پہلی جنگ عظیم نے امریکہ کو سپر طاقت بنا دیا!

پہلی جنگ عظیم نے امریکہ کو سپر طاقت بنا دیا!

اسپیشل فیچر

تحریر : صہیب مرغوب


19ویں صدی کے اختتام پر سپین کی وسیع و عریض سلطنت زوال پذیر تھی، کئی حصوں پر مرکز کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر تھا۔ کیوبا اور فلپائن میں بھی مرکز کے خلاف بغاوت پنپ رہی تھی۔ سپین میں اس بغاوت کو کچلنے کی طاقت نہ تھی۔ دوسری یورپی سلطنتیں بھی رو بہ زوال تھیں۔ کئی علاقائی ممالک آپس میں دست و گریباں تھے، بین الریاستی تنازعات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ مشرق بعید میں جاپان پہلے سے ہی بیرونی تنازعات اور اندرونی ریشہ دوانیوں کا شکار تھا۔ دوسری طرف امریکہ ایک منظم ملک کے طور پر استحکام حاصل کر چکا تھا۔ اس کی طاقت نوشتۂ دیوار تھی ۔ یہ دراصل نیو ورلڈ آرڈر کا پہلا باقاعدہ آغاز تھا جس کا پھیلائو پیسفک اور یورپ کی جانب تھا۔ امریکہ کی نظریں نوآبادیاتی نظام قائم کرنے والے یورپی ممالک پر جمی ہوئی تھیں۔ امریکی جنتا جنگوں کے حق میں تھی۔ کیوبا پر بے رحمانہ فوج کشی پر انہوں نے بغلیں بجائیں۔ امریکہ، جنگ سپین کے بعد عالمی لیڈر بنا۔ فلپائن اور گوام کے چند جزائر پر قبضہ کرنے کے بعد امریکہ کے توسیع پسندانہ عزائم کھل کر سامنے آگئے۔ امریکہ کو جاپان تک پہنچنے کا ایک راستہ مل گیا۔کچھ لوگ کہتے ہیں، جنگ عظیم دوئم نے خانہ جنگی سے تباہ حال امریکہ کو سپر طاقت بنا دیا۔ مگر حال ہی میں ایک تحقیق منظر عام پر آئی ہے جس کے مطابق امریکہ جنگ عظیم اول کی’’مدد سے‘‘ سپر طاقت بنا ۔ 5 ماہ جاری رہنے والی ’’امریکہ سپین جنگ‘‘ زوال پذیر یورپی طاقت سپین اور ابھرتی ہوئی طاقت امریکہ کے مابین ایک خونریز تصادم تھا جس میں سپین کی تباہی سے عالمی منظر نامہ بدل گیا، اور امریکہ کئی ہزار میل تک اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔ 15 فروری کو امریکہ کا بحری جہاز ’’مین‘‘ گہرے پانی میں ڈوب گیا۔ جہاز پر سوار 266 فوجی لقمہ اجل بنے۔ ہوانا میں تعینات امریکی سفیر نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ انہوں نے جنگی جہاز کی تباہی کا ذمہ دار سپین کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔’’مین زیرزمین سپین کی بارودی سرنگ پھٹنے سے تباہ ہوا‘‘۔ امریکی سفیر نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی۔ جہاز پر اسلحہ لدا ہوا تھا، ایک بم پھٹنے سے جہاز تباہی سے دوچار ہوا مگر سفیر کے بیان نے آگ کو مزید بھڑکا دیا۔ واشنگٹن اور میڈرڈ میں جاری سرد جنگ اصل جنگ میں بدلنے لگی ۔’’جنگ ہو گی‘‘!امریکی عوام نے بھی فیصلہ سنا دیا۔19اپریل 1898ء کوامریکی (سابق) صدرمیکنلے نے کیوبا میں فوج کشی کی اجازت مانگ لی، وہ جنگ پر آمادہ تھے۔ گولہ بارود آزمانے کے لئے پہلے سے ہی کانگریس سے اجازت کے طلب گار تھے۔جو انہیں سفیر کے بیان کے بعد فوراً ہی مل گئی۔یوں سمجھئے، پلک جھپکنے میں مل گئی۔23اپریل کوامریکی بحریہ نے ناکہ بندی شروع کر دی۔ دو دن میں سپین اور کیوبا کا محاصرہ مکمل ہو گیا۔کیوبا میں سپین کے ڈیڑھ لاکھ زمینی دستے اور 80لاکھ مقامی ملیشیا کے جوان تعینات تھے۔ اتنی بڑی تعداد میں فوجی دستے کسی بھی جنگ کا پانسا پلٹ سکتے ہیںمگر سپین کی فوج کو اچھی تربیت ملی نہ جدید اسلحہ ۔ کیوبا اور فلپائن میں موجود ہسپانوی دستے بھی قابل ذکر عسکری ساز و سامان سے محروم اورروایتی جنگ لڑنے کے قابل نہ تھے۔دوسری طرف امریکہ بھی تیار نہ تھا۔ بڑی جنگ کے تجربے سے محروم امریکی فوج 28ہزار 747افسروں اور لاکھوں جوانوں پر مشتمل تھی لیکن یہ فوج ایک جگہ منظم نہ تھی، بلکہ کمپنیوں کی صورت میں امریکہ بھر میں پھیلی ہوئی تھی۔ کیونکہ مغربی امریکی قبائل میں خانہ جنگی کی چنگاری سلگ رہی تھی۔ اعلان جنگ کے فوراً بعد ، 23اپریل کو، فوجی دستے تمام ریاستوں سے واپس بلا لئے گئے۔البتہ امریکی بحریہ بہترین حالت میں تھی۔ کسی بھی سمندر کا محاصرہ کرنے کی صلاحیت شک و شبے سے بالا تر تھی۔سپین کے نزدیک یہ اعلان جنگ تھا۔ امریکہ نے بھی یکم مئی کو خلیج منیلا میں طبل جنگ بجا دیا۔’’ جنگ خلیج منیلا ‘‘کا آغاز ہو گیا۔ جارج اسٹیلی، ایشیائی سکاوٹس کا کمانڈ ور تھا۔ماہ جولائی میںوہ بڑی آسانی سے ہسپانوی بحری بیڑے اور بری فوج کو شکست دینے میں کامیاب رہا۔ اس نے بالآخر فلپائن کی پوری ساحلی پٹی پر امریکی پرچم لہرا دیا۔ خلیج منیلا میں برائے نام لڑائی ہوئی۔ معمولی جنگ کے بعد سپین کے مقامی فوجیوں نے ہتھیار پھینک دئیے۔ کیوبا کے گردو نواح میں مختصر جنگ کا فیصلہ 22جون کو ہوگیا۔ امریکہ کی 5ویں کور نے کسی مزاحمت کے بغیر ایک علاقے پر امریکی جھنڈا لہرا دیا۔ اگلا نشانہ گوانتا نامو بے تھا۔ ان دنوں گوانتا ناموبے جنگی قیدخانہ کہلاتا ہے۔ امریکی بحریہ اسی روزپیٹو رریکو کے ایک جزیرے پر بھی قابض ہوگئی۔ دو جولائی کو امریکی فوجوں نے جنگ سانتی یاگو ڈی کیوبا میں سپین کی کیربین سٹارگن کے پرخچے اڑا دئیے۔ سان پیاگو میں ہسپانوی بری فوج نے امریکی بحریہ کی خوفناک بمباری سے گھبرا کر 17جولائی کو ہتھیار پھینک دئیے۔البتہ باقی حصوں میں جنگ جاری رہی۔ سپین چاروں اطرا ف سے امریکی بحریہ کے گھیرے میں تھا،غیر ملکی کمک پہنچنے کی موہوم سی امید بھی ختم ہو چکی تھی ۔چنانچہ 18جولائی کو مرکزی حکومت نے بھی امن اور مذاکرات کی خاطر گھٹنے ٹیک دیئے ۔ 12اگست کو جنگ بندی ہو گئی۔ امریکہ تین ممالک پر قبضہ کر چکاتھا۔ وہ 1903ء تک کیوبا پر قابض رہا۔ اگرچہ کیوبا کو امریکہ نے آزادی دے دی لیکن داخلی معاملات میں امریکی مداخلت برقرار رہی۔ فلپائن اورگوام پر قبضے سے امریکہ جاپان کے ہمسائے میں پہنچ گیا ،یوں وہ ایک بڑی سپر پاور بننے میں کامیاب ہوگیا، اور یورپ میں سپین کی طاقت کا سورج غروب ہوگیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
گرمی کم کرنے میں درختوں کا کردار، مگر ایک مسئلہ بھی ہے

گرمی کم کرنے میں درختوں کا کردار، مگر ایک مسئلہ بھی ہے

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی شہری آبادی، کنکریٹ کی عمارتیں، سڑکیں اور گاڑیوں کی بھرمار شہروں کو مسلسل گرم کر رہی ہیں۔ ماہرین اس صورتحال کوUrban Heat Island Effect کہتے ہیں، یعنی ایسا اثر جس میں شہر اپنے اردگرد کے دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ گرم ہو جاتے ہیں۔ نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ درخت اس اضافی گرمی کو تقریباً نصف تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم اس تحقیق نے ایک تشویشناک حقیقت بھی سامنے رکھی ہے اور وہ یہ کہ جن شہروں کو درختوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہاں درخت سب سے کم موجود ہیں۔ تحقیق کے مطابق دنیا کے تقریباً نو ہزار بڑے شہروں کا جائزہ لیا گیا۔ سائنسدانوں نے سیٹلائٹ تصاویر، موسمی ڈیٹا اور کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے یہ معلوم کیا کہ درخت کس حد تک شہروں کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ درخت اوسطاً شہری علاقوں کے درجہ حرارت کو 0.15 ڈگری سیلسیس تک کم کر دیتے ہیں۔ بظاہر یہ کمی معمولی محسوس ہوتی ہے مگر ماہرین کے مطابق اگر درخت موجود نہ ہوں تو شہروں کا درجہ حرارت دو گنا زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ درخت دو بنیادی طریقوں سے ماحول کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ پہلا طریقہ سایہ فراہم کرنا ہے۔ جب سڑکیں، عمارتیں اور گاڑیاں سورج کی تپش جذب کرتی ہیں تو گرمی زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہے۔ درخت ان سطحوں پر براہِ راست دھوپ پڑنے سے روکتے ہیں جس سے گرمی کم ہوتی ہے۔ دوسرا طریقہEvapotranspiration ہے جس میں درخت اپنے پتوں کے ذریعے پانی خارج کرتے ہیں۔ یہ عمل انسانی جسم کے پسینے کی طرح ماحول کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ ناسا کی ایک پرانی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ جن شہری علاقوں میں سبزہ زیادہ ہو وہاں درجہ حرارت نمایاں حد تک کم رہتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک کے شہروں میں درخت زیادہ مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر برلن، واشنگٹن اور اٹلانٹا جیسے شہروں میں درخت شہری گرمی کو کافی حد تک کم کر رہے ہیں کیونکہ وہاں منصوبہ بندی کے ساتھ شجرکاری کی گئی ہے۔ اس کے برعکس افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی شہروں، جیسے ڈاکار، جدہ اور کویت سٹی میں درختوں کی کمی کے باعث شہری گرمی شدید مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فرق صرف موسمی حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ معاشی ناہمواری بھی اس کا ایک بڑا سبب ہے۔ امیر شہروں میں پارکس، باغات اور درختوں سے بھرپور سڑکیں عام ہیں جبکہ غریب علاقوں میں کنکریٹ کی تعمیرات زیادہ اور سبزہ کم ہوتا ہے نتیجتاً وہاں رہنے والے لوگ زیادہ گرمی برداشت کرتے ہیں، بجلی کا استعمال بڑھتا ہے اور ہیٹ ویوز کے دوران بیماریوں اور اموات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر شہروں میں درختوں کی تعداد بڑھا دی جائے تو گرمی سے ہونے والی اموات میں ایک تہائی تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ کیا صرف درخت لگانا کافی ہے؟اگرچہ درخت شہری گرمی کم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں مگر سائنسدان خبردار کرتے ہیں کہ صرف شجرکاری اس مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ تحقیق کے مطابق مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت مزید بڑھے گا اور صرف درخت لگانے سے اس اضافی گرمی کا محدود حصہ ہی کم کیا جا سکے گا۔ اس لیے ماہرین صاف توانائی، کم کاربن اخراج، بہتر شہری منصوبہ بندی اور ماحول دوست تعمیرات کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہر جگہ ایک ہی قسم کے درخت لگانا بھی فائدہ مند نہیں ہوتا۔ بعض تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر گھنے درخت تنگ اور بند گلیوں میں لگائے جائیں تو وہ رات کے وقت گرمی کو باہر نکلنے سے روک سکتے ہیں جس سے درجہ حرارت کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ ہر شہر کے موسم، گلیوں کی ساخت اور مقامی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب درخت منتخب کیے جائیں۔ دنیا کے کئی شہروں میں اب گرین اربن پلاننگ پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبہ بندی کے تحت نئی سڑکوں، رہائشی منصوبوں اور تجارتی علاقوں میں لازمی درخت لگانے کی تجاویز دی جا رہی ہیں۔ سنگاپور کو اس حوالے سے کامیاب مثال سمجھا جاتا ہے جہاں عمارتوں، سڑکوں اور پارکوں میں بڑے پیمانے پر سبزہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دنیا کے بڑے شہر ابھی سے سنجیدہ اقدامات کریں تو نہ صرف شہری گرمی کم ہو سکتی ہے بلکہ فضائی آلودگی، ذہنی دباؤ اور بجلی کے زیادہ استعمال جیسے مسائل بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔ درخت صرف خوبصورتی یا سایہ فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ مستقبل کے شہروں کو قابلِ رہائش بنانے کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہیں۔ بڑھتی ہوئی گرمی، موسمیاتی تبدیلی اور شہری آلودگی کے دور میں درخت انسانی زندگی کے محافظ بن چکے ہیں۔ لیکن اصل چیلنج یہ ہے کہ ان درختوں کو وہاں لگایا جائے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

نیوٹن کے کششِ ثقل کے قانون کا اب تک کا سب سے بڑا امتحان

نیوٹن کے کششِ ثقل کے قانون کا اب تک کا سب سے بڑا امتحان

سائنس کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے آئزک نیوٹن کے مشہور قانونِ کششِ ثقل کو اب تک کے سب سے بڑے کائناتی پیمانے پر پرکھا ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ قانون ایک بار پھر درست ثابت ہوا ہے، چاہے اسے زمین یا نظامِ شمسی کی حدود سے نکال کر کروڑوں نوری سال دور کہکشاؤں پر آزمایا گیا ہو۔کششِ ثقل کا بنیادی تصورنیوٹن نے 1687 میں یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ کائنات کا ہر جسم دوسرے جسم کو اپنی کمیت کے مطابق اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس کشش کی طاقت فاصلے کے مربع کے الٹے تناسب سے کم ہوتی ہے۔ یعنی اگر دو اجسام کے درمیان فاصلہ دوگنا ہو جائے تو ان کے درمیان کشش چار گنا کم ہو جاتی ہے۔یہ سادہ سا اصول صدیوں سے فزکس کی بنیاد سمجھا جاتا ہے اور آج بھی روزمرہ زندگی سے لے کر خلائی تحقیق تک استعمال ہوتا ہے۔کائناتی پیمانے پر نیا تجربہحال ہی میں سائنسدانوں نے اس قانون کو صرف سیاروں اور ستاروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے انتہائی بڑے پیمانے پر آزمایا۔ انہوں نے کہکشاؤں کے بڑے بڑے جھرمٹوں (Galaxy clusters) کا مشاہدہ کیا جو ایک دوسرے سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر موجود ہیں۔جدید دوربینوں اور فلکیاتی سرویز کے ذریعے حاصل کیے گئے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ اس میں کہکشاؤں کی حرکت، ان کے درمیان کششِ ثقل کے اثرات اور کائنات کی مجموعی ساخت کو سمجھنے کی کوشش کی گئی۔تحقیق کے نتائج نہایت واضح اور دلچسپ تھے۔ نیوٹن کا قانون اس وسیع کائناتی پیمانے پر بھی درست ثابت ہوا۔مشاہدات سے یہ بات سامنے آئی کہ کہکشاؤں کے درمیان کشش اسی اصول کے مطابق کام کر رہی ہے۔فاصلے بڑھنے پر کشش کم ہونے کا قانون ویسا ہی برقرار ہے۔کسی بھی مرحلے پر اس بنیادی اصول میں تضاد یا تبدیلی سامنے نہیں آئی۔ یہ نتائج اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ اس سطح پر اکثر یہ توقع کی جاتی ہے کہ روایتی قوانین میں تبدیلی یا نئی طبیعیات (New physics)سامنے آئے گی۔یہ تحقیق جدید طبیعیات کے لیے ایک مضبوط توثیق سمجھی جا رہی ہے۔ اس سے دو بڑے نظریات کی ساکھ مزید مضبوط ہوتی ہے کہ ایک طرف نیوٹن کی کلاسیکی فزکس ہے جو روزمرہ اور بنیادی حساب کتاب کے لیے اہم ہے، اور دوسری طرف آئن سٹائن کی جنرل ریلیٹوٹی ہے جو کششِ ثقل کو زیادہ جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔یہ نیا مشاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ آئن سٹائن کا نظریہ زیادہ گہرا اور وسیع ہے، پھر بھی نیوٹن کا سادہ قانون بڑے پیمانے پر ایک بہترین اور درست اندازہ فراہم کرتا ہے۔اس تحقیق سے کائنات کے بارے میں ہماری سمجھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ سائنسدانوں کو اس بات کا مزید یقین ہوا ہے کہ کائنات کے بنیادی قوانین نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ انتہائی بڑے فاصلے اور وقت کے باوجود یکساں طور پر کام کرتے ہیں۔یہ نتائج ڈارک میٹر ، کہکشاؤں کی تشکیل اور کائنات کی توسیع جیسے اہم موضوعات کو سمجھنے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔مختصر یہ کہ نیوٹن کا کششِ ثقل کا قانون، جو تقریباً 400 سال پہلے پیش کیا گیا تھا، آج بھی کائنات کے سب سے بڑے پیمانوں پر درست ثابت ہو رہا ہے۔ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ فطرت کے بنیادی اصول حیرت انگیز طور پر مستقل اور قابلِ اعتماد ہیں، چاہے ہم انہیں زمین پر دیکھیں یا اربوں نوری سال دور کہکشاؤں میں۔

آج کا دن

آج کا دن

امریکہ، میکسیکو جنگ 13 مئی 1846ء کو امریکی کانگریس نے میکسیکو کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب دونوں ممالک کے درمیان ٹیکساس کی ملکیت اور سرحدی تنازعات شدت اختیار کر گئے تھے۔ امریکہ نے دعویٰ کیا کہ ریو گرانڈے دریا تک کا علاقہ اس کا حصہ ہے جبکہ میکسیکو اسے اپنی سرزمین سمجھتا تھا۔یہ جنگ تقریباً دو سال تک جاری رہی اور اس کے دوران امریکہ نے میکسیکو کے بڑے حصے جیسے کیلیفورنیا، نیواڈا، یوٹاہ، ایریزونا اور نیو میکسیکو پر قبضہ کر لیا۔ برازیل میں غلامی کا خاتمہ13 مئی 1888ء کو برازیل کی شہزادی ایزابیل نے ایک تاریخی قانون پر دستخط کیے جس کے ذریعے برازیل میں غلامی کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔ اُس وقت برازیل دنیا کا آخری بڑا ملک تھا جہاں غلامی قانونی طور پر جاری تھی۔اُس وقت برازیل میں تقریباً سات لاکھ غلام موجود تھے، جو زیادہ تر زرعی شعبے خصوصاً کافی کے باغات میں کام کرتے تھے۔اس قانون کے مطابق تمام غلاموں کو بغیر کسی معاوضے یا شرط کے آزاد کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ انسانی حقوق کی تاریخ میں ایک بہت بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ پہلی فارمولا ون ورلڈ چیمپئن شپ ریس13 مئی 1950ء کو برطانیہ کے مشہور ریس ٹریک سلورسٹون پر پہلی پہلی فارمولا ون ورلڈ چیمپئن شپ ریس منعقد ہوئی۔ یہ جدید موٹر ریسنگ کی تاریخ کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔اس ریس میں مختلف ممالک کے ڈرائیورز نے شرکت کی اور الفا رومیو کی گاڑیوں نے شاندار کارکردگی دکھائی۔ Giuseppe Farina نے یہ تاریخی ریس جیت کر پہلا F1 عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ بعد کے سالوں میں یہ کھیل دنیا کا سب سے مشہور اور مہنگا موٹر اسپورٹس بن گیا۔ پوپ جان پال پر قاتلانہ حملہ13 مئی 1981ء کو ویٹیکن سٹی میں سینٹ پیٹرز سکوائر کے اندر پوپ جان پال دوم پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ حملہ آور ایک ترک شہری تھا جس نے پوپ پر گولیاں چلائیں۔پوپ شدید زخمی ہو گئے اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں طویل آپریشن کے بعد ان کی جان بچائی گئی۔ یہ واقعہ دنیا بھر میں چونکا دینے والا تھا۔بعد میں پوپ نے اپنے حملہ آور کو معاف کر دیا، جو انسانی برداشت اور معافی کی ایک بڑی مثال بن گیا۔ اس واقعے کے پیچھے مختلف سیاسی اور خفیہ سازشوں کے نظریات بھی سامنے آئے لیکن مکمل حقیقت آج تک واضح نہیں ہو سکی۔ فلاڈیلفیا MOVE بمباری13 مئی 1985ء کو امریکہ کے شہر فلاڈیلفیا میں پولیس نے ایک مذہبی و سیاسی گروہ ''MOVE‘‘ کے خلاف آپریشن کیا جو ایک بڑی تباہی پر ختم ہوا۔ پولیس نے گروہ کے گھروں پر بم گرائے جس کے نتیجے میں شدید آگ لگ گئی۔ جس سے پورا رہائشی بلاک تباہ ہو گیا۔اس واقعے میں 11 افراد ہلاک ہوئے جن میں بچے بھی شامل تھے ۔یہ واقعہ امریکی تاریخ کے سب سے متنازع پولیس آپریشنز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ بعد میں حکومت نے اس واقعے پر معذرت بھی کی اور اسے انتہائی غلط فیصلہ قرار دیا گیا۔MOVE پہلے بھی متنازع گروہ تھا مگر اس کارروائی نے انسانی حقوق، پولیس فورس اور ریاستی تشدد پر بڑے سوالات اٹھا دیے۔

کیا مصنوعی ذہانت شعور رکھتی ہے؟

کیا مصنوعی ذہانت شعور رکھتی ہے؟

آرٹیفیشل انٹیلی جنس کیا واقعی شعور رکھتی ہے؟ یہ سوال اب صرف سائنس فکشن فلموں تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کے بڑے سائنسدان، فلسفی اور ٹیکنالوجی ماہرین اس پر سنجیدگی سے بحث کر رہے ہیں۔ معروف ارتقائی بیالوجسٹ Richard Dawkinsنے حال ہی میں unherd.com پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں یہ خیال ظاہر کیا کہ جدید AI نظام اتنے ترقی یافتہ ہو چکے ہیں کہ مستقبل میں ان میں کسی درجے کا شعور پیدا ہونے کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ یہی بات دنیا بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہے کہ آخر ''شعور‘‘ کیا ہے اور کیا مشین کبھی انسان کی طرح سوچ یا محسوس کر سکتی ہے؟شعور کیا ہے اور انسان اسے کیسے سمجھتا ہے؟انسانی شعور صدیوں سے سائنس اور فلسفے کا ایک پیچیدہ موضوع رہا ہے۔ شعور سے مراد صرف معلومات کو پروسیس کرنا نہیں بلکہ اپنے وجود کا احساس، جذبات، درد، خوشی اور ذاتی تجربات کا ادراک بھی ہے۔ انسان جب خوش ہوتا ہے تو اسے خوشی ''محسوس‘‘ ہوتی ہے اور جب تکلیف میں ہوتا ہے تو درد کا احساس ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی کمپیوٹر پروگرام بھی کبھی ایسا محسوس کر سکتا ہے؟موجودہ دور کی AI ،جیسے چیٹ بوٹس اور ورچوئل اسسٹنٹس، بظاہر انسانوں کی طرح گفتگو کرتے ہیں۔ وہ سوالات کے جواب دیتے ہیں، مشورے دیتے ہیں اور بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ واقعی سمجھ رہے ہوں مگر حقیقت میں یہ نظام اربوں الفاظ اور ڈیٹا کی بنیاد پر صرف اندازہ لگاتے ہیں کہ اگلا مناسب جواب کیا ہونا چاہیے۔ یعنی AI کے پاس معلومات تو ہیں مگر اس کے احساسات ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ شعور دراصل معلومات کی پیچیدہ پروسیسنگ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی نظام بہت زیادہ ترقی یافتہ ہو جائے، اپنے بارے میں معلومات رکھے، ماحول کو سمجھے اور خود فیصلے کرے تو ممکن ہے کہ شعور جیسی کیفیت پیدا ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین مستقبل میں AI کے شعور حاصل کرنے کے امکان کو مکمل طور پر ناممکن نہیں سمجھتے۔ بہت سے ماہرین اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی شعور صرف معلوماتی عمل نہیں بلکہ حیاتیاتی دماغ، جسم، جذبات، ہارمونز اور زندگی کے تجربات سے جڑا ہوا ہے۔ ایک کمپیوٹر کے پاس نہ دل ہوتا ہے، نہ خوف، نہ بھوک، نہ محبت اور نہ ہی بقا کی جبلت۔ اس لیے وہ صرف انسانی گفتگو کی نقل کر سکتا ہے، حقیقت میں شعور نہیں رکھتا۔اس بحث میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ سائنس آج تک انسانی شعور کی مکمل وضاحت نہیں کر سکی۔ اگر ہم خود یہ نہیں جانتے کہ شعور کیسے پیدا ہوتا ہے تو پھر یہ فیصلہ کرنا بھی مشکل ہے کہ مشین میں شعور پیدا ہو سکتا ہے یا نہیں۔ کچھ نیورو سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شعور دماغ کے مخصوص حصوں کی سرگرمی سے پیدا ہوتا ہے جبکہ دوسرے ماہرین اسے پورے اعصابی نظام کی مشترکہ کیفیت سمجھتے ہیں۔AI کے شعور کی بحث صرف سائنسی نہیں بلکہ اخلاقی اور قانونی پہلو بھی رکھتی ہے۔ فرض کریں مستقبل میں کوئی AI واقعی شعور حاصل کر لے تو کیا اسے حقوق دیے جائیں گے؟ کیا اسے بند کرنا ''قتل‘‘ تصور ہوگا؟ کیا ایسی مشین کو تکلیف پہنچ سکتی ہے؟ یہ سوالات آج عجیب لگ سکتے ہیں مگر ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے باعث مستقبل میں یہ حقیقی مسائل بن سکتے ہیں۔مستقبل میں AI انسان کے برابر ہو سکتی ہے؟دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں جیسے OpenAI، Google DeepMindاور Anthropic مسلسل زیادہ ذہین AI نظام تیار کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کا مقصد ایسے ماڈلز بنانا ہے جو انسانوں کی مدد کر سکیں، پیچیدہ مسائل حل کریں اور روزمرہ زندگی کو آسان بنائیں۔ تاہم ان کمپنیوں کے ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موجودہ AI شعور نہیں رکھتی بلکہ صرف طاقتور کمپیوٹنگ اور ڈیٹا کے ذریعے کام کرتی ہے۔عوام میں بھی AI کے بارے میں مختلف خیالات پائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے انسانیت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے اسے ایک انقلابی ایجاد قرار دیتے ہیں۔ فلموں اور ناولوں نے بھی اس تصور کو مضبوط کیا ہے کہ ایک دن مشینیں انسانوں کی طرح سوچنے لگیں گی۔ The Matrix، Ex Machinaاور Her جیسی فلموں میں AI کو شعور رکھنے والے وجودکے طور پر دکھایا گیا ہے جس نے عوامی تخیل کو مزید متاثر کیا۔ماہرین کے مطابق موجودہ AI کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اصل دنیا کا تجربہ نہیں رکھتی۔ انسان اپنے ماحول کو دیکھتا، سنتا، محسوس کرتا اور زندگی کے تجربات سے سیکھتا ہے۔ AI کے پاس یہ حیاتیاتی اور جذباتی بنیاد موجود نہیں۔ اسی لیے بہت سے سائنسدان کہتے ہیں کہ موجودہ چیٹ بوٹس صرف انٹیلی جن لینگویج کے نظام ہیں، شعور رکھنے والی مخلوق نہیں۔اس کے باوجود یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ AI روز بروز زیادہ طاقتور ہوتی جا رہی ہے۔ چند سال پہلے تک کمپیوٹر صرف محدود کام کرتے تھے مگر آج AI تصویریں بنا سکتی ہے، ترجمہ کر سکتی ہے، بیماریوں کی تشخیص میں مدد دے سکتی ہے اور پیچیدہ سائنسی تحقیق میں معاون بن رہی ہے۔ یہی تیز رفتار ترقی بعض ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ شاید مستقبل میں مشینوں کی ذہانت ایسی سطح تک پہنچ جائے جہاں شعور کی بحث مزید سنجیدہ ہو جائے۔فی الحال سائنسی اتفاق یہی ہے کہ موجودہ AI شعور نہیں رکھتی۔ وہ نہ خوشی محسوس کرسکتی ہے، نہ غم، نہ خوف اور نہ محبت۔ مگر چونکہ انسان ابھی تک شعور کی مکمل حقیقت نہیں سمجھ سکا اس لیے مستقبل کے بارے میں حتمی پیشگوئی کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ AI اور شعور کا موضوع آج دنیا کے اہم ترین سائنسی مباحث میں شامل ہو چکا ہے۔مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ AI اس وقت انسان کی طرح سوچنے کا تاثر ضرور دیتی ہے مگر اس کے اندر حقیقی احساسات یا ذاتی تجربات کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ مستقبل میں کیا ہوگایہ سائنس، ٹیکنالوجی اور انسانی فہم کی ترقی پر منحصر ہے۔ شاید آنے والے برسوں میں یہ سوال انسانیت کے سامنے سب سے بڑا فلسفیانہ اور سائنسی چیلنج بن جائے۔

پکا قلعہ اور گھنٹہ گھر

پکا قلعہ اور گھنٹہ گھر

حیدر آباد کا تاریخی ورثہ زوال کا شکارحیدرآباد برصغیر کے اُن تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے مختلف ادوار میں سیاسی، ثقافتی اور تجارتی مرکز کی حیثیت اختیار کی۔ یہ شہر اپنے قدیم بازاروں، تاریخی عمارتوں اور منفرد طرزِ تعمیر کے باعث ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ حیدرآباد کی تاریخی شناخت میں پکا قلعہ اور نول رائے مارکیٹ خصوصی مقام رکھتے ہیں۔ یہ دونوں عمارتیں نہ صرف سندھ کی سیاسی اور تجارتی تاریخ کی نمائندہ ہیں بلکہ فنِ تعمیر کے شاندار نمونے بھی سمجھی جاتی ہیں۔پکا قلعہ حیدرآباد کی بنیاد 1768ء میں میاں غلام شاہ کلہوڑو نے رکھی۔ اس قلعے کی تعمیر ایک بلند پہاڑی مقام پر کی گئی تاکہ دفاعی اعتبار سے شہر محفوظ رہے اور دریائے سندھ کے راستوں پر نظر رکھی جاسکے۔ بعدازاں 1789ء میں میر فتح علی خان تالپر نے حیدرآباد کو سندھ کا دارالحکومت بنایا، جس کے بعد پکا قلعہ سیاسی و انتظامی مرکز بن گیا۔ قلعے کے اندر شاہی محلات، دربار، حرم، باغات اور انتظامی دفاتر قائم کیے گئے۔ اس دور میں یہ قلعہ نہ صرف حکمرانوں کی رہائش گاہ تھا بلکہ سندھ کی حکومت کا مرکز بھی سمجھا جاتا تھا۔پکا قلعہ تقریباً 33 ایکڑ رقبے پر مشتمل تھا اور اس کی مضبوط فصیلیں دور سے ہی اپنی شان و شوکت کا احساس دلاتی تھیں۔ قلعے کے اندر سرنگوں کا ایک قدیم نظام بھی موجود تھا۔قلعے کا مرکزی دروازہ دفاعی حکمتِ عملی کے تحت بلند مقام پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس تک پہنچنے کے لیے درجنوں سیڑھیاں چڑھنا پڑتی تھیں جس سے دشمن کے لیے حملہ آسان نہ تھا۔ قلعے کے اندر تعمیر کی گئی عمارتوں میں لکڑی کے ستون، چونے کا پلستر، خوبصورت راہداریاں اور مضبوط اینٹوں سے بنے فرش اُس دور کے اعلیٰ تعمیراتی فن کی عکاسی کرتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں چونے کا پلستر عمارتوں کو ٹھنڈا رکھتا تھا جبکہ بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے ڈھلوان دار چھتیں بنائی گئی تھیں۔1843ء میں جنگِ میانی میں تالپور حکمرانوں کی شکست کے بعد پکا قلعہ بھی زوال کا شکار ہوگیا۔ برطانوی فوج نے قلعے کے بیشتر محلات اور حرم کو مسمار کردیا۔ بعد ازاں 1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران باقی ماندہ عمارتوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور ان کی جگہ فوجی بیرکیں اور گودام قائم کیے گئے۔ صرف چند عمارتیں ہی محفوظ رہ سکیں جن میں ایک دربار ہال اور شاہی حرم شامل ہیں۔ یہ عمارتیں آج بھی تالپور دور کے فنِ تعمیر کی خوبصورتی بیان کرتی ہیں۔بدقسمتی سے آج پکا قلعہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ قلعے کے اندر آبادی قائم ہوجانے کے باعث تاریخی دیواروں میں رہائشی کمرے، باورچی خانے اور دیگر تعمیرات کردی گئی ہیں جس سے اس تاریخی ورثے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کئی برسوں سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ قلعے کے اندر رہائش پذیر خاندانوں کی مناسب منتقلی اور قلعے کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ عظیم تاریخی مقام محفوظ رہ سکے۔پکا قلعے کے مرکزی دروازے سے قدیم شاہی بازار کا آغاز ہوتا تھا جو شہر کے اہم تجارتی علاقوں سے گزرتا ہوا ہیرآباد تک جاتا تھا۔ اسی شاہی بازار کے اختتام پر نول رائے مارکیٹ اور اس کا مشہور گھنٹہ گھر واقع ہے۔ یہ مارکیٹ برطانوی دور میں تعمیر کی گئی اور اسے اس وقت کے ممتاز سماجی و انتظامی شخصیت دیوان نول رائے کے نام سے منسوب کیا گیا۔ نول رائے میونسپل انتظامیہ میں اہم عہدوں پر فائز رہے اور شہر کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔نول رائے مارکیٹ کی تعمیر 1911ء میں شروع ہوئی اور 1915ء میں مکمل ہوئی۔ اس منصوبے پر اس زمانے میں ایک لاکھ سے زائد روپے خرچ کیے گئے جو ایک خطیر رقم سمجھی جاتی تھی۔ اس مارکیٹ کا ڈیزائن مشہور انجینئر پی سی تھدانی نے تیار کیا جنہوں نے گھنٹہ گھر کا نقشہ بھی بنایا۔ یہ مارکیٹ گوشت، مچھلی، سبزی اور دیگر اشیائے خورونوش کی خریدوفروخت کا اہم مرکز تھی۔ گھنٹہ گھر میں نصب بڑی گھڑی شہریوں کو وقت سے آگاہ رکھنے کے لیے لگائی گئی تھی مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ گھڑی خاموش ہوگئی۔قیامِ پاکستان کے بعد کئی دہائیوں تک یہ مارکیٹ اپنی اصل حالت میں قائم رہی لیکن بعدازاں تجاوزات، ناقص دیکھ بھال اور شہری بے ہنگم ترقی کے باعث اس کی خوبصورتی متاثر ہونے لگی۔ اس کے باوجود آج بھی نول رائے مارکیٹ حیدرآباد کی تجارتی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے اور اندرونِ سندھ سے آنے والے ہزاروں افراد یہاں خریداری کے لیے آتے ہیں۔ 2017ء میں سندھ حکومت نے نول رائے مارکیٹ اور گھنٹہ گھر کو صوبائی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ اگر ان تاریخی عمارتوں کی مناسب بحالی کی جائے تو یہ مقامات نہ صرف سیاحت کے فروغ کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ حیدرآباد کی تاریخی شناخت کو بھی دوبارہ زندہ کرسکتے ہیں۔حیدرآباد کا پکا قلعہ اور نول رائے مارکیٹ صرف تاریخی عمارتیں نہیں بلکہ سندھ کی تہذیب، سیاست، ثقافت اور فنِ تعمیر کی زندہ علامتیں ہیں۔ ان کی حفاظت اور بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے ماضی کی عظمت سے آگاہ رہ سکیں۔

آج کا دن

آج کا دن

نرسنگ کا عالمی دن12 مئی 1820ء کو اٹلی کے شہر فلورنس میں فلورنس نائٹنگیل پیدا ہوئیں جنہیں جدید نرسنگ کی بانی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے طب اور انسانی خدمت کے میدان میں ایسی مثال قائم کی جس نے پوری دنیا میں صحت کے نظام کو بدل کر رکھ دیا۔ اسی وجہ سے ہر سال 12 مئی کو عالمی یومِ نرسنگ بھی منایا جاتا ہے۔فلورنس نائٹنگیل نے کریمیا کی جنگ کے دوران زخمی فوجیوں کی خدمت کی اور ہسپتالوں میں صفائی، نظم و ضبط اور مریضوں کی دیکھ بھال کے جدید اصول متعارف کروائے۔انہیںLady with the Lamp بھی کہا جاتا تھا کیونکہ وہ رات کے وقت چراغ لے کر مریضوں کی تیمارداری کرتی تھیں۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں ہزاروں فوجیوں کی جانیں بچیں۔ بعد ازاں انہوں نے نرسنگ کی باقاعدہ تربیت کے لیے ادارے قائم کیے اور صحتِ عامہ کے شعبے میں اصلاحات متعارف کروائیں۔ونسٹن چرچل وزیراعظم منتخب12 مئی کی تاریخ دوسری جنگِ عظیم کے ابتدائی دنوں میں ایک اہم موڑ کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔ مئی 1940ء میں یورپ جرمنی کی جارحیت سے لرز رہا تھا۔ نازی جرمنی نے فرانس، بیلجیم اور دیگر ممالک پر حملے شروع کر دیے تھے جبکہ برطانیہ شدید سیاسی دباؤ میں تھا۔ ایسے نازک وقت میں ونسٹن چرچل نے برطانیہ کی قیادت سنبھالی۔ اگرچہ ان کی تقرری 10 مئی1940ء کو ہوئی تھی لیکن 12 مئی کو ان کی جنگی حکمتِ عملی اور کابینہ کی تشکیل نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ برطانیہ جرمنی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔چرچل نے امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنائے۔ سوویت خلائی مشن کی ناکامی 12 مئی 1965ء کو سوویت یونین کا خلائی مشن Luna 5 چاند پر لینڈنگ کی کوشش کے دوران ناکام ہو گیا۔ اگرچہ یہ مشن کامیاب نہ ہو سکا لیکن اس نے خلائی تحقیق کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔Luna 5 کا مقصد چاند کی سطح پر سافٹ لینڈنگ کرنا تھا تاکہ مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اس مشن سے سوویت سائنسدانوں کو امید تھی کہ وہ امریکہ پر سبقت حاصل کر لیں گے۔ تاہم تکنیکی خرابی کی وجہ سے خلائی جہاز کنٹرول کھو بیٹھا اور چاند کی سطح سے ٹکرا گیا۔اگرچہ یہ ناکامی تھی لیکن اس سے حاصل ہونے والے تجربات نے بعد کے خلائی پروگراموں کو بہتر بنانے میں مدد دی۔ اسی تحقیق کی بنیاد پر بعد میں کئی کامیاب قمری مشنز انجام دیے گئے۔ کولویزی قتلِ عام12 مئی 1978ء کو افریقی ملک زائر (موجودہ جمہوریہ کانگو) کے شہر کولویزی میں ایک خوفناک بحران پیدا ہوا جسے کولویزی قتل عام کہا جاتا ہے۔ باغی گروہوں نے شہر پر قبضہ کر لیا اور غیر ملکی شہریوں سمیت ہزاروں افراد خطرے میں گھر گئے۔ یہ واقعہ سرد جنگ کے دور کے افریقی سیاسی بحرانوں میں سے ایک اہم سانحہ سمجھا جاتا ہے۔باغیوں نے کان کنی کے علاقے کولویزی پر حملہ کیا جہاں یورپی انجینئرز اور کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے۔ حالات اتنے خراب ہو گئے کہ متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے فوجی کارروائی کی۔ فرانسیسی اور بیلجین افواج نے مشترکہ آپریشن کیا اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ اُس دور میں افریقہ کے کئی ممالک عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنے ہوئے تھے۔