انسانی تہذیب کا آغاز کیسے ہوا؟
اسپیشل فیچر
جب تک شکار انسانی خوراک کی فراہمی کا بڑا ذریعہ رہا اسے ہر دم جانوروں کے ساتھ ساتھ نقل مکانی کے لیے تیار رہنا پڑتا تھا۔ چنانچہ وہ خانہ بدوشی کی زندگی گزار رہا تھا۔ نباتاتی خوراک اور جانوروں پر انحصار کرنے والے مقیم قبائل کو بھی لازماً نقل مکانی کرنا پڑتی کیونکہ جلد یا بدیر وہ اپنے گردوپیش میں موجود وسائل خرچ کرلیتے۔گلہ بانی کے بعد بھی انسان کی خانہ بدوشی ختم نہ ہوئی۔ زیادہ چرائی یا موسم کی تبدیلی کے باعث چراگاہیں ان گلوں کے لیے ناکافی پڑ جاتیں تو اسے دوسرے جگہ منتقل ہونا پڑتا۔ کم و بیش آٹھ ہزار قبل مسیح میں، اسی علاقے میں جہاں جانوروں کو پالتو بنایا گیا تھا، ایک اور کام ہوا جو آگ کی دریافت اور اس پر قابو پانے کے بعد سب سے بڑا انقلاب تھا۔ یہ کام پودوں کو ’’پالتو‘‘ بنایا جانا تھا۔ کسی نہ کسی طور انسان نے شعوری سطح پر بیج ڈالنا، اس کے پھوٹنے کا انتظار کرنا، پانی دینا، پکنے کا انتظار کرنا اور اس دوران اس کے مقابلے پر آنے والے پودوں کو تلف کرنا سیکھ لیا۔ اب پودے کاشت اور خوراک کے لیے استعمال کئے جا سکتے تھے۔ سخت محنت طلب کام کا نتیجہ بہرحال بہت اچھا تھا۔ شکار اور پھل اکٹھے کرنے سے کہیں زیادہ مقدار میں خوراک حاصل ہوئی۔ گلہ بانی بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی کیونکہ پودے بہرحال جانوروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ گلہ بانی اور زراعت، خصوصاً زراعت کے باعث زمین کا ایک خاص ٹکڑا پہلے کسی بھی دور کے مقابلے میں زیادہ انسانوں کی کفالت کر سکتا تھا۔ بھوک کم ہوئی، شیرخوارگی اور طفولیت کی اموات میں کمی آئی اور آبادی بڑھنے لگی۔ شمالی عراق میں گندم اور جَو خودرو اگتی تھی۔ پہلی بار انہیں کاشت کیا گیا۔ چنانچہ عراق سے زراعت کا آغاز ہوا۔ اناج کے دانے پیس کر آٹا بنایا جاتا جو مہینوں خراب نہ ہوتا اور پھر اس سے لذیذ اور قوت بخش روٹیاں بنائی جانے لگیں۔ خوراک کی باافراط فراہمی کے باوجود کاشتکاروں کو اپنی مشقت ایک طرح کی غلامی محسوس ہوتی۔ جانوروں کے استعمال سے بھی اس مشقت کا بار ہلکا نہ ہوا ہوگا۔ کاشتکاری نے ہی انسان کو پہلی بار زمین کے ساتھ نتھی کر دیا۔ جب کوئی اپنے کھیت آباد کر لیتا تو ’’آوارگی‘‘ ختم ہو جاتی۔ کاشتکار کو اپنی کھیتی کے پاس رہنا پڑتا کیونکہ وہ اسے ساتھ اٹھائے نہیں پھر سکتا تھا۔ اس جامد زندگی کے اپنے خطرات تھے۔ کاشتکار سے قبل شکار، پھل وغیرہ اکٹھے کرنے اور حتیٰ کہ گلے بانی کے زمانے میں بھی خطرات سے بچ نکلنا آسان تھا۔ کوئی بھوکا قبیلہ حملہ آور ہوتا تو مقابلے کا اہل نہ ہونے کی صورت میں بھاگ نکلتا یا پھر جو موجود ہوتا اسے پیش کر دیتا اور اپنی جان چھڑا لیتا۔ لیکن کاشتکار بھاگ نہیں سکتا تھا۔ بصورت دیگر وہ ساری زندگی کی محنت آنکھوں کے سامنے برباد ہوتے دیکھتا اور پھر بھوکوں مرتا۔ کاشتکاری کے صدقے آبادی بھی بڑھ چکی تھی اور سوائے کاشتکاری کے خوراک کی فراہمی کا اور کوئی ذریعہ اس کا پیٹ نہیں بھر سکتا تھا۔ اس لیے کاشتکاروں کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہ رہا کہ بجائے بھاگنے کے غنیم کے مقابلے کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ چنانچہ وہ اپنی حفاظت میں اکٹھے ہو گئے، انہوں نے کوئی بلند جگہ منتخب کی ہوگی۔ یوں وہ زیادہ سہولت اور قوت سے حملہ آور پر ہتھیار پھینک سکتے ہوں گے جبکہ حملہ آور کو ہتھیار نیچے سے اوپر پھینکنا ہوں گے جو کم مؤثر ثابت ہوتے ہوں گے۔ اپنی حفاظت میں ٹیلوں یا نسبتاً پر پناہ لینے والوں نے پانی کی محفوظ فراہمی کا بھی اچھا انتظام کیا ہوگا۔ آپ خوراک کے بغیر کچھ عرصہ زندہ رہ سکتے ہیں لیکن پانی کے بغیر چند دن سے زیادہ نہیں۔ ان ٹیلوں پر وہ چھوٹے چھوٹے اور حفاظتی دیوار سے گھرے گھر بناتے ہوں گے۔ یوں آہستہ آہستہ شہر وجود میں آئے جہاں کے باسی شہری کہلاتے تھے۔ شمالی عراق کے جس علاقے میں گلہ بانی اور کاشتکاری کا آغاز ہوا اس کے قریب ہی ایک نہایت قدیم شہر کے آثار ملے ہیں جو غالباً آٹھ ہزار برس قبل مسیح آباد کیا گیا ہوگا۔ یہ جگہ آج جامرو کہلاتی ہے۔ 1948 میں ایک امریکی ماہر آثار قدیمہ رابرٹ جے بریڈورڈ نے اس ٹیلے کی نہایت احتیاط سے کھدائی کی۔ اسے وہاں چھوٹے چھوٹے کمروں میں منقسم گھر ملے جو مٹی سے بنائے گئے تھے۔ اس شہر کی آبادی ایک سے تین سو نفوس پر مشتمل رہی ہوگی۔ اس کے بعد شہروں کی آبادیاں بڑھتی چلی گئیں۔ زراعت سے کاشتکاروں کے لیے اپنے کنبوں کی ضرورت سے زیادہ اناج پیدا کرنا ممکن ہوا۔ انسان کے لیے پہلی بار ممکن ہوا کہ وہ اگلے پہر کے کھانے کے علاوہ بھی کچھ سوچ سکے، اور پھر شہروں میں رہائش کے باعث افراد اور خاندانوں کا باہمی تعامل آسان اور زیادہ ہو گیا۔ یوں خیالات اور اختراعات کی ترسیل اور اس کے نتیجے میں ان کی ترقی و ترویج کی رفتار بڑھ گئی۔ زراعت اور شہروں کا مطلب ایک نئے اور پیچیدہ تر طرززندگی کا ظہور تھا جسے ہم تہذیب (سویلائزیشن) کا نام دیتے ہیں۔ سویلائزیشن ایک لاطینی لفظ سے مشتق ہے جس کا مطلب شہر کے رہنے والے ہیں۔ زیر تہذیب علاقہ شروع میں بہت چھوٹا تھا لیکن اس کا پھیلاؤ مسلسل جاری رہا حتیٰ کہ پورے کرہ ارض پر محیط ہو گیا۔ (ترجمہ: محمد ارشد رازی)