بچوں کی نیند
اسپیشل فیچر
پیدائش کے بعدبچے بہت کم جاگتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔ دراصل اکثر تندرست بچے اپنی زندگی کے پہلے چند مہینوں میں زیادہ تر سوئے رہتے ہیں۔ لیکن بچوں کی طبیعتوںمیں فرق بھی پایا جاتا ہے۔ بعض بچے گہری نیند سوتے ہیں اور شور ان کی نیند میں رخنہ نہیں ڈالتا۔ لیکن بعض بچوں کی آنکھ فوراً کھل جاتی ہے۔ بچے کو ہمیشہ ایسی جگہ سلایا جائے جہاں شور نہ ہو اور اس کے ہونے کا امکان بھی کم ہو۔ چوتھے مہینے تک بچہ قریب قریب بیس گھنٹے یومیہ سوتا ہے۔ ابتدائی عرصے میں یہ دورانیہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ پھر وہ زیادہ دیر تک جاگنا شروع کر دیتا ہے۔ اسی وقت اس کے سونے اور جاگنے کی ایسی عادت شروع ہوجاتی ہے جو لڑکپن یا جوانی میں مستقل صورت اختیار کر لیتی ہے۔ چھ ماہ سے زیادہ عمر کے بچے کبھی کبھی رات کے وقت جلدی سونا نہیں چاہتے۔ اس پر پریشان نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی بچے کو زبردستی سلانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بچے کی خواہش کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔تاہم ہلکی پھلکی کوشش ضروری کی جاسکتی ہے۔ اگر ایسے موقع پر ماں بچے سے پیار کرے اور اسے تھپک کرسلانا چاہے تو بچہ مطمئن ہو جائے گا اور اسے نیند آ سکتی ہے۔ رات کے وقت ماں کو بچے کی خاطر اپنی نیند کو قربان کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ بعض بچے رات کو رونا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر بچے کا بستر پیشاب کی وجہ سے گیلا ہو گیا ہے تو ماں کو فوراً بچے کے نیچے خشک اور نرم کپڑا بچھا دینا چاہیے سردی کے موسم میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ بچے کو سردی لگ جائے اور وہ بیمار ہو جائے۔ آج کل ڈائپر نے ماؤں کی مشکل آسان کر دی ہے۔چھ اور نو مہینوں کے درمیانی عمر کے بچے عام طور پر صبح اور سہ پہر کے وقت تھوڑی دیر سوتے ہیں۔ بچہ جاگتا ہے تو بہتریہی ہے کہ اسے سیر والی گاڑی سے نکال کر فرش پر جہاں غالیچہ اور موٹا کمبل بچھاہوا ہو لٹا دیا جائے تاکہ وہ اچھی طرح اپنے ہاتھ پیر ہلائے اور اس کے اعضا کھل جائیں۔ جب وہ ایک سال کا ہو جائے گا تو اسے دن میں صرف ایک مرتبہ سونے کی ضرور ت ہو گی۔ اب اس بات کا فیصلہ کرنا ماں کا اہم کام ہے کہ اپنی سہولت کے مطابق بچے کو کس وقت سلانا شروع کرے۔بچے کی صحت کے لیے یہ بہتر ہے کہ دودھ پلانے سے پہلے اسے فرش یاچارپائی پر لٹا کر ہاتھ پیر ہلانے کاموقع دیا جائے۔ اس معاملے میں قدرت خود بچے کی رہنمائی کرتی ہے اور بچہ ہاتھ پیر ہلانے کی ورزش کرتا ہے۔ کس قدر نادان ہیں وہ مائیں جنہوںنے یہ سمجھ لیا ہے کہ بچے سے پیار اور اس کی پرورش کا یہی تقاضا ہے کہ اسے ہروقت گود میں رکھا جائے۔ اور وقت بے وقت اسے دودھ پلا دیا جائے۔ پیدائش کے بعد عموماًچھ ماہ تک تو بچہ اپنی ماں کے ساتھ ہی سوتا ہے کیونکہ اس عمرمیں ماں کو اس کی خوراک دودھ، نیند اور آرام کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے لیکن چھ ماہ کے بعد مناسب یہی ہے کہ وہ اپنی چارپائی کے ساتھ اس کی چھوٹی سی چارپائی بچھا دے۔ تاکہ وہ الگ سونے کاعادی ہو جائے۔ رات کے وقت جب اس کی آنکھ کھل جائے تو اسے یہ اطمینان ہو کہ میری ماں میرے پاس ہے۔ اگر بچے کو علیحدہ چارپائی پر سلانے کا انتظام نہ کیا گیا تو بچہ قدرتی طور پر یہ چاہے گا کہ رات کے وقت ماں کے ساتھ ہی سویا کرے۔ ماں کو اس بات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے کہ بچے کا بستر نہایت صاف اور خشک رہے۔ بچہ اس قدر نازک بدن ہوتاہے کہ اس کی صحت کسی گندی شے کے اثر سے بہت جلد متاثر ہوجاتی ہے۔ اس معاملے میں ماں کی بے پروائی سے بچے کے بیمارہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اگر بچہ منہ کے بل سویا ہوا ہے یا اس کا سر بستر کے کپڑوں کی وجہ سے ڈھکا ہوا ہے تو ماں کو چاہیے کہ بچے کا منہ اوپر کی طرف کر دے اور اس کے سر سے کپڑے ہٹا لے۔ منہ کے بل سونے اور بستر کے کپڑوں سے سر کے ڈھک جانے سے اس امر کا خطرہ ہوتا ہے کہ بچے کا تنفس نہ ر ک جائے۔ غرض ماں کو اپنی نیند پوری کرنے سے پہلے بچے کی نیند کے متعلقہ فرائض بجا لانے کے معاملے میں حتی الامکان پوری احتیاط سے کام لینا چاہیے۔٭…٭…٭