عید آئی،خوشیاں لائی! خوشی کے اس تہوار کے حوالے سے خواتین کی تیاریاں کیسی ہونی چاہئیں
اسپیشل فیچر
رمضان کا آخری عشرہ بھی ختم ہونے کوہے اور عید قریب آتے ہی خواتین شاپنگ کی مہم پر نکل کھڑی ہوئی ہیں اور یہ سلسلہ چاند رات تک جاری رہتا ہے۔عید کے دن نزدیک آتے ہی ہر گھر میں افراتفری کا ماحول نظر آتا ہے۔ عید کی شاپنگ اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ ہر طبقہ اپنی بساط سے بڑھ کر خریداری کرتا ہے۔ عید کے نزدیک روزہ کھلنے کا بے صبری سے انتظار کیا جاتا ہے تاکہ بازاروں کی طرف رُخ کیا جا سکے، پھر رات دیر تک گھر سے باہر بھی رہا جاتا ہے۔ ویسے یہ بے ترتیبی اپنے اندر ڈھیر سارا حُسن رکھتی ہے اور ہمارے لئے ہر سال کے اس تہوار کو یادگار بنا دیتی ہے، پھر عید کا تہوار ایک ایسا تہوار ہے، جہاں سب عزیز و اقارب، ہمسائے، رشتہ داروں اور سہیلوں کے ساتھ ملاقاتیں بھی ہونا ہوتی ہیں تو ان سب تقریبات میں منفرد اور خوبصورت نظر آنا بھی ضروری ہے۔ عید کے موقع پر خواتین کیلئے عید کے جوڑے بنانے کے علاوہ بھی دیگر لوازمات بہت ضروری ہوتے ہیں، جن میں سے مندرجہ ذیل یہ ہیں، لیکن سب سے پہلے عید کے لباس کی بات ہو جائے۔عید کا لباسدنیا کی ہر خاتون لباس پر بہت زیادہ توجہ دیتی ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، تقریب چھوٹی ہوکہ بڑی یا عید وتہوار کا موقع ہو، خواتین بننے اور سنورنے کو ضروری سمجھتی ہیں۔ میک اپ، سنگھار اور خوش نما لباس زیب تن کرنا اُن کی فطرت میں شامل ہے۔کسی بھی فرد کی شخصیت کو نمایاں کرنے میں لباس کا اہم رول ہوتاہے۔ آپ جو لباس زیب تن کریں گی، اس کا اثر اپنی شخصیت پر ضرور پڑے گا۔ لباس، کسی بڑے کپڑے میں بنایا جائے، اس پر کڑھائی لیس اور دیگر کام اس کی خوبصورتی میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔ عموماً مسلم سماج میں شلوار قمیص کو اہمیت حاصل ہے۔ مسرت کے لمحات، خوشیوں کے مواقع اور تقاریب میں شلوار قمیص زیب تن کیا جاتا ہے۔اس پہناوے سے صنف ِ نازک کی شخصیت کو فروغ ملتا ہے۔ اس پہناوے کو صدا بہار فیشن کہا جائے ،تو غلط نہ ہوگا۔ ماہرین فیشن، گزرتے وقت کے ساتھ شلوار قمیص کو فیشن کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے رہے۔ فی زمانہ شلوار قمیص میں کڑھائی اور خوش نما و خوبصورت ہمہ رنگوں کے لیس کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے۔ جدید طرز کی کڑھائی والے کام کی قمیص آج بھی خواتین میں انتہائی مقبول ہے۔ اب شفون یا جالی کے کپڑے پر کڑھائی کے کام کا رجحان تیزی کے ساتھ فروغ پارہا ہے۔ خاص کر گلابی، مہرون اور ہلکے زرد رنگ کی قمیص پر کڑھائی کا کام انتہائی منفرد لک دے گا۔ عید پر روایتی ملبوسات کی تیاری میں فیشن ویک سے نئے رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ویسے آج کل برائیڈل ڈریسز میں گھاگرا چولی، لہنگا، شرٹ، میکسی اور بھاری کامدار ساڑھیاں وغیرہ کافی پسند کی جا رہی ہیں، لیکن آپ میڈیم لینتھ شرٹ کے ساتھ راجستھانی لہنگا بھی پہن سکتی ہیں۔ اسی طرح عید پر روایتی ملبوسات کی تیاری میں کُرتا شلوار، چوڑی دار پاجامہ، ہلکی پھلکی ساڑھی، ہائیبرڈ ٹراؤذرزاور گاؤن کا انتخاب بھی کر سکتی ہیں۔ پہلے دن کے لئے ہلکا پھلکا جوڑا بنوائیں، جس کے رنگ تو حسین ہوں ہی، لیکن نفاست بھی ضرور ہو، دوسرے دن کے لئے اگرآپ نے کہیں مہمان جانا ہے، تو چاہے دل کے ارمان پورے کر لیں اور اچھا سا بھاری جوڑا بھی بنوا لیں، مگر ایک بات کا خیال ضرور رکھیں کہ ولیمے اور عید کے لباس میں کچھ فرق ضرور چھوڑ دیں۔چوڑیاں اور مہندی چوڑیوں اور مہندی کے بغیر خواتین کی عید پھیکی معلوم ہوتی ہے۔ ہاتھوں میں کھنکتی چوڑیوں اور مہندی کی خوشبو سے یہ تہوار مہک سا جاتا ہے۔ چوڑیاں اور مہندی عید کا لازمی جزو ہیں، اسی لیے عید قریب آتے ہی رنگ برنگی سٹائلش چوڑیوں کے سٹالز سے شاپنگ مالز بھرجاتے ہیں اگرچہ سٹائلش چوڑیاں بھی بازاروں میں موجود ہیں، لیکن کانچ کی چوڑیاں ہر عمر اور دور میں خواتین کو لبھاتی ہیں اور ہیرے کی مانند پرکشش دکھائی دیتی ہیں۔ مہندی کے بغیر عید کا رنگ بھلا کیسے چڑھ سکتا ہے۔ بازاروں میں چوڑیوں کے ساتھ مہندی کے تھال سج چکے ہیں، ڈیزائننگ ہو یا سادہ عید پر حنا کی بھینی بھینی خوشبو تہوار کو چار چاند لگا دے گی۔ مہندی کا ایک پیکٹ ڈیڑھ سو روپے جبکہ چوڑیوں کے ایک سیٹ کی قیمت ایک سو بیس روپے سے پندرہ سو تک ہے۔ اس طرح اس مرتبہ مارکیٹ میں مہندی کے مختلف اور نت نئے ڈیزائن آئے ہیں۔ اس وقت مشہور مہندی کے ڈیزائنز میں مصری ڈیزائن اور عربی ڈیزائن خواتین میں بے حد مقبول ہیں۔ اسی طرح بازار میں داخل ہوتے ہوئے چوڑیوںکے دلکش رنگ آنکھوں کو چونکا دیتے ہیں۔ چاند رات سے ایک روز پہلے ہی ایک ہاتھ پر مہندی لگوانے کا ریٹ 100 سے بڑھ جاتا ہے اور چاند رات ہی مہندی لگانے والوں کیلئے عید ہوتی ہے۔ چوڑیاں اور مہندی خواتین کیلئے مخصوص ہوتی ہیں اور ان دنوں میں سب سے زیادہ خریداری چوڑیوں اور مہندی کی ہی ہوتی ہے۔ خواتین کی عید چوڑیوں اور زیور کے بغیر ادھوری ہے، یہی چیزیں تو زینت کا سامان ہوتی ہیں۔ کپڑوں کی میچنگ اور چوڑیاں خریدنے خاص طور پر چاند رات کو بازار جایا جاتا ہے، تاہم وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ کچھ تبدیلیاں بھی رونما ہوئی ہیں۔ نوجوان لڑکیاں عید کی چوڑیاں پہلے ہی خرید لیتی ہیں کیونکہ بازاروں میں رش کی وجہ سے اکثر من بھاتی چیز ملنا دشوار ہوتا ہے۔ مارکیٹ میں اس سال بلاشبہ چوڑیوں کے دیدہ زیب ڈیزائنز آئے ہیں۔ سادہ، مینا کاری ، گلیٹر، کندن اور جڑاؤ نگوں والی دلفریب چوڑیاں خواتین کی ساری توجہ کھینچ لیتی ہیں۔ نئے دور کے تقاضوں نے روایات کو بدل ڈالا ہے۔ فٹ ویئرز عید کے موقع پر کیجوئل فٹ ویئرز میں مون لائٹ، شنیل اور گریپی پربیڈز، میش، بکلز اور ریگزین کے پھولوں سے آراستہ زیپر سٹائل، لاسٹک اور بغیر لاسٹک والے سلیپرز، فلیٹ اور نارمل ہیل والے جوتے زیادہ پسند کیے جارہے ہیں۔ دکانداروں کے مطابق اس سال فٹ ویئرز کے فیشن میں گذشتہ سال کے مقابلے میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئی، گذشتہ عید پرپنسل نوک والی ہیل زیادہ مشہور تھی جبکہ رواں سال کیجوئل جوتے کے بعد موٹی اور بڑی ہیل والے ویجز جوتے زیادہ فروخت ہورہے ہیں، ان فٹ ویئرز پر لگے ہوئے بڑے بکلز اور مختلف اقسام کے بینڈز انہیں دیگر ڈیزائن سے زیادہ دلکش بناتے ہیں۔ بازاروں میں اچھی کوالٹی کے جوتے کی مناسب قیمت 1500روپے سے 2000روپے تک ہیں جبکہ دوسرے درجے کے جوتے 800 سے 1000روپے میں فروخت کیے جارہے ہیں، متعدد دکانوں پر تھائی لینڈ اور چین سے درآمد شدہ فٹ ویئرز بھی فروخت کیلئے رکھے گئے ہیں۔اگر صرف میچنگ کی سینڈل لینا مقصود ہے، تو مناسب قیمت میں بازار میں یہ سینڈلز دستیاب ہیں۔ہینڈ بیگز یا پرسفیشن وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ ایک وقت تھا جب مارکیٹ میں ہینڈ بیگز کی ورا ئٹی گنی چنی نظر آتی تھی، اور خواتین سیاہ، سفید یا کریم کلر کے بیگز کا زیادہ استعمال کرتی تھیں، مگر اب فیشن میں جیسے جیسے جدت آئی ہے، اسی طرح خواتین کے ہینڈ بیگز کی بھی بہت سی قسمیں سامنے آئی ہیں۔ اب بازار میں ہر طرح کے ہینڈ بیگز دستیاب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب خواتین اپنے کپڑوں اور سٹائل کے مطابق ہینڈ بیگز کا انتخاب کرتی ہیں۔ کچھ عرصے پہلے تک ہینڈ بیگز کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی، مگر اب ان کے بغیر فیشن ادھورا تصور کیا جاتا ہے۔ انیسویں صدی میں پہلی بار ہینڈ بیگ کا استعمال کیا گیا۔ اسی صدی میں ہی موتی ستارے سے مزین پرسوں نے بہت مقبولیت حاصل کی جبکہ اس زمانے میں جالی دار پرس بھی بہت پسند کئے جاتے تھے۔ یہ صدی فیشن کے اعتبار سے کافی اچھی سمجھی جاتی ہے۔ہینڈ بیگز یا پرس بھی خواتین اور بچیوں کی عید کی تیاری میں شامل ہوتے ہیں۔ بچیاں تو شاید عیدی رکھنے کے لئے ان کی خریداری کرتی ہیں اور خواتین عید کے موقع پر آنے جانے کے لئے ہینڈ بیگز کو اہم سمجھتی ہیں۔ نوجوان لڑکیاں عموماً چھوٹے ہینڈ بیگز پسند کرتی ہیں۔ عید کے موقع پر بازاروں میں نہایت سستے داموں میں یہ ہینڈ بیگز دستیاب ہیں۔ بیوٹی پارلر جاناخوبصورت نظر آنا تو ہرکسی کی خواہش ہوتی ہی ہے، لیکن عید کے موقع پر یہ خواہش شدت اختیار کرجاتی ہے، مگر خواتین کی تیاری کچھ سپیشل ہوتی ہے۔ ماہِ رمضان میں دن بھر کچن میں پکوان بناتے ہاتھوں اور چہرے کی رنگت خراب ہونے لگے، تو ایسے میں بیوٹی پارلر ہی خواتین کے لیے خوبصورتی برقرار رکھنے کا سہارا ہے، اسی لیے خواتین نے اب بیوٹی پارلرز کا رخ کرلیا ہے، جہاں تھریڈنگ، فیشل، ڈائی، ہیرکٹنگ، مینی کیور، پیڈی کیورپر خوب توجہ دی جارہی ہے۔ خوبصورت حنا کے رنگ بھی ابھی سے ہاتھوں پر نمایاں ہونے لگے ہیں تاکہ چاند رات کو رش سے بچا جاسکے۔ عید کا تہوار بیوٹی پارلرز کی کمائی کا سنہری سیزن ہے۔مٹھائیاںمیٹھی عید کا موقع ہو تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ منہ میٹھا نہ کیا جائے، اس کے لئے میٹھائیاں اور عید کیک زیادہ سے زیادہ خریدے جاتے ہیں تاکہ گھر والوں اور رشتے داروں کی دل جوئی کی جاسکے، عیدالفطر کے دن ایک دوسرے کے گھرخالی ہاتھ نہیں جاتے، مٹھائی کے ساتھ اب کیک دینے کی روایت بھی بڑھتی جاررہی ہے۔ اس عید پر بیکریز نے مٹھائی کے ساتھ انواع و اقسام کے کیک تیار کیے ہیں، آئس کیک، چاکلیٹ فج، پائن ایپل، فریش کریم کیک زیادہ پسند کیے جارہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کیلئے کیکوں کی مانگ بڑھ گئی ہے۔٭…٭…٭