ارسطو (ایک عظیم فلسفی)
اسپیشل فیچر
ارسطو (384تا322قبل مسیح)از منہ قدیم کا عظیم ترین فلسفی اورسائنس دان تھا۔ اس نے باضابطہ منطق کے مطالعہ کا آغاز کیا۔ فلسفہ کی قریب ہر شاخ میں خاطر خواہ کام کیا اورسائنس میں متعدد اضافے کیے۔آج ارسطو کے متعدد نظریات متروک ہوچکے ہیں۔ تاہم اس کے انفرادی نظریات سے کہیں زیادہ اہم اس کی تحریروں میں موجود ایک عقلی رویہ ہے۔ ارسطو کی تحریروں میں یہ رویہ بین ہے کہ انسانی زندگی اورمعاشرے کا ہرپہلو تفکر اورتجزیہ کا موزوں موضوع بن سکتا ہے۔ اس نظریہ کے برعکس کہ کائنات کاانتظام ایک اندھے اتفاق یا جادو یا متلون مزاج الہامی ہستیوں کی ترنگ کے تحت چل رہا ہے، ارسطو کا رویہ عقلی قوانین کے تحت پنپتا ہے۔ یعنی یہ خیال کہ انسان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ طبیعی دنیا کے ہر پہلو کی ایک باضابطہ تحقیق کرے۔ اس سے اس روایت نے فروغ پایا کہ ہمیں اپنے نتائج اخذ کرنے کے لیے تجرباتی مشاہدات اورمنطقی توجیہات دونوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔ ان رویوں کے مجموعہ نے جو روایت پسندی، سریت پسندی اوراوہام پرستی کے برعکس ہے، مغربی تہذیب پر ان مٹ نقوش مرتب کیے ہیں۔ارسطو کی پیدائش مقدونیہ کے ایک قصبہ سٹاگیرا میں384 قبل مسیح میں ہوئی۔ اس کاباپ ایک ممتاز طبیب تھا۔ سترہ برس کی عمر میںارسطو، ایتھنز میں افلاطون کی ’اکادمی‘ میںداخل ہوا۔ بیس برس وہ وہاں رہا۔ افلاطون کی موت کے تھوڑے عرصہ بعد ہی اس نے اکادمی چھوڑ دی۔ ارسطو کو اپنے باپ کے توسط سے علم حیاتیات اورعملی سائنس میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ افلاطون کی زیرنگرانی اس کی فلسفیانہ استغراق میں دلچسپی بڑھی۔342 قبل مسیح میں ارسطو مقدونیہ واپس آکر بادشاہ کے تیرہ سالہ بیٹے کاذاتی معلم بنا۔ جسے بعد ازاں سکندر اعظم کے نام سے جانا گیا۔ ارسطو نے متعدد برس سکندر کی تعلیم وتربیت کی۔ 335قبل مسیح میں سکندر کی تاج پوشی کے بعد ارسطو واپس ایتھنز آیا، جہاں اس نے اپنا مدرسہ ’لاسیم‘(Lyceum) کے نام سے قائم کیا۔ اگلے بارہ برس اس نے ایتھنز میں بتائے۔ ارسطو کا یہ دورسکندر کی عسکری فتوحات کے سلسلہ سے میل نہیں کھاتا۔ سکندر نے اپنے سابقہ معلم سے اس ضمن میں کوئی مشورہ نہیں لیا۔ لیکن وہ اس کی علمی تحقیقات کے لیے فراخدلی سے مالی امداد فراہم کرتا رہا۔ غالباً یہ تاریخ میں پہلی مثال تھی کہ ایک سائنس دان کو اپنی تحقیقات کے لیے اس قدربڑی مقدارمیں حکومتی امداد میسر آئی۔ جبکہ اگلی کئی صدیوں میں بھی اس کی کوئی مثال موجود نہیں تھی۔تاہم سکندر سے اس کے روابط میں کچھ قباحت بھی تھی۔ سکندر کے آمرانہ انداز حکومت کے باعث ارسطو کی مخالفت بھی ہوئی اورجب فاتح نے ارسطو کے بھانجے کو غداری کے الزام میں گردن زد کیا تو دراصل یہ ارسطو کے خلاف ہی ایک رد عمل تھا۔ 323قبل مسیح میں سکندر کی موت کے بعد مقدونیہ دشمن عناصر نے ایتھنز میں اقتدار حاصل کیا۔ ارسطو پر الحاد کاا لزام لگایا گیا۔ چھہتر(76)برس پہلے ہونے والے سقراط کے انجام کے پیش نظر ارسطو شہر سے فرار ہوگیا۔ اس نے کہا کہ وہ ا یتھنز کو فلسفہ کے خلاف گناہ کے ارتکاب کا دوسرا موقع ہرگز نہ دے گا۔ چند ماہ بعد ہی باسٹھ(62) برس کی عمر میں 322قبل مسیح میں جلاوطنی میں ہی وہ چل بسا۔ارسطو کی تحریروں کی تعداد ہی حیران کن ہے۔ قدیم قاموسوں میں اس کی کتابوں کی تعداد170لکھی جاتی ہے جن میں سے سنتالیس باقی بچ سکیں۔ لیکن محض اس کی کتابوں کی تعداد ہی نہیں، اس کی تبحر علمی بھی فی الاصل حیرت انگیز ہے۔ اس کی سائنسی تحریروں میں اس دور کے سائنسی علوم پرمشتمل ایک قاموس بھی شامل ہے۔ ارسطو نے علم فلکیات، حیوانیات، عمل تولید، جغرافیہ، علم طبقات الارض، طبیعات، علم الابدان اورعلم افعال اعضا کے علاوہ قدیم یونانیوں کے علم کی قریب ہرشاخ میں بے پایاں کام کیا۔ اس کی سائنسی تحریروں کاایک حصہ پہلے سے حاصل شدہ معلومات کی تدوین وترتیب پرمشتمل ہے۔ کچھ حصہ ان معلومات پرمبنی ہے، جو اس کے اجرت دار معاونین نے اس کے لیے حاصل کی تھیں۔ جبکہ باقی حصہ خود اس کے اپنے لاتعداد مشاہدات کانتیجہ ہے۔ علم کے ہر میدان میں ایک کہنہ مشق ماہر کی حیثیت حاصل کرنا بڑی زیر کی کا کام ہے۔ ارسطو کا رتبہ اس سے کہیں بلند ہے۔ وہ ایک حقیقی فلسفی بھی تھا۔ اس نے نظریاتی فلسفہ کے ہرشعبے میں اہم اضافے کیے۔ اس نے جن موضوعات پرلکھا، وہ یوں ہیں: اخلاقیات، مابعد الطبیعات، نفسیات، معاشیات، الہیات، سیاسیات، خطابت اورجمالیت۔اس نے تعلیم و تدریس، شاعری، وحشی رسوم و رواج اورایتھنز کے آئین پر بھی خامہ فرسائی کی۔ اس کا ایک کام متعدد ریاستوں کے آئین کو ایک جگہ جمع کرنا تھا، جو اس کے تقابلی جائزے کا موضوع تھے۔ان میں غالباً سب سے اہم کام اس کا منطق کانظریہ تھا۔بعد کی تمام مغربی فکر پرارسطو کے اثرات بے پایاں ہیں۔ ازمنہ قدیم و وسطی میں اس کی تحریروں کے لاطینی، شمی، عربی، اطالوی، فرانسیسی،عبرانی، جرمن اورانگریزی زبانوں میں تراجم ہوئے۔ بعد کے یونانی مصنفین نے اس کی تحریروں کوپڑھا اورسراہا۔ بازنطینی فلاسفر بھی اس سے متاثر تھے۔ اسلامی فلسفہ پر اس کے بڑے گہرے اثرات پڑے۔ صدیوں تک اس کی فکر نے یورپی فکر پرراج کیا۔ عربی فلاسفہ میں سب سے معروف فلسفی ابن رشد نے اسلامی الہیات اورارسطو عقلیت پسندی کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی تھی ۔