لوئر مال روڈ کا سفر...! اُردو بازار !
اسپیشل فیچر
ریٹی گن روڈ لوئر مال پر جہاں سے شروع ہوتی ہے، وہاں سڑک کے اُس پار کتابوں کا عظیم بازار آ کر ختم ہو جاتا ہے۔ ہم اسی راستے اس میں داخل ہوئے۔ یہ اُردو بازار ہے جو کتابوں کا ایشیاء کا سب سے بڑا بازار ہے۔ دکانیں کتابوں کاپیوں سے سجی ہوئی، گاہکوں سے معاملہ کرتے ہوئے دکان دار، آنے جانے والوں کی رونق، کوئی سٹیشنری باندھے سائیکل سوار، کہیں گدھا گاڑی اور کہیں لدے سامان کو کھینچتا ہوا انسان۔ کئی کئی منزلہ عمارتیں اور پلازے اور ان پر لگے ہوئے سائن بورڈ۔ اتنی رونق دیکھ کر گمان ہونے لگا کہ ابھی ہماری زندگی سے کتاب نکلی نہیں…!اُردو بازار میں چیٹر جی روڈ کے دہانے پر ایک چوک ہے۔ یہیں ایک پرانی عمارت ہے، شاید اُردو بازار کی یہی ایک عمارت رہ گئی ہے جسے ہم قدیم کہہ سکتے ہیں۔ باقی سب کے ملبے پر نئی نئی عمارتیں اور کئی کئی منزلہ پلازے وجود میں آ گئے ہیں۔ اب لوگ ان پرانی عمارتوں کے ناموں سے بھی واقف نہیں رہے۔ دو ہندو مندر بھی ان عمارتوں کے اندر کہیں گم ہو گئے ہیں جو پاکستان بننے سے پہلے اس گلی کی شناخت ہو ا کرتے تھے۔ ان میں ہری گیان کا مندر لاہور کے خوب صورت مندروں میں سے ایک ہوا کرتا تھا۔ یہ قدیم عمارت جو بچ گئی ہے وہاں پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان پریس قائم ہے۔ تقسیم سے پہلے پبلشنگ پریس آف گلاب سنگھ تھا۔ یہ اس زمانے میں اُردو بازار کا سب سے بڑا پریس ہوا کرتا تھا۔ منشی گلاب سنگھ کی یہاں 12 کنال پر مشتمل ایک بہت بڑی کوٹھی تھی۔ وہ درسی کتابوں کے بہت بڑے پبلشر تھے۔ ان کے دو بیٹے موہن لال اور سوہن لال تھے۔ موہن لال کاروباری معاملات میں باپ کا ہاتھ بٹاتا، جب کہ سوہن لال کا برف کا کارخانہ تھا۔ موہن لال کے نام پر ہی اُردو بازار کا پہلا نام موہن لال روڈ پڑا تھا۔ منشی گلاب سنگھ کے اشاعتی ادارے کی چھپی ہوئی درسی کتب دہلی، مدراس اور دوسرے بڑے شہروں تک جاتی تھیں۔ ایک اور ہندو پبلشر عطر چند کپور کی بھی اس زمانے میں کتب کی اشاعت پر اجارہ داری تھی۔ اسی چوک میں چار پانچ منزلہ جدید خالد پلازہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی الحمد مارکیٹ ہے۔ مجھے اُردو بازار میں ایسے شخص کی تلاش تھی جس نے قیام پاکستان کے بعد اُردو بازار کو اُبھرتا دیکھا ہو، پرانی عمارتوں کو گرتے دیکھا ہو۔ چند قدم آگے بڑھے تو اظہار سنز پر مجھے ایسی شخصیت مل گئی۔ موٹے شیشوں کی عینک سے جھانکتے ہوئے موٹی موٹی آنکھیں، چہرے پر ہلکی ہلکی وجیہہ مسکراہٹ، نستعلیق اُردو لہجہ ۔ سیّد اظہارالحسن رضوی صاحب اپنی نصف صدی اسی بازار میں گزار چکے ہیں۔ بتانے لگے کہ قیامِ پاکستان سے پہلے اُردو بازار کا نام ’’موہن لال روڈ‘‘ ہوتا تھا اور یہاں گنتی کی چند دکانیں کتابوں، کاپیوں اور سٹیشنری کی ہوتی تھیں۔ یہاں کے مشہور کتب فروشوں میں پنجاب گھر، ملہوترا برادرز، دوآبہ ہاؤس اور بھارتی بھون شامل تھے۔ ہر طرح کی درسی کتب، گائیڈز اور گیس پیپرز یہاں مل جاتے تھے۔ کتابوں کی اکثر دکانیں اندرون لوہاری کشمیری بازار میں ہوتی تھیں۔ پھر رفتہ رفتہ ان کی شاخیں اُردو بازار میں قائم ہونے لگیں اور چھے دہائیوں کے سفر کے بعد آج یہ ایشیا کا کتابوں اور ان سے متعلقہ اشیا کی خرید و فروخت کا سب سے بڑا بازار بن چکا ہے۔ شروع شروع میں جو ادارے یہاں قائم ہوئے ان میں شیخ غلام علی اینڈ سنز، ملک دین محمد اینڈ سنز، ایم۔ آر برادرز، گوشۂ ادب، قومی کتب خانہ اور علمی بُک ہائوس خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔لاہور کی کتاب کہانی بھی بڑی دل چسپ ہے۔ سکھوں کے زمانے میں اُردو بازار تھا، نہ موہن لال روڈ اور نہ ہی لاہور کسی چھاپے خانے سے واقف تھا۔ کتابیں قلمی شکل میں تاجران کتب فروخت کرتے تھے۔ اس زمانے میں لاہور کا سب سے بڑا کتب فروش محمد بخش صحاف تھا جس کے پاس بیس تیس کے قریب کاتب کام کرتے تھے۔ زیادہ تر کام مسجد وزیر خان کے پاس ہوتا تھا۔ محمد بخش صحاف کی کتابیں پنجاب ہی نہیں ایران و خراسان تک جاتی تھیں۔ دوسرے کتب فروشوں میں فقیر اللہ، کریم بخش، ملک ہیرا، محی الدین اور گلاب سنگھ وغیرہ قابلِ ذکر تھے۔ ان کے ہاں اکثر کتابیں دہلی، لکھنؤ اور بمبئی سے چھپ کر آتی تھیں۔ لاہور میں پہلا پریس مطبع کوہ نور ۱۸۵۰ء میں منشی ہر سکھ رائے نے جاری کیا اور ایک ہفت روزہ اخبار بھی اسی نام سے شایع کیا۔انگریزی دور میں مطبع خانوںکا راج ہوا تو کتب فروشی کا کام اندرون لوہاری کشمیری بازار، انارکلی، مال روڈ کے ساتھ ساتھ موہن لال روڈ پر بھی ہونے لگا۔ یہی موہن لال روڈ قیام پاکستان کے بعد اُردو بازار میں بدل گیا۔ یہ کیسے ہوا؟ ہمیں اس کی جستجو تھی۔ کسی نے کہا اُردو بازار کے ایک بزرگ شاعر حزیں کاشمیری سے جاکے پوچھیے۔ ان کے مکتبہ الادب پر پہنچے تو معلوم ہوا حزیں کاشمیری اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ البتہ ان کی چھوڑی ہوئی یادیں موجود ہیں۔ ان کے جانشینوں نے ان کی کتاب ’’کہاں گئے وہ لوگ ‘‘ ہمارے سامنے رکھ دی۔ ورق گردانی کی تو پتہ چلا کہ اُردو بازار کا نام رکھنے کا اعزاز اِنہی حزیں کاشمیری کو حاصل ہے۔ یہ کہانی ان ہی کے الفاظ میں سُنیے!’’مجھے اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ میں نے ہی اس بازار کا سابقہ نام جو موہن لال روڈ تھا، تبدیل کرکے ’’اُردو بازار‘‘ رکھا۔ اس وقت اس بازار یعنی موہن لال روڈ کے نامی تاجران کتب نے ایک میٹنگ کا قیام کیا کہ باہمی مشورے کے بعد اس بازار کا نام تبدیل کرکے اسے نیا نام دے دیا جائے۔ اس کے محرک خواجہ گلزار احمد (خواجہ بک ڈپو) تھے جو خواجہ دل محمد کے بڑے صاحبزادے تھے۔ یہ تقریب اِن ہی کے ہاں برپا کی گئی تھی۔ اس تقریب میں کوئی آٹھ دس حضرات شامل تھے۔ یہ بندہ حقیر ان حضرات میں عمر اور کاروبار کے لحاظ سے سب سے چھوٹا تھا۔ میرے سوا اس تقریب میں شرکت کرنے والے درج ذیل حضرات کے نام میرے ذہن میں محفوظ رہ گئے ، خواجہ گلزار احمد، حاجی فرمان علی، ملک نذیر احمد(تاج بک ڈپو)، چودھری غلام رسول، پہلی میٹنگ میں مختلف نام زیر غور آئے۔ خواجہ گلزار احمد نے ارشاد فرمایا کہ اس بازار کا نام ’’کتاب بازار‘‘ رکھ دیا جائے، ایک دو حضرات نے اس سے اختلاف کیا۔ چودھری غلام رسول مرحوم نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا اس معاملہ میں میں بھی اپنی رائے دوں۔ میں نے اس تقریب میں شامل ہونے سے پہلے ہی اس کا نام سوچ لیا تھا۔ چناں چہ فوراً کہا کہ بجائے ’’کتاب بازار‘‘ اس کا نام ’’اُردو بازار‘‘ رکھ لیا جائے تو بہتر ہو گا۔ ’’اُردو بازار‘‘ میں ’’کتاب بازار‘‘ سے کہیں زیادہ وسعت ہے اور اسے ’’کتاب بازار‘‘ تک محدود نہ ہونا چاہیے۔ اس میں سٹیشنرز اور دیگر کاروباری حضرات بھی شامل ہو جائیں گے مگر خواجہ گلزار احمد (مرحوم) ’’کتاب بازار‘‘ پر اصرار کرتے رہے۔ آخر یہ میٹنگ بلا نتیجہ آئندہ پر ملتوی کر دی گئی۔ا س دوران میرے مکتبہ سے شایع ہونے والی ایک کتاب موسوم ’’مضامین فرحت جلد دوم‘‘ طباعت کے لیے پریس جا رہی تھی۔ میں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اس کے پہلے صفحہ پر مکتبہ معین الادب، اُردو بازار، لاہور طبع کر دیا اور آخری صفحہ پر تاریخ بھی درج کر دی جو ۱۹۴۸ء ہے۔ دوسری میٹنگ میں میں نے یہ کتاب سب حضرات کے سامنے پیش کر دی اور بہ منت ان سے درخواست کی کہ اس بازار کا نام ’’اُردو بازار‘‘ قبول کر لیا جائے۔ الحمد للہ میری یہ درخواست مان لی گئی اور یہ اعزاز میرے حصہ میں آیا‘‘۔( کتاب’’ٹھنڈی سڑک:مال روڈ لاہور کا تاریخی ، ثقافتی اور ادبی منظر نامہ‘‘ سے مقتبس)٭…٭…٭