فارابی کا نظریہ ریاست
اسپیشل فیچر
متعدد مسلم مفکرین نے اسلام کی تشریح یونانی فلسفے کی روشنی میں کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سیاسی افکار پر افلاطون اور ارسطو کا اثر ہے۔ انھیں افلاطون کی اس رائے سے کامل اتفاق تھا کہ قانون ہی ریاست کی اصل اور واحد اساس ہے، جس کو آگے بڑھاتے ہوئے انھوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ جس ریاست کی بنیاد سراسر شریعت پر ہو اور وہ شریعت کی بالادستی پر یقین رکھتی ہو، وہ ریاست صحیح معنوں میں ’’اسلامی‘‘ ہے۔ لیکن اگر کسی ریاست میں شریعت نافذ نہ کی گئی ہو یا یہ محض انسان کے اپنے خودساختہ قوانین کے نفاذ کے لیے بنائی گئی ہو، وہ اسلامی نہیں ہوگی۔ان مسلم مفکرین کا عقیدہ یہ بھی رہا ہے کہ شریعت کے اصلی اور گہرے اسرار و معانی صرف فلسفے کے ذریعے سمجھ میں آسکتے ہیں۔ابونصر محمدبن محمد فارابی مسلّمہ طور پر پہلا سیاسی مفکر تھا۔ افلاطون اور ارسطو کے افکار کے زیر اثر ہونے کے باوجود اْس نے اپنی طرف سے اہم اور دلچسپ اضافے کیے۔ اپنے یونانی اساتذہ کی مانند فارابی کو بھی انسان کے حقیقی مقصد سے گہری دلچسپی تھی۔ اساتذہ کی مانند اس نے بھی انسان کا مقصد ’’حصولِ مسرّت‘‘ قرار دیا تھا۔ لیکن فارابی نے جس نکتے پر خاص زور دیا، وہ یہ تھا کہ انسان مکمل اور حقیقی مسرّت صرف اسی وقت حاصل کرسکتا ہے جب وہ زندگی شریعت کے مطابق بسر کرے۔ ’’مسرت‘‘ اور ’’کاملیت‘‘ انسان تنہائی میں حاصل نہیں کرسکتا۔ ان کے حصول کے لیے اسے لازماً دوسرے انسانوں کے ساتھ سول سوسائٹی بناکر رہنا پڑے گا۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست کا قیام انسان کے لیے ضروری ہوگیا، کیونکہ ’’مسرت‘‘ جماعت یا معاشرے میں باہمی مدد و تعاون کے ذریعے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ فارابی کے نزدیک مثالی ریاست وہ ہوتی ہے جس میں شہریوں کو ’’دوگونہ‘‘ مسرت حاصل کرنے کی سہولتیں دی جاتی ہوں، جیسا کہ اسلام نے قرار دیا ہے، ایک موجودہ دنیا میں خوشحالی حاصل کرنے کی مسرت، اور دوسرے آخرت میں مسرت حاصل کرنے کی تیاری۔فارابی کے نزدیک وہی مثالی ریاست حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے جس میں حکمرانی پیغمبر، قانون ساز، فلسفی، امام کی سرکردگی میں انجام پائی ہو۔ سادہ لفظوں میں کامل اور مثالی ریاست وہی تھی جس پر نبی کریمﷺنے بحیثیت امام حکومت کی تھی، کیونکہ آنحضورﷺ کا اللہ تعالیٰ سے براہِ راست رابطہ تھا، جس کا قانون بذریعہ وحی حضورﷺ پر نازل ہوا، جس کے گہرے اسرار و معانی آنحضورﷺ بطور فلسفی بخوبی جاننے کی قدرت رکھتے تھے۔ فارابی کا نظریہ ہماری سمجھ میں اسی وقت آسکتا ہے جب ہم نبوّت کے بارے میں اس کے نظریات سے بھی کماحقہ واقفیت رکھتے ہوں۔ اس کا عقیدہ تھا کہ جو لوگ ریاست مدینہ میں اس وقت رہائش پذیر تھے جب اس پر آنحضورﷺ کی حکمرانی تھی، وہی لوگ تھے جن کو حقیقی مسرت و کاملیت نصیب ہوئی اور انھوں نے اپنی حقیقی تقدیر کا فہم حاصل کیا۔ چونکہ رسولِ کریمﷺ امام المطلق یعنی قانون کے حتمی شارح تھے، لہٰذا وہ مثالی ریاست (المدینۃ الفاضلہ) کے مثالی فرماں روا تھے۔چونکہ پیغمبر، قانون ساز، فلسفی، امام کی عدم موجودگی میں مثالی یا کامل ریاست کی تشکیل عملاً ناممکن تھی، اس لیے فارابی نے غیر کامل ریاست کی چند مختلف صورتیں گنوائی ہیں۔ کچھ غیر کامل ریاستیں فارابی نے استاد افلاطون کی تصانیف سے اخذ کی ہیں، اور کچھ غیر کامل ریاستیں اْس کے اپنے ذہن کی ایجاد ہیں۔ چند غیر کامل ریاستیں یہ ہیں:__ جو زندگی کی بنیادی ضروریات کی کفالت کرنے تک محدود ہو (المدینۃ الضروریہ)__ قابلِ نفرت، حقیر، خراب ریاست (الشہوہ) __ جابرانہ ریاست (التغلّب)__ جمہوری ریاست (المدینۃ الجمعیہ) __ مکار، منافق ریاست (الفاسقہ)__ ناکام ریاست (المبادلہ) __ گمراہ اور غلط کار ریاست (الضلۃ) فارابی تمام غیر کامل ریاستوں کو ’’جاہلیہ‘‘ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ایسی ریاستوں کے شہری کبھی حقیقی مسرت حاصل نہیں کرسکتے۔ دلچسپ اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ فارابی الجمعیہ ریاست کو اپنے مثالی یا المدینۃ الفاضلہ کے تصوّر کے قریب تر خیال کرتا ہے۔ المدینۃ الفاضلۃ غالباً اْس کے ذہن میں خلفائے راشدین کا جمہوری دور تھا ۔ ٭…٭…٭۔۔