نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد: نور مقدم قتل کیس میں اہم پیشرفت
  • بریکنگ :- ملزم ظاہر جعفر نے نورمقدم کےقتل کا اعتراف کر لیا،ذرائع
  • بریکنگ :- ملزم قتل کی وجوہات کبھی کچھ اورکبھی کچھ بتاتا ہے،ذرائع
  • بریکنگ :- پولیس نے نورمقدم پر تشدد کے ویڈیو شواہد حاصل کر لیے، ذرائع
  • بریکنگ :- نورمقدم ساڑھے4بجے بالکنی سے بھاگ کر گارڈ کے پاس آئی،ذرائع
  • بریکنگ :- نور مقدم نے خودکو سیکیورٹی گارڈ کے کیبن میں بندکرلیا،ذرائع
  • بریکنگ :- ملزم ظاہر جعفر نےکیبن سے نور کو باہر نکالا،ذرائع
  • بریکنگ :- گلی میں موجود گارڈ یہ سب کچھ دیکھتے رہے،ذرائع
  • بریکنگ :- کسی سیکیورٹی گارڈ نے ظاہر جعفر کو تشدد سے نہ روکا،ذرائع
  • بریکنگ :- گلی میں موجود لوگوں نےملزم کونورمقدم کوگھسیٹتے ہوئےدیکھا،ذرائع
  • بریکنگ :- ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے ملزم نورمقدم کودوبارہ اوپر لےگیا، ذرائع
  • بریکنگ :- تشدد سے لےکر قتل تک کا عمل 3گھنٹے کے دوران کیا گیا،ذرائع
Kashmir Election 2021

سجاد باقر رضوی (خاکہ-حصہ اوّل)

سجاد باقر رضوی (خاکہ-حصہ اوّل)

اسپیشل فیچر

تحریر : ڈاکٹر علی محمد خاں


ایسے ہم پیشہ کہاں ہوتے ہیں اے غم زدگاںمرگِ مجنوں پہ کڑھو، ماتمِ فرہاد کروپروفیسر سجاد باقر رضوی پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے بے مثال استاد تھے۔ اس کالج کی ایک سو چالیس سالہ تاریخ میں بہت سے استاد اپنے علم و فضل، تحقیق و جستجو، وسعتِ نظر اور جذبۂ خدمتِ زبان و ادب میں انتہائی اونچے مقام پر فائز ہیں۔ ان میں ایک یگانہ اور نادر نام پروفیسر سجاد باقر رضوی کا ہے۔ سجاد باقر رضوی نہ صرف ایک مشفق و مہربان استاد تھے بلکہ وہ ایک حساس شاعر، بلند پایہ محقق، نقاد، مترجم اور دانشور تھے۔ وہ ادب اور معاشرے میں ہر طرف اعلیٰ انسانی رویوں کوکار فرما دیکھنا چاہتے تھے، جس کے لیے وہ عمر بھر زندگی سے لڑتے رہے اور اس ضمن میں ہر وہ کام کیا، جو ان کے امکان میں تھا اور اپنے بعد اپنے شاگردوں کی ایک ایسی کھیپ چھوڑی ،جو ان کے رویوں کو اپنائے ہوئے ہے اور مقدور بھر انہی کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرتی ہے۔میں پروفیسر سجاد باقر رضوی کے نام سے تو پہلے سے واقف تھا بلکہ میں نے ان کی تنقیدی کتابیں ’’مغرب کے تنقیدی اصول ‘‘ اور ’’تہذیب و تخلیق‘‘ بھی پڑھ رکھی تھیں اور میری ذاتی لائبریری میں موجود تھیں اور میں ان کے نام سے خاصا متاثر بھی تھا، مگر مجھے ان کو دیکھنے یا ان سے ملنے کا اتفاق کبھی نہ ہوا تھا۔ میرے ذہن میں ان کے بارے میں یہ تصور تھا کہ وہ تنقید کے آدمی ہیں۔ تنقید پڑھاتے ہیں، مشکل آدمی ہوں گے۔ انتہائی سنجیدہ اور گنجلک گفتگو کرتے ہوں گے اور طالب علم ان سے دور دور بھاگتے ہوں گے۔ ایک دن میرے رفیق ِ کار پروفیسر عمر فیضی جو علیگ ہونے کے ناتے حد سے زیادہ نستعلیق اور وضع دار واقع ہوئے تھے اور جن کے ساتھ میرا دوستانہ تھا، کی زبان سے سجاد باقر رضوی کا نام سنا تو میں چونکا اور جب معلوم ہوا کہ باقر صاحب، فیضی صاحب کے قریبی دوست ہیں، تو میں خوش ہوا اور میں نے دل میں طے کیا کہ ان سے ملنا ضرور ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب مجھے سائنس کالج وحدت روڈ لاہور میں آئے قریباً چار سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور میں فیضی صاحب کے ایما اور حوصلہ افزائی سے پی ایچ ڈی کرنے کے چکروں میں تھا۔ مجھے باقر صاحب کے نام کی صورت میں امید کی کرن نظر آئی۔میں نے پروفیسر سجاد باقر رضوی کو پہلی مرتبہ 1983ء میں اس وقت دیکھا، جب عمر فیضی مجھے ان کے ساتھ ملاقات اور سفارش کے لیے پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج لے گئے۔ گلابی جاڑا تھا۔ فیضی صاحب نے انہیں ایک دن پہلے فون کرکے گیارہ بجے ملاقات کا وقت طے کر لیا تھا۔ ہم لوگ وقت ِمقررہ سے پانچ دس منٹ پہلے ہی ان کے کمرے میں جا کر بیٹھ گئے۔ اس زمانے میں باقر صاحب کے کمرے میں ڈاکٹر فخر الحق نوری بھی، جو باقر صاحب کے شاگرد ہیں اور اس وقت ڈاکٹر نہ ہوئے تھے، بیٹھا کرتے تھے۔ نوری صاحب نے بتایا کہ باقر صاحب پانچ سات منٹ تک اپنا لیکچر ختم کرکے سیدھے یہیں آئیں گے۔ تھوڑی دیر بعد باقر صاحب تشریف لائے۔ رنگ سانولا، چاندی بال، سوچتی آنکھیں، چھوٹی ٹانگوں پر بڑا دھڑ، دونوں بازو قدرے باہر کو نکلے ہوئے، آسمانی رنگ کے سوٹ میں ملبوس، خراماں خراماں چلتے، جیسے کوئی پہلوان اکھاڑے میں اترتا ہے، کمرے میں داخل ہوئے۔ گہری سانس اندر کھینچی اور پھیپھڑوں پر زور دے کر آواز نکالی۔ آواز میں طنطنہ تھا اور فیضی فیضی کہہ کر بڑے تپاک سے فیضی صاحب سے ملے، معانقہ کیااور مجھ سے بھی مصافحہ کیا۔ شخصیت ہر گز جاذبِ نظر نہ تھی۔ معاً میرے ذہن میں آیا کہ طالب علم تو پروفیسر صاحب سے ہر گز مرعوب نہ ہوں گے۔ یہ عُقدہ بعد میں کھلا کہ طلبہ کیااور طالبات کیا، سب سجاد باقر رضوی کے گرویدہ کیوں تھے اور کیوں ان کو گھیرے رہتے تھے۔ باقر صاحب نے اپنی کرسی پر بیٹھنے کے ساتھ ہی پائپ سلگا لیا، دو تین لمبے لمبے کش لیے اور فیضی صاحب سے استفسارانہ نظروں سے میرے بارے میں پو چھا۔ فیضی صاحب نے میرا مختصر سا تعارف کرایا اور انہیں بتایا کہ یہ بہت محنتی ہیں اور پی ایچ ڈی کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، اس ضمن میں ان کو میری اعانت بھی حاصل ہے اور دو سال سے ہم دونوں کی شامیں قریباً اکٹھی گزرتی ہیں۔ باقر صاحب نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا ’’آپ فیضی صاحب کو لے کر آئے ہیں۔ فیضی صاحب میرے پرانے دوست ہیں۔ میں دل و جان سے آپ کی مدد کروں گا۔ آپ فیضی صاحب کے ہمراہ آج شام میرے گھر پر تشریف لائیں۔ اس حوالے سے وہاں باتیں ہوں گی۔‘‘اس کے بعد باقر صاحب نے فیضی صاحب سے اپنے اور ان کے کچھ مشترکہ دوستوں کے بارے میں پوچھا اور وہیں بیٹھے بیٹھے طے کیا کہ کسی دن پروفیسر شہرت بخاری سے ملنے ان کے گھر چلیں گے۔ میں نے عرض کیا ’’میرے پاس گاڑی ہے، اگر آپ پسند فرمائیں تو شہرت بخاری کے یہاں میں آپ لوگوں کو لے چلوں گا‘‘۔ جس پر باقر صاحب نے خوشی کا اظہار کیا۔ یہ میری باقر صاحب کے ساتھ پہلی ملاقات تھی۔ میں اورینٹل کالج میں بوجھل دل کے ساتھ گیا تھا، لیکن جب واپس آرہا تھا ،تو مطمئن تھا اور مجھے یقین سا آ گیا تھا کہ باقر صاحب میری سرپرستی ضرور کریں گے اور یہ بیل منڈھے چڑھے گی۔(کتاب ’’ اب ڈھونڈ انھیں‘‘ سے مقتبس)٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
مقبرہ جہانگیر۔۔عہد رفتہ کی عظیم یادگار

مقبرہ جہانگیر۔۔عہد رفتہ کی عظیم یادگار

مغل بادشاہ جہانگیر کا اصل نام سلیم تھا جو 1564ء میں شہنشاہ اکبر کے ہاں راجپوت رانی مریم الزمانی کے بطن سے پیدا ہوا۔ 1605ء میں تخت نشین ہوا اور قریباً ساڑھے اکیس سال نہایت شان سے حکومت کرکے 8نومبر 1627ء کو کشمیر سے لاہور واپس آتے ہوئے راجوری کے مقام پر فوت ہوا۔ اُسے دریائے راوی کے کنارے واقع ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا کے وسط میں دفن کیا گیا۔ اس باغ کو جہانگیر نے باغ دل آمیز کے نام سے بھی یاد کیا ہے۔ جہانگیر کا مقبرہ اُس کے بیٹے شاہجہاں نے بنوایا تھا۔مقبرۂ جہانگیر کو مغلیہ عہد میں تعمیر کئے گئے مقابر میں اہم مقام حاصل ہے۔ دریائے راوی کے دوسرے کنارے یعنی شاہدرہ کی طرف سے لاہور آئیں تو مغلیہ دور کی تعمیرات میں سے مقبرۂ جہانگیر، مقبرہ آصف جاہ اور ملکہ نور جہاں کا مقبرہ نمایاں نظر آتے ہیں ان کا شمار مغلوں کی تعمیر کردہ حسین یادگاروں میں ہوتا ہے۔مقبرہ ٔجہانگیر باغ ''دلکشا‘‘ میں واقع ہے۔ باغ دلکشا نواب مہدی قاسم کی ملکیت تھا جو اکبر بادشاہ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا۔ اُس نے یہ باغ 1556ء میں دریائے راوی کے پار بنوایا تھا، نواب مہدی خاں کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ جب مہر النساء بیگم ملکہ نور جہاں بنی تو اس نے اس کا نام باغ دلکشا رکھ دیا۔ اب لوگ باغ دلکشا کا نام بھول چکے ہیں اور اس ساری جگہ کو مقبرہ جہانگیر ہی کہا جاتا ہے۔ مقبرہ جہانگیر کی تعمیر کا آغاز ملکہ نور جہاں نے کیا تھا اور شاہ جہاں نے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ شہنشاہ اکبر کی وفات سن 1605ء میں ہوئی تو اس کا بیٹا جہانگیر ''نور الدین جہانگیر‘‘ کے لقب کے ساتھ تخت نشیں ہوا کیونکہ شہنشاہ اکبر کے2بیٹے مراد اور دانیال پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ جہانگیر 20 ستمبر 1569ء کو فتح پور سیکری میں پیدا ہوا، تخت نشین ہونے کے بعد اس نے کئی اصلاحات کیں۔ فریادیوں کی داد رسی کے لیے اپنے محل کی دیوار کے ساتھ ایک زنجیر لگوا دی جسے'' زنجیرِ عدل‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ زنجیر عدل بہت مشہور ہوئی جس کے ذریعے ہر کوئی اپنی شکایت بآسانی بادشاہ تک پہنچا سکتا تھا۔ یہ زنجیر 30 گز طویل تھی اور اس کے ساتھ سونے کی60 گھنٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ اس کو بادشاہ کے ذاتی کمروں میں موجود طلائی گھنٹیوں کے ایک جھرمٹ سے وابستہ کیا گیا تھا۔ شہنشاہ جہانگیر نے حکم دیا کہ شاہراہوں پر سرائے، کنویں اور مساجد تعمیر کی جائیں۔شہنشاہ جہانگیر کو بھی اپنے باپ اکبر کی طرح لاہور سے بہت زیادہ لگائو تھا اس نے 1622ء میں لاہور کو دارالسلطنت بنا لیا۔ 1624ء میں جب کشمیر کے سفر کے دوران اس کی وفات ہوئی تو اس نے وفات سے قبل لاہور میں دفن کیے جانے کی خواہش ظاہر کی تھی چنانچہ اسے چہیتی بیگم ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا میں دفن کیا گیا۔ شاہ جہاں نے مقبرے کی تعمیر پر10 لاکھ روپے خرچ کیے تھے اور اخراجات کیلئے جاگیر مقرر کی گئی تھی۔ قرآن پاک پڑھنے کیلئے حفاظ مقرر کئے گئے جو باری باری ہر وقت مزار پر قرآن مجید پڑھا کرتے تھے، یہ سلسلہ سکھوں کے عہد حکومت میں ختم کر دیا گیا۔مقبرہ جہانگیر کی حدود میں ملکہ نور جہاں نے ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر کروائی تھی۔ یہاں نور جہاں نے کافی عرصہ رہائش بھی اختیار کی اس لیے یہاں رہائشی عمارات بھی تعمیر کی گئی تھیں۔ ملکہ نور جہاں اور شہنشاہ جہانگیر کے مقبرے ایک ہی رقبے میں تھے لیکن جب انگریزوں نے ان کے درمیان ریلوے لائن بچھائی تو مقبرہ جہانگیر اور مقبرہ نور جہاں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا۔مقبرہ جہانگیر کے چاروں کونوں پر خوبصورت مینار موجود ہیں ہر مینار100 فٹ بلند ہے اور اس کی61 سیڑھیاں ہیں۔ مقبرے کی عمارت ایک مربع نما چبوترے پر ہے۔ قبر کا تعویذ سنگ مرمر کا ہے اور اس پر عقیق، لاجورد، نیلم، مرجان اور دیگر قیمتی پتھروں سے گلکاری کی گئی ہے۔ دائیں اور بائیں اللہ تعالیٰ کے99 نام کندہ ہیں، سرہانے کی طرف بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہے، پائنتی کی طرف یہ تحریر درج ہے ''مرقد منور اعلیٰ حضرت غفران پناہ نور الدین جہانگیر بادشاہ 1036 ہجری‘‘۔مزار کے چاروں جانب سنگ مرمر کی جالیاں لگی ہوئی ہیں جو سخت گرم موسم میں بھی ہال کو موسم کی حدت سے محفوظ رکھتی ہیں۔ مقبرے کا اندرونی فرش سنگ مرمر، سنگ موسیٰ اور سنگ ابری جیسے مختلف قیمتی پتھروں سے مزین ہے۔باغ دلکشا کے اندر پختہ روشیں اور راہداریاں موجود ہیں۔ مقبرہ ٔجہانگیر کا غربی دروازہ جس میں سے ہاتھی بمعہ سوار کے گزر سکتا تھا اور چار دیواری کے باہر جو 4 بہت بڑے کنویں تھے دریا برد ہو چکے ہیں صرف ایک کنواں اب بھی موجود ہے۔ باغ کے اندر آج بھی کھجور کے قدیم درخت موجود ہیں۔ باغ کی دیواروں کے ساتھ کمروں کی ایک لمبی قطار موجود ہے جہاں شاہی محافظ، سپاہی اور خدام رہا کرتے تھے۔ مقبرہ ہشت پہلو اور اندر سے گنبد نما ہے۔ مقبرہ کے میناروں سے لاہور شہر کا خوبصورت نظارہ کیا جا سکتا ہے۔شہنشاہ جہانگیر مصوری اور فنون لطیفہ کا بہت شوق رکھتا تھا اس نے اپنے حالات اپنی کتاب ''تزک جہانگیری‘‘ میں تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ اس کتاب میں شہنشاہ جہانگیر اور ملکہ نور جہاں کے عشق و محبت کے دلچسپ قصے بھی درج ہیں۔نادر شاہ اور احمد شاہ کے حملوں اور سکھوں کے دور میں مقبرہ جہانگیر کو بہت نقصان پہنچا۔ سنگ مرمر کی جالیاں اور قیمتی پتھر اکھاڑ لیے گئے اس کے باوجود یہ عمارت آج بھی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہے اور عہدِ رفتہ کی یاد دلاتی ہے۔ 

فیملی ڈاکٹر کا انتخاب کیسے کریں؟

فیملی ڈاکٹر کا انتخاب کیسے کریں؟

آپ کا معالج ایسا شخص ہونا چاہیے جس سے آپ مانوس ہوں جس کو آپ کے مسائل سے دلچسپی ہو اور جو اس بات کو پسند کرتا اور ہمت افزائی کرتا ہو کہ آپ اپنی صحت اور اس سے متعلقہ معاملات سے اس کو پور ی طرح باخبر رکھیں۔وہ نہ صرف آپ سے واقف ہو بلکہ دیگر اہل خاندان سے بھی شناسائی رکھتا ہو اور اسے آپ کے خاندانی پس منظر سے آگاہی ہو کہ وراثت میں کونسی بیماریاں رہی ہیں اور فیملی کے افراد کن بیماریوں میں مبتلا رہ چکے ہیں ۔ اس کو آپ کی بیماریوں کا بھی علم ہو اور آپ کی آئندہ مصروفیات زندگی سے بھی وہ باخبر ہو تاکہ درست انداز میں تشخیص کرسکے۔ صرف اسی طرح کی معلومات سے ہی وہ آپ کو آپ کے طرز زندگی سے متعلق مشورے دے سکتا ہے اور آپ کے مسائل صحت کی اصلاح کرسکتا ہے۔ ایک اچھے ڈاکٹر میں 3 خصوصیات ہونی چاہییں، اول تعلیم و تربیت، دوم کردار اور سوم مریض سے دلچسپی و ہمدردی۔ ۔۔فیملی ڈاکٹر کے انتخاب کے ضمن میں اس کی مہارت تو از حد ضروری ہے تاکہ وہ مرض کی درست تشخیص کرسکے اور درست طریقہ علاج تجویز کرے۔ اچھا ڈاکٹر وہ ہے جسے آپ کی فیس سے زیادہ آپ کی خیرو عافیت میں دلچسپی ہونی چاہیے ۔ اسے اس قدر ایماندار ضرور ہونا چاہیے کہ جب اسے محسوس ہو کہ مرض کے ضمن میں آپ کو کسی ماہر کے پاس بھیجنا ضروری ہے تو وہ کوئی تامل نہ کرے۔ مریض سے ہمدردی ڈاکٹر کی اپنی شخصیت اور مزاج پر بھی منحصر ہوتی ہے ، کچھ ڈاکٹر بہت خداترس ہوتے ہیں اور کچھ مریض میں زیادہ دلچسپی بھی نہیں لیتے۔ مریض کی ڈھارس بندھانے سے مریض کافی حد تک مطمئن ہوجاتا ہے ، علاج اپنی جگہ ایک حیثیت رکھتا ہے لیکن مریض کی ڈھارس اور قوت مدافعت بڑھانے سے جلد صحت یابی کی طرف گامزن ہواجاسکتا ہے ۔ اسے چاہیے کہ وہ نہایت صبر و سکون سے آپ کی بات سنے۔اس کے پاس وقت ہو تاکہ وہ آپ کے تمام سوالات کے جوابات دے سکے۔ معائنے جو ضروری ہوں وہ کرے اور احتیاط بتائے ، یہ وہ باتیں ہیں جو صحت برقرار رکھنے یا زائل شدہ صحت کی بحالی کیلئے ضروری ہیںایک عام آدمی کو معالج سے متعلق یہ اندازہ لگانے کیلئے کہ وہ پیشہ ورانہ لحاظ سے جامع ، قابل اعتماد ہے اور اپنا کام جانتا ہے ، چند باتیں جاننی بہت ضروری ہیں ۔اول یہ کہ پہلی ملاقات پر وہ مریض کی مفصل روداد سنتا ہے اور مریض سے اس کی ولادت، بلکہ قبل از ولادت کے تمام واقعات معلوم کرتا ہے اور ان واقعات کا موجودہ صحت سے تعلق معلوم کرتا ہے ۔ پھر ان سب معلومات کو ایک دستاویز کی صورت میں اپنے کلینک رکھتا ہے ۔ دوم یہ کہ وہ پہلی ہی ملاقات میں تفصیلی معائنہ کرتا ہے ۔ ان تفصیلی معائنوں میں جسم کے تمام اعضا ء کا معائنہ اور لیبارٹری ٹیسٹ بھی شامل ہیں جن کی ابتدائی معائنے کے بعد ضرورت پڑتی ہے۔ ایک تجربہ کار ڈاکٹر صرف مریض کی ان شکایات پر ہی اپنے علاج کی بنیاد نہیں رکھتا جو مریض اسے سناتا ہے بلکہ وہ اصل مرض کی پوری تشخیص کیلئے اپنی بھرپور کوشش کرتا ہے ۔اپنے ڈاکٹر کا انتخاب کرنے سے قبل ان باتوں پر توجہ ضرور کریں۔اپنے محلے یا علاقے میں جو ہسپتال اچھی شہرت رکھتا ہے یا معیار کا ہے وہاں کے استقبالئے سے رابطہ کرکے ڈاکٹر کے حوالے سے معلومات حاصل کریں۔اچھے ڈاکٹر کے بارے میں اپنے محلے یا علاقے کے افراد سے بھی بات کریں۔ ہسپتال سے ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ اہلیت اور قابلیت سے متعلق بھی اطمینان کرلیں۔ اگر وہ مزاجاً آپ سے مطابقت رکھتا ہے تو اس کا انتخاب کرلیں۔ آخر میں اس ڈاکٹر سے یہ معلوم کرلیں کہ رات کو ہنگامی ضرورت کے وقت کیا طریقۂ کار اختیار کیا جائے۔کیا وہ آسکتا ہے یا متبادل انتظام کرسکتا ہے ۔ آپ اپنے ڈاکٹر کو شروع میں ہی یہ بتادیں کہ تندرست رہنا چاہتے ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ مریض ہونے کے بعد ہی ڈاکٹر کے پاس جائیں۔ صحت مند رہتے ہوئے بھی ڈاکٹر سے مشورہ کیا جاسکتا ہے کہ تندرست کس طرح رہا جاسکتا ہے ۔ یہ بات نہایت ضرور ی ہے کہ جب آپ ایک مرتبہ ڈاکٹر کا انتخاب کرلیں تو پھر اس پر اعتماد کریں اور اس کی ہدایات پر عمل کریں۔

ستاروں کے ذریعے راستہ تلاش کرنا

ستاروں کے ذریعے راستہ تلاش کرنا

چمکتے ستاروں کو محو حیرت دیکھنا انسان کی ازل سے ہی فطرت ہے اور اسی فطرت نے اسے ستاروں کے علوم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلائی اور اس نے گہرے سمندروں میں راستہ ڈھونڈنے کیلئے ستاروں کا سہارا لیا اور ماڈرن دنیا کے جدید آلات آنے سے ہزاروں سال پہلے بحری جہاز بان اپنی سمت کا تعین اور راستہ تلاش کرنے کیلئے ستاروں سے مدد لیتے تھے۔ ستاروں سے راستہ معلوم کرنے کے چند بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ستاروں کے 6 بنیادی گروپ:اجرام فلکی سے راستہ معلوم کرنے کیلئے 6 بنیادی ستاروں کے گروہوں کا پتہ ہونا ضروری ہے ان گروہوں میں ستارے ایک خاص ترتیب سے چمکتے ہیں اور زمین جیسے جیسے سْورج کے گرد گھومتی ہے یہ آسمان پر اپنی پوزیشن بدلتے ہیں اور ان گروہوں میں 6 اہم گروہ ہیں ۔1۔گریٹ بیئر:اردو میں اسے دُب اکبر کہتے ہیں اور انگلش میں اسے گریٹ بیئر کہا جاتا ہے، یہ 7 ستاروں کا ایک گروہ ہے جو آسمان پر جنوب کی طرف آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے اس گروہ کو جنوب کی سمت کا تعین کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔2۔ ارسا مائین:ارسا مائینر کو اردو میں دُب اصغر کہا جاتا ہے اور انگلش میں اسے لیٹل بیئر کہا جاتا ہے، دب اصغر ستاروں سے راستہ معلوم کرنے کیلئے انتہائی اہم گروہ ہے کیونکہ اسکے کنارے پر نارتھ ستارہ موجود ہے جو نارتھ کی سمت بتاتا ہے۔3۔ کیسیوپیا:کیسیوپیا 5 ستاروں کا گروہ ہے جو ٹیڑھے ڈبلیو کی شکل میں آسمان پر دکھائی دیتے ہیں اور اگر دب اکبر کے ستارے نظر نہ آرہے ہوں تو کیسیوپیا کے گروہ سے نارتھ کی پوزیشن معلوم کی جاتی ہے۔4۔ اورین:ستاروں کا یہ گروہ صدیوں سے راستہ معلوم کرنے کیلئے استعمال ہوتا آ رہا ہے اور جہاں جدید آلات کام کرنا بند کر دیں وہاں اورین سٹارز راستہ بتانے میں مدد کرتے ہیں، یہ گروہ ہنٹر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ ناردن نصف کرہ کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔5۔ کرکس:ان ستاروں کو ساؤدرن کراس بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ نصف کرہ پر سائوتھ کی طرف واضح دکھائی دیتے ہیں جس سے سائوتھ کی سمت کا تعین کیا جاسکتا ہے۔6۔ سینچورس:یہ ستاروں کا ایک بہت بڑا جھرمٹ ہے جو آسمان پر سائوتھ کی طرف دکھائی دیتا ہے اور ساودرن کراس کے ساتھ یہ سائوتھ کی صحیح سمت کا تعین کرنے میں مددکرتا ہے۔نارتھ سٹار کی تلاش:نارتھ سٹار کو پولیرس بھی کہتے ہیں اور اگر دب اکبر اور دب اصغر صاف دکھائی دے رہے ہیں تو اسے تلاش کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے کیونکہ یہ دونوں کے درمیان چمکتا ہے اور اسے ڈھونڈ لینے کے بعد چاروں سمتوں کا تعین کرنا آسان ہو جاتا ہے کیونکہ اس سے نارتھ کی صحیح پوزیشن کا پتہ چل جاتا ہے ۔ اگر دب اکبر دکھائی نہ دے رہا ہو مدہم ہو یا ہوریزن میں چھپ گیا ہوتو نارتھ سٹار کا پتہ5 ستاروں کے گروہ کیسیوپیا سے لگایا جاتا ہے یہ گروہ دب اکبر کے بالکل مخالف سمت پر دب اکبر کے مدہم ہونے کی صورت میں واضح نظر آتا ہے اور کیسیوپیا کے درمیان والے ستارے سے ایک سیدھی لائن دب اکبر کے کنارے والے ستارے تک کھینچی جائے تو درمیان میں نارتھ سٹار مل جائے گا اور جب یہ مل جائے تو نظر کو سیدھے اسے کے نیچے ھوریزن پر لیکر آئیں اور نارتھ کو پوائنٹ کر لیں۔نارتھ مل جائے تو باقی تینوں سمتوں کو ڈھونڈنا آسان ہو جاتا ہے۔طول یعنی Latitude جاننے کا طریقہ پرانے زمانے میں جہاز بان اپنے طول جاننے کیلئے نارتھ سٹار ڈھونڈتے تھے اور پھر آسمان پر اس کی بلندی سے طول کا اندازہ لگایا جاتا تھا اس کیلئے سیکسٹینٹ وغیرہ جیسے ٹول استعمال کیے جاتے تھے۔عرض یعنی LONGITUDE جاننا:سمتوں کا تعین ہونے کے بعد اور طول جاننے کے بعد پرانے جہاز بان جب تک عرض کا حساب نہیں لگاتے تھے تب تک ان کا راستہ تلاش کرنے کا کام ادھورا رہتا تھا اور عرض کا حساب صرف ستاروں سے لگانا انتہائی مْشکل کام ہے اور جہاز بان عام طور پر عرض کا حساب ستاروں کے طلوع اور غروب کی پوزیشن سے لگایا کرتے تھے جس سے ان کو ایک اندازہ ہوجاتا تھا کہ وہ منزل سے کتنی دور ہیں۔

احساس کیجیے۔۔۔۔۔

احساس کیجیے۔۔۔۔۔

غربت و افلاس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں شکستہ چہرے لاغر و ناتواں جسم کس چیز کی عکاسی کر رہے ہیں حسرت و یاس کی تصویر بنے بوڑھے،بین کرتی مائیں بلکتے بچے، پناہ کی تلاش میں سرگرداں بہنیں، ہوس کی بھینٹ چڑھ جانے والی معصوم بچیاں اورمعاشرے کے ہاتھوں ستائے بے روزگار خودکشی پر مجبور نوجوان ہیں ۔ طالب علموں کے ہاتھوں میں کتابوں کی جگہ ہتھیار تھما دئیے گئے ہیں، قوم کے مسیحا ادویات کے کمیشن کے چکر میں موت باٹنے لگے ہیں ، محافظ چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے عصمتوں کو تار تار کرتے نظر آ رہے ہیں ۔مفلوک الحال افراد کو ''سودکی سولی‘‘ پر چڑھا دیا جاتا ہے ،ملزم منصف بن جاتے ہیں ، جہاں سہولیات صرف بااثر طبقے کیلئے ہیں جہاں سوسائٹی ''ہائی ‘‘اور'' لو‘‘ میں بٹی ہوئی ہے۔ جہاں قانون صرف غریب کیلئے ہو اور امراء وڈیرے اور بد قماش لوگ دندناتے پھرتے ہوں۔ جہاں مطلب کی دوستیاں، منافقانہ روئیے، بدیانتی اور ریا کاری کا دور دورہ ہو، جہاں سفارش ،رشوت اور اقرباء پروری کا راج ہو جہاں دولت ہی شرافت کا معیار ہو اور ظالم وڈیرے کی عزت اس کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے کی جائے ۔جہاں چند کوڑی کی خاطر بھائی بھائی کا جانی دشمن بن چکا ہے بیٹا والدین کو پہچاننے سے انکاری ہے جہاں زبان ، قومیت اور مذہب کے نام پر قتل عام جاری ہے جہاں سچ بولنے کی پاداش میں ہاتھ اور زبانیں کاٹ دی جاتی ہیں۔ جہاں صحافیوں کو ظلم، نا انصافی اور سچ دکھانے پر قتل کر دیا جاتا ہے جہاں مظلوم کا ساتھ دینے پر عبرتناک موت ملتی ہے۔ جہاں مغربی کلچر کو فروغ دیا جاتا ہے جہاں اپنی قومی زبان اردو بولنے پر شرم اور تہذیب و تمدن کو فرسودہ سمجھا جاتا ہے۔ جی ہاں کچھ ایسا ہی ہو چکا ہے ہمارامعاشرہ جس میں آج چوروں، ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی گرانفروشی اور کرپٹ سیاستدانوں کا راج ہے۔تاریخ پر جب ہم نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ جو قومیں اپنے اسلاف اور انکی روایات کو بھول جاتی ہیں دنیا سے ان کا نام و نشان مٹ جاتا ہے اب بھی وقت ہے سنبھل جائو کہ یہ بارشیں، طوفان اور کورونا وائرس جیسے موذی امراض نشانیوں کے طور پر ہمارے سامنے ہیں یورپ میں آج بھی عورت کو جتنا ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے اسکی کہیں مثال نہیں ملتی جبکہ اسلام نے عورت کو چادر چاردیورای کا محافظ اور گھر کی زینت بنایا مگر عورت ذلیل و خوار ہورہی ہے کبھی سوچا ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہاہے؟ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ ہم نے احکامات خداوندی سے منہ موڑ لیا ہے، غیر مسلم ہمارے دین سے اس قدر متاثر ہیں کہ دھڑا دھڑ اسلام قبول کررہے ہیں مگر ہم اہل اسلام ہو کر بھی مغربی تہذیب و ثقافت سے اس قدر متاثر ہوئے ہیں کہ اسے اپنانے میں ایک دوسرے سے سبقت لیے جا رہے ہیں ۔خدارا سوچیے۔۔ غور و فکر کیجیے ۔ ۔اور ایک دوسرے کا احساس کیجئے ۔۔۔

قدرت اللہ شہاب اور’’ جمہوریت کا سِکہ‘‘ بحیثیت ادیب ’’شہاب نامہ ‘‘  میں حقائق کو ممکنہ حد تک پیش کرنے کی کوشش کی

قدرت اللہ شہاب اور’’ جمہوریت کا سِکہ‘‘ بحیثیت ادیب ’’شہاب نامہ ‘‘ میں حقائق کو ممکنہ حد تک پیش کرنے کی کوشش کی

''شہاب نامہ ‘‘ایسی کتاب ہے جو کسی تعارف کی محتاج نہیں اردو دنیا میں آج تک سب سے زیادہ فروخت ہونیوالی سوانح عمری ''شہاب نامہ‘‘ہے، قیام پاکستان کے بعد قدرت اللہ شہاب اہم عہدوں پر فائز رہے انہوں نے اپنی خودنوشت کے کئی ابواب کو اسی دور کے حالات و واقعات سے مزین کیا ، قدرت اللہ شہاب نے کتاب میں لکھا کہ میں نے حقائق کو انتہائی احتیاط سے ممکنہ حد تک اسی رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی جس رنگ میں وہ مجھے نظرآئے ۔کتاب کے پہلے حصے میں شہاب نے بہت سے زند ہ کردار تخلیق کئے ۔ ان کرداروں میں مولوی صاحب کی بیوی ، چوہدری مہتاب دین ، ملازم کریم بخش اورچندرواتی وغیرہ ۔چندراوتی کا سراپا یوں لکھتے ہیں۔ رنگت میں وہ سونے کی ڈلی تھی اور جلد اس کی باریک مومی کاغذ کی تھی ۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ،ایک روز وہ چھابڑی والے کے پاس تاز ہ گنڈیریاں کٹوانے کھڑی ہوئی تو میرے دل میں آیا ایک موٹے گنے سے چندرا وتی کو مار مار کر ادھ موا کردوں اور گنڈیریوں والے کی درانتی سے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اپنے دانتوں سے کچر کچر چبا ڈالوں۔‘‘چندراوتی شہاب نامہ کا بے مثال کردار ہے جس کے اندر محبت کا الائو دہک رہا تھا، لیکن وہ زبان پر نہ لا سکی اور مر گئی ۔ کتاب کا دوسرا حصہ ''آئی سی ایس میں داخلہ اور دور ملازمت‘‘پر مشتمل ہے ۔ کانگرس ہائی کمان کا خفیہ منصوبہ جو شہاب صاحب نے جوش جنوں میں قائداعظم تک پہنچایا یہ واقعہ بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔کتاب کے تیسرے حصے میں پاکستان کے بارے میں تاثرات ہیں ، اس حصے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اسلامی فلاحی ریاست کیسے بن سکتا ہے ۔وہ کہتے ہیں ''ہمیں حب الوطنی کا جذبہ نہیں بلکہ جنون درکار ہے ۔ ‘‘کتاب کا سب سے اہم حصہ چوتھا حصہ ہے جس میں ''دینی و روحانی تجربات و مشاہدات‘‘بیان کیے گئے ہیں ۔یہاں ہم ان کی کتاب کے مختصر3 پیرا گراف پیش کر رہے ہیں ۔''میں نے دنیا بھر کے درجنوں سربراہان مملکت ،وزرائے اعظم اور بادشاہوں کو کئی کئی مرتبہ کافی قریب سے دیکھا ہے لیکن میں کسی سے مرعوب نہیں ہوا اور نہ ہی کسی میں مجھے اس عظمت کا نشان نظر آیا جو جھنگ شہر میں شہید روڈ کے فٹ پاتھ پر پھٹے پرانے جوتے گانٹھنے والے موچی میں دکھائی دیا تھا ۔‘‘''جمہوریت کا سکہ اسی وقت چلتا ہے ،جب تک وہ خالص ہو ۔ جوں ہی اس میں کھوٹ مل جائے ،اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی‘‘۔۔۔۔''صاحب اقتدار اگر اپنی ذات کے گرد خود حفاظتی کا حصار کھینچ کر بیٹھ جائے تو اس کی اختراعی ، اجتہادی اور تجدیدی قوت سلب ہو کر اسے لیکر کا فقیر بنا دیتی ہے ۔‘‘قدرت اللہ شہاب گلگت میں 26 فروری 1917ء کو محمد عبداللہ کے ہاں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم پنجاب کے گائوںچمکویہ، ضلع انبالہ مشرقی پنجاب سے حاصل کی، اس وقت پنجاب تقسیم نہیں ہوا تھا ۔بی ایس سی کی ڈگری 1937ء میں پرنس آف ویلز کالج جموں و کشمیر سے حاصل کی اور ماسٹر ان انگلش لٹریچر گورنمنٹ کالج لاہور سے 1939ء میں کیا۔ اور1941ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوگئے، ابتداء میں بہار اور اڑیسہ میں خدمات سرانجام دیں۔ 1943ء میں بنگال میں متعین ہو گئےقیام پاکستان تک وہیں رہائش پذیر رہے ۔ 1947ء میں پاکستان آئے آزاد کشمیر کی نوزائیدہ حکومت کے سیکرٹری جنرل بھی بنے جھنگ کے ڈپٹی کمشنر رہے ، 3 سربراہان ِ مملکت کے پرسنل سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیئے یہ ہی نہیں ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر جیسے عہدوں پر بھی فائز رہے۔جس وقت جنرل یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالا انہوں نے استعفیٰ دیدیا ۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے وابستہ ہوگئے اب کچھ بات ہو جائے شہرہ آفاق کتاب'' شہاب نامہ‘‘ کی، ملک میں یہ سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے ۔ ان کی کتاب کے چار حصے کیے جا سکتے ہیں۔پہلا حصہ قدرت اللہ کا بچپن اور تعلیم وغیرہ پر مشتمل ہے۔قدرت اللہ شہاب اپنی خود نوشت ''شہاب نامہ‘‘ میں لکھتے ہیں ۔9 جون 1938ء سے میں نے باقاعدہ ایک ڈائری لکھنے کی طرح ڈالی ۔اس میں ہر واقعہ کو ایک خود ساختہ شارٹ ہینڈ میں لکھا ۔ایک روز یہ کاغذات ابن انشا ء کو دکھائے ۔ابن انشاء کے کہنے پر کافی مدت بعد قدرت اللہ شہاب نے اس کتاب کو لکھا ۔کتاب کے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں ''خوش قسمتی سے مجھے ایسے دوستوں کی رفاقت نصیب ہوئی جن کا اپنا ایک الگ رنگ اور اپنی شخصیت میں ایک نام رکھتے ہیں ۔مثلاََ ابن انشاء ،ممتاز مفتی ،بانو قدسیہ ،اشفاق احمد واصف علی واصف ،جمیل الدین عالی ،ریاض انور ،ایثار علی ، مسعود کھدر پوش ابن الحسن برنی ،اعجاز بنالوی اورابو بخش اعوان ۔قدرت اللہ شہاب کی وفات کے بعد ان کے بارے میں جو کتابیں شائع ہوئیں ان میں ''ذکر شہاب‘‘ اور''مراد بریشم‘‘خاص طور پر مقبول ہوئیں جبکہ ان کے خطوط کے مجموعے بھی چھاپے گئے ۔ پاکستان رائٹرز گلڈ کی تشکیل انہی کی کوششوں سے عمل میں آئی۔حکومت کی جانب سے انہیں ستارہ ٔ قائداعظم اور ستارۂ پاکستان بھی دیا گیا۔انکی تصانیف میں'' یاخدا، نفسانے ،سرخ فیتہ، ماں جی اور ''شہاب نامہ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ قدرت اللہ شہاب نے 24 جولائی 1986ء کو اسلام آباد میں 69برس کی عمر میں وفات پائی۔

طفیل ہوشیارپوری کی شاعری غزلوں اور نظموں کے علاوہ ان کے فلمی گیت بھی بے مثال ہیں

طفیل ہوشیارپوری کی شاعری غزلوں اور نظموں کے علاوہ ان کے فلمی گیت بھی بے مثال ہیں

برصغیر پاک و ہند میں ایسے شاعروں کی کمی نہیں جنہوں نے نہ صرف خوبصورت غزلیں اور نظمیں تخلیق کیں بلکہ فلموں کیلئے بھی بے مثل گیت لکھے۔ اس بات سے بھی اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ ان میں سے اکثر شعرا ء کو ان کے فلمی نغمات کی وجہ سے زیادہ شہرت ملی۔ بھارت کا ذکر کیا جائے تو ہمیں ساحر لدھیانوی‘ مجروح سلطانپوری‘ جانثار اختر اور کیفی اعظمی کی مثالیں ملتی ہیں۔ ان شعرا ء نے عمدہ غزلوں اور نظموں کے علاوہ بڑے باکمال نغمات تخلیق کیے جنہیں آج بھی سنا جائے تو زبان سے بے اختیار واہ نکلتی ہے۔ اسی طرح پاکستان میں قتیل شفائی‘ سیف الدین سیف‘ کلیم عثمانی‘ حبیب جالب اور منیر نیازی کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ منیر نیازی نے سب سے کم فلمی گیت لکھے لیکن کیا خوب لکھے۔ جوش ملیح آبادی نے پہلے بھارت میں کچھ فلموں کے نغمات تحریر کئے۔ ایک نام کا اور اضافہ کر لیجئے اور وہ ہے طفیل ہوشیارپوری۔ انہوں نے بہت معیاری غزلیں اور نظمیں لکھیں اور ان کے شعری مجموعے بھی منظرعام پر آئے۔ جن میں ''سوچ مالا‘ میرے محبوب وطن‘ شعلہ جاں اور جام مہتاب‘‘ شامل ہیں۔ وہ کئی برس تک ایک ادبی جریدے کی ادارت بھی کرتے رہے۔ طفیل ہوشیارپوری نے اردو اور پنجابی فلموں کیلئے جو گیت لکھے ان میں سے کئی ایسے گیت ہیں جنہوں نے لازوال شہرت حاصل کی۔طفیل ہوشیار پوری کا اصل نام محمد طفیل تھا 14جولائی 1914ء کو ضلع ہوشیارپور (مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ایک استاد کی حیثیت سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ 1948 ء میں اردو اور پنجابی فلموں کے نغمات لکھنا شروع کیے۔ ان کی مشہور فلموں میں شمی (1950ء)‘ ہرجائی (1952ء)‘ غلام (1953ء)‘ شہری بابو (1953ء)‘ قاتل (1955ء)‘ پتن (1955ء)‘ دلا بھٹی (1956ء)‘ لخت جگر (1956ء)‘ ماہی منڈا (1956)‘ قسمت (1956ء)‘ سرفروش(1956ء)‘ معصوم(1957ء)‘ انارکلی (1958ء)‘ مٹی دیاں مورتاں (1960ء)‘ شام ڈھلے (1960ء)‘ عجب خان (1961ء)‘ شہید (1962ء)‘ عذرا (1962ء) ‘ موسیقار (1962ء)‘ نائیلہ (1965ء) اور میری دھرتی میرا پیار (1970ء) شامل ہیں۔فلمی گیت نگاری کے حوالے سے طفیل ہوشیارپوری کو سب سے پہلے پنجابی فلم ''شمی‘‘ سے شہرت ملی یہ فلم 1950 میں ریلیز ہوئی۔ یہ واحد فلم تھی جس کا نام فلم کی ہیروئن شمی کے نام پر رکھا گیا۔ اس فلم میں سنتوش کمار‘ ببو‘ ایم اسماعیل‘ اجمل اور غلام محمد نے اہم کردار ادا کیے ۔ شمی اداکارہ شمی کی پہلی فلم تھی فلم کی پروڈیوسر ملکہ پکھراج تھیں جبکہ ہدایتکار منشی دل تھے۔ موسیقی ماسٹر عنایت حسین نے ترتیب دی تھی۔ شمی کے گیت تنویر نقوی‘ بابا عالم سیاہ پوش‘ ساغر صدیقی اور اقبال سیف پوری نے لکھے۔ صرف ایک گیت طفیل ہوشیارپوری نے لکھا اور وہ سب پر بازی لے گئے۔ اس گیت نے زبردست مقبولیت حاصل کی۔بھارت میں بھی اس گیت کی دھوم مچی اس کے بول تھے ''نی سوہے جوڑے والئے‘ ذرا اک واری آ جا‘ سانوں مکھڑا وکھا جا‘‘۔ عنایت حسین بھٹی نے اس گیت کو بڑی مہارت سے گایا۔1953میں ''شہری بابو‘‘ ریلیز ہوئی اس کے ہدایتکار نذیر،موسیقی رشید عطرے کی تھی۔ منور سلطانہ‘ زبیدہ خانم اور عنایت حسین بھٹی نے فلم کے نغمات گائے ۔ اس فلم میں سورن لتا (نذیر کی اہلیہ)‘ سنتوش کمار‘ نذر‘ ایم اسماعیل‘ علائو الدین اور عنایت حسین بھٹی نے اداکاری کے جوہر دکھائے۔ نغمہ نگاروں میں بابا عالم سیاہ پوش‘ طفیل ہوشیارپوری‘ حزیں قادری اور وارث لدھیانوی شامل تھے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ''شہری بابو‘‘ زبیدہ خانم کی بطور گلوکارہ پہلی فلم تھی۔ اس کے علاوہ وارث لدھیانوی نے بھی پہلی بار کسی فلم کے گیت لکھے۔ ویسے تو اس فلم کے سارے گیت ہی پسند کئے گئے لیکن طفیل ہوشیارپوری کا لکھا گیت بھی بہت مقبول ہوا۔ ''دل نئیں دنیا تیرے بنا‘‘ ۔اُس زمانے میں ایک فلم کے گیت کئی شعرا ء لکھتے تھے اور ہر ایک کے حصے میں ایک یا دو گیت ہی آتے تھے۔ طفیل صاحب کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں بہت اچھے موسیقار ملے۔1953ء میں ان کی اردو فلم ''غلام‘‘ ہٹ ہوئی اس فلم کے ہدایتکار انور کمال پاشا تھے۔ صبیحہ خانم‘ سنتوش کمار‘ شمیم‘ شمی‘ آصف جاہ‘ ہمالیہ والا‘ راگنی‘ اجمل اور ایم اسماعیل نے خوبصورت اداکاری کی ۔ گلوکار فضل حسین کی یہ پہلی فلم تھی ،اس فلم کی موسیقی ماسٹر غلام حیدر نے مرتب کی تھی۔ ماسٹر غلام حیدر وہ نامور موسیقار تھے جنہوں نے بھارت میں اپنے نام کا ڈنکا بجایا تھا۔ یہ وہ موسیقار تھے جنہوں نے سب سے پہلے لتا منگیشکر کو پلے بیک گلوکارہ کے طور پر متعارف کرایا۔ ''غلام‘‘ میں ان کی موسیقی بہت پسند کی گئی۔ اس کے نغمات قتیل شفائی‘ سیف الدین سیف‘ ساغر صدیقی اورطفیل ہوشیارپوری نے لکھے۔ باقی گیتوں کی طرح طفیل صاحب کا گیت بھی بہت پسند کیا گیا جس کے بول تھے ''چھپ چھپ جوانی آئی اے‘‘ اسے پکھراج پپو نے گایا اوریہ صبیحہ خانم پر پکچرائز ہوا۔1955 ء میں انور کمال پاشا کی مشہور زمانہ فلم'' قاتل‘‘ ریلیز ہوئی اس کے گیتوں نے ہر طرف دھوم مچادی۔ ماسٹر عنایت حسین نے کمال کی موسیقی ترتیب دی ''قاتل‘‘ مسرت نذیر‘ اسلم پرویز اور نیر سلطانہ اور دلجیت مرزاکی پہلی فلم تھی۔ کہانی انور کمال پاشا کے والد حکیم احمد شجاع نے لکھی ۔ نغمات قتیل شفائی‘ سیف الدین سیف اور طفیل ہوشیارپوری کے زورِ قلم کا نتیجہ تھے، سبھی گیتوں کو بے حد پذیرائی ملی۔ طفیل ہوشیارپوری نے ایک ہی گیت لکھا جس نے بہت دھوم مچائی، اس گیت کو کوثر پروین نے گایا اور یہ صبیحہ خانم پر عکس بند ہواگیت کے بول تھے ''اومینانجانے کیا ہو گیا‘ کہاں دل کھو گیا‘‘۔1955 ء میں ہدایتکار لقمان کی سپرہٹ پنجابی فلم ''پتن‘‘ ریلیز ہوئی جس میں مسرت نذیر‘ سنتوش کمار‘ آشا پوسلے‘ نذر‘ شیخ اقبال‘ ایم اسماعیل اور علائوالدین نے کام کیا۔ یہ ایک رومانوی فلم تھی جس کی شاندار موسیقی بابا جی اے چشتی نے مرتب کی تھی۔ طفیل ہوشیارپوری‘ مشیر کاظمی‘ حزیں قادری‘ اسماعیل متوالا اور جی اے چشتی کے لکھے گیتوں کو زبیدہ خانم‘ کوثر پروین‘ زاہدہ پروین‘ عنایت حسین بھٹی اور علائوالدین نے گایا فلم کے 13میں سے 2 نغمات طفیل صاحب کے حصے میں آئے اور دونوں ہٹ ہو گئے۔ ایک گیت کے بول تھے ''میرے کنڈلاں والے وال وے‘ میری ہرنی ورگی چال وے‘‘ اور دوسرے گیت کے بول کچھ یوں تھے ''رنگ رنگیلی ڈولی میری‘ بابل اج نہ ٹور‘‘ دونوں گیتوں کو بالترتیب کوثر پروین اور زبیدہ خانم نے گایا۔1956ء طفیل ہوشیارپوری کیلئے بڑا اہم سال ثابت ہوا۔اس سال ان کی کامیاب ترین فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں ''دلابھٹی‘ ماہی منڈا‘ سرفروش اور چن ماہی‘‘ شامل ہیں۔ فلم ''دُلا بھٹی‘‘ کے ہدایتکار ایم ایس ڈار تھے اس فلم میں صبیحہ‘ سدھیر‘ علائوالدین‘ غلام محمد‘ ایم اسماعیل اور اجمل نے اہم کردار ادا کیے۔ فلمساز آغا جی اے گل نے اس فلم کی کمائی سے ایورنیو سٹوڈیو تعمیر کیا۔اس فلم کے 10گیت تھے جنہیں زبیدہ خانم‘ منورسلطانہ‘ عنایت حسین بھٹی اور اقبال بانو نے گایا۔ گیت نگاروں میں طفیل ہوشیارپوری‘ بابا عالم سیاہ پوش‘ جی اے چشتی اور ایف ڈی شرف شامل تھے۔ طفیل صاحب نے اس فلم کیلئے 6 گیت لکھے۔ سارے گیت ہی باکمال تھے لیکن منور سلطانہ کا گایایہ گیت پنجابی کے عظیم ترین گیتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس گیت کے بول تھے ''واسطہ ای رب دا تو جانویں وے کبوترا‘‘ اس گیت کی شہرت آج تک قائم ہے۔طفیل ہوشیارپوری نے 68فلموں کیلئے 224نغمات تخلیق کیے ان کے مقبول اردو اور پنجابی نغمات کی تعداد کافی زیادہ ہے انہوں نے ملی نغمات بھی لکھے جو بہت مشہور ہوئے۔ انہوں نے بڑی بھرپور زندگی گزاری 4جنوری 1993ء کو وہ اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ ایک غزل گو‘ نظم گو اور نعت گو کے علاوہ طفیل ہوشیارپوری کو ایک شاندار نغمہ نگار کی حیثیت سے بھی یاد رکھا جائے گا۔