مہرگڑھ : قدیم تہذیب کانقشِ اوّل
اسپیشل فیچر
مہرگڑھ قدیم تہذیب کا گہوارہ ہے، تحقیق کے مطابق جہاں انسان نے ابتدائی طور پر باقاعدہ بودوباش اختیار کرکے نہ صرف شہری زندگی کا آغاز کیا بلکہ باقاعدہ گلہ بانی اور زراعت کا پیشہ اختیار کرتے ہوئے برتن سازی، صنعت کاری، نیز مہذب اور سہل زندگی گزارنے کی بنیاد رکھی،جراحی دندان کا آغاز بھی یہاں سے ہوا۔بلوچستان کے علاوہ وادیِ سندھ، پنجاب ، مشرقی ایران اور جنوبی افغانستان کی قدیم بستیوں سے جو دریافتیں یعنی برتن،اوزار، ہتھیار، مجسمے انسانی وحیوانی، منکے، ہار، چوڑیاں اور دیگر اشیا وغیرہ دریافت ہوئی ہیں ،ان پر مہرگڑھ کے وسطی ادوار یعنی پانچویں اور چوتھی ہزارویں قبل مسیح کی جھلک نظر آتی ہے، اس کے علاوہ دنیا کی قدیم تہذیب کے طور پر پہچان رکھنے والے عراق، مصر، کنعان اور ایران کے تمدن بھی مہرگڑھ کے بعد کی تہذیبیں ہیں۔ان سے دریافت شدہ بہت سی باقیات میں مہرگڑھ سے ملنے والی اشیاکا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔بلوچستان کے عظیم درئہ بولان کے آخری دہانے،تاریخی شہر سبی سے تقریباً26کلومیٹر اور قدیم شہر ڈھاڈر سے صرف10کلومیٹر کے فاصلے پر ہزاروں سال قدیم بستی مہرگڑھ دریافت ہوئی۔جس سے بلوچستان کی سرزمین کو کْرّہ ارض کی قدیم ترین گہوارے کی حیثیت سے پہچان ملی۔1980ء کی دہائی کے اوائل میں مہرگڑھ میں ایک چھوٹا ٹیلا(Mound) ملا جو تقریباً تین سے چار ہزار سال قبل مسیح(ق م) سے تعلق رکھتا تھا۔بعدازاںمزید تحقیق اور کھدائی کے نتیجے میں انکشاف ہوا کہ دراصل اس علاقے میں قدیم ٹیلوں کا ایک جال بچھا ہوا ہے اور متعدد چھوٹی چھوٹی آبادیاں قائم تھیں، بالآخر فرانسیسی، ماہرین آثار قدیمہ جین فرانکوئیس جیرج، رچرڈ ایچ میٹرواورکیتھرین جیرج نے اس قدیم آبادی کا سراغ لگایا اور تحقیق کے ذریعے ثابت کیا کہ اس بستی کی اولین آباد کاری 9ہزار سال قبل مسیح کے دوران ہوئی تھی، اور یہاں پر قدیم لوگوں نے باقاعدہ بودوباش اختیار کی تھی اور نیم شہری زندگی کی بنیاد ڈالی تھی۔مہرگڑھ کے ابتدائی باسی کچی مٹی کے اینٹوں والے گھروں میں رہتے تھے۔ اپنے اناج کو انبار خانے میں رکھتے تھے، پسائی کے پتھر اور چقماق کے پھل کی مصنوعات کے فن سے واقفیت رکھتے تھے۔ وہ جوّ،گندم، بیری اور کھجور کی کاشت کرتے تھے اور بھیڑ،بکری اور مویشیوں کی گلہ بانی کرتے تھے۔(2600ق م۔5500ق م) کے دوران کے متعلق کھدائی کے دوران برتن، اناج خانے،اناج کے بے شمار دانے، درانتیاں اور چقماتی پتھروں کے اوزار ملے ،ایک کمرے کی دیواروں سے باہر جلے ہوئے بیج کے دانے اور جلے ہوئے رقعے ملے ہیں۔ ان میں گندم اور جو کی مختلف اقسام کے اناج کے دانے اور کچھ کپاس کے بیج شامل ہیں، جو ثابت کرتے ہیں کہ مہرگڑھ کے لوگ5000 ق م میں کپاس کاشت کیا کرتے تھے۔ مہر گڑھ کو جنوبی ایشیا میں زراعت کا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔مہرگڑھ کے ابتدائی دور(5500ق م۔7000 ق م) میں نیم خانہ بدوش آبادی نے گندم اور جوّ کی کاشت اور بھیڑ، بکری اور مویشی پال کر ابتدائی زرعی معاشرہ قائم کیا۔ کچی مٹی کی عمارتوں کے ذریعے آبادی قائم ہوئی جوکہ چاراندرونی خانوں میں تقسیم تھی۔ مردوں کے تدفین کے آثار ملے جنہیں اشیا کے ٹوکروں مثلاً روزمرہ استعمال کی اشیا ،اوزار، پتھر اورہڈیوں کے زیورات کے ساتھ دفن کیاجاتا تھا، خواتین اور مرد کو مختلف زیورات اور اوزاروں کے ساتھ دفن کیاجاتا تھا۔ جیسا کہ چقماق،پتھر کے برتن،پتھر کے گولے ،منکے،سیپ، ہڈیوں کے زیورات، فیروزہ،پازیب، منکوں کے ہار، کمربند، پتھر کی کلہاڑیاں لاجورد کی لڑیاں وغیرہ شامل ہیں۔مہرگڑھ کے دوسرے(4800ق م۔ 5500ق م) اور تیسرے (3500ق م۔4800ق م) جسے کانسی اور پتھر کا درمیانی دور کہا جاتا ہے ، کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، تاہم اس دوران مہرگڑھ ترقی یافتہ تہذیب تھی ،وہاں پر مختلف قسم کی صنعتیں قائم تھیں اور کئی اقسام کی ورکشاپ اور کارخانے کام کرتے تھے۔ یہاں سے برآمد ہونے والی ایک ایسی ہی ورکشاپ میں وسیع پیمانے پر سوب سٹون(ایک معدنی پتھر جو بلوچستان میں وافر مقدار میں موجود ہے) سے منکے بنائے جاتے تھے۔ طرزِ تعمیر میں بنیادی فرق آیا ،وہ ایک مکان اور کمرے بنانے لگے تھے۔ ان کی ظروف سازی کی صنعت نے خوب ترقی کرلی تھی۔ اس دور کے صنعت کار باریک بینی اور نفاست کے ساتھ غیر منقش اور مختلف اقسام کے برتن بنانے لگے تھے۔ جن میں بعض برتن اتنے نفیس ہیں کہ ان کی موٹائی انڈے کے بیرونی چھلکے کی طرح پتلی ہے۔ یہ برتن خوب پختہ ہیں اور پانی کے پیالوں اور کٹوروں کی مانند ہیں، مگر ساتھ یہ کاریگر منقش برتن بھی بناتے تھے، جن میں رنگوں سے نہایت پیچیدہ اور دیدہ زیب اشکال کی نقاشی کی جاتی تھی۔ہزاروں سال ق م میں ہی انگور کی دریافت بھی یہاں ہوئی۔اس کے علاوہ جراحیِ دندان کا آغاز بھی یہیں سے ہوا۔ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق مہرگڑھ میں آباد لوگوں نے کاشت کاری ،گلہ بانی، برتن سازی، صنعت کاری اور مہذب اور سہل زندگی گزارنے کی بنیاد رکھی تھی۔بلوچستان کے دیگر علاقوں سمیت وادی سِندھ،پنجاب،مشرقی ایران اور جنوبی افغانستان کی دریافت ہونے والی قدیم تہذیبوں کے آثارقدیمہ سے جو برتن، اوزار، ہتھیار، مجسمے انسانی اور حیوانی، منکے ہار، چوڑیاں اور دیگر اشیا وغیرہ برآمد ہوئے ہیں ان میں واضح طور پر مہرگڑھ کے وسطی ادوار پانچویں اورچوتھی ہزارویں قبل مسیح کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کی قدیم تہذیبوں عراق، مصر، کنعان،ایران کے تمدن بھی مہرگڑھ کے بعد کی تہذیبیںقراردی جاچکی ہیں۔ ان میں سے برآمد ہونے والی بہت سے اشیا کا ابتدائی تسلسل مہرگڑھ سے برآمد اشیا سے ملتاہے، اس لیے ماہرین مہرگڑھ کو تہذیب کا امام قراردیتے ہیں۔مہرگڑھ پر ابھی صرف ابتدائی کام ہوا ہے۔ اس کی باقیات پر بہت کام ہونا باقی ہے، جہاں سے نئے اور اہم انکشافات اور دریافتوں کی امید ہے کیوںکہ مہرگڑھ کی باقیات کی بلوچوں کے طرزِ معاشرت سے آج بھی یکسانیت کی جھلک نظر آتی ہے۔تاہم سائنسی انداز میں اس پر کام کی ضرورت ہے۔٭…٭…٭