ دیش کی شرکت کیلئے پاکستان کی جانب سے اسے تسلیم کیا جانا ضروری تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے حالات کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے، قیدیوں کی واپسی اور دیگر تصفیہ طلب امور پر پیش رفت ممکن ہوئی۔

ناسا کی نظر میں  حقیقت سے قریب ترین سائنس فکشن فلمیں

ناسا کی نظر میں حقیقت سے قریب ترین سائنس فکشن فلمیں

سائنس فکشن فلمیں عموماً تخیل، مہم جوئی اور حیرت انگیز مناظر کا حسین امتزاج ہوتی ہیں، مگر بہت کم ایسی فلمیں ہوتی ہیں جو تفریح کے ساتھ ساتھ سائنسی حقائق کی درست ترجمانی بھی کریں۔ ناسا نے فلموں کی ایک حیران کن فہرست شیئر کی ہے جنہیں وہ اب تک بننے والی سب سے زیادہ سائنسی طور پر درست فلموں میں شمار کرتا ہے۔ یہ فلمیں تقریباً ایک صدی پر محیط سینما کی تاریخ پر پھیلی ہوئی ہیں، جن میں خاموش دور کی کلاسک فلموں سے لے کر جدید بلاک بسٹر فلمیں شامل ہیں۔ ان فلموں کو اس لیے سراہا گیا ہے کہ یہ محض خیالی عناصر پر انحصار کرنے کے بجائے حقیقی سائنسی اصولوں کا احترام کرتی ہیں۔ ناسا اور اس سے وابستہ سائنس دانوں کے مطابق سائنسی درستگی کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل کی بالکل درست پیش گوئی کی جائے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ سائنس، سائنس دانوں اور ٹیکنالوجی کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا جائے۔ ''گیٹاکا‘‘ (Gattaca) اور ''جراسک پارک‘‘ جیسی فلموں کو جینیات، ڈی این اے اور پیچیدہ نظاموں کی حقیقت سے قریب تر عکاسی پر سراہا گیا۔ اسی طرح ''کانٹیکٹ‘‘ (Contact) اور ''دی ڈے دی ارتھ اسٹوڈ اسٹل‘‘ (The Day the Earth Stood Still) کو خلائی تحقیق، ریڈیو فلکیات اور ماورائے ارضی مخلوق سے رابطے کی حقیقت پسندانہ منظرکشی کے باعث فہرست میں شامل کیا گیا۔حتیٰ کہ ابتدائی دور کی سائنس فکشن فلمیں، جیسے 1927ء میں ریلیز ہونے والی ''میٹروپولس‘‘ (Metropolis) اور 1929ء کی ''وومن اِن دی مون‘‘ (Woman in the Moon) کو بھی راکٹ سائنس کے سماجی اور اخلاقی اثرات کو اجاگر کرنے پر سراہا گیا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ یہ فلمیں سائنس کو سنجیدگی سے لیتی ہیں اور ان میں جادوئی حل کے بجائے محتاط تجربات، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کے عمل کو دکھایا گیا ہے۔ ''گیٹاکا‘‘(1997ء)یہ کہانی ایک ایسے مستقبل میں ترتیب دی گئی ہے جہاں انسانوں کو ان کے ڈی این اے کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ معاشرہ جینیاتی بنیادوں پر تقسیم ہو چکا ہے، جہاں ویلیڈز (Valids) یعنی جینیاتی طور پر بہتر بنائے گئے افراد کو مراعات حاصل ہیں، جبکہ اِن ویلیڈز (In Valids) یعنی قدرتی طور پر پیدا ہونے والے لوگ کمتر اور معمولی ملازمتوں تک محدود کر دیے گئے ہیں۔ فلم تقدیر اور عزم کے درمیان کشمکش اور انسانی حوصلے کی حیاتیات پر برتری جیسے موضوعات کو اجاگر کرتی ہے۔''کانٹیکٹ ‘‘(1997ء)ایک ریڈیو فلکیات دان، جس کا کردار جوڈی فوسٹر نے ادا کیا ہے، ایک خلائی سگنل دریافت کرتی ہے۔ جب سائنس دان اسے ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو فلم میں انسانیت اور ماورائے ارضی زندگی کے درمیان پہلے رابطے کا تصور پیش کیا جاتا ہے۔ ''کانٹیکٹ‘‘ کو اب تک بننے والی سب سے زیادہ سائنسی طور پر درست خلائی فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مشہور فلکیات دان کارل سیگن کے ناول پر مبنی ہے۔ ناسا نے فلم میں ریڈیو فلکیات کی حقیقت پسندانہ عکاسی، سائنسی شکوک و شبہات اور بڑے خلائی منصوبوں کے پیچھے موجود سیاسی اور مالی مشکلات اور ماورائے ارضی سگنلز کی تلاش کے سائنسی طریقہ کار کو غیر معمولی حد تک حقیقت کے قریب قرار دیا۔''میٹروپولس‘‘(1927ء)یہ جرمن اظہاریت پسند سائنس فکشن خاموش فلم ایک مستقبل کے شہر میں ترتیب دی گئی ہے، جو شاندار زندگی گزارنے والے اشرافیہ اور مظلوم مزدور طبقے میں منقسم ہے۔ اپنی قدامت کے باوجود ''میٹروپولس‘‘ (Metropolis) کو ٹیکنالوجی، خودکاری اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں دوراندیشانہ نظریے پر سراہا گیا ہے۔ ناسا نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ فلم نے انسانی محنت کے متبادل مشینوں اور جدید ٹیکنالوجی کے سماجی اثرات سے متعلق اخلاقی مسائل کو درست انداز میں پیش کیا۔''دی ڈے دی ارتھ اسٹوڈ اسٹل‘‘(1951ء)یہ کلاسک سائنس فکشن فلم ہے جس میں ایک خلائی مہمان ''کلاٹو‘‘ واشنگٹن میں اترتا ہے، جس کے ساتھ ایک طاقتور روبوٹ ''گارٹ‘‘ بھی ہوتا ہے۔ وہ انسانیت کے سامنے سخت انتباہ پیش کرتا ہے کہ تشدد اور جوہری ہتھیار چھوڑ دو یا تباہی کا سامنا کرو۔ناسا نے اس فلم کی خلائی مخلوق کے ساتھ رابطے کے سنجیدہ انداز کو نمایاں کیا ہے، جس میں خلائی مخلوق کو درندوں کی طرح نہیں بلکہ ترقی یافتہ اور منطقی حیثیت رکھنے والے وجود کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔''وومن اِن دی مون‘‘ (1929ء)یہ ایک جرمن خاموش سائنس فکشن فلم ہے جو چاند پر ایک مشن کے گرد گھومتی ہے، جس کی بنیاد چاند کے سونے کی لالچ پر رکھی گئی ہے۔فلم میں خلائی سفر کے ابتدائی دورکی منظرکشی کی گئی ہے، جیسے کاؤنٹ ڈاؤن اور صفر کشش ثقل کے مناظر۔ دی تھنگ فرام اَنادر ورلڈ (1951)یہ ایک کلاسک سیاہ و سفید سائنس فکشن ہارر فلم ہے، جو سائنس دانوں اور فضائیہ کے اہلکاروں کی کہانی بیان کرتی ہے جو ایک دور دراز آرکٹک چوکی پر ایک خونخوار، پودے نما خلائی مخلوق سے لڑ رہے ہیں، جو برف میں جمی ہوئی دریافت کی گئی تھی۔ جب یہ مخلوق پگھلتی ہے تو گروپ کو اس خطرے کو سمجھنے اور روکنے کیلئے سائنسی منطق اور تجربات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔''جراسک پارک‘‘ (1993ء)یہ ایک انقلابی سائنس فکشن ایڈونچر فلم ہے، جسے اسٹیون اسپیلبرگ نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ فلم ایک ارب پتی کے تھیم پارک کے گرد گھومتی ہے، جہاں کلون شدہ ڈائنوسارز ایک دور دراز جزیرے پر رکھے گئے ہیں، لیکن ایک سکیورٹی ناکامی کے باعث یہ مخلوق فرار ہو جاتی ہے اور لوگوں کا شکار شروع کر دیتی ہے۔اگرچہ ڈائنو سارز کی کلوننگ خیالی ہے۔ ناسا کے سائنس دانوں نے جراسک پارک کو ڈی این اے، جینیات تھیوری کی درست وضاحت کیلئے سراہا ہے۔فلم درست طور پر دکھاتی ہے کہ کس طرح چھوٹے عوامل پیچیدہ نظاموں میں تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتے ہیں، جو ایک حقیقی سائنسی اصول ہے۔

جَنے :مٹی سے بنی تہذیب

جَنے :مٹی سے بنی تہذیب

افریقہ کے مغربی خطے میں واقع ملک مالی کا قدیم شہر جَنے (Djenné) تاریخ، تہذیب اور فنِ تعمیر کا ایک ایسا نادر نمونہ ہے جو صدیوں سے انسانی تخلیقی صلاحیت اور اجتماعی شعور کی گواہی دے رہا ہے۔ دریائے نائجر کے سیلابی میدان میں آباد یہ شہر بظاہر سادہ سا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی بنیادوں میں علم، تجارت، مذہب اور ثقافت کی ایسی داستانیں پوشیدہ ہیں جو اسے دنیا کے عظیم تاریخی شہروں کی صف میں لا کھڑا کرتی ہیں۔ جَنے کو خاص طور پر اس کی مٹی سے بنی شاندار عمارتوں اور عظیم مسجد کے باعث عالمی شہرت حاصل ہے۔جَنے کی تاریخ تقریباً دو ہزار سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ یہ شہر افریقہ کے قدیم تجارتی راستوں پر واقع تھا، جہاں سے سونا، نمک، اناج اور دیگر اشیا کا تبادلہ ہوتا تھا۔ شمالی افریقہ اور صحرائے اعظم کے پار آنے والے قافلے یہاں قیام کرتے اور یوں جَنے تجارت کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ اسی تجارتی سرگرمی نے اس شہر کو خوشحالی بخشی اور اسے افریقہ کی ترقی میں مرکزی کردار عطا کیا۔اسلام کی آمد نے جَنے کی شناخت کو ایک نیا رخ دیا۔ تیرہویں صدی میں اسلام یہاں مضبوطی سے قائم ہوا اور جَنے جلد ہی علم و دین کا مرکز بن گیا۔ اگرچہ تیمبکتو کو زیادہ شہرت ملی، مگر جَنے بھی قرآنی تعلیم، فقہ اور دینی علوم کے حوالے سے کم اہم نہ تھا۔ یہاں کے مدارس اور علماء پورے خطے میں جانے جاتے تھے اور دور دراز علاقوں سے طلبہ علم حاصل کرنے آتے تھے۔جَنے کی سب سے نمایاں اور عالمی شہرت یافتہ علامت عظیم مسجد جَنے (Great Mosque Of Djenné)ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی مٹی سے بنی عمارت سمجھی جاتی ہے۔ یہ مسجد پہلی بار تیرہویں صدی میں تعمیر کی گئی، تاہم موجودہ عمارت 1907ء میں روایتی طرزتعمیر کے مطابق دوبارہ تعمیر کی گئی۔ یہ مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ افریقی فن تعمیر کا ایک زندہ شاہکار ہے۔مسجد جَنے کی تعمیر میں مٹی، بھوسے اور لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے، جسے مقامی زبان میں بانکو (Banco) کہا جاتا ہے۔ اس مسجد کے بلند مینار، لکڑی کے شہتیر اور متوازن ساخت دیکھنے والے کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ہر سال بارشوں کے بعد شہر کے تمام باشندے مل کر مسجد پر نئی مٹی چڑھاتے ہیں۔ یہ عمل صرف مرمت نہیں بلکہ ایک اجتماعی تہذیبی روایت ہے، جو اتحاد، تعاون اور ورثے سے وابستگی کی بہترین مثال ہے۔جَنے کا قدیم شہر بھی اپنی مثال آپ ہے۔ تنگ گلیاں، مٹی سے بنے مکانات، لکڑی کے دروازے اور کھڑکیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں کا طرز تعمیر نہ صرف خوبصورت بلکہ موسمی حالات کے عین مطابق ہے۔ گرمی میں یہ عمارتیں ٹھنڈی رہتی ہیں اور سردی میں حرارت کو محفوظ رکھتی ہیں۔ یہ قدرت اور انسان کے درمیان ہم آہنگی کا ایک عملی مظہر ہے۔ثقافتی اعتبار سے جَنے مغربی افریقہ کی روایات کا امین ہے۔ یہاں کے بازار، خاص طور پر پیر کے روز لگنے والا مشہور بازار، آج بھی تجارتی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ اس بازار میں آس پاس کے دیہات سے لوگ اناج، مویشی، کپڑا اور دستکاری کی اشیا فروخت کرنے آتے ہیں۔ یہ منظر صدیوں پرانی تجارتی روایت کو زندہ رکھتا ہے۔بین الاقوامی سطح پر جَنے کی اہمیت اس وقت مزید اجاگر ہوئی جب یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ تاہم اس اعزاز کے ساتھ ساتھ تحفظ کے مسائل بھی سامنے آئے۔ موسمی تبدیلیاں، سیلاب، جدید تعمیرات اور سیاسی عدم استحکام اس شہر کیلئے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود مقامی آبادی اپنی روایت اور ورثے کو بچانے کیلئے مسلسل کوشاں ہے۔اخباری نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جَنے ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عظمت صرف پتھر اور فولاد میں نہیں بلکہ مٹی جیسے سادہ عنصر میں بھی پوشیدہ ہو سکتی ہے۔ یہ شہر اس تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ ترقی کا مطلب جدید مواد اور بلند عمارتیں ہیں۔ جَنے کی مٹی کی عمارتیں ثابت کرتی ہیں کہ پائیدار اور ماحول دوست طرزِ زندگی صدیوں پہلے بھی موجود تھا۔آج جَنے ایک خاموش مگر بامعنی پیغام رکھتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تہذیبیں اپنی جڑوں سے جڑی رہیں تو وقت کے طوفان بھی انہیں مٹا نہیں سکتے۔ علم، ایمان، تجارت اور اجتماعی شعور کا یہ امتزاج جَنے کو محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیبی علامت بنا دیتا ہے۔آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ جَنے، مالی افریقہ کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، جو ماضی اور حال کو آپس میں جوڑتا ہے۔ یہ شہر آج بھی مٹی کی دیواروں کے ذریعے انسانیت کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ سادگی، اجتماعیت اور روایت میں ہی اصل پائیدار عظمت پوشیدہ ہے۔

پنیر: غذائیت کا ایک مکمل خزانہ

پنیر: غذائیت کا ایک مکمل خزانہ

تحقیق اور تجربات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پنیر ایک مکمل اور متوازن غذا ہے جو نہ صرف پروٹین اور کیلشیم کا بہترین ذریعہ ہے بلکہ ہضم ہونے میں بھی آسان ترین غذا میں شمار ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پنیر کا اعتدال سے استعمال انسانی صحت کیلئے بے حد مفید ہے، جبکہ بے اعتدالی یا زیادہ پکا کر کھانے سے بدہضمی کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے۔ بچوں، خصوصاً دودھ پلانے والی ماں کے بچے، اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ ان کی نشوؤنما اور ہڈیوں و دانتوں کی مضبوطی کیلئے کیلشیم کی وافر مقدار ضروری ہے، جو پنیر میں موجود ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں پنیر کی اہمیت اور افادیت کو سب سے زیادہ تسلیم سوئٹزرلینڈ نے کیا ہے، جہاں ایک ''پنیر یونیورسٹی‘‘ قائم ہے، جہاں پنیر پر ڈپلومہ کورسز اور اور ڈگری بھی کروائی جاتی ہے۔ اس کے بعد فرانس، ہالینڈ، ڈنمارک اور اٹلی بھی پنیر کی تیاری میں ممتاز ہیں۔ اٹلی کو اس صنعت میں سب پر فوقیت حاصل ہے۔ تحقیق کرنے والوں کے تجربات نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ پنیر ہی ایک مکمل غذا ہے جو زودہضم بھی ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ اسے اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے ۔ اس سے بدہضمی کی شکایت صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب اسے بے اعتدالی سے کھایا جاتا ہے یا جلدی کھایا جائے۔ اسے تیار کرنے میں اگر زیادہ پکایا جائے تو یہ ربڑی کی طرح ہوجاتا ہے اور ہضم ہونے میں کافی وقت لیتا ہے جس سے بدہضمی کی شکایت ہوجاتی ہے ۔ اس صورت میں اس کی غذائی اہمیت کم ہوجاتی ہے کیونکہ یہ اپنی غذائیت کھودیتا ہے ۔ پنیر گوشت یا دیگر پروٹینز والی غذائوں کا ایک بہتر نعم البدل ہوسکتا ہے ۔ خصوصاً دودھ پلانے والی مائوں اور ان بچوں کیلئے تو بے حد فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ انہیں اپنی نشوونما کیلئے ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کی خاطر کیلشیم کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور پنیر میں کیلشیم وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے ۔ پنیرکی تیاریپنیر کو بہتر طریقے سے حاصل کرنے کیلئے کئی طریقے اپنائے جاتے ہیں ۔ انہی میں ایک ولایتی طریقہ بھی ہے ۔ اس کے تحت کچے دودھ کو ایک برتن میں ڈال کر اس میں ایک دوائی ملائی جاتی ہے جسے ''رینیٹ‘‘ کہتے ہیں۔ یہ گولی، لیکوئیڈ اور سفوف تینوں شکلوں میں دستیاب ہے ۔ جب اسے کچے دودھ میں ملایا جاتا ہے تو دودھ فوراً جم جاتا ہے اور توڑالگ ہوجاتا ہے ۔ پھر اسے ایک صاف کپڑے میں باندھ کر کسی اونچی جگہ پر لٹکا دیا جاتا ہے ۔ جس کے سبب توڑے کا سارا پانی آہستہ آہستہ ٹپک کر نکل جاتا ہے ۔ اس کے بعد چھینے میں بقدر ضرورت نمک ملایا جاتا ہے ۔ پھر اسے مشین یا کسی دوسرے طریقے سے خوب دبایا جاتا ہے تاکہ اس کا باقی ماندہ پانی بھی نکل جائے۔اس کے بعد اسے کافی دیر رکھ کر سڑاتے ہیں جس سے دودھ کی چینی والا حصہ کھٹائی کی شکل میں منتقل ہو جاتا ہے اور کیسین کا جز بھی نئی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔یوں مکمل طور پر پنیر تیار ہونے میں خاصا وقت لگتا ہے ۔ اس طریقہ سے تیار کئے ہوئے پنیر میں پروٹین، چربی اور نمک4.14 فیصد سے لے کر 7 فیصد اور پانی 30 سے 62 فیصد ہوتا ہے ۔