تاریخ کیسے لکھی جاتی ہے
اسپیشل فیچر
ایک تو لکھنے والے کی تربیت جدید خطوط پر ہونی چاہیے کیوں کہ تحقیق کے پرانے طریقے بدل چکے ہیں۔ اب واقعے کی تحقیق اور تنقید پر زور دیا جاتا ہے۔مثلاً تاریخی مواد کی ایڈیٹنگ کی جاتی ہے۔ بہت سے لوگوں نے تاریخی نوعیت کے مسودوں کی نقل کر کے اصل مسودے کو تبدیل کر دیا ہے۔ علمِ لسانیات کے باعث یہ چوریاں پکڑی گئیں۔ اس علم کی مدد سے تاریخی مسودوں کو دیکھا جاتا ہے کہ اس میں کس عہد کی زبان اختیار کی گئی ہے۔ اگر کسی نے تاریخی حقائق میں اضافہ کیا ہے تو یہ زبان اس دور سے مختلف ہوگی۔ ایڈیٹنگ کے وقت دیکھا جاتا ہے کہ مسودے کی زبان اس زمانے کی ہے، جس زمانے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس طریقے سے لوگوں کو صرف اس عہد کے ہی واقعات ملتے ہیں اور اس میں دوسری چیزیں شامل نہیں ہوپاتیں۔ اس کی مثال ’’چچ نامہ‘‘ سے دی جا سکتی ہے۔آٹھویں صدی عیسوی میں لکھے جانے والے چچ نامہ کا جب تیرہویں صدی میں عربی سے فارسی میں ترجمہ ہوا تو مترجم نے اپنے زمانے کی بہت سی اصطلاحات اور دوسری باتیں اس میں شامل کر دیں۔ مثلاً اس میں لکھا ہے کہ محمد بن قاسم کو سزا کے طور پر گائے کی کھال میں سلوا کر بھجوایا گیا تھا۔یہ بالکل غلط ہے۔ کیوں کہ کھال میں سلوانے کی سزا منگولوں کے یہاں رائج تھی۔ منگول تیرہویں صدی میں ہندوستان آچکے تھے اور ان کا واسطہ مقامی لوگوں سے پڑتا رہتا تھا۔آٹھویں صدی میں عربوں کے یہاں اس قسم کی سزا نہیں دی جاتی تھی۔ اس طرح ایڈٹ کرتے وقت اس قسم کی غلطیوں کو سامنے لایا جاتا ہے۔ سکّے، کتبے، ادب، لوک گیت اور آثار قدیمہ کی شہادتیں بھی تاریخی ماخذ ہیں۔ آج کل اخبارات، رسائل اور انٹر نیٹ بھی تاریخ کے ماخذ میں شامل ہیں۔ تاریخ کا ایک اور ماخذ ’’زبانی تاریخ‘‘ ہے۔ پرانے زمانے میں بادشاہوں کے خلاف چلنے والے تحریکیں اور بغاوتیں تاریخ کا حصّہ نہیں بنتی تھیں۔ ان واقعات کا ذکر لوک گیتوں اور کہانیوں میں ملتا ہے، جو سینہ بہ سینہ چلی آتی ہیں۔ تقسیم ہند کی تاریخ لکھنے کے لیے تحریری مواد کے علاوہ ان لوگوں کے انٹرویوز بھی کیے جاتے ہیں، جنہوں نے ہجرت کے مراحل طے کیے ہیں۔اسی طرح عام لوگوں کی تاریخ لکھنے کے لیے مقدمات کا ریکارڈ معاون ثابت ہوتا ہے۔کسانوں کی تاریخ کے لیے ریونیو ریکارڈ دیکھا جاتا ہے۔ تاریخ کا ایک اور ماخذ علما کے فتوے ہیں۔ان فتووں کی مدد سے اس وقت کے معاشرے کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ برصغیر میں انگریزوں کی آمد سے معاشرہ کس طرح تبدیل ہو رہا تھا۔ اس کا اندازہ شاہ عبدالعزیز کے فتووں سے لگایا جا سکتا ہے، جو شاہ ولی اللہ کے شاگرد تھے۔ ان فتووں میں لوگ ان سے انگریزی تعلیم اور انگریزوں کی ملازمت سے متعلق فتوے لے رہے ہیں۔ اسی طرح مولانا رشید گنگوہی کی ’’فتاویٰ رشیدیہ‘‘ میں اس قسم کے سوالات پوچھے گئے ہیں کہ کیک اور بسکٹ کھانا اور ایلوپیتھک ادویہ کا استعمال کیسا ہے، کیا ریل میں سفر کیا جا سکتا ہے، کیمرے سے تصویر کھنچوانا کیا جائز ہے۔ یہ تمام چیزیں اس وقت کے علما نے غیر اسلامی قرار دی تھیں۔کارل مارکس نے بڑی اچھی بات کہی کہ پہلے سیاسی، سماجی اور معاشی قوتیں افراد کو پیدا کرتی ہیں، پھر یہ افراد آگے چل کر تاریخ بناتے ہیں۔تاہم تاریخ میں فرد کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ بنانے میں ان کا بھی ایک حصّہ ہوتا ہے۔ مثلاً جنگ جیتنے کا سارا کریڈٹ جنرل لے جاتے ہیں۔ حالاں کہ میدانِ جنگ میں زیادہ تر فوجی مرتے ہیں۔ تاج محل، بغیر معمار اور مزدوروں کے نہیں بن سکتا تھا۔ لیکن عام طور پر تاریخ میں ان لوگوں کا ذکرنہیں ملتا۔ ان کی جگہ بڑی شخصیات کے ساتھ سارے کارنامے منسوب کر دیے جاتے ہیں۔ تاریخ میں فرد کا کردار یقیناًہوگا، لیکن اس کے پیچھے جو قوتیں ہوتی ہیں، اس کی بھی بڑی اہمیت ہے۔٭…٭…٭