زکام دوائیں اور علاج
اسپیشل فیچر
زکام کے علاج کے لیے نت نئی دوائیں استعمال ہوتی ہیں جن میں سے چند مشہور دوائیں درج ذیل ہیں۔ کولڈین (Coldene)ایکٹیفائڈ۔ پی (Actified-p) ایرینیک (Arinac) مضر اثرات: mمتلی، قے، چکر آناmاونگھ، نیند آنااحتیاط:mایسی دوائیں کھانے کے فوراً بعد گاڑی چلانے، تیرنے یا مشین پر کام کرنے سے پرہیز کریں۔ mحاملہ عورتیں اور بچے کو دودھ پلانے والی عورتیں استعمال نہ کریں۔ دوا کی نوعیت اور ضرورت کی اہمیت:زکام کے لیے مختلف قسم کی دواؤں کا بے جا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ بہت زیادہ استعمال ہونے والی دوائیں ہیں۔ بعض نام نہاد حکیم اور جعلی ڈاکٹر ذرا سے زکام میں مختلف دواؤں کی کاک ٹیل بنا کر دیتے ہیں جس میں درد دور کرنے والی دوا الرجی کے لیے دوا، اینٹی بائیوٹک دوا اور سٹیر ائیڈ شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس سے فوری افاقہ تو ہو جاتا ہے لیکن ان دواؤں کے مضر اثرات کی وجہ سے بعد میں خاصے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ زکام یا فلو ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے جس میں ان ساری دواؤں کے استعمال کا ذرا بھی فائدہ نہیں۔ زکام میں ناک میں ڈالنے والی یا بند ناک کھولنے والی دواؤں سے حتی المقدور پرہیز کریں کیونکہ اس سے بلڈ پریشر اور خون کی نالیاں سکڑنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ ایسی تمام دواؤں کے استعمال سے بچا جائے۔ تاہم زکام کی وجہ سے اگر سر درد یا بخار ہو تو اس صورت میں سر درد یا بخار کے لیے پیراسٹا مول یا ڈسپرین لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس طرح زکام میں سٹیرائیڈز اور اینٹی بائیوٹک دواؤں کے استعمال کا بالکل کوئی فائدہ نہیں۔ زکام ہونے کی صورت میں مندرجہ ذیل آسان گھریلو نسخے پر عمل کریں۔ mزکام یا فلو ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے جس پر مختلف قسم کی دواؤں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس کا سب سے بہتر علاج بھاپ لینا ہے۔ بھاپ لینے سے وائرس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ mزکام کے دوران وٹامن سی کا استعمال بھی فائدہ مند ہے۔ وٹامن سی کے لیے اورنج جوس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ mزکام کے دوران سوپ لیں اور جوشاندہ وغیرہ کا استعمال کریں۔ mکھانسی اور گلے کی خراش کی صورت میں غرارے کریں۔ mملٹھی کا استعمال کریں۔ (کتاب ’’ دوا،غذا اور شفاء-نیو ایڈیشن‘‘ سے مقتبس)