’’DUO BELL‘‘
اسپیشل فیچر
نوائز کینسلنگ سسٹمز بے بس،حادثات سے رکھے محفوظ
جدید ٹیکنالوجی جہاں انسانی زندگی کو سہولت فراہم کر رہی ہے، وہیں بعض اوقات یہ نئی مشکلات کو بھی جنم دیتی ہے۔ خاص طور پر نوائز کینسلنگ ہیڈ فونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے شہری سڑکوں پر ایک نیا حفاظتی چیلنج پیدا کر دیا ہے، جہاں لوگ اردگرد کی آوازوں سے کٹ جاتے ہیں۔ اسی مسئلے کے حل کے طور پر سکوڈا آٹو (Skoda Auto) نے ایک انوکھا تصور پیش کیا ہے، جس کے تحت ''DuoBell‘‘ نامی جدید سائیکل بیل تیار کی گئی ہے۔ یہ بیل ایسی مخصوص آواز پیدا کرتی ہے جو نہ صرف عام شور میں نمایاں رہتی ہے بلکہ جدید نوائز کینسلنگ سسٹمز کو بھی بائی پاس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اگر تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بائیسکل کی گھنٹی سب سے پہلے 1877ء میں ایجاد کی گئی تھی۔ اب تقریباً 150 سال بعد اس سادہ آلے کو دوبارہ نئے انداز میں تیار کیا گیا ہے۔ سائیکل سواروں کی حفاظت بہتر بنانے کیلئے سکوڈا (Škoda) نے ایک نئی قسم کی بائیسکل بیل ''DuoBell‘‘ تیار کی ہے۔ یہ بیل ایک منفرد آواز پیدا کرتی ہے جو مؤثر طور پر ہیڈ فونز میں موجود ایکٹیو نوائز کینسلنگ سسٹمز کو بھی بائی پاس کر سکتی ہے۔
ابتدائی ٹرائلز میں معلوم ہوا کہ ''اے این سی ہیڈفونز‘‘ پہنے پیدل چلنے والے افراد کو بیل کی آواز سن کر ردعمل دینے میں اوسطاً پانچ سیکنڈ اور تقریباً 22 میٹر سے زیادہ فاصلے پر خطرہ محسوس ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بائیسکل کی گھنٹیاں پچھلے 100 سال میں تقریباً نہیں بدلیں، لیکن ان کے اردگرد کی دنیا بدل گئی ہے۔ ''سکوڈا ڈیو بیل‘‘ پہلی ایسی گھنٹی ہے جو نوائز کینسلنگ ہیڈفونز کو مؤثر طور پر کاٹ سکتی ہے۔ یہ ایک ذہین اینالاگ حل ہے جو ان ہیڈفونز کے اندر موجود اے آئی الگورتھمز کو بھی شکست دیتا ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی تبدیلی ہے جو شہر کی سڑکوں کو زیادہ محفوظ بنا سکتی ہے۔
سکوڈا نے ڈیو بیل بنانے کی تحریک اس وقت حاصل کی جب اسے لندن میں سائیکل اور پیدل چلنے والوں کے درمیان تصادم میں اضافہ نظر آیا۔ لندن ٹرانسپورٹ کے مطابق 2025ء میں کم از کم 335 پیدل چلنے والے افراد سائیکلوں سے ہونے والے تصادم میں زخمی ہوئے، جن میں سے دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ نوائز کینسلنگ ہیڈفونز کا بڑھتا ہوا استعمال ہے، جو اردگرد کے ماحول اور قریب آنے والی سائیکلوں کے بارے میں آگاہی کم کر دیتے ہیں۔ اس مسئلے کو سمجھنے اور اس کا حل تلاش کرنے کیلئے کار ساز کمپنی نے یونیورسٹی آف سیلفورڈ کے ماہرین صوتیات کے ساتھ اشتراک کیا۔ شعبہ صوتیات کے سربراہ ڈاکٹر ول بیلے (Will Bailey) کے مطابق ایکٹیو نوائز کینسلنگ وسیع قسم کی آوازوں کو روکنے میں بہت مؤثر ہے۔ یہ آواز کو ڈیٹیکٹ کر کے اس کے مخالف سگنل کو واپس بھیجتا ہے تاکہ اسے منسوخ کیا جا سکے۔ لیکن کچھ ایسے پوائنٹس ہوتے ہیں جہاں یہ کم مؤثر ہو جاتا ہے، اسی لیے ہم نے ان کمزور مقامات کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔
محققین نے صوتی تجربات کیے اور ایک تنگ ''سیفٹی گیپ‘‘ کی نشاندہی کی جو 750 سے 780 ہرٹز (Hz) کے درمیان ہے، اور یہ فریکوئنسی مستقل طورپر ایکٹیو نوائز کینسلنگ سسٹمز فلٹرز کو بائی پاس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر بیلے کے مطابق ہم نے چھ مختلف معروف ہیڈفونز پر سینکڑوں سگنلز ٹیسٹ کیے، اور ہمیں 750Hz پر ایک خاص سگنل ملا۔ ہم اسے ''سیفٹی گیپ‘‘ کہتے ہیں۔ اس خلا کو دریافت کرنے کے بعد ٹیم نے اس بیل کو اسی فریکوئنسی کے گرد ڈیزائن کیا۔تاہم ابتدا میں یہ کام کافی مشکل ثابت ہوا۔سکوڈا کے ہیڈ آف ہارڈویئر ڈیولپمنٹ ہیو بوائز نے کہا کہ مسئلہ یہ تھا کہ اتنی کم فریکوئنسی پیدا کرنے کیلئے گھنٹی کو بہت بڑا ہونا پڑتا، جو سائیکل کیلئے مناسب نہیں تھا۔ اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے ٹیم نے دھات کی موٹائی کم کی، اس میں باریک اور درست کٹس شامل کیے، اور گھنٹی کو بالکل 750Hz پر ٹیون کیا۔ '' ایکٹیو نوائز کینسلنگ سسٹمز‘‘ کیخلاف اثر کو مزید بڑھانے کیلئے سکوڈا نے ایک دوسری فریکوئنسی 780Hz بھی شامل کی، اسی وجہ سے اس کا نام ''DuoBell‘‘ رکھا گیا۔ اگرچہ یہ سننے میں پیچیدہ ٹیکنالوجی لگتی ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر ایسا نہیں ہے۔
سکوڈا کے ہیڈ آف ڈیزائن اولیور سٹیفنی نے کہا کہ ہماری گھنٹی 100 فیصد مکینیکل ہے۔ یہ ایک سادہ اینالاگ حل ہے جو ایک ڈیجیٹل مسئلے کا حل پیش کرتا ہے۔ اس کی جانچ کیلئے سکوڈا نے سب سے پہلے ایک ورچوئل ریئلٹی منظر استعمال کیا، جس میں ایک سائیکل سوار کو اے این سی ہیڈ فونز پہنے ہوئے ایک غیر متوجہ پیدل چلنے والے شخص کے قریب آتے ہوئے دکھایا گیا۔ حیران کن طور پر ''DuoBell‘‘ کی آواز عام گھنٹی کے مقابلے میں 22 میٹر پہلے سنائی دی اور پانچ سیکنڈ پہلے اس کا ادراک ہو گیا۔