مرحوم کی یاد میں !
اسپیشل فیچر
ایک دن مرزا صاحب اور میں برآمدے میں ساتھ ساتھ کرسیاں ڈالے چپ چاپ بیٹھے تھے۔ جب دوستی بہت پرانی ہوجائے تو گفتگو کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی اور دوست ایک دوسرے کی خاموشی سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ یہی حالت ہماری تھی۔ ہم دونوں اپنے اپنے خیالوں میں غرق تھے۔ مرزا صاحب تو خدا جانے کیا سوچ رہے تھے لیکن میں زمانے کی ناسازگاری پر غور کر رہا تھا۔
دور سڑک پر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایک موٹرکار گزر جاتی تھی۔ میری طبیعت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ میں جب کبھی کسی موٹرکار کو دیکھوں، مجھے زمانے کی ناسازگاری کا خیال ضرور ستانے لگتا ہے اور میں کوئی ایسی ترکیب سوچنے لگتا ہوں جس سے دنیا کی تمام دولت سب انسانوں میں برابر برابر تقسیم کی جا سکے۔ اگر میں سڑک پر پیدل جا رہا ہوں اور کوئی موٹر اس ادا سے گزر جائے کہ گردوغبار میرے پھیپھڑوں، میرے دماغ، میرے معدے اور میری تلی تک پہنچ جائے تو اس دن میں گھر آ کر علم کیمیا کی وہ کتاب نکال لیتا ہوں جو میں نے ایف اے میں پڑھی تھی اور اس غرض سے اس کا مطالعہ کرنے لگتا ہوں کہ شاید بم بنانے کا کوئی نسخہ ہاتھ آجائے۔
میں مرزا صاحب سے مخاطب ہو کر بولا:مرزا! ہم میں اور حیوانوں میں کیا فرق ہے؟۔مرزا صاحب بولے: بھئی، کچھ ہوگا ہی نا آخر۔میں نے کہا: میں بتاؤں تمہیں؟،کہنے لگے، بولو۔میں نے کہا ''کوئی فرق نہیں۔ ایک بات میں، میں اور وہ بالکل برابر ہیں کہ وہ بھی پیدل چلتے ہیں میں بھی پیدل چلتا ہوں۔
مرزا صاحب میری اس تقریر کے دوران کچھ اس بے پروائی سے سگریٹ پیتے رہے کہ دوستوں کی بیوفائی پر رونے کو دل چاہتا تھا۔ میں نے ازحد حقارت اور نفرت کے ساتھ منہ ان کی طرف سے پھیر لیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مرزا کو میری باتوں پر یقین ہی نہیں آتا۔
میں نے اپنے دانت پچی کر لیے اور کرسی کے بازو پر سے جھک کر مرزا کے قریب پہنچ گیا۔ مرزا نے بھی سر میری طرف موڑا۔ میں مسکرادیا لیکن میرے تبسم میں زہر ملا ہوا تھا۔جب مرزا سننے کیلئے بالکل تیار ہوگیا تو میں نے چبا چبا کر کہا، مرزا میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں۔مرزا بولے،کیا کہا تم نے، کیا خریدنے لگے ہو؟۔میں نے کہا،سنا نہیں تم نے؟ میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں۔
موٹرکار ایک ایسی گاڑی ہے جس کو بعض لوگ موٹر کہتے ہیں، بعض لوگ کار کہتے ہیں لیکن چونکہ تم ذراکند ذہن ہو اس لئے میں نے دونوں لفظ استعمال کردیئے۔ تاکہ تمہیں سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔مرزا بولے، ہوں۔ اب کے مرزا نہیں میں بے پروائی سے سگریٹ پینے لگا۔ بھویں میں نے اوپر کو چڑھا لیں۔ پھرسگریٹ والا ہاتھ منہ تک اس انداز سے لاتا اور ہٹاتاتھا کہ بڑے بڑے ایکٹر اس پر رشک کریں۔تھوڑی دیر کے بعد مرزا بولے، ہوں۔میں نے سو چا اثر ہو رہا ہے۔ مرزا صاحب پر رعب پڑ رہا ہے۔ میں چاہتا تھامرزا کچھ بولے،تاکہ مجھے معلوم ہو کہاں تک مرعوب ہوا ہے لیکن مرزا نے پھر کہا،ہوں۔میں نے کہا،مرزا جہاں تک مجھے معلوم ہے تم نے اسکول اور کالج اور گھر پر دو تین زبانیں سیکھی ہیں اور اس کے علاوہ تمہیں کئی ایسے الفاظ بھی آتے ہیں جو کسی اسکول یا کالج یا شریف گھرانے میں نہیں بولے جاتے۔ پھر بھی اس وقت تمہارا کلام ''ہوں‘‘ سے آگے نہیں بڑھتا۔ مرزا اس وقت تمہاری جو ذہنی کیفیت ہے، اس کو عربی زبان میں حسد کہتے ہیں۔
مرزا صاحب کہنے لگے،نہیں یہ بات تو نہیں۔ میں تو صرف خریدنے کے لفظ پر غور کر رہا تھا۔ تم نے کہا میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں تو میاں صاحبزادے! خریدنا تو ایک ایسا فعل ہے کہ اس کیلئے روپے وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ روپے کا بندوبست کیسے کرو گے؟
یہ نکتہ مجھے بھی نہ سوجھا تھا لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔ میں نے کہا، میں اپنی کئی قیمتی اشیا بیچ سکتا ہوں۔مرزا بولے،کون کون سی مثلاً؟میں نے کہا،ایک تو میں سگریٹ کیس بیچ ڈالوں گا۔ مرزا کہنے لگے،چلو دس آنے تو یہ ہوگئے، باقی ڈھائی تین ہزار کا انتظام بھی اسی طرح ہوجائے تو سب کام ٹھیک ہو جائے گا۔اس کے بعد ضروری یہی معلوم ہوا کہ گفتگو کا سلسلہ کچھ دیر کیلئے روک دیا جائے چنانچہ میں مرزا سے بیزار ہو کر خاموش ہو رہا۔
مرزا بولے،میں تمہیں ایک ترکیب بتاؤں ایک بائیسکل لے لو۔میں نے کہا، وہ روپے کا مسئلہ تو پھر بھی جوں کا توں رہا۔کہنے لگے، مفت۔میں نے حیران ہو کر پوچھا، مفت؟ وہ کیسے؟کہنے لگے، مفت ہی سمجھو۔ آخر دوست سے قیمت لینا بھی کہاں کی شرافت ہے۔
ایسے موقع پر جو ہنسی میں ہنستا ہوں اس میں معصوم بچے کی مسرت، جوانی کی خوش دلی، ابلتے ہوئے فواروں کی موسیقی اور بلبلوں کا نغمہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوتے ہیں۔ چنانچہ میں یہ ہنسی ہنسااور اس طرح ہنسا کہ کھلی ہوئی باچھیں پھر گھنٹوں تک اپنی اصلی جگہ پر واپس نہ آئیں۔ جب مجھے یقین ہوگیا کہ یک لخت کوئی خوشخبری سننے سے دل کی حرکت بند ہوجانے کا جو خطرہ ہوتا ہے اس سے محفوظ ہوں، تو میں نے پوچھا، ہے کس کی؟
مرزا بولے،میرے پاس ایک بائیسکل پڑی ہے تم لے لو۔میں نے کہا، پھر کہنا پھر کہنا!۔کہنے لگے، ''بھئی! ایک بائیسکل میرے پاس ہے۔ جب میری ہے تو تمہاری ہے۔ تم لے لو۔یقین مانیے مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ شرم کے مارے میں پسینا پسینا ہوگیا۔ چودھویں صدی میں ایسی بے غرضی اور ایثار بھلا کہاں دیکھنے میں آتا ہے؟ میں نے کرسی سرکا کر مرزا کے پاس کرلی۔ سمجھ میں نہ آیا کہ اپنی ندامت اور ممنونیت کا اظہار کن الفاظ میں کروں؟
میں نے کہا،مرزا صاحب سب سے پہلے تو میں اس گستاخی اور درشتی اور بے ادبی کیلئے معافی مانگتا ہوں، جو ابھی ابھی میں نے تمہارے ساتھ گفتگو میں روا رکھی، دوسرے میں آج تمہارے سامنے ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ تم میری صاف گوئی کی داد دو گے اور مجھے اپنی رحم دلی کے صدقے معاف کردوگے۔ میں ہمیشہ تم کو ازحد کمینہ، ممسک، خودغرض اور عیار انسان سمجھتارہا ہوں۔ دیکھو ناراض مت ہو۔ انسان سے غلطی ہوہی جاتی ہے لیکن آج تم نے اپنی شرافت اور دوست پروری کا ثبوت دیا ہے اور مجھ پر ثابت کردیا ہے کہ میں کتنا قابل نفرت، تنگ خیال اور حقیر شخص ہوں۔ مجھے معاف کردو۔