محمد محمود عالم ستارے جس کی گردِ راہ ہوں وہ کارواں تو ہے
اسپیشل فیچر
آزادی کی نعمت آسانی سے نصیب نہیں ہوتی۔ اس کے حصول کی بھی ایک قیمت ہے اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے بھی جہدِ مسلسل کا سامنا رہتا ہے۔ ایک آزاد وطن کسی قوم پر ایک بہت بڑا قرض ہوتا ہے۔ ان بہادر لوگوں کا قرض، جو اس کو حاصل کرنے کے لیے قربانیاں دیتے ہیں۔ اور ان جری جوانوں کا قرض جو اس کی حفاظت کے لیے اپنی جان تک قربان کر نے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ یہ آزاد پاکستان ہم پر احسانِ عظیم ہے۔ ہمارے بہادر شہیدوں کا اور جری غازیوں کا۔ کس کس کا ذکر کریں کہ مادر وطن کی مٹی اس سلسلے میں بہت زرخیز واقع ہوئی ہے۔ جب بھی دشمن نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا، اس کے فوجی بیٹوں نے اس کو وہ سبق سکھایا کہ تا قیامت یاد رہے گا۔ مادرِوطن کے ایک ایسے ہی قیمتی بیٹے کی یاد تازہ کرتے ہیں…ایم ایم عالم… ائیر کموڈور (ر) محمد محمود عالم۔ اس نام سے کون واقف نہیں۔ ’’لٹل ڈریگن‘‘ کے نام سے پکارے جانے والے پاک فضائیہ کے وہ مایہ ناز جنگجو ہواباز جس نے 1965 ء کی جنگ ستمبر میں اپنی خداداد شجاعت و جوانمردی سے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں ستمبر 1965ء میں جب ہم سے چھ گنا بڑے دشمن ملک نے ہم پر جنگ مسلط کی تو وطن کا بیٹا، پاک فضائیہ کا بہادر جنگجو پائلٹ، محمد محمود عالم، آسمان کی وسعتوں میں ایک خوفناک قوت بن کر ابھرا اوراپنی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بہادری سے مظاہرہ کرتے ہوئے، جدید لڑاکا طیاروں سے لیس بھارتی فضائیہ کی رگوں میں سرایت کرکے حقیقتاً اس کی کمر توڑ دی۔ عالم نے پچپن سیکنڈ سے بھی کم وقت میں بھارتی فضائیہ کے پانچ لڑاکا جہاز گرا کر بہترین لڑاکا ہواباز کا اعزاز اپنے نام کرتے ہوئے ورلڈ ریکارڈ قائم کیا اور ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ایسا اعزاز جو طویل عرصہ تک فضائی افواج سے وابستہ ہونے کے باوجود کسی بھی یورپی یا امریکی ہواباز کے حصے میں نہیں آسکا۔ یہ طرۂ امتیاز فقط عالم کے حصے میں تھا۔ مکاں فانی، مکیں آنی ، ازل تیرا، ابد تیرا ایم ایم عالم 6 جولائی 1935ء کو کلکتہ کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1951ء میں گورنمنٹ ہائی سکول ڈھاکہ سے ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1952ء میں پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی اور اکتوبر 1953ء میں کمیشن حاصل کیا۔ امریکہ اور برطانیہ میں بہت سے پیشہ ورانہ تربیت کے کورسز میں شرکت کی۔ 1980 ء میں لندن کے رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز میں داخلہ لیا جہاں ایک شائع شدہ رپورٹ میں ایم ایم عالم کا موازنہ مشہور برطانوی فوجی کمانڈر فیلڈ مارشل وسکاؤنٹ سلم کے ساتھ کیا گیا۔ ایم ایم عالم کے مطابق ان کے لیے یہ انتہائی اعزاز کی بات تھی۔ عالم نے عرصہ تیس سال تک پاک فضائیہ میں خدمات سرانجام دیں۔ وہ اپنے خاندان میں پہلے فرد تھے جنہوں نے کسی مسلح فوج میں شمولیت اختیار کی تھی، اگرچہ ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ ایک سی ایس پی افسر بنیں لیکن عالم کا کہنا تھا، ’’بچپن سے ہی مجھے کسی مسلح فوج میں شامل ہونے کا شوق تھا۔ میں نے دشمن سے لڑنے اور اسے مارنے کے لیے خود کی تربیت کی تھی۔‘‘ بچپن کی یادوں کے مزید در وا کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’’میں بچپن سے ہی مہم جُو تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میرے ماموں نے مجھے بندوق کا تحفہ دیا اور میرے والد نے میرے لیے ایک بائیسکل خریدی جسے میں نے لڑاکا جہاز تصور کیا۔‘‘ صبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدا 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران ، ایم ایم عالم نے 6 ستمبر کو دشمن کے دو جنگی جہاز مارگرائے جبکہ تین دیگر جہازوں کو غیر معمولی نقصان پہنچایا۔ سات ستمبر کو ایم ایم عالم نے فضا سے فضا میں جنگ کے دوران ایک منٹ سے کم وقت میں پانچ بھارتی ہنٹر لڑاکا طیارے گرا کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ پہلے چار جہاز انہوں نے تیس سیکنڈ کے عرصے میں گرائے۔ 6 ستمبر 1965ء کو بھارتی فضائیہ کے پانچ ہنٹر طیاروں کو ایک منٹ سے کم وقت میں تباہ کرنے کے عالمی ریکارڈ کی یاد تازہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، کہ انہیں دشمن کے دو جہاز نظر آئے اور انہوں نے نیچی پرواز کرتے ہوئے ان جہازوں کا تعاقب کیا۔ اسی دوران انہیں مزید چار ہنٹر طیارے ایک ساتھ پرواز کرتے نظر آئے جو اپنے بچاؤ کے لیے مخالف سمت جانے کی بجائے اسی سمت محوِ پرواز رہے اور ان کے F-86 جہاز کا نشانہ بن گئے۔ وطن عزیز کے دفاع کے لیے فقید المثال بہادری اور شجاعت کے مظاہرہ پر عالم کو دو مرتبہ ستارۂ جرأت سے نوازا گیا۔ وہ چشمِ پاک بیں کیوں زینتِ برگستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مردِ غازی کی جگر تابیعالم کو رہتی دنیا تک فراموش نہیں کیا جائے گا۔ انتہائی پیشہ ور اوربہادر ہواباز کی حیثیت سے وہ نہ صرف پاک فضائیہ بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مثالی شخصیت کے حامل تھے۔ 18 مارچ 2013 ء کو سانس کی طویل بیماری سے لڑتے ہوئے یہ مایہ ناز ہستی اس دارِفانی سے کوچ کرگئی۔ وقتِ وفات ان کی عمر 78 سال تھی۔ ان کی نماز جنازہ پاک فضائیہ کے مسرور بیس پر ادا کی گئی۔ ہوا بازی کی تاریخ بالخصوص پاک فضائیہ کے کارنامے عالم کے تذکرے کے بغیر نامکمل رہیں گے۔ وہ پاکستان کے ایک ایسے بے مثال ہیرو ہیں جن پر قوم کا سر فخر سے ہمیشہ بلند رہے گا۔