یورپ اور ترک روس جنگ
اسپیشل فیچر
محض یورپ ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر کی تاریخ میں انیسویں صدی کا آخری دور اور بیسویں صدی کا ابتدائی دور بطور خاص اہم ہیں۔اس عہد کے آغاز میں جرمنی کی قوت تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ فرانس کمزور ہو رہا تھا۔ برطانیہ لاپروائی کی پالیسی پر کاربند تھا۔ اسی دوران کچھ عرصہ اوٹو وان بسمارک کو یورپ کی تاریخ میں نمایاں حیثیت حاصل رہی۔ اس کی پالیسی شروع میں یہ تھی کہ جس موقع پر جو کچھ مناسب سمجھے، کرتا جائے۔ آسٹریا اور روس کے درمیان مشرق قریب کے معاملات کے متعلق سخت کشمکش جاری تھی، اس لیے ضروری تھا کہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ گہری وابستگی پیدا کی جائے، اس بنا پر اس نے مختلف طاقتوں کے ساتھ اتحاد کی پالیسی اختیار کر لی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ کی تمام بڑی بڑی طاقتیں دو گروہوں میں بٹ گئیں اور اکثر چھوٹی طاقتوں نے بھی اپنے خاص حالات یا مصلحتوں کی بنا پر کسی ایک جتھے میں شامل ہونا منظور کر لیا۔ نئے نئے جنگی آلات و اسلحہ بن گئے تھے، ان کی وجہ سے ہر ملک کے لیے ہر سمت سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا معاملہ خاصی تشویش ناک صورت اختیار کر گیا اور مختلف طاقتوں نے جنگ کے خطرے کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپس میں جوڑ توڑ شروع کر دیے۔ گویا جنگ سے بچنے کے لیے تدبیریں اختیار کرتے کرتے جنگ کو زیادہ سے زیادہ یقینی بنا دیا گیا۔ چونکہ یورپی طاقتیں افریقہ اور ایشیا کے بڑے علاقوں پر قابض ہو چکی تھیں، اس لیے جنگ کی صورت میں جدال و قتال کا دائرہ صرف یورپ تک محدود نہ رہا، بلکہ تین براعظموں پر پھیل گیا۔ اس تمہیدی کیفیت کے بعد 1871ء سے ترتیب وار چند اہم واقعات و حالات کچھ یوں ہیں۔ اگست اور ستمبر 1871ء میں آسٹریا اور جرمنی کے بادشاہ تین مرتبہ ملے۔ واقعہ یہ ہے کہ 1870ء میں فرانس کی شکست نے آسٹریا پر واضح کر دیا تھا کہ جرمنی کو شکست دینا سہل نہیں اور خود اسے، یعنی آسٹریا کو 1866ء کی شکست کا بدلہ لے لینے کی جو امید تھی وہ پوری نہیں ہو سکتی تھی، لہٰذا یہی مناسب سمجھا گیا کہ جرمنی کے ساتھ تعلقات بہتر بنا لیے جائیں اور معلوم تھا کہ جرمنی آسٹریا کا نہایت طاقتور ہمسایہ ہے۔ 1872ء میں شہنشاہ آسٹریا اور شہنشاہ جرمنی کے علاوہ زار روس بھی برلن پہنچا۔ زار کو یہ اندیشہ لاحق تھا کہ آسٹریا اور جرمنی کے درمیان تعلقات اتنے دوستانہ ہو جائیں گے کہ خود روس کے لیے خطرے کا باعث بن جائیں گے۔ اس ملاقات میں کوئی سیاسی سمجھوتا تو نہ ہوا، البتہ مشرق قریب کے متعلق بات چیت ہوتی رہی اور تینوں نے فیصلہ کر لیا کہ اس وقت جو صورت حال تھی اسے برقرار رکھا جائے۔ ستمبر 1873ء میں جرمنی کی فوجوں نے تمام فرانسیسی علاقے خالی کر دیے، جن میں وہ 1870ء سے مقیم تھیں۔ اب فرانس میں یہ کوشش شروع ہو گئی کہ روس کے ساتھ اتحاد کر لیا جائے۔ اپریل 1875ء میں اخبار ’’برلن پوسٹ‘‘ نے ایک مقالہ شائع کیا جس کا عنوان تھا ’’کیا جنگ ہونے والی ہے؟‘‘ اس میں فرانسیسی فوج کے لیے نئے قانون کی طرف اشارے کیے گئے تھے۔ فرانس میں اس مقالے نے خاصی سراسیمگی پیدا کی۔ وزیر خارجہ فرانس نے برطانیہ و روس سے مدد مانگی۔ روس اور برطانیہ کی طرف سے برلن کے نام انتباہ جاری کیا گیا۔ اس سے بسمارک کو اندازہ ہو گیا کہ اگر جرمنی نے جنگ کو روکنے کے لیے بھی فرانس کے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو برطانیہ و روس چپ نہیں بیٹھے رہیں گے۔ 1876ء میں قسطنطنیہ میں پہلی کانفرنس برطانیہ کی تحریک پر منعقد ہوئی۔ اس میں اس عہد کی بڑی طاقتیں برطانیہ، روس، فرانس، جرمنی آسٹریا اور اٹلی شامل تھے۔ اس میں بوسنیا اور سلطنت عثمانیہ کے علاقوں میں سیاسی اصلاحات کے منصوبے پر اتفاق رائے ہوا۔ گفت و شنید سے مندرجہ ذیل امور پر اتفاق ہو گیا۔ مانٹی نیگرو کو ہرزی گوئنا اور البانیا کا تھوڑا سا علاقہ دے دیا جائے۔ بلغاریہ کو دو حصوں میں بانٹ دیا جائے۔ ایک مشرقی، دوسرا مغربی۔ بوسنیا اور بقیہ ہرزی گوئنا کو ملا کر ایک صوبہ بنا دیا جائے۔ اس صوبے، نیز بلغاریہ کے دو حصوں کے لیے یورپی طاقتیں ترک حکومت کی منظوری سے گورنر جنرل مقرر کریں اور ایک اسمبلی بنا دی جائے۔ یورپی طاقتیں اصلاحات کی نگران رہیں۔ مدحت پاشا ترکی کا مشہور آزاد خیال قوم پرور تھا۔ وہ وزیراعظم بن چکا تھا اور اس نے ترکی کے لیے نیا دستور مرتب کیا، جس میں عوامی حقوق کا خاص خیال رکھا گیا۔ یہ دستور پوری سلطنت کے لیے تھا اور اس کے بعد خاص علاقوں میں اصلاحات کی کوئی ضرورت باقی نہ رہی۔ یورپی طاقتوں نے حکومت ترکی سے جتنے مطالبے کیے تھے وہ ٹھکرا دیے گئے اور قسطنطنیہ کی کانفرنس بے نتیجہ رہی تھی۔ روس نے آسٹریا کے ساتھ فیصلہ کر کے اپریل 1877ء کو ترکی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ برطانیہ نے فوراً ایک یادداشت روس کے پاس بھیجی، جس میں بتایا کہ نہر سویز کی ناکہ بندی کی جائے نہ مصر پر قبضہ کیا جائے، نیز آبناؤں اور قسطنطنیہ کے متعلق برطانیہ کا روایتی مؤقف پھر ایک مرتبہ واضح کر دیا۔ بسمارک کی تجویز یہ تھی کہ برطانیہ، مصر اور سلطنت عثمانیہ کے دوسرے حصوں پر قبضہ کرے لیکن اسے مکمل جنگ نہیں چھیڑنی چاہیے۔ بہرحال جنگ ہوئی۔ پلونا کی لڑائی اس جنگ کی بہت بڑی لڑائی تھی جس میں غازی عثمان پاشا نے روس کے چھکے چھڑا دیے۔ جنوری 1878ء میں متارکہ ہوا اور سان سٹیفانو کے معاہدے نے جنگ کا خاتمہ کیا۔ اس معاہدے کے مطابق مانٹی نیگرو، سرویا اور رومانیہ آزاد کر دیے گئے، بوسنیا اور ہرزی گوئنا میں اصلاحات کے نفاذ کا فیصلہ ہوا، بلغاریہ کو اندرونی خود مختاری مل گئی۔