ڈاکٹر مبارک علی کی یادیں اور باتیں
اسپیشل فیچر
جرمن زبان میں بہت مطالعہ کرچکا،ایک زمانہ میں یہ میری دوسری زبان تھی ***** (حصہ دوئم) *****میں جرمن زبان میں مطالعہ کرتا رہا ہوں جرمن میں آپ یو ں سمجھ لیں کہ ایک عرصہ تک جرمن زبان ہی میری دوسری زبان تھی، اسی طرح دوسری زبان فارسی ہے کیوں کہ عہدوسطیٰ کے تمام ماخذ فارسی میں ہیںاور ہمارے زمانے ہی سکول میں پڑھائی جاتی تھی، عربی بھی پڑھی، لیکن بقدر ضرورت، لیکن فارسی مجھے اچھی آتی ہے۔ انگریزی میںبھی لکھ لیتا ہوں، لیکن میری زیادہ تر کتابیں اُردو میں ہیں کیوںکہ میرامقصد یہ تھا کہ عام لوگوں تک تاریخ پہنچے ۔فارسی کی چیزیں میں نے ترجمہ بھی کی ہیں، جدید فارسی سے ایک اچھا افسانہ تھا ،جو شاہ کے زمانے میں لکھا گیا تھا ۔ایک رائٹر تھا، صمد بہرنگی اور اس کاایک افسانہ تھا ’’ماہی سیاہ چلو‘‘ پرچم کے نا م سے ،اُس کاایک رسالہ نکلتا تھا ۔اُس میں اس نے بتایا ہے کہ علامتی انداز میں کہ انقلاب اگرلانا چاہیے، توکس طرح لانا چاہیے اورہوا یہ کہ وہ ایک سکول ٹیچر تھا، اُس کواٹھا کرلے گئے اوربعد میں پتانہیںچلا کہ کیا ہوا۔ اسی طرح عربی میں بھی ترجمے کیے تھے ۔خاص طور پر افسانے بہت اچھے ہیں ،ان میں ان کی جدوجہد کی عکاسی کی گئی ہے۔ فلسطینیوں کے افسانوں کے بھی ترجمے کیے تھے یہ ان دنوں کی بات ہے، جب میںجدید عربی پڑھ رہا تھا۔ فارسی میں کافی لوگ جدید لکھنے والوں میں شامل ہیں، مثلاً صمد بہرنگی اور صادق گنجوئی، ان کے علاوہ میرے نزدیک جوبہت زیادہ متاثر کرنے والاادب ہے، وہ ہندوستان میں دلت لوگو ں کا ہے۔ ہندوستان میں نیچی ذات کے لوگوں کودلت کہتے ہیں۔ ان کا ادب بہت متاثرکن ہے، پھرمیں اس سے اتنامتاثر ہواکہ میں نے ایک کتاب لکھی ہے ’’اچھوت لوگوں کاادب‘‘ اُن کی جوشاعری تھی ،اس کاترجمہ ہمارے دوست رضاعابدی نے کیا ۔وہ کتاب چھپ چکی ہے ،اُس کے دوتین ایڈیشن آچکے ہیں ۔اُن کی شاعری میں بڑا گداز اور سیلاپن ہے کیونکہ وہ لوگ صدیوں سے ظلم کاشکار ہیں، تواب جاکے اُن کوجب اظہار کاذریعہ ملا ہے ،تو بڑے ہی موثرانداز میں اپنے جذبات کااظہار کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ پسند بدلتی جاتی ہے۔ میں نے کسی زمانے میں فلسفہ تاریخ پڑھنا شروع کیا ۔جیسا کہ ابن خلدون کی مقدمہ ابن خلدون وغیرہ ،چنانچہ میں نے ان کی تحریروں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ آج کل جو تاریخ میںبہت اچھے ہیںاُن میں ایک نام ہائوس بام ہے، یہ ویسے تومشرقی یورپ کے تھے، لیکن اب انگلینڈ میں رہتے ہیں یا ایک اورنام ہے ای پی ٹامسن۔ یہ لوگ ترقی پسند نقطۂ نظر سے تاریخ کوبیان کرتے ہیں۔ یورپ اورامریکہ میں توکافی بڑی تعداد ہے، جو تاریخ کوایک نئے ڈھنگ سے بیان کررہی ہے۔ ایک کتاب جدیدتاریخ ہے، میں نے اس کتاب کا نہایت باریک بینی اور دقیہ رسی سے مطالعہ کیا ہے، اس کے اندر اُتر کر اس کو ڈوب کر سمجھا ہے اور پھر اسے اپنے عہد کے لوگوں تک ترجمے کی صورت میں منظر عام پر لانے کی کوشش کی تاکہ جوہمارے اُردو پڑھنے والے ہیں اُن کو معلوم ہوکہ تاریخ کامضمون کیسے پڑھا جاتاہے، دوسرا یہ کہ فرانس میں پہلی جنگ کے بعدمورخین کاایک گروہ تھا، ان میں زیادہ تر کلچر پر لکھتے ہیںاُن کے اندر جوبہت مشہور Historian ہے اس کانام بہ ڈول ہے اُس کی کچھ چیزیں ترجمہ کی ہیں ۔میری شروع سے ہی عادت ہے اخبار پڑھنے کی۔بدقسمتی سے ہمارے جوکالم نگار باقاعدہ لکھتے ہیں، وہ تو سب ہی بورتھے ایک کالم نگار ’’مجید لاہوری‘‘ تھے۔ ان کے بارے میں ایک اُن کے دوست نے کہا ہے کہ میں نے کبھی انہیں پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا ہمیشہ اُن کولکھتے ہوئے دیکھا ہے اسی طرح انگریزی میں روبینہ سہگل بہت اچھا لکھتی ہے۔ ویسے بھی وہ بہت اچھی سکالر ہیں ان کے کالم پڑھتا ہوں۔مزاح میں مشتاق یوسفی کی تحریریں بہت اچھی ہوتی ہیں ،ویسے تو میں نے جوانی میں شفیق الرحمان کوبھی پڑھا ،وہ بہت اچھے لگتے تھے اُس وقت تووہ سب لوگ ہی بہت اچھے لگے لیکن اب مشتاق یوسفی ہی زیادہ اچھے لگتے ہیں۔ تاریخ ہند میں ایک سے ایک بڑھ کر مورخ ہے۔ بہت ہی پڑھے لکھے ہیں ۔انھوں نے پوری تاریخ کو بدل کر رکھ دیا ہے اُس کے نقطۂ نظر نے ہسٹری کے بارے میں لوگوں کے رائے کوبدل دیا ہے پر نہیں لکھا ہیں۔ اُن کی ابھی پچھلے دنوں بلکہ اب توایک سال ہوگیا ہے اُن کی ایک کتاب آئی تھی’’مغل تاریخ‘‘ اس کامیں نے Reviewبھی کیا اس طرح منظر عالم ہیں،جو آج کل شگاگو یونی ورسٹی میں ہیں ابھی نوجوان ہیں لیکن بہت اچھا کام کررہے ہیں ۔پاکستان میں جدید ہسٹری میں کوئی قابل ذکر فرد نہیں ۔ میرے خیال میں جوآخریHistorianتھے وہ ریاض الاسلام تھے۔ شیخ اکرام صاحب بہت ہی اچھے مورخ ہیں، یعنی یہ کہ ان کا کام بنیادی ماخذ اور حوالے کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک مسلمہ امر ہے کہ وہ بہت ہی روایتی ہیں۔ شیخ صاحب چونکہ حکومت میں رہے اس لیے ان کے اندر کا حقیقی مورخ ابھر نہیں سکا۔ فلسفہ تاریخ میں ابن خلدون بہت ہی زبردست ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ابن خلدون کومسلمانوں نے بہت اہمیت نہیں ہے۔ ابن خلدون 15ویں صدی کا ہے لیکن جوکچھ اُس نے لکھا اُس کاکوئی اثرہمیں مسلم سوسائٹی میںنظر نہیں آتا،دل چسپ بات یہ ہے کہ ابن خلدون تقریباً بالکل تاریخ ہی میں گم ہوگیا تھا پہلی مرتبہ جب اس کے بارے میں پتہ چلا ہے تووہ عثمانی سلطنت کے آخری دور تھا اٹھارویں یا انیسویں صدی جواُن کے زوال کادور ہے تواُس وقت کسی نے یہ کہاکہ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ سلطنتیں زوال پذیر کیوں ہوتی ہیں توپھر کسی نے کہا کہ ابن خلدو ن کوپڑھاجائے اُس کے بعد یہ یورپ کے اندر مقبول ہوا اوراس پر زیادہ کام کیا گیا۔ ہمارے ہاں تاریخ جب لکھنی شروع کی گئی تویہ عباسی خاندان سے شروع ہوئی ابن اسحاق کی پہلی کتاب ہے جواُس نے سیرت پہ لکھی لیکن وہ بظاہر گم ہوگئی اورمیں طبری وغیرہ جتنے بھی ہیں بڑے مورخ ہیں۔ اسلامی تاریخ کافی حدتک ہمارے عقیدے سے ملتی ہے جب تاریخ اورعقیدہ مل جائے توپھرتاریخ کا آپ کوئی تنقیدی جائزہ نہیں لے سکتے تومیں یہ سمجھتا ہوں کہ مسلمان جو ہیں اپنی تاریخ کوصحیح طریقے سے لکھ ہی نہیں سکتا کیوں کہ بہت زیادہ عقیدت مندی ہے شخصیتوں سے، نظریات سے، کہ آپ اس کوصحیح طریقے سے بیان ہی نہیں کرسکتے لیکن پھربھی کچھ لوگوں نے کوشش کی ہے مثلاً مصرکے طہٰ حسین جوہیں اُن کی الفتنتہ الکبری، بڑی اچھی کتاب ہے۔ باہرکی یونی ورسٹیز میں بہت کام ہورہا ہے کیوں کہ اُن کوآزادی ہے، وہ یہ کام کرسکتے ہیں۔اسی طرح مصر کے ایک صاحب ہیں شعبان ان کاکام بہت اچھا ہے ۔٭٭٭ Islamic History a deptaionاورAbassiہے اس طرح اور ہیں اس کے بعد جوHudentکے لیے جو ایک اچھی کتاب ہے وہ پندہ سولہ سال پہلے آئی تھی بڑی اچھی کتاب ہے۔ Era dipidusاُس کی کتاب ہےHistory of Muslim societiesپھر اسلامک ہسٹری یہ جو بنیادی کام کیا ہے عربی میں پھرجرمن زبان میں ہوا ہے جرمن کوClassical islamicدورمیں بہت دل چسپی ہے توانھوں نے بہت کام کیا ہے ایک تویہ ہے کہ عربی کے جتنے بھی بنیادی ماخذ ہیں، اُن سب کوCatalogeبنایا ہوا ہے۔ پھراُس کے بعدجومختلف فرقے ہیں اسماعیلی ہیں۔ قرامطہ ہیں ’’دروز ہیں‘‘ انھوں نے یہ کام کیا کہ ہر جرمن یونی ورسٹی میں وہاں اسلامک سٹڈیز کا ڈیپارٹمنٹ ہے اور زیادہ ترکلاسیکل پیریڈ پرکام کرتے ہیں اوربہت گہرائی میں جاتے ہیں کیوںکہ اس کے ترجمے بھی ہوجاتے ہیں میرے اپنے جوپروفیسر تھے اُن کا نام Bosayہے اُن کاایرانی شاعری کے اوپر بڑاکام ہے آل بویہ جوتھے اور بغداد کے اُن پر انھوں نے کام کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہاں پہ بہت کام ہورہا ہے سیا سی تاریخ پر ہی نہیں بالکل ثقافتی تاریخ ہے اور معاشرتی پہلوئوں پر بھی۔ اردو کے اندر ایسا کوئی کام نہیں ہوا یہ جوترجمے ہوتے ہیں جیسے طہٰ حسین کے یا پرانے زمانے میں مولوی چراغ علی ایک تھے اُن کاکام ہے لیکن ہمارے ہاں لوگ نظریاتی کام نہیں کرسکتے شبلی توبہت ہی روایتی قسم کے مورخ ہیں مثلاً وہ کہتے ہیں کہ میں یہ لکھ رہاہوں ثواب کی خاطر اب تاریخ جوہے وہ کیا ثواب کے لیے لکھی جاتی تاریخ توبڑی ظالمانہ چیز ہے، ایک اچھا کام ہوا ہے لیکن روایتی ہے اچھا ہے ابوالفضل کا جس نے اکبر نامہ ہے منشی ذکاء اﷲ کاکام بھی بہت اچھا ہے۔ ہیرالڈلیم نے ہسٹری کو افسانوی رنگ میں لکھا ہے اور اچھا لکھا ہے وہ محنت کرتا ہے تاریخ کے واقعات کوبیان کرتاہے لیکن اُس نے تاریخ کو شخصیات کے حوالے سے لکھا ہے جیسا کہ ہمارے ہاں عبدالحلیم شرر ہیں اردو میں شروع میں بہت اچھی کتابیں لکھی گئی تھیں لیکن روایتی انداز میں، ایک صاحب تھے انھوں نے بھی، اردو میں تاریخ ہے ہی نہیں اس لیے میں نے سوچا کہ تاریخ آسان زبان میں لکھی جائے حکمرانوں کے متعلق لکھنے کی بجائے عوامی نقطہ نظر کوسامنے رکھ کرلکھاجائے اور کسی نے مجھے اتنامتاثر نہیں کیا دوران سفر میں کم ہی مطالعہ کرتا ہوں کیونکہ سفرکے دوران مجھ سے پڑھا نہیں جاتا۔ آج کل تودن میں ہی پڑھتا ہوں۔ کرسی پربیٹھ کراطمینان کے ساتھ پڑھتا ہوں لیکن لکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آپ جوپڑھیں نوٹس بناکر تیاری کریں نوٹس آپ کے پاس ہونے چاہئیں کہ کس ترتیب کے ساتھ لکھنا ہے تو اشارات اور نوٹس کا پاس موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔ میرا حافظہ ٹھیک ہے مصنف یاد رہ جاتے ہیں البتہ حافظہ پہ بہت زیادہ اعتبار نہیں کرناچاہیے اسی لیے میں نوٹس وغیرہ لے لیتا ہوں تاکہ ان کومیں استعمال کرسکوں۔ میں شوروغل میں بھی پڑھ سکتا ہوں بالکل اس طرح نہیں ہے کہ بالکل خاموشی ہوجائے اور ہوبھی نہیں سکتی۔ شروع میں کتابیںخریدنے کاشوق تھا اس وقت بھی تقریباً 5000ہزار کتابیں ہوں گی لیکن پچھلے دنوں میں نے کافی کتابیں جو سمجھتا تھا کہ میرے استعمال کی نہیں ہیں وہ کتابیں کچھ لائبریریوںکودے دی ہیں کیوں کہ شاعری افسانے وغیرہ میں پڑھتا نہیں تو اس لیے ایسی کتابیں لائبریری کودے دی ہیں اور ابھی بھی کوئی نئی کتاب ہوتی ہے تومیں ضرور لے لیتا ہوں ہندوستان جاتاہوں تووہاں سے کتابیں ضرور خریدتا ہوں۔ کتابوں کا لین دین ہوتا ہے لیکن کم ہوا ہے۔ میں کسی کو زیادہ کتابیں دیتانہیں۔ کبھی کبھی کسی کتاب کا مسئلہ ہوتاہے کہ کبھی کتاب چھپی اور آوٹ آف پرنٹ ہوگئی لائبریری میں موجود نہیں ہے توکافی مشکلات آتی ہیں اس بارے میں اب چونکہ میرے پاس لائبریری نہیں مثلاً یہ کہ پنجاب پبلک لائبریری ہو پنجاب یونی ورسٹی کی لائبریری ہو اب ان کے پاس بھی پرانی کتابیں ہی رہ گئی ہیں اوراگران کاسٹاف آپ کے ساتھ بہت زیادہ تعاون نہیں کرتا ہے تو کوشش ہوتی ہے کہ یہاں نہ ہی جانا پڑے تواچھا ہے لیکن کبھی کبھی کتاب کی بہت ضرورت ہوتی ہے آپ کومنگوانی پڑتی ہے ایسی صورت میں کسی دوست کی وساطت سے کتاب منگوا لیتے ہیں۔ مطالعے کے ساتھ ذہنی تبدیلی ہوتی رہتی ہے وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے خیالات بدلتے رہتے ہیں ظاہر ہے کہ نئی چیزیں آتی ہیں آپ نئے طریقے سے سوچتے ہیں اورپھر اس کااحساس بھی ہوتاہے کہ آپ نے اس سے دس سال پہلے کیا لکھا تھا۔ آج کیالکھ رہے ہیں لیکن میراجوبنیادی مقصد ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں میں تاریخ کے عوامی نقطہ نظر کا احساس اُجاگر کرنا چاہیے۔ مثلاً تاریخ میں ہم حکمرانوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں قبائل ہیں، برادریاں ہیں ابھی تک تومیں Theoriticalکام کررہا ہوں تاکہ لوگوں تک یہ چیز پہنچائی جائے اور انہیں پتہ چلے کہ تاریخ میں ان لوگوں کابھی کردار ہے دوسری جوسماجی یا معاشرتی قوتیں کام کررہی ہیں اُن کودیکھنا چاہیے۔ باقی زندگی کے لیے اگر مجھے موقع ملے تو میں ٹالسٹائی کا ناول war and peace رکھوں گا تو دوسرا غالب کے دیوان اُن کاایک ایک شعربندہ پڑھتا رہتا ہے اورغور کرتا رہتا۔ میں نے مذہبی مطالعے میں ابوالکلام آزاد کوبھی پڑھا سیدسلیمان ندوی شروع میں شبلی نعمانی، ابو الاعلیٰ مودودی، امین حسن اصلاحی پھردیوبند کے محمود حسن ہیں رشیداحمد کنگو ہی کے فتاویٰ وغیرہ پڑھے چونکہ ان کا تاریخ سے بھی بڑاواسطہ ہوتا ہے۔ مثلاً ابو الکلام آزاد ایک مذہبی سکالرتوضرورتھے لیکن تاریخ کوانھوں نے بہت مسخ کیا ہے خاص طورپرتذکرہ کے اندر جیسے شیخ احمد سرہندی کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اُس نے تن تنہا اکبر کے الحاد کامقابلہ کیا حالانکہ اکبرکا کوئی الحاد نہیں تھا۔ اکبر تو ایک طرح سے مذہب کومختلف طریقوں سے دیکھ رہاتھا وہ رسالت یاتوحید کامنکرنہیں تھا حالانکہ مجددالف ثانی کا اکبر کے زمانے میں تو صرف 4سال کادور ہے۔ مولانا مودودی بھی بہت ہی روایت پسند ہیں لیکن لکھتے اچھا ہیں تحریر اُن کی اچھی ہوتی لیکن اُن کے جو افکار ہیں انھوں نے بہت نقصان پہنچایاہے۔ پچھلے دس سال سے میں دوستوں کی مدد سے جن ڈاکٹر سید جعفر احمد خاص طور پر شامل ہیں۔ رسالہ تاریخ نکال رہا ہوں۔ اس کے 40شمارے شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے تحت یہ گیارہ تاریخ تک لاہور، کراچی، حیدر آباد سندھ اور گجرات میں کر چکے ہیں۔ اُمید ہے کہ شاید ہماری یہ کاوشیں کام آئیں۔ ٭…٭…٭