مناظرِ فطرت اور اقبالؒ
اسپیشل فیچر
مناظرِ فطرت میں محمد اقبالؒ کے لیے بڑی کشش ہے۔ عالمِ فطرت کی منظر کشی یا اصلاحاً قدرتی شاعری میں ’’ہمالہ‘‘ محمد اقبالؒ کی پہلی نظم ہے۔ محمد اقبالؒ کی نگاہیں بالائے قلعہ سیالکوٹ سے شمال مغربی جانب پھیلے ہوئے سلسلہ کوہ اور اس کی برف پوش چوٹیوں کو دیکھتیں۔ اگرچہ انہوں نے خیال ہی خیال میں ہمالہ کا نظارہ کیا تھا لیکن ان کی قوت متخیلہ کا یہ عالم ہے، محرکات کی یہ خوبی ہے کہ جیسے ہمالہ اپنی ساری دل کشی اور گو نا گوں مناظر کو لیے ان کے سامنے ہے۔ حتیٰ کہ قاری کی آنکھوں میں بھی ہمالہ کی فلک بوس چوٹیوں ، ہوائوں کے طوفانوں، برف کے ریلوں، گھنے جنگلوں، سر سبز اور شاداب وادیوں، ان کی رنگین فضائوں، پھلوں پھولوں ، ندیوں اور آبشاروں کی تصویر پھر جاتی ہے۔ محمدا قبالؒ ادھر اُدھر بہتی، پتھروں اور چٹانوں سے ٹکراتی ہوئی نہروں کے سریلے گیت سنتے۔ شام کی خاموشی میں درختوں کو دیکھتے تو ایسا معلوم ہوتا جیسے درخت کسی سوچ میں کھڑے ہیں۔ ان پر تفکر کا سماں چھا رہا ہے۔ درخت کچھ سوچتے ہوں یا نہیں، محمد اقبالؒ ضرور سوچ رہے تھے کہ انسان کی ابتدائی زندگی کس قدر سادہ تھی۔ اس کی ابتدا شاید ہمالہ کی وادیوں سے ہوئی۔ یہ ابتدائے آفرینش میں انسان کی سادہ زندگی کا تصور جس پر غازہ رنگ تکلف کا داغ نہ ہو ایک قدرتی مگر رومانی سا جذبہ ہے جو اکثر دلوں میں پیدا ہو جاتا ہے۔ محمد اقبالؒ کا جی چاہتا تھا ہمالہ سے اس عہد کی داستان سنیں۔ ذہن بدھ مت کی طرف منتقل ہو گیا:بیخ جس کی ہند میں ہے چین و جاپاں میں ثمرپیروان بدھ کی زندگی کس قدر سادہ تھی۔ آبادیوں سے دور پہاڑوں اور جنگلوں کا رخ کرتے۔ ہر کسی کو سادگی کا سبق دیتے۔ مگر پھر ہمالہ ہی پر کیا موقوف ہے، محفل قدرت میں ہر کہیں حسن ہی حسن ہے:محفلِ قدرت ہے اک دریائے بے پایانِ حُسنآنکھ اگر دیکھے تو ہر قطرے میں ہے طوفانِ حُسنحسن کہاں نہیں ہے۔ محمد اقبالؒ کی حساس اور فلسفہ پسند طبیعت نے جہاں کہیں حسن و جمال کی جھلک دیکھی ذہن میں فکرووجدان کے دریچے کھل گئے۔ بزمِ قدرت کی رنگینیوں، اس کی زیبائی اور دل کشی کا نظارہ کیا تو خیال آیا انسان میں یہ حسن ورعنائی کہاں۔ خود ہی سمجھ گئے فطرت کا حُسن اور زیبائی غیر کی محتاج ہے۔ انسان آزاد ہے۔ انسان اپنی حقیقت کو پا لے تو سیہ بختی اور سیہ روزی کا شکوہ نہ کرے۔ ابر کو ہسار کو امنڈتے ہوئے دیکھا۔ پہاڑوں اور میدانوں پر چھا گیا۔ دشت ودر میں برسا، جل تھل ہو گیا۔ یہ بات سمجھ میں آئی کہ زندگی نام ہے فیض رسانی کا۔ ماہ نو پر نگاہ پڑی۔ ماہ نو کیا ہے؟ کسی خورشید کا کوئی ٹوٹا ہوا ٹکڑا ، عروس شام کی بالی، طشت گردوں سے شفق کا ٹپکا ہوا خون؟ نیل کے پانی میں سیم خام کی تیرتی ہوئی مچھلی یا قدرت کے نشتر نے آفتاب کی فصد کھول دی ہے۔ ماہ نو کہاں جا رہا ہے؟ ماہ نو کو نور طلب ہے۔ محمد اقبالؒ بھی نور کے طالب ہیں۔ گل پژمردہ نظر آیا تو معلوم نہیں وہ کیا احساس تھا جس نے ان سے یہ شعر کہلوایا:میری بربادی کی ہے چھوٹی سی اک تصویر توخواب میری زندگی تھی جس کی ہے تعبیر تویہی ذات انسانی کی نا تمامی، نارسائی، محرومی اور بے بضاعتی کی آتی جاتی کیفیات کا کوئی لمحہ۔گل رنگین کیا خوب ہے۔ رنگ وبو کا پیکر۔ اس کے لیے کوئی پریشانی ہے، نہ عقدۂ مشکل خود آگہی سے محروم سو زبانوں پر بھی چپ۔ گل رنگین کو جمعیت خاطر حاصل ہے۔ انسان جمعیت خاطر سے محروم ہے۔ تلاش و طلب میں سر گرداں۔ اس کے لیے کئی پریشانیاں ہیں، کئی عقدہ ہائے مشکل۔ مگر یہ پریشانیاں، یہ عقدہ ہائے مشکل ہی تو اس کی عقل و فکر کے لیے مہمیز ہیں۔ توسن ادراک کے لیے خرام آموز۔ آفتاب صبح بھی اگر ہنگامہ عالم کی زحمت کش نہیں تو نہ سہی۔ اس میں فضیلت کی کیا بات ہے۔ آفتاب بھی تو اپنے آپ سے نا محرم ہے۔ خاک آدم کے ایک ذرے کا ہمسر نہیں۔ انسان ہی وہ ہستی ہے جس کے سینے میں دل ہے۔ جسے نور حقیقت کی آرزو ہے ، جو ذوق طلب کا شناسا ہے، جسے راز قدرت کی جستجو ہے، جس کو درد استفہام ملا ہے ، جو سعی لا حاصل سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ محمد اقبالؒ کو عالم فطرت پر انسان کی برتری کا شعور ہے لیکن عالم فطرت میں بھی زندگی کے لیے کئی سبق ہیں۔ موج دریا کو دیکھیے۔ تنگیٔ دریا کی شاکی، فرقت بحر میں پریشاں، بہتی چلی جا رہی ہے۔ انسان بھی بایں ہمہ وسعت و پہنائی عالم کون و مکاں میں تنگی محسوس کرتا ہے۔ موج دریا کی طرح منزل مقصود کی طلب میں پریشان ہے۔ صبح کا ستارا شمس و قمر کا ہمسایہ ہے، مگر روز کے طلوع و غروب ، گویا روز کے مرنے جینے سے تنگ آ گیا ہے۔ حیات ابدی کا آرزو مند ہے۔ سوچتا ہے یہ ہوتا، وہ ہوتا، ستارا نہ ہوتا۔ بالآخر معلوم ہوا حیات ابدی کا راز ہے سوز عشق، اس سوز میں مرمٹنا۔پھر یہ مناظر فطرت کی رنگینیاں، اس کا حسن اور دل کشی ہی تھی جس سے محمد اقبالؒ کے فکر و وجدان کو تحریک ہوتی وہ اس کی ہر شے سے متاثر ہوتے۔٭…٭…٭