فیشل ریکگنیشن سسٹم:اسمارٹ فون سکیورٹی پر سوالیہ نشان
اسپیشل فیچر
آج کے ڈیجیٹل دور میں اسمارٹ فون ہماری ذاتی زندگی کا اہم ترین حصہ بن چکے ہیں، جن میں محفوظ معلومات، تصاویر، بینکنگ ایپس اور دیگر حساس ڈیٹا شامل ہوتا ہے۔ ان معلومات کے تحفظ کیلئے چہرہ شناسی (فیشل ریکگنیشن) جیسی جدید ٹیکنالوجی کو نہایت محفوظ سمجھا جاتا تھا، مگر حالیہ تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق متعدد معروف اسمارٹ فونز میں استعمال ہونے والا فیشل ریکگنیشن سسٹم اتنا ناقابلِ تسخیر نہیں جتنا کہ خیال کیا جاتا تھا، بلکہ بعض صورتوں میں اسے سادہ پرنٹ شدہ تصاویر کے ذریعے بھی باآسانی دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔ اس انکشاف نے صارفین کی پرائیویسی اور ڈیجیٹل سکیورٹی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں اور یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا ہماری ذاتی معلومات واقعی محفوظ ہیں یا نہیں۔ چہرہ شناسی (Facial recognition) بظاہر آپ کے فون کو محفوظ رکھنے کیلئے سب سے محفوظ طریقوں میں سے ایک محسوس ہوتی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ کا آلہ ہیکرز کیلئے آسان شکار بن سکتا ہے۔ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ 60 فیصد مقبول موبائل فونز کو پرنٹ شدہ تصاویر کے ذریعے آسانی سے دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔اس میں کئی بڑی کمپنیوں کے سمارٹ فونز بھی شامل ہیں۔حتیٰ کہ جدید اور مہنگے فلیگ شپ ماڈلزبھی کاغذ کے ٹکڑوں کو حقیقی انسانی چہرہ سمجھ بیٹھا۔ محققین نے خبردار کیا ہے کہ چور اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کی ای میلز پڑھ سکتے ہیں، حساس اکاؤنٹس کے پاس ورڈ ری سیٹ کر سکتے ہیں، آپ کی تصاویر تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور حتیٰ کہ آپ کے گوگل والٹ کی ہسٹری بھی دیکھ سکتے ہیں۔
ٹیک ایڈیٹر لیزا باربر کہتی ہیں کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں یہ بات ناقابلِ یقین لگتی ہے کہ فون کے کیمرے کو ایک پرنٹ شدہ تصویر سے دھوکہ دیا جا سکتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے۔گزشتہ چار برسوں میں ہم نے جتنے بھی اینڈرائیڈ فونز کا جائزہ لیا، ان کی اکثریت کو ٹوڈی تصویر کے ذریعے آسانی سے اَن لاک کیا جا سکتا ہے، اور کچھ کمپنیاں اب بھی صارفین کو اس بارے میں مناسب طور پر آگاہ کرنے میں ناکام ہیں۔ہم متاثرہ صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ سکیورٹی کے متبادل طریقے، جیسے فنگر پرنٹ یا PIN، اختیار کریں کیونکہ یہ کہیں زیادہ محفوظ ہیں۔
محققین نے اکتوبر 2022ء کے بعد جاری ہونے والے 208 فون ماڈلز کا تجربہ کیا، جن میں سے 133 کو ایک سادہ تصویر کے ذریعے دھوکہ دیا جا سکتا تھا۔ اگرچہ ہر سال فون ٹیکنالوجی مزید جدید ہو رہی ہے۔2024ء میں حیران کن طور پر 72 فیصد فونز ٹیسٹ میں فیل ہو گئے اور وہ پرنٹ آؤٹ جعل سازی کو پہچان نہ سکے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ تھا، جب 53 فیصد فونز ناکام ہوئے تھے۔
2025 ء میں یہ شرح کچھ کم ہو کر 63 فیصد رہی، لیکن اس کے باوجود زیادہ تر ڈیوائسز اب بھی دھوکہ کھا سکتی ہیں۔بہت سے فونز کو اس لیے آسانی سے فریب دیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ 2ڈی فیشل ریکگنیشن سسٹم پر انحصار کرتے ہیں، جو صرف صارف کے چہرے کی ایک فلیٹ تصویر کو دیکھتے ہیں۔چونکہ ان تصاویر میں گہرائی (depth) موجود نہیں ہوتی، اس لیے یہ سسٹم ایک حقیقی انسانی چہرے اور اس کی پرنٹ شدہ تصویر کے درمیان فرق نہیں کر پاتے۔اس کے برعکس جدید ترین گوگل پکسل 8، گوگل پکسل 9، گوگل پکسل 10 اور ''سام سنگ گلیکسی 26ایس‘‘ نے یہ ٹیسٹ کامیابی سے پاس کیا۔اسی طرح ایپل کا ''فیس آئی ڈی‘‘ اور کچھ Pro اینڈرائیڈ ڈیوائسزکے ماڈلز بھی دھوکہ دینا زیادہ مشکل ثابت ہوئے۔کیونکہ یہ ڈیوائسز پیچیدہ 3D میپنگ سسٹمز استعمال کرتی ہیں جو صارف کے چہرے پر ہزاروں غیر مرئی نقطے (invisible dots) پروجیکٹ کرتی ہیں تاکہ گہرائی کا اندازہ لگایا جا سکے۔اس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ ڈیوائس کو کسی عام سی چیز، جیسے مالک کی تصویر، کے ذریعے ہائی جیک نہ کیا جا سکے۔ چونکہ اتنی زیادہ ڈیوائسز جعل سازی کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں، اس لیے محققین کو تشویش ہے کہ کمپنیاں صارفین کو ان خطرات سے آگاہ کرنے میں ناکام ہیں۔ان کے مطابق مناسب وارننگ وہ ہے جو سیٹ اپ کے دوران واضح اور نمایاں طور پر دکھائی جائے، اور صارف کو صاف طور پر بتایا جائے کہ ان کا فون 2D تصویر یا کسی مشابہ چہرے کے ذریعے بائی پاس کیا جا سکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ معلومات سکیورٹی سیٹ اپ کے دوران ہی واضح انداز میں دی جانی چاہیے، نہ کہ کسی الگ شرائط و ضوابط کے طویل دستاویز میں چھپا دی جائے۔کچھ ڈیوائسز سیٹ اپ کے دوران آن اسکرین پیغامات دکھاتی ہیں جن میں صارف کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ فیشل ریکگنیشن کو مکمل سکیورٹی کیلئے نہ سمجھیں، لیکن زیادہ تر ڈیوائسز ایسا نہیں کرتیں۔
اسی طرح Nothing نے 2022ء کے بعد جاری کی گئی اپنی پانچ ایسی ڈیوائسز کے صارفین کو مناسب وارننگ فراہم نہیں کی جو آسانی سے دھوکہ کھا سکتی ہیں۔اس کے جواب میں Motorola کے ایک ترجمان نے کہا: فیس ان لاک ٹیکنالوجی فون کو آسانی سے کھولنے میں مدد کیلئے تیار کی گئی ہے، تاہم Motorola صارفین کو یاد دلاتا اور مشورہ دیتا ہے کہ وہ بہتر سکیورٹی کیلئے PIN، پاسورڈ یا پیٹرن استعمال کریں۔
مزید یہ کہ اگر کوئی صارف سہولت کیلئے فیس ان لاک استعمال کرنے کا انتخاب کرتا ہے ، تو اسے اپنے آلے کو محفوظ بنانے کیلئے لازماً پیٹرن، PIN یا پاسورڈ بھی منتخب کرنا ہوگا۔محققین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ کچھ برانڈز نے اس معاملے میں نمایاں بہتری دکھائی ہے۔مثال کے طور پر Xiaomi نے 26 ایسے کمزور ہینڈ سیٹس میں 2D تصویر سے متعلق سکیورٹی خطرات کو واضح طور پر اجاگر کیا جن کا محققین نے ٹیسٹ کیا تھا، جبکہ سام سنگ نے اپنی نو ڈیوائسز میں واضح پیشگی وارننگز فراہم کی ہیں۔