شہید ذوالفقار علی بھٹو تاریخ کے اورق کے انمٹ نقوش، جنہیں مٹانا کسی کے بس کی بات نہیں
اسپیشل فیچر
جس دھج سے کوئی مقتل میںگیا وہ شان سلامت رہتی ہےیہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیںشہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر لکھتے ہوئے قلم لرز رہی ہے کیونکہ 4 اپریل1979ء کا دن پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے، جس کے کالے بادل آج بھی گرجتے ہیں۔ شہید بھٹو نے تاریخ کے اورق پر ایسے انمٹ نقوش چھوڑے، جنہیں مٹانا کسی کے بس کی بات نہیں۔ قائد عوام شہید بھٹو عوام کیلئے جیئے اور اُنہی کیلئے جامِ شہادت نوش کیا۔ بد قسمتی سے شہید بھٹو کے خاندان کے اکثر افراد کو ملک و قوم کی خدمت کی خاطر عوامی رہنمائی سے روکنے کیلئے مختلف طریقوں سے موت کی نیند سلا دیا گیا۔ شہید بھٹو کے جیالے ان کی ملک و قوم کیلئے کی گئی خدمات کی وجہ سے ان کے نام پر اپنی جان قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ غرضیکہ 37 سال گزرنے کے باوجود بھی وہ لوگوں کی دھڑکن کا حصہ ہیں۔شہید بھٹو ،تیسری دنیا کے عظیم اور نا قابلِ تسخیر لیڈر بھی تھے۔ فطری اور طبعی طور پر وہ ایک کرشمائی انسان تھے، جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں وہ کچھ کر دکھایا، جو شاید اتنے مختصر عرصے میں ممکن نہ تھا کیونکہ شہید بھٹو کو جب اقتدار سونپا گیا تو ملک کے حالات انتہائی پیچیدہ تھے۔ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو شہید کو کچھ بڑے مسائل کا سامنا تھا۔ پہلا مسئلہ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا تھا، دوسرا مسئلہ شیخ مجیب الرحمن تھے، جو اس وقت مغربی پاکستان میں قید تھے، تیسرا مسئلہ پاکستان کی پانچ ہزار مربع میل زمین کو بھارت کی فوج کے قبضے سے واپس لینا تھا، چوتھا مسئلہ پاکستان کے 93 ہزار قیدیوں کی واپسی کا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو ان مسائل کو حل کر کے ایک ٹوٹے پھوٹے اور شکست خوردہ پاکستان کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا تھا۔ شہید بھٹو نے انتہائی نامساعد حالات میں مایوس اور منتشر قوم کو سنبھالا۔ شہید بھٹو کے کارناموں کی تفصیل طویل ہے، لیکن آئین سازی ان کی حکومت کا ایک بہت اہم کارنامہ ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کی سب سے بڑی فتح حاصل کرنے کا اعزاز بھی شہید بھٹو کا ہی کارنامہ ہے۔ شملہ معاہدے میں فاتح ملک کی کوئی شرط مانے بغیر نہ صرف 90 ہزار جنگی قیدی، ساڑھے پانچ ہزار مربع میل مقبوضہ علاقہ اور تین سو سے زائد اعلیٰ فوجی افسران پر جنگی جرائم کے تحت مقدمہ نہیں چلنے دیا بلکہ بنگلہ دیش تسلیم کیے بغیر یہ بھی منوا لیا کہ کشمیر ایک متنازعہ اور حل طلب مسئلہ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹونے زرعی اصلاحات نافذ کر کے جاگیرداروں پر ضرب لگائی۔ قومی مالیاتی کمیشن بنائی گئی۔ ملک میں پہلی بار سوشل سکیورٹی کا نظام نافذ کیا گیا۔ غریبوں کیلئے پانچ مرلہ سکیم بنائی گئی۔ خواتین کو تمام شعبوں میں نمائندگی دی گئی۔ ایٹمی پروگرام کے خالق کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو کا نام تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔تیسری دنیا کے عظیم اور نا قابلِ تسخیر لیڈر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر وہ امریکا میں پیدا ہوتا تو وہاں بھی سب سے بڑے لیڈر ہوتے، مگر بد قسمتی سے عظیم اور کرشماتی لیڈر کو ایک کمزور مقدمۂ قتل میں سزائے موت سنا دی گئی۔ شہید بھٹو کو ایک سیاستدان نواب محمد احمد خاں کے قتل کے مشکوک مقدمے میں مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔ 11نومبر1974ء کو لاہور میں قتل کا واقعہ پیش آیا تھا۔ نواب احمد خان کے مقدمے میں ایک منتخب وزیر اعظم کو قاتل قرار دلوانے کا مقدمہ تکنیکی طور پر بہت کمزور تھا، اس لیے صرف دس دن بعد لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس کے ایم اے صمدانی نے بھٹو کی ضمانت قبول کر لی تھی، تب جنرل ضیاء الحق نے مولوی مشتاق کو لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا، جو اُن کا جانی دشمن تھا۔ اس دشمنی کا پس منظر یہ تھا کہ بھٹو صاحب نے لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس اسلم ریاض حسین کو مقرر کیا تھا جبکہ مولوی مشتاق یہ سمجھتا تھا کہ اس عہدے پر اس کا حق ہے۔ مذکورہ فیصلے پر مولوی مشتاق کو بہت رنج ہوا اور وہ بھٹو صاحب سے نفرت کرنے لگا۔ جنرل ضیاء الحق کو جب بھٹو اور مولوی مشتاق کی یک طرفہ دشمنی کا پتا چلا تو انہوں نے بھٹو کے خلاف اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کیلئے لاہور ہائی کوٹ کا چیف جسٹس مولوی مشتاق کو مقرر کر دیا ،جو صریحاً انصاف کا قتل تھا۔ جسٹس مولوی مشتاق کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ مقدمہ کی ضمانت کے دوران وہ دوستوں کی محفل میں اکثر بھٹو کو سزائے موت کا حکم سنانے کا ذکر کرتا رہتا تھا۔شہید بھٹو نے منتخب وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی باوقار انداز سے اس ملک کی عدالتوں کا سامنا کیا تھا۔ 21 مارچ 1978ء کو لاہور ہائی کورٹ میں اپنی پیشی کے دوران بہادر بھٹو نے بیان کیا تھا:’’میرا اللہ جانتا ہے کہ میں نے اس آدمی (نواب محمد احمد خان) کا خون نہیں کیا۔ اگر میں نے اس کا ارتکاب کیا ہوتا ،تو مجھ میں اتنا حوصلہ ہے کہ میں اقبال ِجرم کر لیتا۔ یہ اقبالِ جرم اس وحشیانہ مقدمے کی کارروائی سے کہیں کم اذیت دہ اور بے عزتی کاباعث ہوتا۔ میں مسلمان ہوں اور ایک مسلمان کی تقدیر کا فیصلہ قادرِ مطلق کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ میں صاف ضمیر کے ساتھ اس کے حضور میں پیش ہو سکتا ہوں اور اللہ سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اس کی مملکت ِ اسلامیہ پاکستان کو راکھ کے ڈھیر سے دوبارہ ایک باعزت قوم میں تعمیر کر دیا ہے۔ میں آج کوٹ لکھپت کے اس بلیک ہول میں پورے ضمیر کے ساتھ پر سکون ہوں‘‘۔ مگر بد قسمتی سے 4 اپریل1979ء کو پاکستان کے بہترین مستقبل کو سولی چڑھا دیا گیا۔ مولوی مشتاق لاہور ماڈل ٹاؤن میں رہتا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو آئسو لیٹ کر لیا تھا۔ ہر وقت اس پر موت کا خوف طاری رہتا تھا۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا تھا کہ مولوی مشتاق مرنے سے قبل ایک پرُ اسرار بیماری میں مبتلا ہو گیا تھا، جس کے باعث اس کے جسم سے بدبو آنا شروع ہو گئی تھی، جس دن مولوی مشتاق قید زندگی سے آزاد ہوا، اُن کے جنازے پر شہد کی مکھیوں نے حملہ کر دیا تھا۔اخبارات میں شائع ایک تصویر جس کے کیپشن(Caption) میں بیان کیا گیا تھا کہ بھٹو شہید کو سزا دینے والے جج مولوی مشتاق کی میت سڑک پر لاوارث پڑی ہے۔ مولوی مشتاق کے جنازے پر شہد کی مکھیوں نے اتنا شدید حملہ کر دیا تھا کہ آخری رسومات میں شامل لوگ جنازہ چھوڑ کر بھاگ اُٹھے۔ اس واقعے کو غیر معمولی قرار دے کر مکافاتِ عمل کہا جا سکتا ہے۔مختصراً یہ کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی کی کتاب کے اوراق آزمائشوں سے بھرے پڑے تھے ،مگر انہوں نے ڈٹ کر ان مشکلات اور آزمائشوں کا مقابلہ کیا، مگر افسوس صد افسوس! میں سوچتی ہوں کہ کاش 4 اپریل1979ء کو برپا ہونے والی قیامت بپا نہ ہوتی، تو آج پاکستانی قوم اس طرح سے تعلیمی، معاشی اور سیاسی پسماندگی کا شکار نہ ہوتی کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی بھی سیاسی رہنما ذوالفقار علی بھٹو شہید کی طرح عوام کے دلوں میں راج نہیں کر سکا۔٭…٭…٭