میوزک سے ہم لوگوں کو قریب لاسکتے ہیں
اسپیشل فیچر
لی ریڈفیلڈامریکہ کے ایک مشہور میوزیشن ہیں جنہوں نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا۔وہ جیز (JAZZ) میوزک سے وابستہ ہیں اور saxophone بجانے کے ماہر ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس کے گریجویٹ طالب علم ہیں۔واضح رہے کہ وہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (NAPA) اوریونیورسٹی آف ٹیکساس موسیقی کے فروغ اور ترقی کے لئے پارٹنرز کے طور پر کام کر رہے ہیں۔دورہ پاکستان کے دوران لی ریڈفیلڈ سے لیا گیا انٹرویو قارئین کی نظر ہے۔سوال:آپ اپنی زندگی اور کیریئر کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیں؟جواب .میں موسیقی کے ذریعے اپنی انفرادی اور تخلیقی صلاحیتوں کو پیش کرتا ہوں، موسیقی میری سوچ و فکر کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔میری ترتیب اور کمپوزیشن دراصل فیوژن ہے جو میرے علم اور تجربے کی عکاس ہے اوراسے میں نے میوزیکل اسٹڈیزسے اور ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے سفرکے دورن حاصل کیا۔ ابتدا میں مجھے اپنی دادی سے بہت سپورٹ ملی اور انھوں نے مجھے میرا پہلا saxophone خریدنے کے لیے پیسے دیے۔نوعمر ہونے کی وجہ سے میں پبلک پرفارمنس، کمپوزیشن اور ریکارڈنگ میں بہت دلچسپی رکھتا تھا۔ابھی میںصرف انیس سال کا ہی تھا تو مقامی پروگراموں میں مستقل پرفارم کر رہا تھا اور میرے saxophone کی آواز لوکل کالج ریڈیو اسٹیشن کے توسط سے مسلسل لوگوں کے کانوں میں رس گھول رہی تھی۔ تب میں نے contra-bass clarinet میں دلچسپی لینی شروع کی اور واشنگٹن یونیورسٹی میں اس کی کلاسیں اٹینڈ کرنے لگا۔اسی دورن میں نے جیز کو اسٹڈی کیا ۔میں نے دنیا کے متعدد ممالک کا دورہ کیا اور وہاں سے بہترین میلوڈیز، اسکیلز اور رِدھم جمع کیے۔۔میں نے تھائی لینڈ میں جیز اور بلیوز مفت پرفارم کیا۔پھر میںنے مختلف اسکولوں میں جیز اورا لیکٹرانک میوزک کمپوزیشن کی تعلیم دی۔سوال .پاکستان آنے کا کیا مقصد تھا؟ اورآپ کو دورہ پاکستان کیسا رہاَ؟جواب .میرا بنیادی مقصد تو یہ تھا کہ میں جنوبی ایشیاء کی موسیقی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی حاصل کروں۔۔اور مغربی موسیقی سے اس کے اشتراک کی کوئی سبیل نکالوں ۔خاص کر جیز میںمجھے موسیقی کے اداروں کے مختلف سسٹم کے بارے میں جاننے سے بہت دلچسپی ہے۔ موسیقی کے ایک استاد کی حیثیت سے میں اپنی موسیقی کے اہم حصوں کو دیگر لوگوں کے ساتھ شیئر کر نا چاہتا ہوں اس امید پر کہ وہ اسے ایک نئی جہت کے ساتھ اپنی موسیقی میں متعارف کرائیں گے۔سوال .پاکستانی موسیقی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟جواب:پاکستان میں موسیقی کے دو مختلف سسٹمز کا بہترین فیوژن ہے جو ناپا میوزک شعبہ کے سربراہ مشہور ستا ر نواز استاد نفیس خان کی مرہون منت ہے۔ایک طرف تو روایتی موسیقی ہے جس میں اگر ایک طرف رگ راگنیاں شامل ہیں تو دوسری طرف مغربی موسیقی ہے جس کی سکولز میں باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے۔ہمیں دونوں کے درمیان توازن رکھتے ہوئے کوشش کرنی چاہیے کہ ماضی کی روایتی موسیقی کی معلومات کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور سسٹم سے بھی بھرپور استفادہ کریں۔استاد نفیس خان دونوں قسم کی موسیقی کی اہمیت اور افادیت سے بخوبی واقف ہیں اورناپا میں دونوں قسم کی موسیقی کے فیوژن پر کام کر رہے ہیں۔سوال .پاکستانی موسیقاروں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟جواب:پاکستانی موسیقاروں سے میل جول کا آغاز تو اسٹن ٹیکساس سے ہی ہو گیا تھا۔ ایک دفعہ بٹلر اسکول آف میوزک کے نگیل بابی،ارسلان پرویز ، محمد بشیر اور ناپا کے حافظ مصطفیٰ مقامی آسٹن ویومیں آئے جو سہارا لائونج کے نام سے پہچانا جاتا ہے اور افریقن میوزک کے لیے مشہور ہے۔میں وہاں دمونچی ہائوس بینڈ کے ساتھ پرفارم کر رہا تھا۔مجھے ایک ساتھی سے پتہ چلا کہ نگیل بابی ایک مستند گلوکار ہے اور وہ بھی بینڈ کے ساتھ کچھ گانے گانا چاہتا ہے۔نگیل سے گفتگو کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ یہ میرے لیے جنوبی ایشیاء کی موسیقی کے بارے میں جاننے اور اس کے اسرار و رموز سیکھنے کا بہترین موقع ہے۔پھر چاروں موسیقاروں سے میری باقاعدہ نشستیں ہوتی رہیں اور تب مجھے معلوم ہوا کہ ارسلان پرویزنغمہ نگاری کی خداداد صلاحیت کا مالک تھا۔سوال. کیا آپ کے خیال میں اس طرح کے اشتراک سے پاکستان اور امریکہ کے لوگوں میں قربتیں بڑھیں گی؟جواب:یقیناََ۔ویسے فاصلے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ البتہ موسیقی یا ثقافت کے تبادلے سے میڈیا یا دیگر اداروں کی جانب سے پھیلائی گئی غلط فہمیاں اور غلط تاثر دور ہوتا ہے۔لوگ براہ راست ایک دوسرے سے ملتے ہیں ، بات چیت کرتے ہیں، تب انھیں ایک دوسرے کے مزاج اور رویوں کا پتہ چلتاہے۔یہ بات بالکل صحیح ہے کہ فن اور فنکاروں کے تبادلے سے قربتیں اور محبتیں بڑھتی ہیں۔اورمختلف تہذیبوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے مابین ایک دوستی کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔سوال:کیا آپ کے خیال میں پاکستانی موسیقاروں میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنے آپ کو منو ا سکیں؟جواب: بالکل ہے۔پاکستانی بڑے اعلی ٰ پائے کے میوزیشن ہیںجیسے استاد بشیر خان ایک حیرت انگیز فنکار ہیں جنھیں کسی سند کی ضرورت نہیں، ان کا اپنا کام بولتا ہے۔٭…٭…٭