عظیم کیمیا دان جابر بن حیان
اسپیشل فیچر
جابر بن حیان کا شمار اولین کیمیا دانوں میں ہوتا ہے۔ انہیں بابائے کیمیا بھی کہا جاتا ہے۔ اہل مغرب انہیں ’’Geber ‘‘کے نام سے جانتے ہیں۔ جابر بن حیان کی پیدائش 721ء کو طوس یا خراسان میں ہوئی۔ جابر کا تعلق عرب کے جنوبی حصے کے ایک قبیلے اذد سے تھا۔ ان کی پیدائش ان کے باپ کی جلاوطنی کے دوران میں ہوئی۔ بہت چھوٹی عمر میں ہی باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔آپ کم عمری میں کوفہ آ گئے۔جابر بن حیان کا روزگار دوا سازی اور دوا فروشی تھا یعنی جابر بن حیان ایک حکیم بھی تھے۔ جوان ہونے کے بعد انہوں نے کوفہ میں رہائش اختیار کی۔ اس زمانے میں کوفہ میں علم و تدریس کے کافی مواقع تھے۔ کوفہ میں جابر نے امام جعفر صادقؒ کی شاگردی اختیار کی جن کے مدرسے میں مذہب کے ساتھ ساتھ منطق، حکمت اور کیمیا جیسے مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ اس وقت کی رائج یونانی تعلیمات نے ان پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ علم حاصل کرنے کے دوران میں انھوں نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو سونا بنانے کے جنون میں مبتلا دیکھا تو خود بھی یہ روش اپنا لی۔ کافی تجربات کے بعد بھی وہ سونا تیار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ لیکن کیمیا میں حقیقی دلچسپی کی وجہ سے انھوں نے تجربات کا سلسلہ ختم نہ کیا۔ انھوں نے اپنے والد کے آبائی شہر کوفہ میں اپنی تجربہ گاہ تعمیر کی۔ خلیفہ ہارون الرشید کے ایک وزیر کی چہیتی بیوی شدید بیمار ہوئی۔ بہت سارے علاج کرانے کے بعد بھی شفا نہ ہوئی۔ جب وزیر اس کی زندگی سے مایوس ہو گیا تو اس نے ایک حکیم سے رجوع کیا۔ اس حکیم نے صرف ایک دوا شہد میں ملا کر ایک گھونٹ پلائی۔ مریضہ فوراً صحت یاب ہوگئی۔ یہ دیکھ کر وزیر اس حکیم کے پیروں پر گر گیا ۔ یہ حکیم جابر ابن حیان تھا جس کی مہارت نے حاکم وقت کے دل میں گھر کر لیا۔ وہ ہمہ وقت کسی نہ کسی سوچ اور تجربے میں منہمک رہتے۔ ان کے گھر نے تجربہ گاہ کی صورت اختیار کر لی تھی۔ سونا بنانے کی لگن میں انہوں نے بے شمار حقائق دریافت کئے اور متعدد ایجادات کیں۔جابر بن حیان نے اپنے علم کیمیا کی بنیاد اس نظریے پر رکھی کہ تمام دھاتوں کے اجزائے ترکیبی گندھک اور پارہ ہیں۔ مختلف حالتوں میں اور مختلف تناسب میں ان دھاتوں کے اجزائے ترکیبی ملنے سے دیگر دھاتیں بنیں۔ ان کے خیال میں دھاتوں میں فرق کی بنیاد اجزائے ترکیبی نہیں بلکہ ان کی حالت اور تناسب تھا۔ لہٰذا معمولی اور سستی دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرنا ممکن تھا۔ ان میں مشاہدہ ذہانت لگن اور انتھک محنت کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی۔جابر نے ایک آلہ ایجاد کیا جسے قرع النبیق کہتے ہیں۔ اس کے دو حصے تھے۔ ایک حصہ میں کیمیائی مادوں کو پکایا جاتا اور مرکب سے اٹھنے والی بخارات کو نالی کے ذریعہ آلہ کے دوسرے حصہ میں پہنچا کر ٹھنڈا کر لیا جاتا تھا۔ یوں وہ بخارات دوبارہ مائع حالت اختیار کر لیتے۔ کشیدگی کا یہ عمل کرنے کے لیے آج بھی اس قسم کا آلہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک دفعہ کسی تجربے کے دوران میں قرع النبیق میں بھورے رنگ کے بخارات اٹھے اور آلہ کے دوسرے حصہ میں جمع ہو گئے جو تانبے کا بنا ہوا تھا۔ حاصل شدہ مادہ اس قدر تیز تھا کہ دھات گل گئی۔ جابر نے مادہ کو چاندی کے کٹورے میں ڈالا تو اس میں بھی سوراخ ہو گئے۔ چمڑے کی تھیلی میں ڈالنے پر بھی یہی نتیجہ نکلا۔ جابر نے مائع کو انگلی سے چھوا تو وہ جل گئی۔ اس کاٹ دار اور جلانے کی خصوصیت رکھنے والے مائع کو انہوں نے تیزاب کا نام دیا۔ پھر اس تیزاب کو دیگر متعدد دھاتوں پر آزمایا لیکن سونے اور شیشے کے علاوہ سب دھاتیں گل گئیں۔ جابر بن حیان مزید تجربات میں جٹ گئے۔ آخر کار انہوں نے بہت سے کیمیائی مادے بنائے۔ جابر بن حیان نے کیمیائی مرکبات مثلاً کاربونیٹ، آرسینک، سلفائیڈ اور الکحل کو خالص تیار کیا۔ انھوں نے الکحل، شورے کے تیزاب یا نائٹرک ایسڈ اور نمک کے تیزاب یا ہائیڈروکلورک ایسڈ اور فاسفورس سے دنیا کو پہلی بار روشناس کرایا اس کے علاوہ انھوں نے دوعملی دریافتیں بھی کیں۔ ایک تکلیس کرنا یعنی آکسائیڈ بنانا اور دوسرے تحلیل یعنی حل کرنا۔ جابر بن حیان کیمیاکے متعدد امور پر قابلِ قدر نظری و تجرباتی علم رکھتے تھے۔کیمیا کے فن پر اس کے تجربات بہت اہم ہیں۔ انہوں نے متعدد کتابیں تحریر کیں۔ آپ کا انتقال 815ء میں ہوا۔ ۔۔