عید آئی،خوشیاں لائی! خوشی کے اس تہوار کے حوالے سے خواتین کی تیاریاں کیسی ہونی چاہئیں

عید آئی،خوشیاں لائی! خوشی کے اس تہوار کے حوالے سے خواتین کی تیاریاں کیسی ہونی چاہئیں

اسپیشل فیچر

تحریر : فائزہ نذیر احمد


رمضان کا آخری عشرہ بھی ختم ہونے کوہے اور عید قریب آتے ہی خواتین شاپنگ کی مہم پر نکل کھڑی ہوئی ہیں اور یہ سلسلہ چاند رات تک جاری رہتا ہے۔عید کے دن نزدیک آتے ہی ہر گھر میں افراتفری کا ماحول نظر آتا ہے۔ عید کی شاپنگ اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ ہر طبقہ اپنی بساط سے بڑھ کر خریداری کرتا ہے۔ عید کے نزدیک روزہ کھلنے کا بے صبری سے انتظار کیا جاتا ہے تاکہ بازاروں کی طرف رُخ کیا جا سکے، پھر رات دیر تک گھر سے باہر بھی رہا جاتا ہے۔ ویسے یہ بے ترتیبی اپنے اندر ڈھیر سارا حُسن رکھتی ہے اور ہمارے لئے ہر سال کے اس تہوار کو یادگار بنا دیتی ہے، پھر عید کا تہوار ایک ایسا تہوار ہے، جہاں سب عزیز و اقارب، ہمسائے، رشتہ داروں اور سہیلوں کے ساتھ ملاقاتیں بھی ہونا ہوتی ہیں تو ان سب تقریبات میں منفرد اور خوبصورت نظر آنا بھی ضروری ہے۔ عید کے موقع پر خواتین کیلئے عید کے جوڑے بنانے کے علاوہ بھی دیگر لوازمات بہت ضروری ہوتے ہیں، جن میں سے مندرجہ ذیل یہ ہیں، لیکن سب سے پہلے عید کے لباس کی بات ہو جائے۔عید کا لباسدنیا کی ہر خاتون لباس پر بہت زیادہ توجہ دیتی ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، تقریب چھوٹی ہوکہ بڑی یا عید وتہوار کا موقع ہو، خواتین بننے اور سنورنے کو ضروری سمجھتی ہیں۔ میک اپ، سنگھار اور خوش نما لباس زیب تن کرنا اُن کی فطرت میں شامل ہے۔کسی بھی فرد کی شخصیت کو نمایاں کرنے میں لباس کا اہم رول ہوتاہے۔ آپ جو لباس زیب تن کریں گی، اس کا اثر اپنی شخصیت پر ضرور پڑے گا۔ لباس، کسی بڑے کپڑے میں بنایا جائے، اس پر کڑھائی لیس اور دیگر کام اس کی خوبصورتی میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔ عموماً مسلم سماج میں شلوار قمیص کو اہمیت حاصل ہے۔ مسرت کے لمحات، خوشیوں کے مواقع اور تقاریب میں شلوار قمیص زیب تن کیا جاتا ہے۔اس پہناوے سے صنف ِ نازک کی شخصیت کو فروغ ملتا ہے۔ اس پہناوے کو صدا بہار فیشن کہا جائے ،تو غلط نہ ہوگا۔ ماہرین فیشن، گزرتے وقت کے ساتھ شلوار قمیص کو فیشن کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے رہے۔ فی زمانہ شلوار قمیص میں کڑھائی اور خوش نما و خوبصورت ہمہ رنگوں کے لیس کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے۔ جدید طرز کی کڑھائی والے کام کی قمیص آج بھی خواتین میں انتہائی مقبول ہے۔ اب شفون یا جالی کے کپڑے پر کڑھائی کے کام کا رجحان تیزی کے ساتھ فروغ پارہا ہے۔ خاص کر گلابی، مہرون اور ہلکے زرد رنگ کی قمیص پر کڑھائی کا کام انتہائی منفرد لک دے گا۔ عید پر روایتی ملبوسات کی تیاری میں فیشن ویک سے نئے رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ویسے آج کل برائیڈل ڈریسز میں گھاگرا چولی، لہنگا، شرٹ، میکسی اور بھاری کامدار ساڑھیاں وغیرہ کافی پسند کی جا رہی ہیں، لیکن آپ میڈیم لینتھ شرٹ کے ساتھ راجستھانی لہنگا بھی پہن سکتی ہیں۔ اسی طرح عید پر روایتی ملبوسات کی تیاری میں کُرتا شلوار، چوڑی دار پاجامہ، ہلکی پھلکی ساڑھی، ہائیبرڈ ٹراؤذرزاور گاؤن کا انتخاب بھی کر سکتی ہیں۔ پہلے دن کے لئے ہلکا پھلکا جوڑا بنوائیں، جس کے رنگ تو حسین ہوں ہی، لیکن نفاست بھی ضرور ہو، دوسرے دن کے لئے اگرآپ نے کہیں مہمان جانا ہے، تو چاہے دل کے ارمان پورے کر لیں اور اچھا سا بھاری جوڑا بھی بنوا لیں، مگر ایک بات کا خیال ضرور رکھیں کہ ولیمے اور عید کے لباس میں کچھ فرق ضرور چھوڑ دیں۔چوڑیاں اور مہندی چوڑیوں اور مہندی کے بغیر خواتین کی عید پھیکی معلوم ہوتی ہے۔ ہاتھوں میں کھنکتی چوڑیوں اور مہندی کی خوشبو سے یہ تہوار مہک سا جاتا ہے۔ چوڑیاں اور مہندی عید کا لازمی جزو ہیں، اسی لیے عید قریب آتے ہی رنگ برنگی سٹائلش چوڑیوں کے سٹالز سے شاپنگ مالز بھرجاتے ہیں اگرچہ سٹائلش چوڑیاں بھی بازاروں میں موجود ہیں، لیکن کانچ کی چوڑیاں ہر عمر اور دور میں خواتین کو لبھاتی ہیں اور ہیرے کی مانند پرکشش دکھائی دیتی ہیں۔ مہندی کے بغیر عید کا رنگ بھلا کیسے چڑھ سکتا ہے۔ بازاروں میں چوڑیوں کے ساتھ مہندی کے تھال سج چکے ہیں، ڈیزائننگ ہو یا سادہ عید پر حنا کی بھینی بھینی خوشبو تہوار کو چار چاند لگا دے گی۔ مہندی کا ایک پیکٹ ڈیڑھ سو روپے جبکہ چوڑیوں کے ایک سیٹ کی قیمت ایک سو بیس روپے سے پندرہ سو تک ہے۔ اس طرح اس مرتبہ مارکیٹ میں مہندی کے مختلف اور نت نئے ڈیزائن آئے ہیں۔ اس وقت مشہور مہندی کے ڈیزائنز میں مصری ڈیزائن اور عربی ڈیزائن خواتین میں بے حد مقبول ہیں۔ اسی طرح بازار میں داخل ہوتے ہوئے چوڑیوںکے دلکش رنگ آنکھوں کو چونکا دیتے ہیں۔ چاند رات سے ایک روز پہلے ہی ایک ہاتھ پر مہندی لگوانے کا ریٹ 100 سے بڑھ جاتا ہے اور چاند رات ہی مہندی لگانے والوں کیلئے عید ہوتی ہے۔ چوڑیاں اور مہندی خواتین کیلئے مخصوص ہوتی ہیں اور ان دنوں میں سب سے زیادہ خریداری چوڑیوں اور مہندی کی ہی ہوتی ہے۔ خواتین کی عید چوڑیوں اور زیور کے بغیر ادھوری ہے، یہی چیزیں تو زینت کا سامان ہوتی ہیں۔ کپڑوں کی میچنگ اور چوڑیاں خریدنے خاص طور پر چاند رات کو بازار جایا جاتا ہے، تاہم وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ کچھ تبدیلیاں بھی رونما ہوئی ہیں۔ نوجوان لڑکیاں عید کی چوڑیاں پہلے ہی خرید لیتی ہیں کیونکہ بازاروں میں رش کی وجہ سے اکثر من بھاتی چیز ملنا دشوار ہوتا ہے۔ مارکیٹ میں اس سال بلاشبہ چوڑیوں کے دیدہ زیب ڈیزائنز آئے ہیں۔ سادہ، مینا کاری ، گلیٹر، کندن اور جڑاؤ نگوں والی دلفریب چوڑیاں خواتین کی ساری توجہ کھینچ لیتی ہیں۔ نئے دور کے تقاضوں نے روایات کو بدل ڈالا ہے۔ فٹ ویئرز عید کے موقع پر کیجوئل فٹ ویئرز میں مون لائٹ، شنیل اور گریپی پربیڈز، میش، بکلز اور ریگزین کے پھولوں سے آراستہ زیپر سٹائل، لاسٹک اور بغیر لاسٹک والے سلیپرز، فلیٹ اور نارمل ہیل والے جوتے زیادہ پسند کیے جارہے ہیں۔ دکانداروں کے مطابق اس سال فٹ ویئرز کے فیشن میں گذشتہ سال کے مقابلے میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئی، گذشتہ عید پرپنسل نوک والی ہیل زیادہ مشہور تھی جبکہ رواں سال کیجوئل جوتے کے بعد موٹی اور بڑی ہیل والے ویجز جوتے زیادہ فروخت ہورہے ہیں، ان فٹ ویئرز پر لگے ہوئے بڑے بکلز اور مختلف اقسام کے بینڈز انہیں دیگر ڈیزائن سے زیادہ دلکش بناتے ہیں۔ بازاروں میں اچھی کوالٹی کے جوتے کی مناسب قیمت 1500روپے سے 2000روپے تک ہیں جبکہ دوسرے درجے کے جوتے 800 سے 1000روپے میں فروخت کیے جارہے ہیں، متعدد دکانوں پر تھائی لینڈ اور چین سے درآمد شدہ فٹ ویئرز بھی فروخت کیلئے رکھے گئے ہیں۔اگر صرف میچنگ کی سینڈل لینا مقصود ہے، تو مناسب قیمت میں بازار میں یہ سینڈلز دستیاب ہیں۔ہینڈ بیگز یا پرسفیشن وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ ایک وقت تھا جب مارکیٹ میں ہینڈ بیگز کی ورا ئٹی گنی چنی نظر آتی تھی، اور خواتین سیاہ، سفید یا کریم کلر کے بیگز کا زیادہ استعمال کرتی تھیں، مگر اب فیشن میں جیسے جیسے جدت آئی ہے، اسی طرح خواتین کے ہینڈ بیگز کی بھی بہت سی قسمیں سامنے آئی ہیں۔ اب بازار میں ہر طرح کے ہینڈ بیگز دستیاب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب خواتین اپنے کپڑوں اور سٹائل کے مطابق ہینڈ بیگز کا انتخاب کرتی ہیں۔ کچھ عرصے پہلے تک ہینڈ بیگز کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی، مگر اب ان کے بغیر فیشن ادھورا تصور کیا جاتا ہے۔ انیسویں صدی میں پہلی بار ہینڈ بیگ کا استعمال کیا گیا۔ اسی صدی میں ہی موتی ستارے سے مزین پرسوں نے بہت مقبولیت حاصل کی جبکہ اس زمانے میں جالی دار پرس بھی بہت پسند کئے جاتے تھے۔ یہ صدی فیشن کے اعتبار سے کافی اچھی سمجھی جاتی ہے۔ہینڈ بیگز یا پرس بھی خواتین اور بچیوں کی عید کی تیاری میں شامل ہوتے ہیں۔ بچیاں تو شاید عیدی رکھنے کے لئے ان کی خریداری کرتی ہیں اور خواتین عید کے موقع پر آنے جانے کے لئے ہینڈ بیگز کو اہم سمجھتی ہیں۔ نوجوان لڑکیاں عموماً چھوٹے ہینڈ بیگز پسند کرتی ہیں۔ عید کے موقع پر بازاروں میں نہایت سستے داموں میں یہ ہینڈ بیگز دستیاب ہیں۔ بیوٹی پارلر جاناخوبصورت نظر آنا تو ہرکسی کی خواہش ہوتی ہی ہے، لیکن عید کے موقع پر یہ خواہش شدت اختیار کرجاتی ہے، مگر خواتین کی تیاری کچھ سپیشل ہوتی ہے۔ ماہِ رمضان میں دن بھر کچن میں پکوان بناتے ہاتھوں اور چہرے کی رنگت خراب ہونے لگے، تو ایسے میں بیوٹی پارلر ہی خواتین کے لیے خوبصورتی برقرار رکھنے کا سہارا ہے، اسی لیے خواتین نے اب بیوٹی پارلرز کا رخ کرلیا ہے، جہاں تھریڈنگ، فیشل، ڈائی، ہیرکٹنگ، مینی کیور، پیڈی کیورپر خوب توجہ دی جارہی ہے۔ خوبصورت حنا کے رنگ بھی ابھی سے ہاتھوں پر نمایاں ہونے لگے ہیں تاکہ چاند رات کو رش سے بچا جاسکے۔ عید کا تہوار بیوٹی پارلرز کی کمائی کا سنہری سیزن ہے۔مٹھائیاںمیٹھی عید کا موقع ہو تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ منہ میٹھا نہ کیا جائے، اس کے لئے میٹھائیاں اور عید کیک زیادہ سے زیادہ خریدے جاتے ہیں تاکہ گھر والوں اور رشتے داروں کی دل جوئی کی جاسکے، عیدالفطر کے دن ایک دوسرے کے گھرخالی ہاتھ نہیں جاتے، مٹھائی کے ساتھ اب کیک دینے کی روایت بھی بڑھتی جاررہی ہے۔ اس عید پر بیکریز نے مٹھائی کے ساتھ انواع و اقسام کے کیک تیار کیے ہیں، آئس کیک، چاکلیٹ فج، پائن ایپل، فریش کریم کیک زیادہ پسند کیے جارہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کیلئے کیکوں کی مانگ بڑھ گئی ہے۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
نئی ویڈیو انکرپشن ٹیکنالوجی

نئی ویڈیو انکرپشن ٹیکنالوجی

کوانٹم کمپیوٹنگ کے خطرے سے محفوظٹیکنالوجی کی دنیا میں ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی پیش رفت ہو رہی ہے لیکن اسی کے ساتھ سکیورٹی کے خطرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر کوانٹم کمپیوٹنگ ایک ایسی انقلابی ٹیکنالوجی ہے جو مستقبل میں موجودہ انکرپشن سسٹمز کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ اسی تناظر میں سائنسدانوں نے ایک نئی اور جدید انکرپشن تکنیک تیار کی ہے جو خاص طور پر ویڈیو فائلز کو کوانٹم حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔یہ تحقیق اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ابھی سے سکیورٹی کے نئے حل تلاش کرنا کتنا ضروری ہے۔کوانٹم کمپیوٹنگ کا خطرہ کیا ہے؟روایتی کمپیوٹرز ڈیٹا کو 0 اور 1 کی صورت میں پراسیس کرتے ہیں لیکن کوانٹم کمپیوٹرز کوانٹم بِٹس (qubits) استعمال کرتے ہیں جو بیک وقت متعدد حالتوں میں رہ سکتے ہیں۔ اس صلاحیت کی وجہ سے یہ کمپیوٹرز بہت پیچیدہ حساب کو چند سیکنڈز میں حل کر سکتے ہیں۔یہی طاقت انکرپشن کے لیے خطرہ ہے۔ آج کی زیادہ تر سکیورٹی جیسا کہ بینکنگ سسٹمز،واٹس ایپ اور دیگر میسجنگ ایپس،آن لائن ویڈیو سٹریمز،کلاؤڈ سٹوریج سب RSA اور دیگر روایتی انکرپشن الگوردمز پر چلتے ہیں۔ کوانٹم کمپیوٹرز مستقبل میں ان کو توڑنے کی صلاحیت رکھ سکتے ہیں جس سے ڈیٹا چوری کا خطرہ بڑھ جائے گا۔نئی تحقیق کیا ہے؟حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک نئی قسم کی انکرپشن تیار کی ہے جو خاص طور پر ویڈیو فائلز کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ ویڈیوز عام فائلوں سے زیادہ پیچیدہ ہوتی ہیں کیونکہ ان میں ہزاروں فریمز ہوتے ہیں جو مسلسل ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔اس نئے طریقے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ ویڈیو کو ایک مکمل فائل کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ ویڈیو کو الگ الگ فریمز میں تقسیم کرتا ہے،ہر فریم کو الگ الگ انکرپٹ کیا جاتا ہے،ہر فریم کے لیے مختلف اور غیر متوقع cryptographic keys استعمال کی جاتی ہیں،ڈیٹا میں موجود پیٹرنز کو ختم کر دیا جاتا ہے۔اس طریقے سے کوئی ہیکر اگر ایک فریم تک رسائی حاصل کر بھی لے تو وہ پوری ویڈیو کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔اس طریقے کی اہم جدتعام ویڈیو انکرپشن میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ویڈیو کمپریشن کی وجہ سے کچھ پیٹرنز باقی رہ جاتے ہیں۔ یہ پیٹرنز ہیکرز کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔نئی تکنیک ان پیٹرنز کو ختم کرنے کے لیے Randomization بڑھاتی ہے اورہر فریم کو الگ الگ غیر متوقع کوڈ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ Entropy کو بڑھاتی ہے یعنی ڈیٹا کو زیادہ بے ترتیب بنا دیا جاتا ہے تاکہ اس میں کوئی شناختی پیٹرن نہ رہے۔یوں ہر فریم ایک علیحدہ سکیورٹی لیئر کے ساتھ محفوظ ہوتا ہے۔یہ تحقیق کیوں اہم ہے؟آج کے دور میں ویڈیو ڈیٹا انتہائی حساس ہو چکا ہے۔ مثال کے طور پرسکیورٹی کیمرہ فوٹیج،آن لائن ویڈیو کالز،طبی ریکارڈز، فوجی یا حکومتی نگرانی کے نظام۔اگر یہ ڈیٹا لیک ہو جائے تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ایک ایسا نظام جو مستقبل کے خطرات سے پہلے ہی محفوظ ہو بہت ضروری ہے۔اس تحقیق کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ یہ صرف مستقبل کے کوانٹم کمپیوٹرز کے لیے نہیں بلکہ آج کے عام کمپیوٹرز پر بھی چل سکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ سکیورٹی انفراسٹرکچر کو مکمل تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں جبکہ مستقبل کے لیے کوانٹم کمپیوٹنگ کی تیاری بھی ساتھ ہی ہو جاتی ہے۔تحقیقی تجربات میں یہ دیکھا گیا کہ نئی انکرپشن تکنیک نے روایتی ویڈیو انکرپشن کے مقابلے میں تقریباً 10 سے 15 فیصد بہتر سکیورٹی فراہم کی۔اگرچہ یہ بہت بڑا اضافہ نہیں لگتا لیکن کرپٹو گرافی میں اتنا بھی بہت ہے کیونکہ یہ حملہ آوروں کے لیے کامیابی کو کئی گنا مشکل بنا دے گا۔ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن اس کے مستقبل میں کئی ممکنہ استعمال ہو سکتے ہیں۔اس سے آن لائن سٹریمنگ پلیٹ فارمز کی حفاظت ہو گی۔کلاؤڈ بیسڈ ویڈیو سٹوریج ہو گی۔ اگر یہ ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر اپنائی گئی تو یہ فوجی اور دفاعی نظام،ہائی سکیورٹی ویڈیو کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ سکیورٹی کے مستقبل کو مضبوط بنا سکتی ہے۔بہرحال یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کوئی بھی انکرپشن مکمل طور پر ناقابلِ شکست نہیں، لیکن یہ محفوظ مستقبل کی جانب ایک بڑا قدم ضرور ہے جو خطرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔خاص طور پر جب کوانٹم کمپیوٹرز عام ہو جائیں گے تو ایسے سسٹمز ہی ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کا بنیادی ذریعہ بنیں گے۔یہ نئی ویڈیو انکرپشن تکنیک اس بات کی علامت ہے کہ سائنسدان مستقبل کے خطرات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔بلا شبہ کوانٹم کمپیوٹنگ جہاں ایک طرف بے پناہ طاقت رکھتی ہے وہیں یہ موجودہ سکیورٹی سسٹمز کے لیے خطرہ بھی ہے،مگراس تحقیق نے ایک ایسا راستہ دکھایا ہے جو ویڈیو ڈیٹا کو زیادہ محفوظ بنا کر مستقبل کے ممکنہ حملوں سے بچا سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف آج کی ضرورت ہے بلکہ کل کی حفاظت کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔

مینٹل میتھ

مینٹل میتھ

بچوں کی شخصیت اور ذہنی صلاحیتوں پر اثراتآج کے جدید اور تیز رفتار دور میں تعلیم صرف کتابی علم تک محدود نہیں رہی بلکہ ذہنی صلاحیتوں کی مضبوطی بھی اتنی ہی ضروری ہو گئی ہے۔ انہی اہم صلاحیتوں میں سے ایک مینٹل میتھ (Mental math) ہے۔ مینٹل میتھ سے مراد بغیر کاغذ، قلم یا کیلکولیٹر کے صرف دماغ کی مدد سے حساب کرنا ہے۔ یہ مہارت بچوں کی ذہنی نشوونما، تعلیمی کارکردگی اور روزمرہ زندگی میں کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔مینٹل میتھ کی اہمیت کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ یہ بچوں کی شخصیت اور ذہنی صلاحیتوں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ دماغی نشوونما اور ذہنی طاقتماہرین کے مطابق مینٹل میتھ بچوں کے دماغ کو زیادہ فعال بناتا ہے۔ جب بچہ ذہنی طور پر حساب کرتا ہے تو اس کا دماغ مسلسل سوچنے، تجزیہ کرنے اور حل تلاش کرنے کی مشق کرتا ہے۔ یہ عمل دماغی خلیوں کو مضبوط کرتا ہے اور بچوں میں منطقی سوچ ( Logical Thinking) پیدا کرتا ہے۔ یادداشت اور توجہ میں بہتریمینٹل میتھ بچوں کی یاد رکھنے کی صلاحیت کو بھی بہتر بناتا ہے کیونکہ انہیں نمبرز اور گنتی کو ذہن میں رکھ کر حل نکالنا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ان کی توجہ اورذہنی ارتکاز کو بھی بڑھاتا ہے کیونکہ ذہنی حساب کے دوران بچہ مکمل طور پر مسئلے پر فوکس کرتا ہے۔ خود اعتمادی میں اضافہجب بچہ بغیر کسی مدد کے صحیح جواب دیتا ہے تو اس میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ یہ اعتماد نہ صرف ریاضی بلکہ دیگر مضامین اور زندگی کے فیصلوں میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تعلیمی کارکردگی میں بہتریمینٹل میتھ بچوں کو امتحانات میں تیزی اور درستگی کے ساتھ سوال حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ خاص طور پر ریاضی میں یہ مہارت بچوں کی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر کرتی ہے اور انہیں وقت کے اندر زیادہ سوال حل کرنے کے قابل بناتی ہے۔ روزمرہ زندگی میں استعمالیہ مہارت صرف سکول تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی بہت اہم ہے۔ خریداری کے دوران بل کا حساب، رقم کی تقسیم، یا وقت کا اندازہ لگانا، یہ سب کام ذہنی حساب سے آسان ہو جاتے ہیں۔ قوت فیصلہ کی تیزیمینٹل میتھ بچوں کو تیزی سے سوچنے اور فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ آج کی دنیا میں جہاں وقت بہت قیمتی ہے یہ مہارت بچوں کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ ریاضی سے خوف کم کرنااکثر بچے ریاضی کو مشکل سمجھتے ہیں لیکن جب وہ مینٹل میتھ کی مشق کرتے ہیں تو ان کا ریاضی سے خوف کم ہو جاتا ہے اور یہ ان کے لیے ایک دلچسپ سرگرمی بن جاتی ہے۔مینٹل میتھ کی صلاحیت کیسے بڑھائیں؟بچوں میں مینٹل میتھ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے مستقل مشق اور دلچسپ طریقے اپنانا بہت ضروری ہے۔بچوں کو روزانہ چھوٹے چھوٹے حسابی سوالات دیے جائیں۔ ابتدا میں آسان سوالات رکھیں اور آہستہ آہستہ مشکل سطح بڑھائیں۔نمبرز کو توڑ کر حل کرنا سیکھیں مثلاً 58 36 کو حل کرنے کے لیے پہلے 50 30 اور پھر 8 6 الگ الگ کریں۔ اس طریقے سے حساب کرنا آسان ہو جاتا ہے اور دماغ زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے۔ نمبر گیمز، میتھ پزلز اور تعلیمی ایپس بچوں کے لیے سیکھنے کے عمل کو دلچسپ بناتے ہیں اور ان کی ذہنی صلاحیت بڑھاتے ہیں۔ روزمرہ زندگی میں استعمالوالدین بچوں کو روزمرہ کاموں میں شامل کریں جیسے خریداری کے دوران حساب لگوانا یا بچت کا اندازہ کروانا۔ اس سے عملی سیکھنے میں مدد ملتی ہے۔بچوں کو محدود وقت میں سوال حل کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ ان کی رفتار اور ذہنی چستی بڑھے۔جب بچہ درست جواب دے تو اس کی تعریف کریں۔ حوصلہ افزائی بچوں میں مزید سیکھنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔والدین اور اساتذہ کا کردارمینٹل میتھ کی ترقی میں والدین اور اساتذہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں پر دباؤ ڈالنے کے بجائے انہیں دلچسپ طریقوں سے سکھائیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ کلاس میں سرگرمیاں، گروپ ورک اور ذہنی کھیل شامل کریں تاکہ بچے سیکھنے کے عمل میں دلچسپی لیں۔مینٹل میتھ بچوں کی ذہنی، تعلیمی اور عملی زندگی کے لیے ایک انتہائی اہم مہارت ہے۔ یہ نہ صرف ان کی ریاضی کی سمجھ کو بہتر بناتی ہے بلکہ ان کی یادداشت، توجہ، خود اعتمادی اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ اگر والدین اور اساتذہ بچوں کی صحیح رہنمائی کریں اور انہیں دلچسپ طریقوں سے سکھائیں تو ہر بچہ اس مہارت میں مہارت حاصل کر سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ہنڈنبرگ حادثہ 6 مئی 1937ء کو جرمنی کا مشہور ہوائی جہاز (ایئرشپ) ہنڈنبرگ امریکہ کے شہر لیکہرسٹ، نیو جرسی میں لینڈنگ کے دوران آگ لگنے سے تباہ ہو گیا۔ یہ ایئرشپ اُس وقت دنیا کی سب سے بڑی ہوائی سواریوں میں شمار ہوتا تھا اور اس میں مسافر اور عملہ سوار تھا۔ جیسے ہی یہ زمین کے قریب پہنچا زور دار دھماکہ ہوا اور پورا جہاز شعلوں میں گھِر گیا۔ اس حادثے میں 36 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ کئی زخمی ہوئے۔یہ واقعہ اس لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس کے بعد ایئرشپ کے ذریعے مسافروں کی نقل و حمل تقریباً ختم ہو گئی۔ اس واقعے نے ہوابازی کی صنعت کو زیادہ محفوظ ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کیا اور جدید ہوائی جہازوں کی ترقی کو تیز کیا۔ انگلش چینل ٹنل کا افتتاح6 مئی 1994ء کو برطانیہ اور فرانس کے درمیان زیر سمندر ریلوے سرنگ ''چینل ٹنل‘‘ کا باضابطہ افتتاح ہوا۔ اس عظیم منصوبے کا افتتاح برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم اور فرانس کے صدر فرانسوا میتران نے کیا۔ یہ سرنگ تقریباً 50 کلومیٹر لمبی ہے اور انگلینڈ کو فرانس سے براہِ راست جوڑتی ہے۔یہ انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز کارنامہ تھا جس پر کئی دہائیوں تک کام ہوتا رہا۔ اس سرنگ نے یورپ میں سفر اور تجارت کو بہت آسان بنا دیا۔ اب لوگ ٹرین کے ذریعے چند گھنٹوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک جا سکتے ہیں۔ راجر بینسٹرکا ریکارڈ6 مئی 1954ء کو برطانیہ کے ایتھلیٹ راجر بینسٹر نے ایک میل (تقریباً 1.6 کلومیٹر) کی دوڑ چار منٹ سے کم وقت میں مکمل کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ انہوں نے یہ فاصلہ 3 منٹ 59.4 سیکنڈ میں طے کیا جو اُس وقت ناممکن سمجھا جانے والا کارنامہ تھا۔اس سے پہلے ماہرین کا خیال تھا کہ انسان کے لیے چار منٹ سے کم وقت میں ایک میل دوڑنا جسمانی طور پر ممکن نہیں۔ لیکن بینسٹر نے اپنی محنت، تربیت اور عزم سے اس تصور کو غلط ثابت کیا۔ ان کے کارنامے نے دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو نئی ہمت دی اور کھیلوں میں نئی سوچ کو جنم دیا۔ روم کی لوٹ مار6 مئی 1527ء کو یورپ کی تاریخ کا ایک اہم اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جب رومی سلطنت کی فوجوں نے اٹلی کے شہر روم پر حملہ کر دیا۔ اس واقعے کوSack of Rome کہا جاتا ہے۔ حملہ آور فوجیوں نے شہر میں داخل ہو کر لوٹ مار، قتل و غارت اور تباہی مچائی۔اس حملے میں ہزاروں لوگ مارے گئے اور بے شمار تاریخی عمارتیں تباہ ہوئیں۔ پوپ کلیمنٹ ہفتم کو بھی جان بچانے کے لیے قلعہ بند ہونا پڑا۔ یہ واقعہ نشاۃ ثانیہ کے دور کے خاتمے کی علامت سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد روم کی ثقافتی اور سیاسی حیثیت کو شدید نقصان پہنچا۔ پہلا ڈاک ٹکٹ جاری6 مئی 1840ء کو برطانیہ میں دنیا کا پہلا باقاعدہ ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا۔ اس ٹکٹ پر ملکہ وکٹوریہ کی تصویر بنی ہوئی تھی اور اس کی قیمت ایک پینی تھی۔ اس سے پہلے خطوط بھیجنے کا نظام مختلف اور پیچیدہ تھا لیکن اس ٹکٹ نے ڈاک کے نظام کو آسان اور منظم بنا دیا۔یہ ایجاد دنیا بھر میں ڈاک کے نظام کے لیے ایک انقلاب ثابت ہوئی۔ اس کے بعد مختلف ممالک نے بھی اپنے ڈاک ٹکٹ جاری کرنا شروع کیے۔ ڈاک ٹکٹ نے نہ صرف مواصلات کو بہتر بنایا بلکہ تجارت، تعلیم اور سماجی روابط کو بھی فروغ دیا۔

صدی کے آخر تک گرمی اور خشک سالی کا خطرہ 5 گناہ زیادہ

صدی کے آخر تک گرمی اور خشک سالی کا خطرہ 5 گناہ زیادہ

دنیا اس وقت ماحولیاتی تبدیلی کے ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں موسمی حالات پہلے سے زیادہ غیر متوازن اور شدید ہو رہے ہیں۔جرمنی اور چین کے ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ عالمی پالیسیاں تبدیل نہ ہوئیں اور کاربن اخراج کی یہی رفتار برقرار رہی تو رواں صدی کے اختتام تک دنیا کی تقریباً 30 فیصد آبادی کو شدید گرمی اور خشک سالی کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ نتائج نہ صرف ماحول بلکہ انسانی زندگی، معیشت اور خوراک کے نظام کے لیے بھی سنگین چیلنجز ظاہر کرتے ہیں۔اس تحقیق میں جس رجحان پر توجہ دی گئی ہے اسے Compound hot-dry extremesکہا جاتا ہے یعنی ایسی صورتحال جس میں شدید گرمی اور خشک سالی ایک ساتھ وقوع پذیر ہوں۔یہ دونوں عوامل الگ الگ بھی نقصان دہ ہیں لیکن جب یہ بیک وقت ہوں تو اثرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ زمین کی نمی تیزی سے ختم ہو جاتی ہے، درجہ حرارت مزید بڑھتا ہے اور خطرناک موسمی صورتحال جنم لیتی ہے جس کے نتیجے میں فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی،جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات میں اضافہ،پانی کے ذخائر میں تیزی سے کمی اورانسانی صحت پر شدید اثرات ہو سکتے ہیں۔تحقیقی ماڈلز کے مطابق یہ واقعات مستقبل میں بار بار اور زیادہ طویل مدت تک جاری رہ سکتے ہیں۔متاثرہ آبادی اور خطرے کی شدتتحقیق کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو صدی کے آخر تک تقریباً 2.6 ارب افراد اس خطرے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ دنیا کی آبادی کا تقریباً 28 سے 30 فیصد حصہ بنتا ہے۔مزید اہم بات یہ ہے کہ ان واقعات کی شدت موجودہ دور کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا بڑھ سکتی ہے۔ان کا دورانیہ بھی نمایاں طور پر طویل ہو سکتا ہے۔کئی خطے مسلسل گرمی اور خشک سالی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف وقتی نہیں بلکہ طویل مدتی اور عالمی نوعیت کا ہے۔عالمی درجہ حرارت میں اضافہاس بحران کی بنیادی وجہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہے۔ سائنسی ماڈلز کے مطابق اگر اخراج کی موجودہ شرح برقرار رہی تو صدی کے آخر تک زمین کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 2.7 ڈگری سیلسیس تک بڑھ سکتا ہے۔یہ اضافہ بظاہر کم لگتا ہے لیکن اس کے اثرات انتہائی شدید ہوتے ہیں کیونکہ یہ موسمی نظام کو غیر متوازن کر دیتا ہے،بارشوں کے پیٹرن بدل جاتے ہیں،خشک سالی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں،گرمی کی لہریں زیادہ شدید اور طویل ہو جاتی ہیں۔تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس بحران کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے اور گرم خطوں پر پڑے گا۔یہ صورتحال ماحولیاتی نا انصافی کے مسئلے کو بھی جنم دیتی ہے کیونکہ وہ ممالک جو کاربن اخراج میں کم حصہ ڈالتے ہیں جیسا کہ پاکستان، وہی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔زراعت، خوراک اور معیشتگرمی اور خشک سالی کا براہ راست اثر زرعی نظام پر بھی پڑتا ہے۔ فصلیں مناسب پانی اور درجہ حرارت نہ ملنے کی وجہ سے متاثر ہوتی ہیں۔اس کے نتیجے میں فصلوں کی پیداوار میں کمی، خوراک کی قلت،قیمتوں میں اضافہ اورغذائی عدم تحفظ میں اضافہ ہوتا ہے۔زرعی نقصان براہ راست معیشت کو متاثر کرتا ہے خاص طور پر ان ممالک میں جہاں زراعت معیشت کی بنیاد ہوتی ہے۔پانی کے وسائل پر دباؤخشک سالی کی وجہ سے پانی کے وسائل شدید دباؤ میں آ جاتے ہیں۔ جب بارشیں کم ہوں اور درجہ حرارت زیادہ ہو توزیر زمین پانی کی سطح گر جاتی ہے،دریا اور جھیلیں سکڑ جاتی ہیں،پینے کے پانی کی کمی ہوجاتی ہے اوریہ صورتحال نہ صرف روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ صحت، صفائی اور زرعی پیداوار کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ممکنہ حل اور عالمی اقداماتماہرین کے مطابق اس خطرے کو مکمل طور پر روکا تو نہیں جا سکتا لیکن اسے کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں تو صورتحال میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔اس سلسلے میں جو اہم اقدامات تجویز کئے جاتے ہیں ان میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی،قابل تجدید توانائی (جیسا کہ سولر اور ونڈ) کا استعمال،جنگلات کا تحفظ اور شجر کاری مہم،پانی کے وسائل کا بہتر انتظام اورماحولیاتی تحفظ کے عالمی معاہدوں پر مکمل عمل قابل ذکر ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر ان اقدامات پر عمل کیا جائے تو خطرے سے متاثر ہونے والی آبادی 30 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 18 فیصد تک آ سکتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ سامنے کی حقیقت ہے۔ شدید گرمی اور خشک سالی کا بڑھتا ہوا امتزاج انسانی زندگی کے لیے بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔اگر دنیا نے بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی دہائیوں میں پانی، خوراک اور صحت کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم عالمی سطح پر تعاون اور پالیسیوں میں بہتری لائی جائے تو اس خطرے کو کافی حد تک کم بھی کیا جا سکتا ہے اور محفوظ مستقبل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

ہاتھ دھونے کا عالمی دن

ہاتھ دھونے کا عالمی دن

صحت کی حفاظت کا سادہ مگر مئوثر طریقہWorld Hand Hygiene Dayہر سال 5 مئی کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اسے عام طور پر ہاتھ دھونے کا عالمی دن بھی کہا جاتا ہے جس کا مقصد لوگوں میں ہاتھوں کی صفائی کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کا شعور پیدا کرنا ہے۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے مہنگی دواؤں یا پیچیدہ علاج سے پہلے ایک سادہ سا عمل یعنی ہاتھ دھونا،انتہائی مؤثر دفاعی ہتھیار ہے۔اس دن کا آغاز عالمی ادارۂ صحت نے 2009ء میں کیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد ہسپتالوں میں پھیلنے والے انفیکشنز کو کم کرنا تھا۔ بعد میں یہ احساس بڑھا کہ صرف ہسپتال ہی نہیں بلکہ گھروں،دفتروں، سکولوں اور عوامی مقامات پر بھی ہاتھوں کی صفائی بہت ضروری ہے۔5 مئی کی تاریخ کی خاص علامتی اہمیت ہے۔ ''5‘‘ پانچ انگلیوں کی علامت ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہاتھ ہمارے روزمرہ زندگی کا سب سے اہم ذریعہ ہیں اور ان کی صفائی بیماریوں سے بچاؤ کا پہلا قدم ہے۔آج یہ دن دنیا کے درجنوں ممالک میں منایا جاتا ہے اور ہر سال مختلف تھیمز کے ذریعے لوگوں کو آگاہی دی جاتی ہے۔2026ء کا تھیم ''ایکشن جانیں بچاتا ہے - محفوظ دیکھ بھال صاف ہاتھوں سے شروع ہوتی ہے‘‘۔ہاتھ دھونا کیوں ضروری ہے؟ہمارے ہاتھ دن بھر مختلف چیزوں کو چھوتے ہیں جیسے موبائل فون، دروازے، پیسے، کھانا، اور دیگر بہت سی اشیا۔ ان پر موجود جراثیم ہماری آنکھ، ناک اور منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں اور بیماری پیدا کر سکتے ہیں جیسا کہ اسہال، ٹائیفائیڈ،نزلہ زکام،ہیپاٹائٹس اے اورمختلف وائرل انفیکشنز۔ صابن سے ہاتھ دھونے کی عادت ان بیماریوں کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔ہمارے ہاں صفائی سے متعلق مسائل اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ کہیں صاف پانی کی کمی اور کہیں بے احتیاطی بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بنتی ہے۔اکثر لوگ صرف کھانے سے پہلے ہاتھ دھوتے ہیں لیکن صحیح طریقے اور وقت کی اہمیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بچوں میں پیٹ کی بیماریاں اسی وجہ سے عام ہیں۔اگر عوام میں صحیح آگاہی پیدا ہو جائے تو صحت کے مسائل میں واضح کمی آ سکتی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق ہاتھ دھونے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ صاف پانی سے ہاتھ گیلا کریں،صابن لگائیں، کم از کم 20 سے 30 سیکنڈ تک ہاتھ اچھی طرح رگڑیں، انگلیوں کے درمیان، ناخنوں اور کلائی تک صفائی کریں، صاف پانی سے دھو کر خشک کریں۔خاص طور پرکھانے سے پہلے اور بعد،بیت الخلا کے بعد،باہر سے گھر آنے کے بعد،کھانسی یا چھینک کے بعد اوربچوں کو چھونے سے پہلے ہاتھ ضرور دھونے چاہئیں۔بچوں اور سکولوں کا کرداربچوں کو چھوٹی عمر سے ہاتھ دھونے کی عادت سکھانا بہت ضروری ہے۔ سکول اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اگر روزانہ بچوں کو ہاتھ دھونے کی تربیت دی جائے تو وہ اس عادت کو اپنی زندگی کا معمول بنا سکتے ہیں۔ والدین کو بھی گھر میں اس عمل کو برقراررکھنا چاہیے تاکہ یہ ایک مستقل عادت بن جائے۔ہاتھ دھونے کا عالمی دن ہمیں ایک سادہ مگر انتہائی اہم سبق دیتا ہے وہ یہ کہ صفائی ہی صحت ہے۔ اگر ہم روزمرہ زندگی میں ہاتھ دھونے کی عادت کو اپنائیں تو نہ صرف بہت سی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ صحت مند معاشرہ بھی تشکیل دے سکتے ہیں۔ملک عزیز میں اس عادت کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں زیادہ صحت مند اور محفوظ زندگی گزار سکیں۔

آج کا دن

آج کا دن

نپولین بوناپارٹ کی وفاتنپولین بوناپارٹ 5 مئی 1821ء کو جزیرہ سینٹ ہیلینا میں انتقال کر گیا۔ نپولین نے فرانس میں انقلاب کے بعد اقتدار سنبھالا اور اپنی فوجی صلاحیتوں کے ذریعے یورپ کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ اس کی قیادت میں فرانس نے کئی اہم جنگیں جیتیں لیکن 1815ء میں واٹرلو کی جنگ میں شکست کے بعد اسے جلاوطن کر دیا گیا۔سینٹ ہیلینا ایک دور افتادہ جزیرہ تھا جہاں نپولین کو سخت نگرانی میں رکھا گیا۔ اس کی صحت جلاوطنی کے دوران بتدریج خراب ہوتی گئی۔ اس کی موت کے بارے میں مختلف نظریات بھی موجود ہیں تاہم زیادہ تر مورخین اسے معدے کے کینسر کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ جنگِ پیوبلا5 مئی 1862ء کو میکسیکو کے شہر پیوبلا میں میکسیکن فوج نے فرانسیسی افواج کے خلاف ایک اہم جنگ جیتی، جسے جنگِ پیوبلا کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ اس لحاظ سے اہم تھی کہ میکسیکو کی کمزور اور محدود وسائل رکھنے والی فوج نے فرانسیسی فوج کو شکست دی۔ جنرل اگناسو زاراگوزا کی قیادت میں میکسیکن فوج نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا اور دشمن کو پسپا کر دیا۔ اگرچہ یہ فتح جنگ کا فیصلہ کن موڑ نہیں تھی لیکن اس نے میکسیکن عوام کے حوصلے بلند کیے۔آج بھی 5 مئی کو میکسیکو میں Cinco de Mayoکے طور پر منایا جاتا ہے، جو میکسیکن ثقافت اور مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔ ایلن شیپرڈ کی خلا میں پرواز 5 مئی 1961 ء کو امریکہ کے خلا باز ایلن شیپرڈ خلا میں جانے والے پہلے امریکی انسان بنے۔ یہ مشن فریڈم 7 کے نام سے جانا جاتا ہے اور ناسا کے پروگرام ''مرکری‘‘ کا حصہ تھا۔ یہ ایک سب آربٹل پرواز تھی جو تقریباً 15 منٹ تک جاری رہی۔یہ واقعہ سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان خلائی دوڑ کا حصہ تھا۔ اس سے پہلے اپریل 1961ء میں سوویت خلا باز یوری گاگرین خلا میں جا چکے تھے اس لیے امریکہ کے لیے یہ کامیابی بہت اہم تھی۔شیپرڈ کی پرواز نے امریکی خلائی پروگرام کو نئی توانائی دی اور بعد میں چاند پر انسان بھیجنے کے منصوبے کی بنیاد رکھی۔ یورپ میں دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ 5 مئی 1945ء کو نیدرلینڈز میں جرمن افواج نے اتحادی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے جس کے نتیجے میں اس ملک کو آزادی حاصل ہوئی۔ یہ دن یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے آخری مراحل میں سے ایک اہم دن تھا۔نیدرلینڈز کئی سالوں سے نازی جرمنی کے قبضے میں تھا اور وہاں کے عوام نے شدید مشکلات برداشت کیں۔ 5 مئی کو آزادی کے اعلان نے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔آج بھی نیدرلینڈز میں اس دن کو Liberation Day کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ILOVEYOU وائرس کا پھیلاؤ 5 مئی 2000ء کو دنیا کے سب سے خطرناک کمپیوٹر وائرسز میں سے ایک ''ILOVEYOU‘‘ وائرس نے تیزی سے پھیلنا شروع کیا۔ یہ وائرس ای میل کے ذریعے پھیلتا تھا ۔جیسے ہی صارف متاثرہ فائل کو کھولتا وائرس کمپیوٹر کے ڈیٹا کو نقصان پہنچاتا اور خودبخود مزید لوگوں کو ای میل کر دیتا۔ اس وائرس نے دنیا بھر میں لاکھوں کمپیوٹرز کو متاثر کیا اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔یہ وائرس فلپائن سے شروع ہوا تھا اور اس نے سائبر سکیورٹی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں انٹرنیٹ سکیورٹی کے قوانین اور نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا۔