شکر پڑیاں :قدرتی حسن سے مالامال تفریحی مقام
اسپیشل فیچر
شکر پڑیاں اسلام آباد کا تاریخی اور قدرتی حسن سے مالا مال مقام ہے، جسے وفاقی دارالحکومت کا دل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ تفریحی مقام ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور جرات مندانہ فیصلوں کا امین ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 1,995 فٹ کی بلندی پر واقع یہ پہاڑی سلسلہ اسلام آباد کے جنوب میں مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے۔ شکر پڑیاں کا نام دو الفاظ کا مجموعہ ہے، شکر اور پڑیاں۔ پوٹھوہاری زبان میں پڑیاں سے مراد چھوٹی پہاڑی یا ٹیلہ ہے۔ روایات کے مطابق قیامِ پاکستان سے قبل یہاں ایک بزرگ رہا کرتے تھے جو آنے جانے والوں کو شکر بانٹا کرتے تھے جس کی وجہ سے یہ مقام شکر پڑیاں کے نام سے مشہور ہوا۔
تاریخی لحاظ سے اس مقام کی اہمیت اس وقت دوچند ہوگئی جب 1960ء میں صدر ایوب خان کی صدارت میں یہاں کابینہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں کراچی کے بجائے نئے شہر اسلام آباد کو دارالحکومت بنانے کا حتمی فیصلہ کیا گیا۔ وہ جگہ جہاں یہ تاریخی فیصلہ ہوا، آج بھی یادگار کی صورت میں محفوظ ہے۔
شکر پڑیاں کی سب سے نمایاں پہچان پاکستان یادگار ہے۔ یہ جدید طرزِ تعمیر کا ایک شاہکار ہے جو دور سے کھلتے ہوئے پھول کی مانند نظر آتا ہے۔ اس کی چار بڑی پنکھڑیاں پاکستان کے چاروں صوبوں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، اور بلوچستان کی نمائندگی کرتی ہیں جبکہ تین چھوٹی پنکھڑیاں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور قبائلی علاقوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ یادگار کی اندرونی دیواروں پر مغل طرز کے نقش و نگار اور تحریک پاکستان کی جدوجہد کی تصاویر کندہ ہیں جو ہر پاکستانی کے دل میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار کرتی ہیں۔ شکر پڑیاں کے پہلو میں واقع لوک ورثہ پاکستان کا سب سے بڑا ثقافتی عجائب گھر ہے۔ یہاں پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی مختلف تہذیبوں، دستکاریوں، موسیقی اور طرزِ زندگی کو انتہائی مہارت سے محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ میوزیم سیاحوں کیلئے کشش کا باعث تو ہے ہی، محققین کیلئے بھی یہاں معلومات کا خزانہ موجود ہے۔ یہاں ہونے والا سالانہ لوک میلہ ملک بھر کے فنکاروں اور دستکاروں کو اپنا ہنر دکھانے کا پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔
شکر پڑیاں کی بلندی سے اسلام آباد اور راولپنڈی کا نظارہ سحر انگیز ہوتا ہے۔ ایک طرف فیصل مسجد کا سفید گنبد اور مارگلہ کی ہریالی نظر آتی ہے تو دوسری طرف راول جھیل کا نیلا پانی چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کی ٹھنڈی ہوائیں اور گھنے درخت گرمیوں کے موسم میں بھی سکون کا احساس دلاتے ہیں۔ یہاں کی ہریالی کو برقرار رکھنے کیلئے مختلف ادوار میں شجرکاری مہم چلائی جاتی رہی ہے۔ شکر پڑیاں میں مخصوص علاقہ ان درختوں کیلئے وقف ہے جو مختلف ممالک کے سربراہانِ مملکت نے لگائے ہیں۔ جب بھی کوئی غیر ملکی صدر یا وزیراعظم پاکستان کا دورہ کرتا ہے، وہ یہاں اپنی دوستی کی یاد میں ایک پودا لگاتا ہے۔ آج یہ پودے تناور درخت بن چکے ہیں جو پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات اور عالمی امن کی علامت ہیں۔
سیاحوں کیلئے یہاں وسیع پارک، بچوں کیلئے جھولے اور کھانے پینے کے اسٹالز موجود ہیں۔ یہاں کی چائے اور پوٹھوہاری کھانے سیاحوں میں بے حد مقبول ہیں۔ شام کے وقت جب شہر کی روشنیاں جلتی ہیں تو شکر پڑیاں سے نظر آنے والا منظر خوابناک وادی سے کم نہیں ہوتا۔ شکر پڑیاں پاکستان کے ماضی، حال اور مستقبل سے جڑی خوبصورت علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بھر سے لوگ جب کسی کام سے یا سیاحت کیلئے اسلام آباد آتے ہیں تو یہ جگہ پر ضرور جاتے ہیں۔ یہ جگہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اپنی ثقافت اور جڑوں سے جڑے رہنا کتنا ضروری ہے۔ پاکستان کے استحکام اور وحدت کی علامت یہ مقام ہمیں امن، اتحاد اور خوبصورتی کا درس دیتا ہے۔