گھونگا.... حیرت انگیز مخلوق !
اسپیشل فیچر
آپ بارش کے موسم میںیاضلع قصور کے ویرانوں، جنگلوں، دریائی علاقوں کی زمین اور فرش پر ایک سفید لکیر ضرور کھینچی دیکھیں گے۔ اپنی پیٹھ پر ایک چکر دارخول لادے یہ اپنی منزل کی طرف مدھم رفتار سے سفر کرتا نظر آتا ہے ۔ اگر آپ اسے چھیڑ دیں تو یہ بالکل کچھوے کی طرح اپنے خول میں سمٹ کر آپ کی نظر سے اوجھل بھی ہو جاتا ہے۔ یہ کیڑا گھونگا ہے جو انگریزی میں Snailاور عربی میں حلزون کہلاتا ہے۔ گھونگا اگر سبزیوں کی کیاریاںاجاڑتا ہے تو انسانوں کے کھانوں میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ سوئی کے سرے کے برابر اس کے جبڑے میں 25,600 نہایت چھوٹے دانت لگے ہوتے ہیں۔زمین پر رینگنے والے گھونگے لاکھوں سال سے ہماری زمین پر موجود ہیں۔خول میں بند اور اس سے چمٹے گھونگے میں ہڈی نہیں ہوتی۔ عملی طور پر یہ محض ایک عضلے (Muscle)یا پٹھے کا ٹکڑا ہوتا ہے، جو دیکھنے میں بہت کمزور اور نازک نظر آتا ہے، لیکن اس کی ایک قسم ہیلیکس پوماشیا(Helix Pomatia)ہے۔یہ کیڑا نیند کا بڑا متوالا ہوتا ہے۔ جاڑوں میں یہ اپنے خول میں بند ہو کر مہینوں سوتا رہتا ہے۔ دھوپ کے پڑتے ہی اپنے خول میں فوراً بند ہو جاتا ہے۔ دراصل سورج کی کرنوں سے اس کی نمی یا گیلا پن سوکھ جاتا ہے۔ بارشوں کے موسم میں اپنے خول یا خواب گاہ میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد سو کر درختوں کے لعاب کے پردے کے پیچھے چھپ کر کئی کئی دن گزار دیتا ہے۔ گھونگے کے رینگنے کا انداز بہت باوقار ہوتا ہے۔ اس کے مخروطی یا پیچ دار جسم کے کئی رنگ ہوتے ہیں، جوہلکی بھوری رنگت کے بھی ہوتے ہیں۔اس کے نہایت مختصر ننھے منے عضلات باقاعدگی سے اُٹھنے والی لہروں کی صورت میں حرکت کرکے اسے آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔گھونگھے جہاں بھی جائیں ، اپنے جسم کے نیچے ایک حفاظتی فرش سا بنا جاتے ہیں۔ یہی فرش انکے پیچھے روشنی میں سفید چمکتی لکیر کی طرح نظر آتا ہے۔ یہ لکیر یا فرش جسے حفاظتی تہ کہنا چاہئے، استرے کی طرح تیز سے تیز سطح پر بھی کسی نقصان کے بغیر آگے بڑھنے میں اس کی مدد اور حفاظت فراہم کرتا ہے اور اس کے جسم پر معمولی سی خراش بھی نہیں آتی۔گھونگے کی زندگی میں نمی بہت اہم ہوتی ہے ، اسی سے اس کا جسم لچک دار اور گیلا رہتا ہے۔ یہ نمی وہ پودوں کی نئی کونپلوں سے سمیٹتا رہتا ہے۔ خزاں کے گزر جانے کے بعد اپریل کے وسط میں جب سردی کم ہو کر موسم بہار کی پھوار پڑنے لگتی ہے ، اس کاابتدائی سر باہر نکلتا ہے، جس پر اس کی دو مونڈیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ یہی اس کی رہنما ہوتی ہیں۔ان کانچلا حصہ بہت حساس ہوتا ہے۔ اپنا پہلا کھانا یاغذا کھانے کے بعد گھونکے کا بدن جو 3 انچ لمبا اور چوتھائی انچ تک موٹا ہوتا ہے ، خول سے باہر پھیل جاتا ہے۔ اس کی نظر بے حد کمزور ہوتی ہے، لیکن اس کی سونگھنے کی طاقت بہت تیز ہوتی ہے۔ اسی کی مدد سے یہ نئے سبز پتوں تک جا پہنچتا ہے۔ کسی گونگے کو گتے کے ڈبے میں بندکردیں تو وہ اسے چٹ کرکے آزاد ہو جائے گا۔ اس کے دانت گھس جائیں تو ان کی جگہ نئے دانت نکل آتے ہیں اور وہ ان کی اپنے ٹوٹے خول کی طرح مرمت بھی کرلیتا ہے۔ گھونگا رات میں چرتا ہے، لیکن بادل اور ہلکی نمی میں وہ سار اسارا دن کھاتا رہتا ہے۔ باقی وقت وہ سورج سے چھپ کر گزارتا ہے۔ گھونگا ہر سال انچ کا دسواں حصہ بڑھتا ہے۔اس کی زندگی اوسطاً دو سال ہوتی ہے، اس لئے اس کا سائز بھی محدود رہتا ہے، لیکن بہت بڑے سائز کے گھونگے بھی ہوتے ہیں۔تحقیق کے مطابق گھونگوں کے ہاضم رس بہت قیمتی اور مفید ہوتے ہیں۔ ان کے ہارمونی اجزاء بھی الگ کئے جاتے ہیں۔(سید ظفر عباس نقوی کی تصنیف ’’ سیاحتِ ضلع قصور‘‘ سے مقتبس)٭…٭…٭