گھر کی صفائی کیسے کی جائے
اسپیشل فیچر
گھر چھوٹا ہو یا بڑا،ا س میں خواہ کس قدر خوبصورت، خوشنما، نفیس یا قیمتی ساز و سامان اور اشیا کیوں نہ موجود ہوں، اگر وہ گرد آلود ہوں گی یا داغ دھبوں سے بھری ہو ں گی تو ان کی قیمت ان کی خوبصورتی و نفاست سب گرد و آلائش کے نیچے دب کرماند پڑ جائے گی۔ پھر ذرا چاندی کی گراں قیمت اور منقش ایسی سجاوٹی پلیٹ جسے صاف نہ کرنے کی وجہ سے داغ دھبے لگے ہوں اور مٹی جمی ہو مٹی کے صاف ستھرے اور چمکتے ہوئے گلدان سے موازنہکریں تو آپ یقینا مٹی کے گلدان یا سوتی پوشش والے صوفے کو ہی پسند کریں گے۔ گندی چیزوں کو نہ صرف نگاہیں رد کرتی ہیں بلکہ انہیں استعمال کرنے یا ہاتھ لگانے کو بھی دل نہیں چاہتا۔ کسی کچے مکان کے فرش و دیوار اگر لیپ شدہ اور صاف ستھرے ہوں تو ذہن اور نگاہوں کو چپس اور ٹائلوں کے اس فرش سے کہیں زیادہ سکون اور فرحت فراہم کرتے ہیں جس پر جگہ جگہ دھبے پڑے ہوئے ہوں۔ صفائی سے چیزوں کی پائیداری میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ صفائی کا سب سے بڑا فائدہ و مقصد صحت اور تندرستی کو قائم رکھنا ہے۔ اس کے بڑے بڑے فوائد موجود ہیں۔ گھر میں سینکڑوں طرح کی چیزیں موجود ہوتی ہیں جن میں سے بعض کو تو ہر روز متعدد بار استعمال کیا جاتا ہے۔ اوربعض کو کبھی کبھار استعمال کیا جاتاہے۔ ان میں سے ہر ایک کی صفائی انتہائی ضروری ہے۔ لیکن گھر کی ہر ایک چیز کی چونکہ روزانہ تفصیلی صفائی کرنا ناممکن سا عمل ہے۔ اس لیے گھریلو صفائیاں تین حصوں میں منقسم کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً روزانہ صفائی ہفتہ وار صفائی اور موسمی صفائی۔روز مرہ کی صفائی :روز مرہ صفائی میں ایسی صفائیاں شامل ہیں جو روزانہ بآسانی کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً گھر میں جھاڑو لگانا، فرش پر کپڑا لگانا، چیزوں کی جھاڑ پونچھ کرنا، باورچی خانے اورغسل خانے کے برتنوں مثلاً فلش بیسن وغیرہ اورکوڑے کرکٹ کی ٹوکریوں اور ڈبوں کی صفائی دھلائی وغیرہ۔ روزانہ صفائی کے اقدامات مندرجہ ذیل ہیں:گھر کو تازہ ہوا لگوانا: صبح اٹھتے ہی پہلا کام گھروں کے دروازے کھڑکیاں وغیرہ کھولنا اور پردے ہٹانا ہے تاکہ رات بھر کی بند اور جراثیم آلود ہوا خارج ہو کر تازہ ہوا گھر میں داخل ہو سکے۔ اس طرح بدبو اور فضا میں گھٹن کے علاوہ کئی بیماریوں سے بھی تحفظ رہتا ہے۔بستروں کی درستگی:بستر سے اٹھتے ہی انہیں بچھا دینے کے بجائے اس کی چادروں، گدوں وغیرہ کو تھوڑی دیر کے لیے ہوا لگوانا ضروری ہے۔ تاکہ ان میں بھی تازگی پیدا ہو سکے۔ اگر بستر ہلکے ہوں تو کمرے سے باہر ہوا میں یا دھوپ میں پھیلا دیں اور وزنی بستروں کی صورت میں مثلا ً فوم یا سپرنگ کے گدوں کو پلنگ پر ہی موڑ کر دوہرا کردیں تاکہ ان کے نیچے سے ہوا گزر سکے۔ اور ان کی چادریں صحن میں پھیلا دیں۔ ناشتہ کرنے کے بعد انہیں جھاڑ کر صحیح طریقے سے بچھایا جا سکتا ہے۔ اور اگر جھاڑو بھی صبح ہی لگانا ہو تو اس کے بعد انہیں بچھایا جا سکتا ہے۔ اس کا انحصار صفائی کے اوقات پر ہے۔جھاڑو لگانا : جھاڑ و مختلف قسم کے ہوتے ہیں جن کا انتخاب فرش کی سطح کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فرش پر برش بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جھاڑو لگانے سے بیشتر مندرجہ ذیل اقدامات پر عمل کرنا چاہیے۔۱۔ متعدد چھوٹی چھوٹی اشیا جو ایک گروپ میں اکٹھی پڑی ہوں۔ مثلاً کتابیں، سجاوٹی چیزیں، کھلونے وغیرہ، ان کو کپڑے یا کاغذ سے ڈھانپ دینا چاہیے تاکہ گرد آلود ہو کر ان کی صفائی میں دقت پیدا نہ ہو۔۲۔ کمرے میںپڑے ہوئے ایش ٹرے یا انگیٹھی وغیرہ کی راکھ اور سگریٹ کے ٹکڑے جمع کر کے انہیں کمرے میںپڑی ہوئی ٹوکری یا ڈبے میں گرا کرخالی کر لیں۔ خاکستر دان کو حسب ضرورت دھو کر خشک ہونے کے لیے اوندھا رکھ دیں۔۳۔ کمرے میں جھاڑ و لگانے سے بیشتر کمرے میں میز پوش پلنگ پوش یا اسی طرح کے لٹکتے کپڑوں کے کناروں کو اٹھا کر اوپر کی طرف موڑ دیں۔ یا دوہرا کریں تاکہ وہ محفوظ رہیں اور صفائی بھی چیزوں کے نیچے تک ٹھیک طرح ہو سکے۔۴۔ قالین، غالیچے یا فرشی دری پر برش یا بانسی جھاڑو لگائیں اور چھوٹے چھوٹے غالیچوں اور پائیدان کو الٹا کر کے دھوپ میں کسی چیز کے سہارے ڈال دیں۔۵۔ قالین کی صفائی کرتے وقت برش اس کے بر کے رخ پھیریں تاکہ گرد و غبار اندر دھنسنے کی بجائے ٹھیک طرح سے نکل سکے اور بر بھی نہ اکھڑے۔ قالین کے کناروں تک صفائی کر کے انہیں اندرونی جانب موڑدیں تاکہ فرش کی صفائی کے دوران اس کے نیچے تک صفائی ہو سکے۔ ۶۔ دیواروں اور کونوں میں جہاں تک ہاتھ پہنچ سکتا ہے جھاڑو سے پہلے ان اونچی جگہوں سے صفائی کریں تاکہ ان کی گرد زمین پر گر جائے۔۷۔ جھاڑ و لگاتے وقت جس قدر ہو سکے دیوار کے ساتھ ساتھ فرش کے کونوں تک صفائی کرنی چاہیے۔ تاکہ لگے جالے صاف ہو جائیں اور آئندہ جالوں سے حفاظت رہے۔ اس کے علاوہ کرسیوں میزوں چارپائیوں اور دیگر فرنیچر کے پائے اٹھا کر نیچے سے صفائی کریں اور سارے کمرے کا کوڑا کرکٹ ایک جگہ جمع کر کے کمرے میں رکھے ڈبوں یا ٹوکری میں ڈال دیں اور اسے کمرے سے باہر نکال دیں۔۸۔ جھاڑو لگاتے وقت زور سے تیز تیز ہاتھ چلا کر صفائی نہیں کرنی چاہیے۔ اس سے دھول ایک جگہ سے اڑ کر دوسری چیزوں پر پڑنے لگتی ہے۔ اس لیے جھاڑو یا برش ہمیشہ آہستگی سے مگر قدرے دبا کر لگانا چاہیے۔