آج تم یاد بے حساب آئے!امتیاز علی تاج اردو ادب کے ممتاز ڈراماو نثر نگار (1970-1900ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!امتیاز علی تاج اردو ادب کے ممتاز ڈراماو نثر نگار  (1970-1900ء)

اسپیشل فیچر

تحریر :


٭...سید امتیاز علی 13 اکتوبر 1900ء کو لاہور میں پیدا ہوئے، سنٹرل ماڈل سکول سے میٹرک اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کیا۔
٭...ان کے والد سید ممتاز علی ایک بلند پایہ مصنف جبکہ والدہ محمدی بیگم مضمون نگار تھیں۔
٭...تاج ایک معتبر اور مستند صحافی بھی تھے،صحافتی سفر ''تہذیب نسواں‘‘ سے شروع کیا تھا۔ 18سال کی عمر میں ''کہکشاں‘ ‘کے نام سے ایک ماہنامہ رسالہ بھی شائع کیا۔
٭...ان کی شخصیت بڑی متنوع تھی،مختلف میدانوں میں اپنی ذہانت کے ثبوت دیئے، ریڈیو فیچر لکھے، فلمیں لکھیں، ڈرامے لکھے مگر سب سے زیادہ شہرت انہیں ڈرامہ سے ملی۔
٭... ان کوڈراما نگاری کا شوق کالج میں پیدا ہوا۔وہ گورنمنٹ کالج کی ڈرامیٹک کلب کے سرگرم رکن تھے۔
٭...ان کا تحریر کردہ ڈراما ''انارکلی‘‘ جدید اُردو ڈراما نگاری کی تاریخ میں نقش ِاوّل اور سنگ ِمیل تصور کیا جاتا ہے۔
٭...ان کے مشہور ڈراموں میں '' ستارہ، ورجینیا، دلھن، قسمت، روشن آرا،شاہ جہاں، چچا چھکن اور قرطبہ کا قاضی‘‘ سرفہرست ہیں۔
٭... بہت سے انگریزی اور فرانسیسی زبان کے ڈراموں کا ترجمہ کیا اور یہاں کے ماحول کے مطابق ڈھالا۔
٭... ''چچا چھکن‘‘امتیاز علی تاج کی مزاح نگاری کی عمدہ کتاب ہے۔ اس کے علاوہ ان کا ناول''محاصرہ غرناطہ‘‘ اور'' ہیبت ناک افسانے ‘‘بھی مشہور ہیں۔
٭... ادبی اور سوانحی نوعیت کے مضامین بھی لکھے ہیں۔ گاندھی ، محمد حسین آزاد، حفیظ جالندھری اور شوکت تھانوی پر ان کے مضامین بہت اہمیت کے حامل ہیں۔
٭... ڈراموں کے علاوہ فلموں میں بھی دلچسپی لی، کہانیاں، منظرنامے اورمکالمے لکھے،فلمیں بھی بنائیں۔ ان کی فلم کمپنی کا نام 'تاج پروڈکشن لمیٹڈ ‘تھا۔
٭... مجلس ترقی ادب، لاہور سے بھی وابستہ رہے۔ اْن کی زیر نگرانی مجلس نے بیسیوں کتب شائع کیں۔
٭...اُن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت ِپاکستان نے انھیں ''ستارہ امتیاز‘‘ اور ''تمغہ برائے حسن ِکارکردگی‘‘ سے نوازا۔
٭... 2001 ء میں پاکستان پوسٹ نے ان کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔
٭...19 اپریل 1970ء کو دو نقاب پوشوں نے ان کے گھر میں انہیں قتل کیا ۔
٭...ان کی اہلیہ، حجاب امتیاز علی خود ایک معروف اردو ناول نگار اور شاعرہ تھیں، اور 1936ء میں ہندوستان کی پہلی مسلم خاتون پائلٹ بنیں۔
٭... ان کی بیٹی یاسمین طاہر مرحومہ بھی فنونِ لطیفہ سے وابستہ تھیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
فیشل ریکگنیشن سسٹم:اسمارٹ فون سکیورٹی پر سوالیہ نشان

فیشل ریکگنیشن سسٹم:اسمارٹ فون سکیورٹی پر سوالیہ نشان

آج کے ڈیجیٹل دور میں اسمارٹ فون ہماری ذاتی زندگی کا اہم ترین حصہ بن چکے ہیں، جن میں محفوظ معلومات، تصاویر، بینکنگ ایپس اور دیگر حساس ڈیٹا شامل ہوتا ہے۔ ان معلومات کے تحفظ کیلئے چہرہ شناسی (فیشل ریکگنیشن) جیسی جدید ٹیکنالوجی کو نہایت محفوظ سمجھا جاتا تھا، مگر حالیہ تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق متعدد معروف اسمارٹ فونز میں استعمال ہونے والا فیشل ریکگنیشن سسٹم اتنا ناقابلِ تسخیر نہیں جتنا کہ خیال کیا جاتا تھا، بلکہ بعض صورتوں میں اسے سادہ پرنٹ شدہ تصاویر کے ذریعے بھی باآسانی دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔ اس انکشاف نے صارفین کی پرائیویسی اور ڈیجیٹل سکیورٹی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں اور یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا ہماری ذاتی معلومات واقعی محفوظ ہیں یا نہیں۔ چہرہ شناسی (Facial recognition) بظاہر آپ کے فون کو محفوظ رکھنے کیلئے سب سے محفوظ طریقوں میں سے ایک محسوس ہوتی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ کا آلہ ہیکرز کیلئے آسان شکار بن سکتا ہے۔ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ 60 فیصد مقبول موبائل فونز کو پرنٹ شدہ تصاویر کے ذریعے آسانی سے دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔اس میں کئی بڑی کمپنیوں کے سمارٹ فونز بھی شامل ہیں۔حتیٰ کہ جدید اور مہنگے فلیگ شپ ماڈلزبھی کاغذ کے ٹکڑوں کو حقیقی انسانی چہرہ سمجھ بیٹھا۔ محققین نے خبردار کیا ہے کہ چور اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کی ای میلز پڑھ سکتے ہیں، حساس اکاؤنٹس کے پاس ورڈ ری سیٹ کر سکتے ہیں، آپ کی تصاویر تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور حتیٰ کہ آپ کے گوگل والٹ کی ہسٹری بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ٹیک ایڈیٹر لیزا باربر کہتی ہیں کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں یہ بات ناقابلِ یقین لگتی ہے کہ فون کے کیمرے کو ایک پرنٹ شدہ تصویر سے دھوکہ دیا جا سکتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے۔گزشتہ چار برسوں میں ہم نے جتنے بھی اینڈرائیڈ فونز کا جائزہ لیا، ان کی اکثریت کو ٹوڈی تصویر کے ذریعے آسانی سے اَن لاک کیا جا سکتا ہے، اور کچھ کمپنیاں اب بھی صارفین کو اس بارے میں مناسب طور پر آگاہ کرنے میں ناکام ہیں۔ہم متاثرہ صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ سکیورٹی کے متبادل طریقے، جیسے فنگر پرنٹ یا PIN، اختیار کریں کیونکہ یہ کہیں زیادہ محفوظ ہیں۔محققین نے اکتوبر 2022ء کے بعد جاری ہونے والے 208 فون ماڈلز کا تجربہ کیا، جن میں سے 133 کو ایک سادہ تصویر کے ذریعے دھوکہ دیا جا سکتا تھا۔ اگرچہ ہر سال فون ٹیکنالوجی مزید جدید ہو رہی ہے۔2024ء میں حیران کن طور پر 72 فیصد فونز ٹیسٹ میں فیل ہو گئے اور وہ پرنٹ آؤٹ جعل سازی کو پہچان نہ سکے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ تھا، جب 53 فیصد فونز ناکام ہوئے تھے۔2025 ء میں یہ شرح کچھ کم ہو کر 63 فیصد رہی، لیکن اس کے باوجود زیادہ تر ڈیوائسز اب بھی دھوکہ کھا سکتی ہیں۔بہت سے فونز کو اس لیے آسانی سے فریب دیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ 2ڈی فیشل ریکگنیشن سسٹم پر انحصار کرتے ہیں، جو صرف صارف کے چہرے کی ایک فلیٹ تصویر کو دیکھتے ہیں۔چونکہ ان تصاویر میں گہرائی (depth) موجود نہیں ہوتی، اس لیے یہ سسٹم ایک حقیقی انسانی چہرے اور اس کی پرنٹ شدہ تصویر کے درمیان فرق نہیں کر پاتے۔اس کے برعکس جدید ترین گوگل پکسل 8، گوگل پکسل 9، گوگل پکسل 10 اور ''سام سنگ گلیکسی 26ایس‘‘ نے یہ ٹیسٹ کامیابی سے پاس کیا۔اسی طرح ایپل کا ''فیس آئی ڈی‘‘ اور کچھ Pro اینڈرائیڈ ڈیوائسزکے ماڈلز بھی دھوکہ دینا زیادہ مشکل ثابت ہوئے۔کیونکہ یہ ڈیوائسز پیچیدہ 3D میپنگ سسٹمز استعمال کرتی ہیں جو صارف کے چہرے پر ہزاروں غیر مرئی نقطے (invisible dots) پروجیکٹ کرتی ہیں تاکہ گہرائی کا اندازہ لگایا جا سکے۔اس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ ڈیوائس کو کسی عام سی چیز، جیسے مالک کی تصویر، کے ذریعے ہائی جیک نہ کیا جا سکے۔ چونکہ اتنی زیادہ ڈیوائسز جعل سازی کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں، اس لیے محققین کو تشویش ہے کہ کمپنیاں صارفین کو ان خطرات سے آگاہ کرنے میں ناکام ہیں۔ان کے مطابق مناسب وارننگ وہ ہے جو سیٹ اپ کے دوران واضح اور نمایاں طور پر دکھائی جائے، اور صارف کو صاف طور پر بتایا جائے کہ ان کا فون 2D تصویر یا کسی مشابہ چہرے کے ذریعے بائی پاس کیا جا سکتا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ یہ معلومات سکیورٹی سیٹ اپ کے دوران ہی واضح انداز میں دی جانی چاہیے، نہ کہ کسی الگ شرائط و ضوابط کے طویل دستاویز میں چھپا دی جائے۔کچھ ڈیوائسز سیٹ اپ کے دوران آن اسکرین پیغامات دکھاتی ہیں جن میں صارف کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ فیشل ریکگنیشن کو مکمل سکیورٹی کیلئے نہ سمجھیں، لیکن زیادہ تر ڈیوائسز ایسا نہیں کرتیں۔اسی طرح Nothing نے 2022ء کے بعد جاری کی گئی اپنی پانچ ایسی ڈیوائسز کے صارفین کو مناسب وارننگ فراہم نہیں کی جو آسانی سے دھوکہ کھا سکتی ہیں۔اس کے جواب میں Motorola کے ایک ترجمان نے کہا: فیس ان لاک ٹیکنالوجی فون کو آسانی سے کھولنے میں مدد کیلئے تیار کی گئی ہے، تاہم Motorola صارفین کو یاد دلاتا اور مشورہ دیتا ہے کہ وہ بہتر سکیورٹی کیلئے PIN، پاسورڈ یا پیٹرن استعمال کریں۔مزید یہ کہ اگر کوئی صارف سہولت کیلئے فیس ان لاک استعمال کرنے کا انتخاب کرتا ہے ، تو اسے اپنے آلے کو محفوظ بنانے کیلئے لازماً پیٹرن، PIN یا پاسورڈ بھی منتخب کرنا ہوگا۔محققین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ کچھ برانڈز نے اس معاملے میں نمایاں بہتری دکھائی ہے۔مثال کے طور پر Xiaomi نے 26 ایسے کمزور ہینڈ سیٹس میں 2D تصویر سے متعلق سکیورٹی خطرات کو واضح طور پر اجاگر کیا جن کا محققین نے ٹیسٹ کیا تھا، جبکہ سام سنگ نے اپنی نو ڈیوائسز میں واضح پیشگی وارننگز فراہم کی ہیں۔

شکر پڑیاں :قدرتی حسن سے مالامال تفریحی مقام

شکر پڑیاں :قدرتی حسن سے مالامال تفریحی مقام

شکر پڑیاں اسلام آباد کا تاریخی اور قدرتی حسن سے مالا مال مقام ہے، جسے وفاقی دارالحکومت کا دل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ تفریحی مقام ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور جرات مندانہ فیصلوں کا امین ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 1,995 فٹ کی بلندی پر واقع یہ پہاڑی سلسلہ اسلام آباد کے جنوب میں مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے۔ شکر پڑیاں کا نام دو الفاظ کا مجموعہ ہے، شکر اور پڑیاں۔ پوٹھوہاری زبان میں پڑیاں سے مراد چھوٹی پہاڑی یا ٹیلہ ہے۔ روایات کے مطابق قیامِ پاکستان سے قبل یہاں ایک بزرگ رہا کرتے تھے جو آنے جانے والوں کو شکر بانٹا کرتے تھے جس کی وجہ سے یہ مقام شکر پڑیاں کے نام سے مشہور ہوا۔تاریخی لحاظ سے اس مقام کی اہمیت اس وقت دوچند ہوگئی جب 1960ء میں صدر ایوب خان کی صدارت میں یہاں کابینہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں کراچی کے بجائے نئے شہر اسلام آباد کو دارالحکومت بنانے کا حتمی فیصلہ کیا گیا۔ وہ جگہ جہاں یہ تاریخی فیصلہ ہوا، آج بھی یادگار کی صورت میں محفوظ ہے۔ شکر پڑیاں کی سب سے نمایاں پہچان پاکستان یادگار ہے۔ یہ جدید طرزِ تعمیر کا ایک شاہکار ہے جو دور سے کھلتے ہوئے پھول کی مانند نظر آتا ہے۔ اس کی چار بڑی پنکھڑیاں پاکستان کے چاروں صوبوں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، اور بلوچستان کی نمائندگی کرتی ہیں جبکہ تین چھوٹی پنکھڑیاں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور قبائلی علاقوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ یادگار کی اندرونی دیواروں پر مغل طرز کے نقش و نگار اور تحریک پاکستان کی جدوجہد کی تصاویر کندہ ہیں جو ہر پاکستانی کے دل میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار کرتی ہیں۔ شکر پڑیاں کے پہلو میں واقع لوک ورثہ پاکستان کا سب سے بڑا ثقافتی عجائب گھر ہے۔ یہاں پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی مختلف تہذیبوں، دستکاریوں، موسیقی اور طرزِ زندگی کو انتہائی مہارت سے محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ میوزیم سیاحوں کیلئے کشش کا باعث تو ہے ہی، محققین کیلئے بھی یہاں معلومات کا خزانہ موجود ہے۔ یہاں ہونے والا سالانہ لوک میلہ ملک بھر کے فنکاروں اور دستکاروں کو اپنا ہنر دکھانے کا پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔شکر پڑیاں کی بلندی سے اسلام آباد اور راولپنڈی کا نظارہ سحر انگیز ہوتا ہے۔ ایک طرف فیصل مسجد کا سفید گنبد اور مارگلہ کی ہریالی نظر آتی ہے تو دوسری طرف راول جھیل کا نیلا پانی چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کی ٹھنڈی ہوائیں اور گھنے درخت گرمیوں کے موسم میں بھی سکون کا احساس دلاتے ہیں۔ یہاں کی ہریالی کو برقرار رکھنے کیلئے مختلف ادوار میں شجرکاری مہم چلائی جاتی رہی ہے۔ شکر پڑیاں میں مخصوص علاقہ ان درختوں کیلئے وقف ہے جو مختلف ممالک کے سربراہانِ مملکت نے لگائے ہیں۔ جب بھی کوئی غیر ملکی صدر یا وزیراعظم پاکستان کا دورہ کرتا ہے، وہ یہاں اپنی دوستی کی یاد میں ایک پودا لگاتا ہے۔ آج یہ پودے تناور درخت بن چکے ہیں جو پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات اور عالمی امن کی علامت ہیں۔سیاحوں کیلئے یہاں وسیع پارک، بچوں کیلئے جھولے اور کھانے پینے کے اسٹالز موجود ہیں۔ یہاں کی چائے اور پوٹھوہاری کھانے سیاحوں میں بے حد مقبول ہیں۔ شام کے وقت جب شہر کی روشنیاں جلتی ہیں تو شکر پڑیاں سے نظر آنے والا منظر خوابناک وادی سے کم نہیں ہوتا۔ شکر پڑیاں پاکستان کے ماضی، حال اور مستقبل سے جڑی خوبصورت علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بھر سے لوگ جب کسی کام سے یا سیاحت کیلئے اسلام آباد آتے ہیں تو یہ جگہ پر ضرور جاتے ہیں۔ یہ جگہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اپنی ثقافت اور جڑوں سے جڑے رہنا کتنا ضروری ہے۔ پاکستان کے استحکام اور وحدت کی علامت یہ مقام ہمیں امن، اتحاد اور خوبصورتی کا درس دیتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

مریخ پر ہیلی کاپٹرکی پرواز2021ء میں آج کے روز''انگینیوٹی‘‘ (Ingenuity) ہیلی کاپٹرنے تاریخ رقم کرتے ہوئے مریخ پر پہلی کامیاب پرواز کی۔ جہاں اس نے نہایت محدود وسائل اور مشکل فضائی حالات کے باوجود اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ یہ کارنامہ ناسا کے مشن کا حصہ تھا، جس کا مقصد مستقبل میں دیگر سیاروں پر فضائی تحقیق کے امکانات کو جانچنا تھا۔ اس کامیاب پرواز نے سائنسی دنیا میں ایک نئی راہ کھولی اور خلائی تحقیق میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی، جس سے مستقبل کے مزید جدید مشنز کی بنیاد رکھی گئی۔امریکی جنگ آزادی19اپریل 1775ء کو امریکہ کی جنگ آزادی کا آغاز ہوا۔ یہ ایک تاریخی سنگ میل تھا جس نے دنیا کی پہلی بڑی نوآبادیاتی بغاوت کو جنم دیا۔ 18ویں صدی میں امریکہ کی 13 برطانوی نوآبادیاں (colonies) برطانیہ کی حکومت سے نالاں تھیں، خاص طور پر ٹیکسوں اور نمائندگی کے فقدان پر۔ یہ جنگ 8 سال جاری رہی۔ جنگ کا اختتام 1783ء کے معاہدہ پیرس سے ہوا، جس کے تحت برطانیہ نے امریکہ کی آزادی تسلیم کر لی۔دنیا کا پہلا خلائی سٹیشن1971 میں ''سلیوٹ1‘‘ کو خلا میں بھیجا گیا، جو انسانی تاریخ کا پہلا خلائی اسٹیشن تھا۔ اسے سوویت یونین کے خلائی پروگرام کے تحت لانچ کیا گیا۔ اس کا مقصد خلا میں طویل مدت تک قیام، سائنسی تجربات اور تحقیق کو ممکن بنانا تھا۔ سلیوٹ پروگرام کے اس ابتدائی منصوبے نے خلائی تحقیق میں ایک نئی جہت متعارف کرائی۔ بعد میں آنے والے خلائی اسٹیشنز اسی بنیاد پر تیار کیے گئے۔ یہ لانچ انسان کے خلا میں مستقل موجودگی کے خواب کی پہلی عملی شکل تھی۔کینیڈا فائرنگ19اپریل2020ء کو گیبریل ورٹ مین نے کینیڈا کے صوبے نووا سکوشیا میں 16مقامات پر متعدد مرتبہ فائرنگ کی اور اس کے بعد آگ لگادی۔ اس واقع کے نتیجے میں 22افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ ورٹ مین نے یہ کارروائی تقریباً13گھنٹے تک جاری رکھی جس میں اس نے پولیس کی وردی اور گاڑی کا استعمال بھی کیا۔اس کارروائی کے دوران عوام کو ریڈ الرٹ کے ذریعے خبر دار نہ کرنے پر پولیس پر بہت زیادہ تنقید بھی کی گئی۔ایک طویل مقابلے کے بعد کینیڈا کی پولیس نے ورٹ مین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ بیلجیئم کی آزادی معاہدہ لندن، 19 اپریل 1839ء کو کنسرٹ آف یورپ، یونائیٹڈ کنگڈم آف نیدرلینڈز اور کنگڈم آف بیلجیئم کے درمیان ہوا ۔ یہ 1831ء کے آرٹیکلز کے معاہدے کی براہ راست پیروی تھی، جس پر نیدرلینڈز نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ معاہدے کے تحت، یورپی طاقتوں نے بیلجیئم کی آزادی اور غیر جانبداری کو تسلیم کیا اور اس کی ضمانت دی اور لکسمبرگ کے جرمن بولنے والے حصے کو مکمل آزادی قائم کرنے کی اجازت د ی گئی۔فلپائن فضائی حادثہ19اپریل2000ء کو ایئر فلپائنز کی فلائٹ 541 حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس المناک حادثے میں جہاز میں سوار تمام 131 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ سانحہ فلپائن کی فضائی تاریخ کے بڑے حادثات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خراب موسم اور تکنیکی مسائل کو اس حادثے کی ممکنہ وجوہات قرار دیا گیا۔ اس سانحے نے ہوابازی کے حفاظتی اقدامات پر سنجیدہ سوالات اٹھائے اور مستقبل میں مزید احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

 ثقافتی ورثے کا عالمی دن

ثقافتی ورثے کا عالمی دن

ماضی کی پہچان، حال کی ذمہ داری اور مستقبل کی امانت انسانی تاریخ کا ہر ورق اپنے اندر ایک داستان سموئے ہوئے ہے، اور یہی داستانیں مل کر کسی قوم کے ثقافتی ورثے کی صورت اختیار کرتی ہیں۔ ثقافتی ورثہ محض قدیم عمارتوں یا آثارِ قدیمہ کا نام نہیں بلکہ یہ ہماری تہذیب، روایات، زبان، فنون اور اجتماعی شعور کا عکاس ہوتا ہے۔ تیز رفتار جدید دور میں جہاں ترقی کے نئے در کھل رہے ہیں، وہیں یہ خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے کہ کہیں ہم اپنی اصل شناخت اور تاریخی جڑوں سے دور نہ ہو جائیں۔ ایسے میں ثقافتی ورثے کی اہمیت اور اس کے تحفظ کا شعور اجاگر کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔دنیا بھر میں ہر سال 18 اپریل کو ثقافتی ورثے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد انسانیت کے مشترکہ تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی ورثے کو اجاگر کرنا، اس کی حفاظت کی اہمیت کو سمجھانا اور آنے والی نسلوں کیلئے اسے محفوظ بنانا ہے۔ ثقافتی ورثہ صرف عمارتوں، قلعوں، مساجد یا آثارِ قدیمہ تک محدود نہیں بلکہ اس میں زبان، روایات، رسم و رواج، فنونِ لطیفہ، رہن سہن اور اجتماعی طرزِ زندگی بھی شامل ہیں۔ یہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی قوم کی شناخت اور اس کے ماضی کی عکاسی کرتے ہیں۔ثقافتی ورثہ دراصل ایک قوم کی تاریخ کا آئینہ ہوتا ہے۔ جب ہم قدیم عمارتوں، تاریخی مقامات یا روایتی فنون کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنے آباؤ اجداد کی سوچ، ان کی مہارت، ان کی جدوجہد اور ان کے طرزِ زندگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہی ورثہ ہمیں اپنی جڑوں سے جوڑتا ہے اور ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم کس عظیم روایت کے وارث ہیں۔ بدقسمتی سے جدید دور میں تیز رفتار ترقی اور شہری پھیلاؤ کے باعث یہ ورثہ خطرے سے دوچار ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے قدرت نے بے شمار ثقافتی اور تاریخی خزانے عطا کیے ہیں۔ موہنجو داڑو اور ہڑپہ کی قدیم تہذیبیں ہوں، ٹیکسلا کے آثار ہوں یا لاہور کا شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد، یہ سب ہمارے شاندار ماضی کے گواہ ہیں۔ اسی طرح ملک کے مختلف علاقوں میں بسنے والی اقوام کی زبانیں، ثقافتیں، لوک داستانیں، موسیقی اور دستکاری بھی ہماری ثقافتی شناخت کا حصہ ہیں۔ یہ تنوع دراصل ہماری طاقت ہے، جسے محفوظ رکھنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے اس قیمتی ورثے کی حفاظت میں وہ سنجیدگی نہیں دکھا سکے جس کی ضرورت تھی۔ کئی تاریخی عمارتیں عدم توجہی، ماحولیاتی اثرات اور غیر قانونی تعمیرات کے باعث تباہی کے دہانے پر کھڑی ہیں۔ اسی طرح ہماری روایتی زبانیں اور فنون بھی جدیدیت کی دوڑ میں پیچھے رہتے جا رہے ہیں۔ نوجوان نسل مغربی ثقافت سے متاثر ہو کر اپنی روایات سے دور ہوتی جا رہی ہے، جو ایک تشویشناک امر ہے۔ثقافتی ورثے کے تحفظ کیلئے حکومت، تعلیمی اداروں اور عوام سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ تاریخی مقامات کی بحالی، دیکھ بھال اور تحفظ کیلئے مؤثر پالیسیاں بنائے اور ان پر سختی سے عملدرآمد کروائے۔ سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ ان مقامات کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ یہ صرف آمدنی کا ذریعہ نہ بنیں بلکہ اپنی اصل حالت میں محفوظ بھی رہیں۔تعلیمی اداروں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ نصاب میں ثقافتی ورثے کی اہمیت کو شامل کیا جائے اور طلبہ کو اپنے ماضی سے روشناس کروایا جائے۔ اسکولوں اور کالجوں میں ثقافتی تقریبات، لوک موسیقی کے پروگرام اور تاریخی مقامات کے مطالعاتی دورے منعقد کیے جائیں تاکہ نئی نسل میں اپنی ثقافت کے حوالے سے شعور پیدا ہو۔عوامی سطح پر بھی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر فرد کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ثقافتی ورثہ کسی ایک ادارے یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہم سب کی مشترکہ امانت ہے۔ اگر ہم اپنے تاریخی مقامات کو صاف ستھرا رکھیں، ان کی بے حرمتی سے بچیں اور اپنی روایات کو زندہ رکھیں تو ہم اس ورثے کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔میڈیا بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے ثقافتی ورثے کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور لوگوں کو اس کے تحفظ کی ترغیب دی جائے۔ مثبت مہمات اور آگاہی پروگرام اس سلسلے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ثقافتی ورثے کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ترقی کی دوڑ میں ہمیں اپنے ماضی کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ جدیدیت اور روایت کے درمیان توازن قائم رکھنا ہی دانشمندی ہے۔ اگر ہم نے اپنے ورثے کو نظر انداز کیا تو ہم اپنی شناخت کھو بیٹھیں گے، اور ایک ایسی قوم بن جائیں گے جس کا کوئی ماضی نہیں ہوگا۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ثقافتی ورثہ صرف پتھروں، عمارتوں یا اشیاء کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ہماری روح، ہماری پہچان اور ہماری تاریخ ہے۔ اسے محفوظ رکھنا دراصل اپنے وجود کو محفوظ رکھنا ہے۔ آئیے اس عالمی دن کے موقع پر یہ عہد کریں کہ ہم اپنے ثقافتی ورثے کی حفاظت کریں گے، اسے فروغ دیں گے اور آنے والی نسلوں تک اسے پوری شان و شوکت کے ساتھ منتقل کریں گے۔

دیوہیکل کدوکیسے اُگا!

دیوہیکل کدوکیسے اُگا!

ماہرین نے راز افشا کر دیاجیسے جیسے دن لمبے ہوتے جاتے ہیں اور شمالی نصف کرے میں بہار کی آمد کے ساتھ درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے، بہت سے باغبان اس بات پر غور کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ اس سال وہ کون سے پھل اور سبزیاں اُگانے کی کوشش کریں۔ وہ باغبان جو عالمی ریکارڈ کے برابر یا اس سے بڑا نمونہ پیدا کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں، ان کیلئے یہ انتخاب محض پسند یا ذائقے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس میں کئی مزید عوامل اور پیچیدہ پہلوؤں کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔جب غیر معمولی سائز کے پھلوں اور سبزیوں کی دنیا کی بات کی جائے تو ان میں دیوہیکل کدو (Giant Pumpkins) سب سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ حیرت انگیز کدو ایک چھوٹے سے بیج سے شروع ہو کر ایک چھوٹی گاڑی جتنے بڑے ہو سکتے ہیں، اور ان کو اگانے والے انسانوں کو بھی اپنے سائز سے کہیں زیادہ بڑا کر دیتے ہیں۔''ہیویسٹ کدو‘‘ اور گھیر (circumference) کے لحاظ سے سب سے بڑے کدو کے موجودہ عالمی اعزازات ایک ہی دیوہیکل نمونے کے نام ہیں، جسے پیار سے ''Muggle‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ غیر معمولی کدو 2025ء میں برطانیہ میں کاٹا گیاتھا۔اس ایک ہی کدو نے دونوں عالمی ریکارڈ اپنے نام کر کے دیوہیکل کدو اگانے کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ اس کی غیر معمولی بڑھوتری، دیکھ بھال اور نتائج نے ماہر باغبانوں کیلئے ایک نئی مثال قائم کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ صحیح محنت اور تجربے سے قدرتی پیداوار میں حیرت انگیز نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ریکارڈ یافتہ کدو اُگانے اور مقامی و قومی سطح پر متعدد انعامات حاصل کرنے والے برطانیہ کے جڑواں بھائی ایان اور سٹورٹ پیٹن کے ریکارڈ سازکدو کا 6 اکتوبر 2025ء کو وزن کیا گیا تو اس کا وزن 1,278.8 کلوگرام نکلا، جبکہ اس کا گھیر 649.8 سینٹی میٹر (255.8 انچ، 21 فٹ 3.8 انچ) ریکارڈ کیا گیا۔''Muggle‘‘ کے یہ غیر معمولی اعداد و شمار عالمی سطح پر مقابلہ جاتی باغبانی کے ادارے کے نمائندوں نے باقاعدہ طور پر تسلیم کیے۔پیٹن بھائیوں سے پہلے امریکی زرعی ماہر اور انسٹرکٹر ٹریوس جینگر نے دو سال تک یہ عالمی اعزاز اپنے پاس رکھا۔ ان کے دیوہیکل کدو کو انہوں نے ابتدائی بڑھوتری کے دوران اس کی باسکٹ بال جیسی شکل کی وجہ سے ''مائیکل جارڈن‘‘ کا نام دیا تھا۔ یہ کدو کا 9اکتوبر 2023ء کو امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں منعقدہ چیمپئن شپ میں پیش کیا گیا، جہاں اس کا وزن 2,749 پاؤنڈ (1,246.9 کلوگرام) ریکارڈ کیا گیا۔بہار کی آمد کے ساتھ جب فضا میں نئی تازگی محسوس ہونے لگتی ہے تو وہ افراد جو عالمی ریکارڈ توڑنے والے کدو اگانے کا خواب رکھتے ہیں، اپنی منصوبہ بندی شروع کر دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ورلڈ ریکارڈز کی تنظیم گنیز ورلڈ ریکارڈ نے برطانیہ کے ایان پیٹن اور امریکہ کے ٹریوس جینگر سے مشورے حاصل کیے کہ نوآموز افراد کہاں سے آغاز کریں اور کن مراحل پر عمل کر کے اپنے کدو کو بہترین ممکنہ حد تک بڑھا سکتے ہیں۔خوش قسمتی سے باغبانی کی دنیا میں بیجوں کی شیئرنگ کا رجحان کافی عام اور دوستانہ ہے۔ ایان پیٹن کے مطابق''اچھی جینیات والے بیج اکثر مفت آن لائن مل جاتے ہیں، اور میں خود بھی ابتدائی چند سال یہی طریقہ اپناتا رہا ہوں۔ بعد میں جب تجربہ بڑھ جائے تو آپ پچھلے ریکارڈ ہولڈرز کے بیج حاصل کر سکتے ہیں، جو عموماً قیمت ادا کر کے لینے پڑتے ہیں‘‘۔ٹریوس جینگر بھی اس بات سے متفق ہیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں بہت سے ایسے باغبان موجود ہیں جو صرف ڈاک کے خرچ کے عوض بیج فراہم کر دیتے ہیں۔ اگر آپ پہلی بار کوشش کر رہے ہیں تو ایسے بیج تلاش کریں جن کی جینیات بڑے کدوؤں سے منسلک ہو۔ زیادہ تر تجربہ کار باغبان یہ معلومات شیئر کرنے میں ہچکچاتے نہیں۔ایک بار جب آپ بیج حاصل کر لیتے ہیں تو اگلا بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ انہیں کب بویا جائے اور کن حالات میں ان کی بہترین نشوؤنما ممکن ہے؟ٹریوس کے مطابق اس پورے عمل کے آغاز کیلئے ان کے پاس ایک بالکل مخصوص تاریخ موجود ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے بیج 10 اپریل کو گھر کے اندرلگانا شروع کرتا ہوں۔ اس کے بعد میں انہیں تقریباً دو ہفتے تک اندر ہی بڑھنے دیتا ہوں، پھر انہیں باہر منتقل کر دیتا ہوں۔وہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ چونکہ وہ ایک نسبتاً ٹھنڈے موسم والے علاقے میں رہتے ہیں، اس لیے نوجوان پودوں کی حفاظت انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ صرف سردی ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل جیسے تیز ہوا، جانور، طوفان اور حتیٰ کہ بہت زیادہ تیز دھوپ بھی نازک پودوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے ابتدائی مرحلے میں مکمل حفاظت اور کنٹرولڈ ماحول ان کی کامیابی کا بنیادی راز ہے۔ایان مشورہ دیتے ہیں کہ اگر آپ کدو کو اندر ہی پورے سیزن کیلئے اگانا چاہتے ہیں تو بیج مارچ کے آخر میں بو دیں۔ اگر آپ نے انہیں بعد میں باہر منتقل کرنا ہے تو اپریل کے آخر یا مئی کے آغاز میں بوائی کریں۔ بیجوں اور بعد میں اگنے والے ننھے پودوں کو بہتر نشوؤنما دینے کیلئے آپ کیا کر سکتے ہیں؟ ایان کے مطابق اس مرحلے پر صحیح طریقہ کار بہت اہم ہوتا ہے۔وہ مزید کہتے ہیں کہ جب پودے میں پہلا پتہ ظاہر ہو جائے تو انہیں باہر منتقل کر دینا چاہیے۔ ٹریوس بھی اسی طرح کا طریقہ اپناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں پودوں کو اندر تقریباً 85°F (29°C) درجہ حرارت، نمی والے اور مناسب روشنی والے ماحول میں شروع کرتا ہوں۔ میں اچھی کوالٹی کی پوٹنگ مٹی استعمال کرتا ہوں جس میں زیادہ کھاد نہیں ہوتی۔ نہ زیادہ گیلا اور نہ زیادہ خشک، بلکہ ہلکی نمی والی حالت بہترین رہتی ہے۔ فلورو سینٹ لائٹ جو پودوں کے قریب رکھی جائے سستی اور مؤثر ہوتی ہے۔جتنا بڑا گملہ ہوگا، شروع میں اتنا ہی بہتر ہے۔ بہت سے لوگ چھوٹے کپ استعمال کرتے ہیں، لیکن اس میں جڑیں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں اور جگہ کم پڑ جاتی ہے۔اگر پودے کو شروع میں کچھ دینا ہو تو ہلکی مقدار میں فش یا سی ویڈ (seaweed) استعمال کریں، یعنی آدھی مقدار سے آغاز کریں اور آہستہ آہستہ بڑھائیں۔آج کل حیاتیاتی عناصر (biologicals) بھی بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔یہ مٹی میں موجود غذائی اجزاء کو بہتر طور پر استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں اور پودے کی نشوونما کو مؤثر بناتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

پہلی ایشیائی افریقی کانفرنس 18اپریل 1955ء میں انڈونیشیا کے شہر بانڈونگ میں ایشیا اور افریقہ کے انتیس ممالک کا ایک تاریخی اجتماع منعقد ہوا، جسے پہلی ایشیائی افریقی کانفرنس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد نوآبادیاتی نظام کے خاتمے، عالمی امن کے فروغ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔ اس اہم اجلاس میں مختلف ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی اور مشترکہ مسائل، جیسے معاشی ترقی، سیاسی خودمختاری اور بین الاقوامی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ کانفرنس نے عالمی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ ''پیس آف لیوبن‘‘ 1797ء میں پہلی اتحادی جنگ کے دوران آج کے روز ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب نپولین بوناپارٹ اور میگزیمیلین، کاؤنٹ آف میر ویلڈٹ کے درمیان امن معاہدہ ''پیس آف لیوبن‘‘ طے پایا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں فرانس اور آسٹریا کے درمیان جنگ بندی عمل میں آئی، جس نے دونوں طاقتوں کے درمیان جاری طویل اور خونی تنازع کو عارضی طور پر روک دیا۔ یہ معاہدہ بعد میں ہونے والے معاہدہ کیمپو فارمیو کی بنیاد بنا، جس کے ذریعے پہلی اتحادی جنگ کا باقاعدہ خاتمہ ممکن ہوا۔ ایتھوپیا فضائی حادثہ1972ء میں آج کے روز ''ایسٹ افریقن ایئر ویز، فلائٹ 720‘‘ایک افسوسناک حادثے کا شکار ہوئی۔ پرواز کے دوران کسی تکنیکی خرابی یا ہنگامی صورتحال کے باعث پائلٹ نے جہاز کو روکنے کی کوشش کی، تاہم رفتار زیادہ ہونے کے باعث طیارہ قابو میں نہ رہ سکا۔ اس ہولناک حادثے میں 43 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ حادثہ ہوابازی کی تاریخ کے افسوسناک واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ترکی میں خواتین کی عالمی کانفرنس18 اپریل 1935ء کو آج کے دن ترکی میں خواتین کی 12 ویں عالمی کانگریس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانگریس کو اتاترک کی بھی حمایت حاصل تھی۔سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ترکی میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا اور ملک کے بہت سے معاملات کو مختلف انداز میں تبدیل کیا گیا۔اس کانگریس میں خواتین کے حقوق،مساوات اور ان کی اقتصادی و سیاسی شعبوں میں اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔اس کانگریس میں مصر،فرانس،رومانیہ اور آسٹریا سمیت 30 ممالک سے 210 نمائندوں نے شرکت کی۔امریکہ میں شدید زلزلہ 18 اپریل، 1906ء کو صبح 5بجکر 12منٹ پر امریکی ریاست شمالی کیلیفورنیا کے ساحل پر ایک بڑے زلزلے نے تباہی مچائی۔اس زلزلے کی شدت 7.9 تھی ۔ زلزلے کے نتیجے میں شہر میں تباہ کن آگ بھڑک اٹھی اور کئی دنوں تک جاری رہی جس کی وجہ سے 3ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ سان فرانسسکو شہر 80 فیصد سے زیادہ تباہ ہو گیا۔ ان واقعات کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کی تاریخ کے بدترین اور مہلک ترین حادثات میں شمار کیا جاتا ہے۔جامعہ الاباما کا قیام18اپریل 1831ء کوجامعہ الاباماکا قیام عمل میں آیا۔ یہ جامعہ ریاست الاباما کی قدیم اور نمایاں تعلیمی درسگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جس نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ اپنے قیام کے بعد سے یہ ادارہ مختلف شعبہ جات میں تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ نے سیاست، سائنس، ادب اور دیگر میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔