ڈاکٹر مبارک علی کی یادیں اور باتیں

ڈاکٹر مبارک علی کی یادیں اور باتیں

اسپیشل فیچر

تحریر : ملاقات:عبدالرئوف،عرفان احمد


جرمن زبان میں بہت مطالعہ کرچکا،ایک زمانہ میں یہ میری دوسری زبان تھی ***** (حصہ دوئم) *****میں جرمن زبان میں مطالعہ کرتا رہا ہوں جرمن میں آپ یو ں سمجھ لیں کہ ایک عرصہ تک جرمن زبان ہی میری دوسری زبان تھی، اسی طرح دوسری زبان فارسی ہے کیوں کہ عہدوسطیٰ کے تمام ماخذ فارسی میں ہیںاور ہمارے زمانے ہی سکول میں پڑھائی جاتی تھی، عربی بھی پڑھی، لیکن بقدر ضرورت، لیکن فارسی مجھے اچھی آتی ہے۔ انگریزی میںبھی لکھ لیتا ہوں، لیکن میری زیادہ تر کتابیں اُردو میں ہیں کیوںکہ میرامقصد یہ تھا کہ عام لوگوں تک تاریخ پہنچے ۔فارسی کی چیزیں میں نے ترجمہ بھی کی ہیں، جدید فارسی سے ایک اچھا افسانہ تھا ،جو شاہ کے زمانے میں لکھا گیا تھا ۔ایک رائٹر تھا، صمد بہرنگی اور اس کاایک افسانہ تھا ’’ماہی سیاہ چلو‘‘ پرچم کے نا م سے ،اُس کاایک رسالہ نکلتا تھا ۔اُس میں اس نے بتایا ہے کہ علامتی انداز میں کہ انقلاب اگرلانا چاہیے، توکس طرح لانا چاہیے اورہوا یہ کہ وہ ایک سکول ٹیچر تھا، اُس کواٹھا کرلے گئے اوربعد میں پتانہیںچلا کہ کیا ہوا۔ اسی طرح عربی میں بھی ترجمے کیے تھے ۔خاص طور پر افسانے بہت اچھے ہیں ،ان میں ان کی جدوجہد کی عکاسی کی گئی ہے۔ فلسطینیوں کے افسانوں کے بھی ترجمے کیے تھے یہ ان دنوں کی بات ہے، جب میںجدید عربی پڑھ رہا تھا۔ فارسی میں کافی لوگ جدید لکھنے والوں میں شامل ہیں، مثلاً صمد بہرنگی اور صادق گنجوئی، ان کے علاوہ میرے نزدیک جوبہت زیادہ متاثر کرنے والاادب ہے، وہ ہندوستان میں دلت لوگو ں کا ہے۔ ہندوستان میں نیچی ذات کے لوگوں کودلت کہتے ہیں۔ ان کا ادب بہت متاثرکن ہے، پھرمیں اس سے اتنامتاثر ہواکہ میں نے ایک کتاب لکھی ہے ’’اچھوت لوگوں کاادب‘‘ اُن کی جوشاعری تھی ،اس کاترجمہ ہمارے دوست رضاعابدی نے کیا ۔وہ کتاب چھپ چکی ہے ،اُس کے دوتین ایڈیشن آچکے ہیں ۔اُن کی شاعری میں بڑا گداز اور سیلاپن ہے کیونکہ وہ لوگ صدیوں سے ظلم کاشکار ہیں، تواب جاکے اُن کوجب اظہار کاذریعہ ملا ہے ،تو بڑے ہی موثرانداز میں اپنے جذبات کااظہار کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ پسند بدلتی جاتی ہے۔ میں نے کسی زمانے میں فلسفہ تاریخ پڑھنا شروع کیا ۔جیسا کہ ابن خلدون کی مقدمہ ابن خلدون وغیرہ ،چنانچہ میں نے ان کی تحریروں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ آج کل جو تاریخ میںبہت اچھے ہیںاُن میں ایک نام ہائوس بام ہے، یہ ویسے تومشرقی یورپ کے تھے، لیکن اب انگلینڈ میں رہتے ہیں یا ایک اورنام ہے ای پی ٹامسن۔ یہ لوگ ترقی پسند نقطۂ نظر سے تاریخ کوبیان کرتے ہیں۔ یورپ اورامریکہ میں توکافی بڑی تعداد ہے، جو تاریخ کوایک نئے ڈھنگ سے بیان کررہی ہے۔ ایک کتاب جدیدتاریخ ہے، میں نے اس کتاب کا نہایت باریک بینی اور دقیہ رسی سے مطالعہ کیا ہے، اس کے اندر اُتر کر اس کو ڈوب کر سمجھا ہے اور پھر اسے اپنے عہد کے لوگوں تک ترجمے کی صورت میں منظر عام پر لانے کی کوشش کی تاکہ جوہمارے اُردو پڑھنے والے ہیں اُن کو معلوم ہوکہ تاریخ کامضمون کیسے پڑھا جاتاہے، دوسرا یہ کہ فرانس میں پہلی جنگ کے بعدمورخین کاایک گروہ تھا، ان میں زیادہ تر کلچر پر لکھتے ہیںاُن کے اندر جوبہت مشہور Historian ہے اس کانام بہ ڈول ہے اُس کی کچھ چیزیں ترجمہ کی ہیں ۔میری شروع سے ہی عادت ہے اخبار پڑھنے کی۔بدقسمتی سے ہمارے جوکالم نگار باقاعدہ لکھتے ہیں، وہ تو سب ہی بورتھے ایک کالم نگار ’’مجید لاہوری‘‘ تھے۔ ان کے بارے میں ایک اُن کے دوست نے کہا ہے کہ میں نے کبھی انہیں پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا ہمیشہ اُن کولکھتے ہوئے دیکھا ہے اسی طرح انگریزی میں روبینہ سہگل بہت اچھا لکھتی ہے۔ ویسے بھی وہ بہت اچھی سکالر ہیں ان کے کالم پڑھتا ہوں۔مزاح میں مشتاق یوسفی کی تحریریں بہت اچھی ہوتی ہیں ،ویسے تو میں نے جوانی میں شفیق الرحمان کوبھی پڑھا ،وہ بہت اچھے لگتے تھے اُس وقت تووہ سب لوگ ہی بہت اچھے لگے لیکن اب مشتاق یوسفی ہی زیادہ اچھے لگتے ہیں۔ تاریخ ہند میں ایک سے ایک بڑھ کر مورخ ہے۔ بہت ہی پڑھے لکھے ہیں ۔انھوں نے پوری تاریخ کو بدل کر رکھ دیا ہے اُس کے نقطۂ نظر نے ہسٹری کے بارے میں لوگوں کے رائے کوبدل دیا ہے پر نہیں لکھا ہیں۔ اُن کی ابھی پچھلے دنوں بلکہ اب توایک سال ہوگیا ہے اُن کی ایک کتاب آئی تھی’’مغل تاریخ‘‘ اس کامیں نے Reviewبھی کیا اس طرح منظر عالم ہیں،جو آج کل شگاگو یونی ورسٹی میں ہیں ابھی نوجوان ہیں لیکن بہت اچھا کام کررہے ہیں ۔پاکستان میں جدید ہسٹری میں کوئی قابل ذکر فرد نہیں ۔ میرے خیال میں جوآخریHistorianتھے وہ ریاض الاسلام تھے۔ شیخ اکرام صاحب بہت ہی اچھے مورخ ہیں، یعنی یہ کہ ان کا کام بنیادی ماخذ اور حوالے کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک مسلمہ امر ہے کہ وہ بہت ہی روایتی ہیں۔ شیخ صاحب چونکہ حکومت میں رہے اس لیے ان کے اندر کا حقیقی مورخ ابھر نہیں سکا۔ فلسفہ تاریخ میں ابن خلدون بہت ہی زبردست ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ابن خلدون کومسلمانوں نے بہت اہمیت نہیں ہے۔ ابن خلدون 15ویں صدی کا ہے لیکن جوکچھ اُس نے لکھا اُس کاکوئی اثرہمیں مسلم سوسائٹی میںنظر نہیں آتا،دل چسپ بات یہ ہے کہ ابن خلدون تقریباً بالکل تاریخ ہی میں گم ہوگیا تھا پہلی مرتبہ جب اس کے بارے میں پتہ چلا ہے تووہ عثمانی سلطنت کے آخری دور تھا اٹھارویں یا انیسویں صدی جواُن کے زوال کادور ہے تواُس وقت کسی نے یہ کہاکہ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ سلطنتیں زوال پذیر کیوں ہوتی ہیں توپھر کسی نے کہا کہ ابن خلدو ن کوپڑھاجائے اُس کے بعد یہ یورپ کے اندر مقبول ہوا اوراس پر زیادہ کام کیا گیا۔ ہمارے ہاں تاریخ جب لکھنی شروع کی گئی تویہ عباسی خاندان سے شروع ہوئی ابن اسحاق کی پہلی کتاب ہے جواُس نے سیرت پہ لکھی لیکن وہ بظاہر گم ہوگئی اورمیں طبری وغیرہ جتنے بھی ہیں بڑے مورخ ہیں۔ اسلامی تاریخ کافی حدتک ہمارے عقیدے سے ملتی ہے جب تاریخ اورعقیدہ مل جائے توپھرتاریخ کا آپ کوئی تنقیدی جائزہ نہیں لے سکتے تومیں یہ سمجھتا ہوں کہ مسلمان جو ہیں اپنی تاریخ کوصحیح طریقے سے لکھ ہی نہیں سکتا کیوں کہ بہت زیادہ عقیدت مندی ہے شخصیتوں سے، نظریات سے، کہ آپ اس کوصحیح طریقے سے بیان ہی نہیں کرسکتے لیکن پھربھی کچھ لوگوں نے کوشش کی ہے مثلاً مصرکے طہٰ حسین جوہیں اُن کی الفتنتہ الکبری، بڑی اچھی کتاب ہے۔ باہرکی یونی ورسٹیز میں بہت کام ہورہا ہے کیوں کہ اُن کوآزادی ہے، وہ یہ کام کرسکتے ہیں۔اسی طرح مصر کے ایک صاحب ہیں شعبان ان کاکام بہت اچھا ہے ۔٭٭٭ Islamic History a deptaionاورAbassiہے اس طرح اور ہیں اس کے بعد جوHudentکے لیے جو ایک اچھی کتاب ہے وہ پندہ سولہ سال پہلے آئی تھی بڑی اچھی کتاب ہے۔ Era dipidusاُس کی کتاب ہےHistory of Muslim societiesپھر اسلامک ہسٹری یہ جو بنیادی کام کیا ہے عربی میں پھرجرمن زبان میں ہوا ہے جرمن کوClassical islamicدورمیں بہت دل چسپی ہے توانھوں نے بہت کام کیا ہے ایک تویہ ہے کہ عربی کے جتنے بھی بنیادی ماخذ ہیں، اُن سب کوCatalogeبنایا ہوا ہے۔ پھراُس کے بعدجومختلف فرقے ہیں اسماعیلی ہیں۔ قرامطہ ہیں ’’دروز ہیں‘‘ انھوں نے یہ کام کیا کہ ہر جرمن یونی ورسٹی میں وہاں اسلامک سٹڈیز کا ڈیپارٹمنٹ ہے اور زیادہ ترکلاسیکل پیریڈ پرکام کرتے ہیں اوربہت گہرائی میں جاتے ہیں کیوںکہ اس کے ترجمے بھی ہوجاتے ہیں میرے اپنے جوپروفیسر تھے اُن کا نام Bosayہے اُن کاایرانی شاعری کے اوپر بڑاکام ہے آل بویہ جوتھے اور بغداد کے اُن پر انھوں نے کام کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہاں پہ بہت کام ہورہا ہے سیا سی تاریخ پر ہی نہیں بالکل ثقافتی تاریخ ہے اور معاشرتی پہلوئوں پر بھی۔ اردو کے اندر ایسا کوئی کام نہیں ہوا یہ جوترجمے ہوتے ہیں جیسے طہٰ حسین کے یا پرانے زمانے میں مولوی چراغ علی ایک تھے اُن کاکام ہے لیکن ہمارے ہاں لوگ نظریاتی کام نہیں کرسکتے شبلی توبہت ہی روایتی قسم کے مورخ ہیں مثلاً وہ کہتے ہیں کہ میں یہ لکھ رہاہوں ثواب کی خاطر اب تاریخ جوہے وہ کیا ثواب کے لیے لکھی جاتی تاریخ توبڑی ظالمانہ چیز ہے، ایک اچھا کام ہوا ہے لیکن روایتی ہے اچھا ہے ابوالفضل کا جس نے اکبر نامہ ہے منشی ذکاء اﷲ کاکام بھی بہت اچھا ہے۔ ہیرالڈلیم نے ہسٹری کو افسانوی رنگ میں لکھا ہے اور اچھا لکھا ہے وہ محنت کرتا ہے تاریخ کے واقعات کوبیان کرتاہے لیکن اُس نے تاریخ کو شخصیات کے حوالے سے لکھا ہے جیسا کہ ہمارے ہاں عبدالحلیم شرر ہیں اردو میں شروع میں بہت اچھی کتابیں لکھی گئی تھیں لیکن روایتی انداز میں، ایک صاحب تھے انھوں نے بھی، اردو میں تاریخ ہے ہی نہیں اس لیے میں نے سوچا کہ تاریخ آسان زبان میں لکھی جائے حکمرانوں کے متعلق لکھنے کی بجائے عوامی نقطہ نظر کوسامنے رکھ کرلکھاجائے اور کسی نے مجھے اتنامتاثر نہیں کیا دوران سفر میں کم ہی مطالعہ کرتا ہوں کیونکہ سفرکے دوران مجھ سے پڑھا نہیں جاتا۔ آج کل تودن میں ہی پڑھتا ہوں۔ کرسی پربیٹھ کراطمینان کے ساتھ پڑھتا ہوں لیکن لکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آپ جوپڑھیں نوٹس بناکر تیاری کریں نوٹس آپ کے پاس ہونے چاہئیں کہ کس ترتیب کے ساتھ لکھنا ہے تو اشارات اور نوٹس کا پاس موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔ میرا حافظہ ٹھیک ہے مصنف یاد رہ جاتے ہیں البتہ حافظہ پہ بہت زیادہ اعتبار نہیں کرناچاہیے اسی لیے میں نوٹس وغیرہ لے لیتا ہوں تاکہ ان کومیں استعمال کرسکوں۔ میں شوروغل میں بھی پڑھ سکتا ہوں بالکل اس طرح نہیں ہے کہ بالکل خاموشی ہوجائے اور ہوبھی نہیں سکتی۔ شروع میں کتابیںخریدنے کاشوق تھا اس وقت بھی تقریباً 5000ہزار کتابیں ہوں گی لیکن پچھلے دنوں میں نے کافی کتابیں جو سمجھتا تھا کہ میرے استعمال کی نہیں ہیں وہ کتابیں کچھ لائبریریوںکودے دی ہیں کیوں کہ شاعری افسانے وغیرہ میں پڑھتا نہیں تو اس لیے ایسی کتابیں لائبریری کودے دی ہیں اور ابھی بھی کوئی نئی کتاب ہوتی ہے تومیں ضرور لے لیتا ہوں ہندوستان جاتاہوں تووہاں سے کتابیں ضرور خریدتا ہوں۔ کتابوں کا لین دین ہوتا ہے لیکن کم ہوا ہے۔ میں کسی کو زیادہ کتابیں دیتانہیں۔ کبھی کبھی کسی کتاب کا مسئلہ ہوتاہے کہ کبھی کتاب چھپی اور آوٹ آف پرنٹ ہوگئی لائبریری میں موجود نہیں ہے توکافی مشکلات آتی ہیں اس بارے میں اب چونکہ میرے پاس لائبریری نہیں مثلاً یہ کہ پنجاب پبلک لائبریری ہو پنجاب یونی ورسٹی کی لائبریری ہو اب ان کے پاس بھی پرانی کتابیں ہی رہ گئی ہیں اوراگران کاسٹاف آپ کے ساتھ بہت زیادہ تعاون نہیں کرتا ہے تو کوشش ہوتی ہے کہ یہاں نہ ہی جانا پڑے تواچھا ہے لیکن کبھی کبھی کتاب کی بہت ضرورت ہوتی ہے آپ کومنگوانی پڑتی ہے ایسی صورت میں کسی دوست کی وساطت سے کتاب منگوا لیتے ہیں۔ مطالعے کے ساتھ ذہنی تبدیلی ہوتی رہتی ہے وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے خیالات بدلتے رہتے ہیں ظاہر ہے کہ نئی چیزیں آتی ہیں آپ نئے طریقے سے سوچتے ہیں اورپھر اس کااحساس بھی ہوتاہے کہ آپ نے اس سے دس سال پہلے کیا لکھا تھا۔ آج کیالکھ رہے ہیں لیکن میراجوبنیادی مقصد ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں میں تاریخ کے عوامی نقطہ نظر کا احساس اُجاگر کرنا چاہیے۔ مثلاً تاریخ میں ہم حکمرانوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں قبائل ہیں، برادریاں ہیں ابھی تک تومیں Theoriticalکام کررہا ہوں تاکہ لوگوں تک یہ چیز پہنچائی جائے اور انہیں پتہ چلے کہ تاریخ میں ان لوگوں کابھی کردار ہے دوسری جوسماجی یا معاشرتی قوتیں کام کررہی ہیں اُن کودیکھنا چاہیے۔ باقی زندگی کے لیے اگر مجھے موقع ملے تو میں ٹالسٹائی کا ناول war and peace رکھوں گا تو دوسرا غالب کے دیوان اُن کاایک ایک شعربندہ پڑھتا رہتا ہے اورغور کرتا رہتا۔ میں نے مذہبی مطالعے میں ابوالکلام آزاد کوبھی پڑھا سیدسلیمان ندوی شروع میں شبلی نعمانی، ابو الاعلیٰ مودودی، امین حسن اصلاحی پھردیوبند کے محمود حسن ہیں رشیداحمد کنگو ہی کے فتاویٰ وغیرہ پڑھے چونکہ ان کا تاریخ سے بھی بڑاواسطہ ہوتا ہے۔ مثلاً ابو الکلام آزاد ایک مذہبی سکالرتوضرورتھے لیکن تاریخ کوانھوں نے بہت مسخ کیا ہے خاص طورپرتذکرہ کے اندر جیسے شیخ احمد سرہندی کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اُس نے تن تنہا اکبر کے الحاد کامقابلہ کیا حالانکہ اکبرکا کوئی الحاد نہیں تھا۔ اکبر تو ایک طرح سے مذہب کومختلف طریقوں سے دیکھ رہاتھا وہ رسالت یاتوحید کامنکرنہیں تھا حالانکہ مجددالف ثانی کا اکبر کے زمانے میں تو صرف 4سال کادور ہے۔ مولانا مودودی بھی بہت ہی روایت پسند ہیں لیکن لکھتے اچھا ہیں تحریر اُن کی اچھی ہوتی لیکن اُن کے جو افکار ہیں انھوں نے بہت نقصان پہنچایاہے۔ پچھلے دس سال سے میں دوستوں کی مدد سے جن ڈاکٹر سید جعفر احمد خاص طور پر شامل ہیں۔ رسالہ تاریخ نکال رہا ہوں۔ اس کے 40شمارے شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے تحت یہ گیارہ تاریخ تک لاہور، کراچی، حیدر آباد سندھ اور گجرات میں کر چکے ہیں۔ اُمید ہے کہ شاید ہماری یہ کاوشیں کام آئیں۔ ٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
پہلگام واقعہ

پہلگام واقعہ

بھارت کا ایک اور فالس فلیگ آپریشنکئی سال سے پاکستان بھارت کے ایک اور فالس فلیگ آپریشن کے خدشات کے بارے بین الاقوامی برادری کو خبردار کرتا آیا ہے۔ان خدشات کی تصدیق اس وقت ہوئی جب گزشتہ برس 22 اپریل کو مقبوضہ جموں و کشمیرکے ضلع اننت ناگ میں پہلگام کے سیاحتی مقام پر ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔اس واقعے کے چند منٹوں کے اندر ہی بھارتی میڈیا نے پاکستان کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر دیا اورمیڈیا کے ذریعے پیدا کردہ ہسٹیریا کو بھارتی حکمران طبقے کے جنگجوانہ بیانات نے مزید تقویت بخشی۔پہلگام حملے کا وقت خصوصی طور قابل ِغور ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا جب نریندر مودی سعودی عرب کے دورے پر تھا جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے خاندان کے ساتھ ہندوستان کا دورہ کر رہے تھے۔ بھارت کے داخلی محاذ پر دیکھا جا ئے تو وقف ایکٹ ، جسے شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے بعد ایک اور مسلم مخالف قانون کے طور پر دیکھا جاتا ہے، کے خلاف مسلمانوں کی طرف سے بھارت میں ملک گیر احتجاج جاری تھا۔ اسی سال کے آخر میں بہار میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات بی ہو رہے تھے۔ اس طرح بھارتی حکومت کیلئے خلفشار پیدا کرنے اور اس صورتحال سے عوامی توجہ ہٹانے کیلئے ایک مضبوط ترغیب موجود تھی۔ بھارت نے کسی طرح کے شواہد کے بغیر اس واقعے کا الزام پاکستان پر ڈال دیااور پاکستان کے خلاف بہت سے ''اقدامات‘‘ کی دھمکی دے ڈالی جن میں 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کی معطلی ،انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ اٹاری کو بند کرنے اور بھارت میں موجود پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے کیلئے صرف 48 گھنٹے کا وقت دیا گیا۔ بھارت نے یہ بھی اعلان کیا کہ سارک ویزا استثنیٰ سکیم کے تحت پاکستانی شہریوں کو بھارت کا سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور پاکستانیوں کو جاری کردہ ایسے تمام ویزے منسوخ کردیئے گئے۔ نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن میں تعینات ڈیفنس؍ملٹری، نیول اور ایئر ایڈوائزرز کو ملک چھوڑنے کیلئے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا اور اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمیشن سے اپنے دفاعی؍بحریہ؍فضائی مشیروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے جواب میں پاکستان نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے غیر قانونی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے بھارت کو خبردار کیا کہ اس معاہدے کی کوئی شق معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ پاکستان کی طرف سے واضح کیا گیا کہ پانی کے بہاؤ کا رخ موڑنے کے کسی بھی اقدام کوجنگی کارروائی کے طور پر لیا جائے گا اور اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ پاکستان نے بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔ اگرچہ پاکستان نے 5 اگست 2019 ء کو مقبوضہ کشمیرکے بارے میں بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد پہلے ہی دوطرفہ تجارت معطل رکھی تھی لیکن اب ہر قسم کی تجارت کو روکنے کا اعلان کیا گیا جس میں پاکستان کی سرزمین کے ذریعے تیسرے ملک کے ساتھ بھارتی تجارت بھی شامل تھی۔ پاکستان نے سکھ یاتریوں کے علاوہ سبھی بھارتی شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی نیز یہ کہ دوطرفہ معاہدوں بشمول شملہ معاہدے کو معطل کرنے کا بھی کہا گیا ۔ پاکستان نے کسی بھی مہم جوئی کے خلاف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کے پختہ عزم کا اظہار بھی کیا۔ اگرچہ پاکستان پر الزام تراشی بھارت کا وتیرہ ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ ایسے واقعات کی پوری سیریز کو یاد کیا جائے جن میں ہندو انتہا پسندوں اور بھارتی ریاست کے حمایت یافتہ عناصر نے بھارت میں پاکستانی شہریوں اور ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سرزمین پر بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کا ارتکاب کیا۔ تقریباً 19 سال پہلے لاہور آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین پر حملے کا واقعہ قابل ذکر ہے جس میں 40 پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے۔ بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے اس واقعے میں سوامی اسیمانند ، لیفٹیننٹ کرنل پروہت، سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، کمل چوہان، راجندر چوہدری اور لوکیش شرما کو مجرم قرار دیا تھا۔ دہشت گردی کے اس وقوعے کاماسٹر مائنڈ سوامی اسیمانند آر ایس ایس کا سرگرم رکن تھا۔ادھرمقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے دہشت گردی کا راج مسلط کر رکھا ہے اور بے گناہ کشمیریوں کو اجتماعی سزا دی جاتی ہے۔ پہلگام واقعے کے بعد بھارتی قابض فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں متعدد گھروں کو مسمار کیا ۔ عام کشمیریوں کے گھروں کے خلاف اس طرح کے اقدامات نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ، حریت کانفرنس اور جسٹس ڈیویلپمنٹ فرنٹ سمیت پوری کشمیری قیادت کو مجبور کیا کہ بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کی جائے۔پہلگا م واقعہ در حقیقت ایک پرانا سکرپٹ ہے جسے مودی حکومت دہراتی آ ئی ہے، اور اس کا مقصد لوگوں میں مودی سرکار کی مقبولیت کا گراف اونچا کرنا، بھارت کے اندرکے سنگین مسائل سے توجہ ہٹانا ، عالمی سطح پر رائے عامہ کو گمراہ کرنا ، بھارت کیلئے ہمدردی کی لہر پیدا کرنا، خود کو ایک امن پسند لیکن دہشت گردی کے 'شکار‘ کے طور پر پیش کرنا ۔ پاکستان کو بدنام کرنا اور اس کے بین الاقوامی تشخص کو داغدار کرنا ہے۔ 2019ء کا پلوامہ واقعہ بھی ایسا ہی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا جس کی مزید تصدیق مقبوضہ کشمیرکے سابق گورنر ستیہ پال ملک کے انکشافات سے ہوئی۔ یہ حقیقت اب دنیا کی نظروں سے اوجھل نہیں کہ پہلگام کا واقعہ بھارتی ریاستی ایما پر کروایا گیا ایک فالس فلیگ آپریشن تھا۔ اس کی بنیاد پر اگرچہ نئی دہلی نے پاکستان کے خلاف ایک مہم شروع کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت خود پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو جو بھارتی بحریہ کا حاضر سروس کمانڈر تھا ، اس وقت بھی پاکستان کی تحویل میں ہے۔نیز بی جے پی کے رہنما اور بھارتی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول خود یہ قبول کر چکا ہے کہ بھارت پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے، جبکہ کینیڈا اور امریکہ کی حکومتوں نے اپنے ممالک میں قتل اور اقدام قتل کی وارداتوں میں بھارتی حکومتی ایجنٹوں کے ملوث ہونے کے شواہد جمع کئے اور ملزموں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمے چلائے جارہے ہیں۔ بھارت کے جھوٹے بیانیے اور بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے پاکستان نے یہ پیش کش کی تھی کہ ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے وہ کسی بھی غیر جانبدار، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کیلئے تیار ہے۔ یہ پیش کش بھارت کو اپنے الزامات کو ثابت کرنے کا موقع فراہم کرتی، اگر ایسا کوئی ثبوت ہوتا۔ مگر بھارت کا اس پیش کش کو قبول نہ کرنا خود ہی ایک ثبوت ہے کہ اُس کے پاس پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت نہ تھا۔یہ صورتحال بھارتی الزامات کے کھوکھلا پن اور اس کی سات دہائیوں سے زیادہ کی دھوکہ دہی کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔

ارتھ ڈے:زمین سے رشتہ،بقا کا عہد

ارتھ ڈے:زمین سے رشتہ،بقا کا عہد

دنیا بھر میں ہر سال 22 اپریل کو ارتھ ڈے (Earth Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن انسانوں اور زمین کے درمیان تعلق کو اجاگر کرنے، ماحولیات کے تحفظ کے شعور کو فروغ دینے اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کی یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں جب ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل کی تیزی سے کمی جیسے مسائل سنگین شکل اختیار کر چکے ہیں، ارتھ ڈے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ارتھ ڈے کی تاریخارتھ ڈے کا آغاز 1970ء میں امریکہ سے ہوا جب ماحولیاتی کارکن اور سینیٹر گیلارڈ نیلسن ( Gaylord Nelson) نے صنعتی آلودگی اور ماحولیاتی تباہی کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے ایک مہم شروع کی۔ اس مہم نے جلد ہی عالمی سطح پر توجہ حاصل کی اور وقت کے ساتھ یہ دن ایک بین الاقوامی تحریک بن گیا۔ آج دنیا کے 190 سے زائد ممالک میں اربوں افراد اس دن کو مناتے ہیں اور ماحول کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ارتھ ڈے منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے کہ وہ زمین کو محفوظ اور صاف ستھرا رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہم جس سیارے پر رہتے ہیں وہی ہماری بقا کا واحد ذریعہ ہے۔ اگر اس کی فضا آلودہ ہو جائے، پانی زہریلا ہو جائے اور زمین بنجر ہو جائے تو انسانی زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں رہے گا۔ اس لیے ارتھ ڈے ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں چھوٹے چھوٹے اقدامات کے ذریعے ماحول کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ماحولیاتی مسائل اور چیلنجزماحولیاتی آلودگی آج کے دور کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں، گاڑیوں کا دھواں، پلاسٹک کا بے دریغ استعمال اور جنگلات کی کٹائی زمین کے ماحول کو تباہ کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں گلوبل وارمنگ، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور غیر متوقع موسمی تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں۔ پاکستان ان مسائل سے شدید متاثر ہ ممالک میں سر فہرست ہے۔ یہاں فضائی آلودگی، پانی کی قلت اور درجہ حرارت میں اضافہ جیسے مسائل روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ارتھ ڈے کے مقاصدارتھ ڈے کے اہم مقاصد میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے آگاہی پیدا کرنا، درخت لگانے کی حوصلہ افزائی کرنا، پانی اور توانائی کے ضیاع کو روکنا اور قدرتی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو فروغ دینا شامل ہیں۔ اس دن تعلیمی اداروں، سرکاری و نجی تنظیموں اور سماجی کارکنوں کی جانب سے مختلف تقریبات، سیمینارز، واکس اور مہمات کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں شعور پیدا کیا جا سکے۔اس حوالے سے تعلیم و آگاہی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اگر نئی نسل کو شروع سے ہی ماحول دوست عادات سکھائی جائیں، جیسا کہ پانی کا ضیاع نہ کرنا، درخت لگانا، کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا اور پلاسٹک کے استعمال سے گریز کرنا، تو مستقبل میں صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ میڈیا بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ یہ عوام تک معلومات پہنچانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ارتھ ڈے ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔ صنعتی ترقی اگر ماحول کو نقصان پہنچائے تو وہ دیرپا نہیں ہوتی۔ ہمیں ایسے ترقیاتی ماڈلز اپنانے ہوں گے جو ماحول دوست ہوں جیسا کہ قابل تجدید توانائی کا استعمال، شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنا، اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دینا۔انفرادی سطح پر بھی ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پربجلی کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب، پانی کو ضائع نہ کرنا، پلاسٹک بیگز کی جگہ کپڑے کے تھیلے استعمال کرنا اور زیادہ سے زیادہ درخت لگانا۔ یہ چھوٹے اقدامات مل کر ایک بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ زمین صرف ہماری نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی بھی امانت ہے۔ ارتھ ڈے محض ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں سال کے ہر دن کو ارتھ ڈے سمجھ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی۔ اگر ہم نے آج زمین کا خیال نہ رکھا تو کل شاید بہت دیر ہو جائے۔ اس لیے آئیے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زمین کو محفوظ، سرسبز اور خوبصورت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی ایک صحت مند اور خوشحال دنیا میں سانس لے سکیں۔

آج کا دن

آج کا دن

لیگ آف نیشنز کا خاتمہ 22 اپریل 1946ء کو عالمی تنظیم لیگ آف نیشنز کو باضابطہ طور پر تحلیل کر دیا گیا۔ یہ تنظیم پہلی جنگِ عظیم کے بعد 1920ء میں قائم کی گئی تھی جس کا مقصد دنیا میں امن قائم رکھنا اور بین الاقوامی تنازعات کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا تھا۔لیکن وقت کے ساتھ یہ تنظیم اپنی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے ادا کرنے میں ناکام رہی۔ خاص طور پر 1930ء کی دہائی میں جب دوسری عالمی جنگ کے اسباب پیدا ہو رہے تھے لیگ آف نیشنز جارح ریاستوں کو روکنے میں ناکام رہی۔ جرمنی، اٹلی اور جاپان جیسے ممالک کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے خلاف کوئی مؤثر اقدام نہ کیا جا سکا۔برازیلیا کا افتتاح22 اپریل 1960ء کو برازیل نے اپنے نئے دارالحکومت برازیلیا کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس شہر کو جدید طرزِ تعمیر اور منصوبہ بندی کا ایک شاندار نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تعمیر کا مقصد ملک کے اندرونی علاقوں کو ترقی دینا اور ساحلی شہروں پر آبادی کے دباؤ کو کم کرنا تھا۔برازیلیا کو معروف معمار آسکر نیمائر اور شہری منصوبہ ساز لوسیو کوسٹا نے ڈیزائن کیا۔ شہر کی ساخت ہوائی جہاز یا پرندے کی شکل سے مشابہ ہے جس میں مختلف حصوں کو رہائشی، تجارتی اور حکومتی سرگرمیوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔برازیلیا کی تعمیر ایک عظیم قومی منصوبہ تھا جس میں ہزاروں مزدوروں نے حصہ لیا۔ چند سالوں میں ایک مکمل شہر کا قیام ایک حیرت انگیز کارنامہ تھا۔ آج یہ شہر نہ صرف برازیل کا سیاسی مرکز ہے بلکہ اسے یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ بھی قرار دیا ہے۔ اپالو 16 کی چاند پر لینڈنگ 22 اپریل 1972ء کو امریکی خلائی مشن اپالو16 چاند کی سطح پر کامیابی سے اترا۔ اس مشن کا مقصد چاند کے پہاڑی علاقوں کا مطالعہ کرنا تھا جو اس سے پہلے کے مشنز میں شامل نہیں تھے۔اس مشن میں خلا باز جان ینگ اور چارلس ڈیوک چاند کی سطح پر اترے جبکہ تھامس میٹنگلی مدار میں موجود رہے۔ اپالو 16نے سائنسدانوں کو چاند کی ساخت، جغرافیہ اور اس کی تشکیل کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔ اس مشن نے ثابت کیا کہ چاند کے پہاڑی علاقے بھی تحقیق کے لیے نہایت اہم ہیں۔ یہ مشن خلا کی تحقیق میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا اور انسانی جستجو کی علامت بن گیا۔امانوئیل کانٹ کی پیدائش 22 اپریل 1724ء کو عظیم جرمن فلسفی امانوئیل کانٹ پیدا ہوئے۔ وہ مغربی فلسفے کی تاریخ کے اہم ترین مفکرین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق کونگسبرگ (موجودہ کلیننگراڈ) سے تھا۔کانٹ نے فلسفہ میں تنقیدی نظریہ کی بنیاد رکھی جس میں انہوں نے علم، اخلاقیات اور انسانی فہم کی حدود پر گہرا تجزیہ پیش کیا۔ ان کی مشہور کتابCritique of Pure Reason نے فلسفے کی دنیا میں انقلاب برپا کیا۔ اس کتاب میں انہوں نے یہ وضاحت کی کہ انسان کا ذہن کس طرح تجربات کو سمجھتا ہے۔کانٹ کے نظریات نے جدید فلسفے خاص طور پر اخلاقیات اور علمیات پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کی سوچ نے روشن خیالی کے دور کو بھی مضبوط کیا۔

’’DUO BELL‘‘

’’DUO BELL‘‘

نوائز کینسلنگ سسٹمز بے بس،حادثات سے رکھے محفوظجدید ٹیکنالوجی جہاں انسانی زندگی کو سہولت فراہم کر رہی ہے، وہیں بعض اوقات یہ نئی مشکلات کو بھی جنم دیتی ہے۔ خاص طور پر نوائز کینسلنگ ہیڈ فونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے شہری سڑکوں پر ایک نیا حفاظتی چیلنج پیدا کر دیا ہے، جہاں لوگ اردگرد کی آوازوں سے کٹ جاتے ہیں۔ اسی مسئلے کے حل کے طور پر سکوڈا آٹو (Skoda Auto) نے ایک انوکھا تصور پیش کیا ہے، جس کے تحت ''DuoBell‘‘ نامی جدید سائیکل بیل تیار کی گئی ہے۔ یہ بیل ایسی مخصوص آواز پیدا کرتی ہے جو نہ صرف عام شور میں نمایاں رہتی ہے بلکہ جدید نوائز کینسلنگ سسٹمز کو بھی بائی پاس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اگر تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بائیسکل کی گھنٹی سب سے پہلے 1877ء میں ایجاد کی گئی تھی۔ اب تقریباً 150 سال بعد اس سادہ آلے کو دوبارہ نئے انداز میں تیار کیا گیا ہے۔ سائیکل سواروں کی حفاظت بہتر بنانے کیلئے سکوڈا (Škoda) نے ایک نئی قسم کی بائیسکل بیل ''DuoBell‘‘ تیار کی ہے۔ یہ بیل ایک منفرد آواز پیدا کرتی ہے جو مؤثر طور پر ہیڈ فونز میں موجود ایکٹیو نوائز کینسلنگ سسٹمز کو بھی بائی پاس کر سکتی ہے۔ابتدائی ٹرائلز میں معلوم ہوا کہ ''اے این سی ہیڈفونز‘‘ پہنے پیدل چلنے والے افراد کو بیل کی آواز سن کر ردعمل دینے میں اوسطاً پانچ سیکنڈ اور تقریباً 22 میٹر سے زیادہ فاصلے پر خطرہ محسوس ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بائیسکل کی گھنٹیاں پچھلے 100 سال میں تقریباً نہیں بدلیں، لیکن ان کے اردگرد کی دنیا بدل گئی ہے۔ ''سکوڈا ڈیو بیل‘‘ پہلی ایسی گھنٹی ہے جو نوائز کینسلنگ ہیڈفونز کو مؤثر طور پر کاٹ سکتی ہے۔ یہ ایک ذہین اینالاگ حل ہے جو ان ہیڈفونز کے اندر موجود اے آئی الگورتھمز کو بھی شکست دیتا ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی تبدیلی ہے جو شہر کی سڑکوں کو زیادہ محفوظ بنا سکتی ہے۔سکوڈا نے ڈیو بیل بنانے کی تحریک اس وقت حاصل کی جب اسے لندن میں سائیکل اور پیدل چلنے والوں کے درمیان تصادم میں اضافہ نظر آیا۔ لندن ٹرانسپورٹ کے مطابق 2025ء میں کم از کم 335 پیدل چلنے والے افراد سائیکلوں سے ہونے والے تصادم میں زخمی ہوئے، جن میں سے دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ نوائز کینسلنگ ہیڈفونز کا بڑھتا ہوا استعمال ہے، جو اردگرد کے ماحول اور قریب آنے والی سائیکلوں کے بارے میں آگاہی کم کر دیتے ہیں۔ اس مسئلے کو سمجھنے اور اس کا حل تلاش کرنے کیلئے کار ساز کمپنی نے یونیورسٹی آف سیلفورڈ کے ماہرین صوتیات کے ساتھ اشتراک کیا۔ شعبہ صوتیات کے سربراہ ڈاکٹر ول بیلے (Will Bailey) کے مطابق ایکٹیو نوائز کینسلنگ وسیع قسم کی آوازوں کو روکنے میں بہت مؤثر ہے۔ یہ آواز کو ڈیٹیکٹ کر کے اس کے مخالف سگنل کو واپس بھیجتا ہے تاکہ اسے منسوخ کیا جا سکے۔ لیکن کچھ ایسے پوائنٹس ہوتے ہیں جہاں یہ کم مؤثر ہو جاتا ہے، اسی لیے ہم نے ان کمزور مقامات کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔محققین نے صوتی تجربات کیے اور ایک تنگ ''سیفٹی گیپ‘‘ کی نشاندہی کی جو 750 سے 780 ہرٹز (Hz) کے درمیان ہے، اور یہ فریکوئنسی مستقل طورپر ایکٹیو نوائز کینسلنگ سسٹمز فلٹرز کو بائی پاس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر بیلے کے مطابق ہم نے چھ مختلف معروف ہیڈفونز پر سینکڑوں سگنلز ٹیسٹ کیے، اور ہمیں 750Hz پر ایک خاص سگنل ملا۔ ہم اسے ''سیفٹی گیپ‘‘ کہتے ہیں۔ اس خلا کو دریافت کرنے کے بعد ٹیم نے اس بیل کو اسی فریکوئنسی کے گرد ڈیزائن کیا۔تاہم ابتدا میں یہ کام کافی مشکل ثابت ہوا۔سکوڈا کے ہیڈ آف ہارڈویئر ڈیولپمنٹ ہیو بوائز نے کہا کہ مسئلہ یہ تھا کہ اتنی کم فریکوئنسی پیدا کرنے کیلئے گھنٹی کو بہت بڑا ہونا پڑتا، جو سائیکل کیلئے مناسب نہیں تھا۔ اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے ٹیم نے دھات کی موٹائی کم کی، اس میں باریک اور درست کٹس شامل کیے، اور گھنٹی کو بالکل 750Hz پر ٹیون کیا۔ '' ایکٹیو نوائز کینسلنگ سسٹمز‘‘ کیخلاف اثر کو مزید بڑھانے کیلئے سکوڈا نے ایک دوسری فریکوئنسی 780Hz بھی شامل کی، اسی وجہ سے اس کا نام ''DuoBell‘‘ رکھا گیا۔ اگرچہ یہ سننے میں پیچیدہ ٹیکنالوجی لگتی ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر ایسا نہیں ہے۔سکوڈا کے ہیڈ آف ڈیزائن اولیور سٹیفنی نے کہا کہ ہماری گھنٹی 100 فیصد مکینیکل ہے۔ یہ ایک سادہ اینالاگ حل ہے جو ایک ڈیجیٹل مسئلے کا حل پیش کرتا ہے۔ اس کی جانچ کیلئے سکوڈا نے سب سے پہلے ایک ورچوئل ریئلٹی منظر استعمال کیا، جس میں ایک سائیکل سوار کو اے این سی ہیڈ فونز پہنے ہوئے ایک غیر متوجہ پیدل چلنے والے شخص کے قریب آتے ہوئے دکھایا گیا۔ حیران کن طور پر ''DuoBell‘‘ کی آواز عام گھنٹی کے مقابلے میں 22 میٹر پہلے سنائی دی اور پانچ سیکنڈ پہلے اس کا ادراک ہو گیا۔

 اندلس:مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنت

اندلس:مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنت

مسلمان جو آج زوال پذیر ہیں، اپنی بساط میں پہلے کبھی نہ تھے۔ ان کا ماضی نہایت ہی خوشحال ، باوقار رہا ہے۔اندلس کی سرزمین کبھی اسلامی تہذیب و تمدن کا ایسا درخشاں مرکز تھی جہاں علم، فن، ادب اور سائنس اپنے عروج پر تھے۔ اندلس میں مسلمانوں نے نہ صرف ایک مضبوط اور منظم ریاست قائم کی بلکہ ایک ایسی مثالی معاشرت بھی تشکیل دی جس میں رواداری، انصاف اور علمی ترقی کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ اندلس کی یہ عظیم الشان سلطنت آج بھی اپنی علمی، ثقافتی اور تہذیبی وراثت کے باعث تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتی ہے۔اندلس مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنت تاریخِ اسلام کا وہ درخشاں باب ہے جس نے نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کی تہذیبی و علمی سمت متعین کی۔ اندلس کی سرزمین پر مسلمانوں نے آٹھویں صدی میں قدم رکھا تو یہاں ایک نئی روشنی نے جنم لیا، جس نے جہالت کی تاریکیوں کو علم و حکمت کے نور سے بدل دیا۔ 711ء میں طارق بن زیاد کی قیادت میں مسلمانوں نے جزیرہ نما آئبیریا میں داخل ہو کر ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جو صدیوں تک علمی، ثقافتی اور سیاسی ترقی کی علامت بنی رہی۔اندلس کی ترقی کا راز صرف اس کی فوجی طاقت میں نہیں بلکہ اس کے عادلانہ نظامِ حکومت اور علم دوستی میں پوشیدہ تھا۔ مسلمانوں نے یہاں ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ امن و سکون کے ساتھ رہتے تھے۔ Cordoba، جو اس دور میں دارالحکومت تھا، دنیا کے عظیم ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ یہاں کی گلیاں روشن، بازار منظم اور تعلیمی ادارے اپنی مثال آپ تھے۔ قرطبہ کی عظیم الشان لائبریریوں میں لاکھوں کتابیں موجود تھیں، جبکہ اس وقت یورپ کے دیگر علاقوں میں علم و دانش کا شدید فقدان تھا۔اندلس میں تعلیم کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ مدارس، جامعات اور تحقیقی مراکز میں فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات اور دیگر علوم کی تدریس کی جاتی تھی۔ ابن رشد، ابن سینا اور الزہراوی جیسے عظیم مفکرین اور سائنسدانوں نے نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ یورپ کی فکری بنیادوں کو بھی متاثر کیا۔ خاص طور پر ابن رشد کی فلسفیانہ تحریروں نے یورپ میں نشاط ثانیہ کی راہ ہموار کی، جب کہ الزہراوی کو جدید سرجری کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے۔اندلس کی ثقافت بھی اپنی مثال آپ تھی۔ یہاں فنِ تعمیر، موسیقی، ادب اور خطاطی نے بے مثال ترقی کی۔ الحمبرا(Alhambra) کا شاندار محل آج بھی مسلمانوں کی فن تعمیر میں مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے خوبصورت نقش و نگار، باغات اور آبی نظام اس دور کی اعلیٰ انجینئرنگ کا مظہر ہیں۔ اسی طرح مساجد، حمام اور باغات نے شہری زندگی کو خوبصورتی اور سہولت سے ہمکنار کیا۔معاشی اعتبار سے بھی اندلس ایک خوشحال ریاست تھی۔ زراعت، صنعت اور تجارت کو فروغ دیا گیا۔ مسلمانوں نے نہری نظام کو بہتر بنایا اور نئی فصلیں متعارف کروائیں، جس سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ کپڑا سازی، دھات کاری اور دیگر صنعتیں ترقی کر گئیں، جبکہ اندلس یورپ اور افریقہ کے درمیان ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا۔تاہم، ہر عروج کو زوال بھی آتا ہے۔ اندلس کی عظیم سلطنت بھی داخلی اختلافات، سیاسی انتشار اور بیرونی حملوں کا شکار ہو گئی۔ عیسائی ریاستوں کی جانب سے جاری ''ریکونکویستا‘‘ (Reconquista) کی مہم نے مسلمانوں کی طاقت کو بتدریج کمزور کیا۔ بالآخر 1492ء میں غرناطہ کے سقوط کے ساتھ اندلس میں مسلمانوں کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔اندلس کا زوال اگرچہ ایک المیہ تھا، لیکن اس کی علمی و تہذیبی میراث آج بھی زندہ ہے۔ یورپ کی نشاۃ ثانیہ اور جدید سائنس کی ترقی میں اندلس کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں کے تراجم، سائنسی تحقیقات اور تعلیمی نظام نے مغربی دنیا کو نئی راہیں دکھائیں۔آج کے دور میں جب ہم اندلس کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ترقی کا راز علم، رواداری اور انصاف میں پوشیدہ ہے۔ اندلس نے یہ ثابت کیا کہ جب مختلف ثقافتیں اور مذاہب ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے رہتے ہیں تو ایک عظیم اور پائیدار تہذیب جنم لیتی ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو اندلس کی عظیم الشان سلطنت آج بھی ہمیں دیتی ہے، اور یہی وہ ورثہ ہے جسے سمجھنا اور اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مرحوم کی یاد میں !

مرحوم کی یاد میں !

ایک دن مرزا صاحب اور میں برآمدے میں ساتھ ساتھ کرسیاں ڈالے چپ چاپ بیٹھے تھے۔ جب دوستی بہت پرانی ہوجائے تو گفتگو کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی اور دوست ایک دوسرے کی خاموشی سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ یہی حالت ہماری تھی۔ ہم دونوں اپنے اپنے خیالوں میں غرق تھے۔ مرزا صاحب تو خدا جانے کیا سوچ رہے تھے لیکن میں زمانے کی ناسازگاری پر غور کر رہا تھا۔دور سڑک پر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایک موٹرکار گزر جاتی تھی۔ میری طبیعت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ میں جب کبھی کسی موٹرکار کو دیکھوں، مجھے زمانے کی ناسازگاری کا خیال ضرور ستانے لگتا ہے اور میں کوئی ایسی ترکیب سوچنے لگتا ہوں جس سے دنیا کی تمام دولت سب انسانوں میں برابر برابر تقسیم کی جا سکے۔ اگر میں سڑک پر پیدل جا رہا ہوں اور کوئی موٹر اس ادا سے گزر جائے کہ گردوغبار میرے پھیپھڑوں، میرے دماغ، میرے معدے اور میری تلی تک پہنچ جائے تو اس دن میں گھر آ کر علم کیمیا کی وہ کتاب نکال لیتا ہوں جو میں نے ایف اے میں پڑھی تھی اور اس غرض سے اس کا مطالعہ کرنے لگتا ہوں کہ شاید بم بنانے کا کوئی نسخہ ہاتھ آجائے۔میں مرزا صاحب سے مخاطب ہو کر بولا:مرزا! ہم میں اور حیوانوں میں کیا فرق ہے؟۔مرزا صاحب بولے: بھئی، کچھ ہوگا ہی نا آخر۔میں نے کہا: میں بتاؤں تمہیں؟،کہنے لگے، بولو۔میں نے کہا ''کوئی فرق نہیں۔ ایک بات میں، میں اور وہ بالکل برابر ہیں کہ وہ بھی پیدل چلتے ہیں میں بھی پیدل چلتا ہوں۔مرزا صاحب میری اس تقریر کے دوران کچھ اس بے پروائی سے سگریٹ پیتے رہے کہ دوستوں کی بیوفائی پر رونے کو دل چاہتا تھا۔ میں نے ازحد حقارت اور نفرت کے ساتھ منہ ان کی طرف سے پھیر لیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مرزا کو میری باتوں پر یقین ہی نہیں آتا۔میں نے اپنے دانت پچی کر لیے اور کرسی کے بازو پر سے جھک کر مرزا کے قریب پہنچ گیا۔ مرزا نے بھی سر میری طرف موڑا۔ میں مسکرادیا لیکن میرے تبسم میں زہر ملا ہوا تھا۔جب مرزا سننے کیلئے بالکل تیار ہوگیا تو میں نے چبا چبا کر کہا، مرزا میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں۔مرزا بولے،کیا کہا تم نے، کیا خریدنے لگے ہو؟۔میں نے کہا،سنا نہیں تم نے؟ میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں۔موٹرکار ایک ایسی گاڑی ہے جس کو بعض لوگ موٹر کہتے ہیں، بعض لوگ کار کہتے ہیں لیکن چونکہ تم ذراکند ذہن ہو اس لئے میں نے دونوں لفظ استعمال کردیئے۔ تاکہ تمہیں سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔مرزا بولے، ہوں۔ اب کے مرزا نہیں میں بے پروائی سے سگریٹ پینے لگا۔ بھویں میں نے اوپر کو چڑھا لیں۔ پھرسگریٹ والا ہاتھ منہ تک اس انداز سے لاتا اور ہٹاتاتھا کہ بڑے بڑے ایکٹر اس پر رشک کریں۔تھوڑی دیر کے بعد مرزا بولے، ہوں۔میں نے سو چا اثر ہو رہا ہے۔ مرزا صاحب پر رعب پڑ رہا ہے۔ میں چاہتا تھامرزا کچھ بولے،تاکہ مجھے معلوم ہو کہاں تک مرعوب ہوا ہے لیکن مرزا نے پھر کہا،ہوں۔میں نے کہا،مرزا جہاں تک مجھے معلوم ہے تم نے اسکول اور کالج اور گھر پر دو تین زبانیں سیکھی ہیں اور اس کے علاوہ تمہیں کئی ایسے الفاظ بھی آتے ہیں جو کسی اسکول یا کالج یا شریف گھرانے میں نہیں بولے جاتے۔ پھر بھی اس وقت تمہارا کلام ''ہوں‘‘ سے آگے نہیں بڑھتا۔ مرزا اس وقت تمہاری جو ذہنی کیفیت ہے، اس کو عربی زبان میں حسد کہتے ہیں۔مرزا صاحب کہنے لگے،نہیں یہ بات تو نہیں۔ میں تو صرف خریدنے کے لفظ پر غور کر رہا تھا۔ تم نے کہا میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں تو میاں صاحبزادے! خریدنا تو ایک ایسا فعل ہے کہ اس کیلئے روپے وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ روپے کا بندوبست کیسے کرو گے؟یہ نکتہ مجھے بھی نہ سوجھا تھا لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔ میں نے کہا، میں اپنی کئی قیمتی اشیا بیچ سکتا ہوں۔مرزا بولے،کون کون سی مثلاً؟میں نے کہا،ایک تو میں سگریٹ کیس بیچ ڈالوں گا۔ مرزا کہنے لگے،چلو دس آنے تو یہ ہوگئے، باقی ڈھائی تین ہزار کا انتظام بھی اسی طرح ہوجائے تو سب کام ٹھیک ہو جائے گا۔اس کے بعد ضروری یہی معلوم ہوا کہ گفتگو کا سلسلہ کچھ دیر کیلئے روک دیا جائے چنانچہ میں مرزا سے بیزار ہو کر خاموش ہو رہا۔ مرزا بولے،میں تمہیں ایک ترکیب بتاؤں ایک بائیسکل لے لو۔میں نے کہا، وہ روپے کا مسئلہ تو پھر بھی جوں کا توں رہا۔کہنے لگے، مفت۔میں نے حیران ہو کر پوچھا، مفت؟ وہ کیسے؟کہنے لگے، مفت ہی سمجھو۔ آخر دوست سے قیمت لینا بھی کہاں کی شرافت ہے۔ایسے موقع پر جو ہنسی میں ہنستا ہوں اس میں معصوم بچے کی مسرت، جوانی کی خوش دلی، ابلتے ہوئے فواروں کی موسیقی اور بلبلوں کا نغمہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوتے ہیں۔ چنانچہ میں یہ ہنسی ہنسااور اس طرح ہنسا کہ کھلی ہوئی باچھیں پھر گھنٹوں تک اپنی اصلی جگہ پر واپس نہ آئیں۔ جب مجھے یقین ہوگیا کہ یک لخت کوئی خوشخبری سننے سے دل کی حرکت بند ہوجانے کا جو خطرہ ہوتا ہے اس سے محفوظ ہوں، تو میں نے پوچھا، ہے کس کی؟مرزا بولے،میرے پاس ایک بائیسکل پڑی ہے تم لے لو۔میں نے کہا، پھر کہنا پھر کہنا!۔کہنے لگے، ''بھئی! ایک بائیسکل میرے پاس ہے۔ جب میری ہے تو تمہاری ہے۔ تم لے لو۔یقین مانیے مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ شرم کے مارے میں پسینا پسینا ہوگیا۔ چودھویں صدی میں ایسی بے غرضی اور ایثار بھلا کہاں دیکھنے میں آتا ہے؟ میں نے کرسی سرکا کر مرزا کے پاس کرلی۔ سمجھ میں نہ آیا کہ اپنی ندامت اور ممنونیت کا اظہار کن الفاظ میں کروں؟میں نے کہا،مرزا صاحب سب سے پہلے تو میں اس گستاخی اور درشتی اور بے ادبی کیلئے معافی مانگتا ہوں، جو ابھی ابھی میں نے تمہارے ساتھ گفتگو میں روا رکھی، دوسرے میں آج تمہارے سامنے ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ تم میری صاف گوئی کی داد دو گے اور مجھے اپنی رحم دلی کے صدقے معاف کردوگے۔ میں ہمیشہ تم کو ازحد کمینہ، ممسک، خودغرض اور عیار انسان سمجھتارہا ہوں۔ دیکھو ناراض مت ہو۔ انسان سے غلطی ہوہی جاتی ہے لیکن آج تم نے اپنی شرافت اور دوست پروری کا ثبوت دیا ہے اور مجھ پر ثابت کردیا ہے کہ میں کتنا قابل نفرت، تنگ خیال اور حقیر شخص ہوں۔ مجھے معاف کردو۔